• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یوں ہی تو شاخ سے پتے گرا نہیں کرتے بچھڑ کے لوگ زیادہ جیا نہیں کرتے جو آنے والے ہیں موسم انہیں شمار میں رکھ جو دن گزر گئے ان کو گنا نہیں کرتے
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اس کے چہرے کی تمازت بھی ہے شامل اس میں آج تپتی ہوئی ساون کی گھٹا آتی ہے
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    وہ تیرے نصیب کہ بارشیں کسی اور چھت پربرس گیٔں دلِ بے خبر، میری بات سن، اُسے بھول جا، اُسے بھول جا میں توگم تھاتیرے ہی دھیان میں، تیری آس تیری گمان میں صبا کہہ گئ میرے کان میں، میرے ساتھ آ، اُسے بھول جا
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    وہ دل جو میں نے مانگا تھا مگر غیروں نے پایا ہے بڑی شے ہے اگر اس کی پشیمانی مجھے دے دو
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ اتنی رات گئے کون دستکیں دے گا کہیں ہوا کا ہی اُس نے نہ رُوپ دھارا ہو
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    رکھتے ہیں جواوروں کے لئے پیا ر کاجذبہ وہ لوگ کبھی ٹوٹ کے بکھرانہیں کرتے
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اب نہیں‌کہتا نہیں کہتا غزل ہاں مگر ایک شخص کے اصرار پر
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    وہ تو خوشبوھے، ھواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ھے، پھول کدھر جائے گا
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    يہ خوابوں کا پردہ اٹھا کر تو ديکھو ذرا حسرتوں کي قبر سے تو نکلو ابھي دشمنوں کا قرض ہے چکانا مگر دوستوں کي نظر سے تو نکلو
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    آیا ہی تھا خیال کہ آنکھیں چھلک پڑیں آنسو کسی کی یاد کے کتنے قریب تھے
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    ایک بار جو روٹھے تو منا نہ سکو گے ہم جیسے وفاداروں کو خفا سوچ کے کرنا
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یادِماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مُجھ سے حافظہ میرا
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یوں سارے چراغ اور گلاب اپنی جگہ میں رستے میں چمک سایہء رہگیر سے آئی
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ ہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیئے اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے......................
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اُنگلیاں لوگ اُٹھاتے ہیں، جدھر جاتے ہیں ہم تو اِس نام سے بے نام و نشاں اچھے تھے
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    وہ خط کے جس پہ جگہ جگہ دو مہکتے ہونٹوں کے چاند تھے کسی بھولے بسرے سے طاق پر تہہ گرد ہوگا د با ہوا بشیر بدر
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہ دل میسر و موجود سے بہلتا ہے نہیں کوئی تو ہو جو میری دسترس سے باہر ہو
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اب کے بھی ہے، جمی ھوئی آنکھوں کے سامنے خوابوں کی ایک دھند جو پچھلے برس میں تھی امجد اسلام امجد
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اس ایک خواب کی حسرت میں جل بجھیں آنکھیں وہ ایک خواب کہ اب تک نظر نہیں آیا افتخار عارف
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے ان ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا
Top