• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب آنکھ کا نور، دل کا نور نہیں نا صبوری ہے زندگی دل کی آہ وہ دل کہ نا صبور نہیں اقبال
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے اقبال
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    عالم میں کوئی دل کا طلب گار نہ پایا اس جنس کا یاں ہم نے خریدار نہ پایا میر تقی میر
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا احمد ندیم قاسمی
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    غالب :: کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیرِ نیمِ کش کو یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بےوفا سہی جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    کوئی ہم نفس نہیں ہے کوئی راز داں نہیں ہے فقط ایک دل تھا اپنا سو وہ مہرباں نہیں ہے مصطفٰی زیدی
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دلِ فطرت شناس آخر، کہیں یونہی دھڑکتا ہے فریبِ حسن ہے جشنِ چراغاں ، ہم نہ کہتے تھے
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    باقی ہے لہو دل میں‌تو ہر اشک سے پیدا رنگِ لب و رخسارِ صنم کرتے رہیں گے فیض احمد فیض
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    چلو فیض پھر سے کہیں دل لگائیں ہم سنا ہے ٹھکانے کے دن آرہے ہیں۔
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    آو کہ مرگِ سوزِ محبت منائیں ہم آو کہ حسنِ ماہ سے دل کو جلائیں ہم (فیض احمد فیض)
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    امید کہ لو جاگا غمِ دل کا نصیبہ لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہوگئی آخر (فیض احمد فیض)
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دل تھا ایک شعلہ مگر بیت گئے دن وہ قتیل اب کریدو نہ اسے راکھ میں کیا رکھا ہے
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    الفت میں دونوں‌لازم و ملزوم ہوگئے دل کو غرض ہے غم سے اسے دل سے واسطہ
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    یہی دِل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے اب یہی ترکِ تعلق کے بہانے مانگے فراز احمد فراز
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دِل نہ مانا کہ کسی اور کے رستے پہ چلیں لاکھ گمُراہ ھوئے نقشِ قدم سے اپنے (فراز احمد فراز)
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    دِل تو اپنا اُداس ھے ناصر شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ھے۔ (ناصر کاظمی)
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جلا ہے جسم جہاں دل بھی جل گیا ہوگا کریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے؟؟؟
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بیدادِ عشق سے نہیں ڈرتا مگر اسد جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے (ذوق)
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    اجنبی خواہشیں سینے میں دبا بھی نہ سکوں ایسے ضدی ہیں پرندے کہ اُڑا بھی نہ سکوں پھونک ڈالوں گا کسی روز میں دل کی دنیا یہ تیرا خط تو نہیں ہے کہ جلا بھی نہ سکوں
Top