• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جدائی بھی نہ ہوتی زندگی بھی سہل ہو جاتی جو ہم اک دوسرے کا مسئلہ تبدیل کر لیتے
  2. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے اس زندگی کرنے کو کہاں سے جگر آوے
  3. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جو گزرتے تھے داغ پر صدمے اب وہی کیفیت سبھی کی ہے
  4. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جن کے سر منتظر تیغ جفا ھیں ان کو دست قاتل کے جھٹک دینے کی توفیق ملے
  5. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جرأت آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
  6. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جو گزری مجھ پہ مت اس سے کہو، ہوا سو ہوا بلا کشانِ محبت پہ جو ہوا سو ہوا __________________
  7. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جانے کب دے دے صدا کوئی حریمِ ناز سے بزم والو گوش بر آواز رھنا چاھیے
  8. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جو سمجھ لیا تجھے بے وفا،تو پھر اس میں تیری بھی کیا خطا یہ خلل ہے میرے دماغ کا،یہ مری نظر کا قصور ہے
  9. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جنگلوں کے سفر میں آسیب سے بچ گئی تھی مگر شہر والوں میں آتے ہی پیچھے یہ کیسی بلا لگ گئی۔
  10. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جھوٹ کے شہر میں آئینہ کیا لگا، سنگ اٹھائے ھوئے آئینہ ساز کی کھوج میں جیسے خلق خدا لگ گئی
  11. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جن پہ اک عمر چلا تھا انہی رستوں پہ کہیں واپس آیا تو میرا نقش کف پا بھی نہ تھا
  12. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جب تک نہ جلیں دیپ شہیدوں کے لہو سے؛؛ کہتے ھیں کہ جنت میں چراغاں نہیں ھوتا
  13. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
  14. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جہنم ہو کہ جنت جو بھی ہوگا فیصلہ ہوگا یہ کیا کم ہے ہمارا اور ان کا سامنا ہوگا
  15. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جہاں پھولوں کو کھلنا تھا وہیں کھلتے تو اچھا تھا تمہی کو ہم نے چاہا تھا تمہی ملتے تو اچھا تھا
  16. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جگر ہو جائیگا چھلنی یہ آنکھیں خون روئیں گی وصی بے فیض لوگوں سے نبھا کر کچھ نہیں ملتا
  17. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جو اک لفظ کی خوشبو نہ رکھ سکا محفوظ میں اس کے ہاتھ میں ساری کتاب کیا دیتا
  18. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جُدا ہوا وہ ہم سے اس طرح شاہان کہ دِن ڈھلتا نہیں رات کٹتی نہیں
  19. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جب تمہاری آنکھ ہو گہرے سمندر کی طرح کیوں نہ لگتا ہو سمندر دیدہء تر کی طرح اس لئے روشن کیا ہے تیرے چہرے کا چراغ دوپہر تاریک ہے میرے مقدر کی طرح
  20. ساجد تاج

    متفرق اشعار

    جہاں میں جب تلک پنچھی چہکتے اُڑتے پھرتے ہیں ہے جب تک پھول کا کھلنا محبت مر نہیں سکتی
Top