الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
قرآن وحدیث کی روشنی میں زینب کے مجرم کی سزا
ڈاکٹر حافظ حسن مدنی، مدیر ماہنامہ محدث لاہور
قصور میں زینب نامی معصوم بچی سے ہونیوالا سانحہ ایک مسلمان معاشرے کے لئے شرم ناک ہے جس کی جس قدر مذمت کی جائے، کم ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام معاشرے میں اسلامی احکام کے فروغ اور ان جرائم کی شرعی سزاؤں کے کامل...
مدینہ منورہ میں حافظ شریف صاحب حفظہ اللہ کے ساتھ ایک ’ محفل ‘ کی روداد سے اقتباس :
’’شیخ ربیع بن ہادی المدخلی حفظہ اللہ و رعاہ سے حافظ صاحب کی ملاقات ہوئی ، حافظ صاحب نے شیخ ربیع صاحب کی اس دور کی کچھ باتیں بتائیں ، جب حافظ صاحب جامعہ اسلامیہ میں زیر تعلیم تھے ، کہ کس طرح انہوں نے اتباع سنت ،...
کمال تحریر ۔ اہل قلم کے ذریعے فیس بک پر شیئر کردی ہے۔
لیکن گزارش ہے کہ اسے فورم پر بھی ایک مستقل تھریڈ میں ، یا پھر اوریا مقبول جان کی مشہور زمانہ تحریر والے تھریڈ میں لگادیں ، کیونکہ بعض دفعہ ایسی تحریروں کی ضرورت پڑ جاتی ہے ، ادھر ادھر ڈھونڈنا مشکل ہوجاتا ہے ۔
ڈاکٹر مشتاق صاحب اس ’ مکتبہ فکر ‘ کے سپیشلسٹ ہیں ، انہوں نے کافی تفصیل سے جواب دے دیا۔
ورنہ ’ اگر زینب زندہ ہوتی ؟ ‘ اس طرح کی فضولیات اور کٹ حجتیوں کے عملی جوابات خیر القرون اوراس کے بعد کے معاشروں سےبالکل واضح طور پر مل جاتے ہیں ، جہاں اسلامی تعلیمات اور حدود کا نفاذ موجود تھا ۔
سلام صحیح لکھا کریں ، السلام علیکم
موجودہ فرقوں میں سے کسی کے ساتھ بھی ملنا فرض اور ضروری نہیں ہے ، البتہ ان سے الگ رہنا بھی فرض اور ضروری نہیں ۔ اصل مقصد قرآن و حدیث پرصحابہ کرام اور سلف صالحین کی رہنمائی کے ساتھ عمل پیرا ہونا ہے ۔ یہ کام جیسے بھی ممکن ہو ، درست ہے ۔ اگر ایسے نہ ہورہا ہو ، تو...
شیخ شعیب ارناؤط نے معروف کتاب ’ سنن النسائی ‘ پر کام نہیں کیا ، ’ سنن النسائی الکبری ‘ کے طبعے میں ان کا نام بطور مشرف لکھا ہوا ہے ۔ اور پھر اس میں احادیث پر ’ حکم ‘ بھی نہیں لگایا گیا ہے ۔
سنن النسائی کی اضافی تحقیق کے طور پر ، و شیخ البانی کے معروف شاگرد شیخ ابو اسحاق الحوینی کے احکام شامل کیے...
یہ حدیث صحیح ہے ، صحیح بخاری میں اس کا نقل ہونا ہی ، اس کی صحت کی دلیل ہے ۔
اوپر تحریر میں حدیث پر جتنے اعتراض کیے گئے ہیں ، ان میں کوئی بھی حدیث کی تضعیف کے لیے کافی نہیں ۔
اس حوالے سے کچھ تفصیل اس تھریڈ میں موجود ہے ، ملاحظہ کیجیے :
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل
حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’ سماع موتی ‘ میں اس مسئلے پر تفصیل سے گفتگو کی ہے ، اس میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا پردہ کرنا ، ابن تیمیہ وغیرہ بزرگوں کے اقوال درج کرکے ، اس مسئلے کی تفصیلی وضاحت کردی گئی ہے ۔
پوسٹ کو مناسب عنوان دینے کی کوشش کیا کریں ، تاکہ ملتے جلتے موضوعات میں بھی ظاہر ہو، اور بعد میں بھی کسی کے لیے تلاش کرنا آسان ہو ۔
آپ کا عنوان تھا ’ اس کی وضاحت کردیں ‘ اس عنوان سے کسی کو کیا پتہ چلے گا کہ موضوع کیا ہے ؟
یہ منطق کوئی انوکھی تو نہیں۔ سب کی سمجھ میں ہے ۔
اسلحہ بیچ کر ڈھیروں پیسہ کماتے ہیں ۔
اور پھر ہمدردی کمانے کے لیے انہیں پیسوں میں سے کچھ خرچ کرکے ، خود کو بری الذمہ رکھنے کی بھی سعی لا حاصل کرتے ہیں ۔
بلکہ اسی امداد اور ’ ایڈز ‘ کو اپنے مقاصد کے حصول اور دوسروں کے استحصال کا ذریعہ بھی بنایا جاتا...
فریب کاری نہیں کرنی چاہیے ، اگر ’ اہل حدیث ‘ پر اعتراض کرنا ہے ، تو شوق سے کریں ، لیکن ’ منکرین حدیث ‘ کی آڑ لینے کی حاجت نہیں ۔
کوئی منکر حدیث ایسی باتوں سے کیونکر استدلال کرے گا جو حدیث میں آئی ہیں ، ورنہ منکرحدیث ہونے کا مطلب ؟
’ اہل حدیث ‘ لفظ ہر جگہ پر بطور ایک فقہی مسلک کے استعمال نہیں ہوا...
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
زبردرست ۔
امریکی دہشت گردی اور دہشت گرد اور ان کا طریقہ واردات بہت سارے لوگوں کے سامنے کھل کر سامنے آ چکا ہے ۔
اب اس طرح کے ’ مگر مچھ کے آنسو ‘ کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گے ۔ إن شاءاللہ ۔
خود معصوم بچوں پر بھی ڈرون برسائیں ، تو وہ حقیقت میں سول کپڑوں میں بہت بڑے...
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود جماعت بنائی تھی ، پہلے حلف الفضول کی جماعت میں شامل ہوتے رہے ، پھر مسلمانوں کی ایک جماعت بناکر مختلف گھروں میں تبلیغ اسلام کے لیے جد و جہد کرتے رہے ، جب اسلام مضبوط ہوگیا ، حکومت وقت نے تبلیغ اسلام کی ذمہ داری لی ، جماعتوں کی ضرورت نہیں تھی ، جب ایسا وقت آیا ، کہ...
و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں بھی اس بات کی تائید کرتاہوں کہ ’ اس متعدد بار کیے گئے سوال کا جواب آنے تک ‘ باقی سب باتوں کو نظر انداز کردیا جائے ۔