الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
"شعبان چونکہ رمضان کے مقدمے کی حیثیت رکھتا ہے تو اِس میں بھی وہی عبادات مقرر کی گئی ہیں جو رمضان میں ہیں، یعنی روزہ اور قراَتِ قرآن تاکہ رمضان سے ملاقات کی تیاری ہو جائے اور انسانی نفوس رب رحمان کی اطاعت کے عادی ہو جائیں!"
امام ابن رجب رحمہ اللہ
(لطائف المعارف : ١٣٥/١)
قال الحافظ ابن رجب رحمه...
« یہ غلط سوچ ہے، انسان الله تعالی کی نافرمانی کے لیے آزاد نہیں ہے، بلکہ جب کوئی الله تعالی کی نافرمانی کرتا ہے تو در حقیقت وہ الله کی غلامی سے نکل کر شیطان اور خواہشات کا غلام بن جاتا ہے»
[ مجموع فتاوی ورسائل إبن عثیمین ٣/ ٨١]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے بخاری 5353
علم پانچ قسم کے هیں!!
ایک علم دین کی زندگی هے، یه توحید کا علم هے.
ایک علم دین کی غذاهے،یه وعظ و نصیحت کا علم هے،
ایک علم دین کی دواء هے، یه فقه کا علم هے۔
ایک علم دین کی بیماری هے، یه سلف کے ما بین واقع هونے والے امور کا علم هے۔
ایک علم دین کی هلاکت هے، یه علم کلام هے.
یحیی بن عمار رحمہ...
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
نا پسندیدہ چیزوں پر صبر کرنے میں بڑی خیر ہے... اور مدد صبر کے ساتھ، کشادگی تنگی کے ساتھ، اور آسانی مشکل کے ساتھ ہوتی ہے.
مسند احمد 192
”معاملات کو سر پر سوار کرنا اور پریشان ہونا چھوڑ دو ؛ ہر دوست ایک نہ ایک دن بدل جاتا ہے، انسانوں میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔“
- [ ابو فہر محمود محمد شاکر رحمه الله || طبقات فحول الشعراء : ٦٣٣/٢ ]
مشہور تابعی محمد بن المنکدر رحمہ اللہ نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نیک آدمی کی وجہ سے اس کی اولاد، پوتوں، اس کے خاندان اور اردگرد والے لوگوں کی حفاظت فرماتا ہے لہٰذا وہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہتے ہیں۔‘‘
ایک روایت میں ہے: ’’اور پردے میں رہتے ہیں۔‘‘
(إسنادہ صحیح، مسند حمیدی: 375، کتاب الزہد لابن...
نبی کریم ﷺنے فرمایا:
ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا۔
(بخاری،۲۰۷۸)
ماہر نفسیات کہتے ہیں
معاف کر دینے سے خوشیاں ملتی ہیں
اور روٹھ کر الگ ہونے اور انتقامی جزبات کا اظہار کرنے سے Anxiety(غصہ کی حالت رہنا،
اور Depression(ذہنی دباؤ ) جیسی بیماریاں جنم لیتی ہے
”اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر سے کام لواور بخش دو! تو بیشک اللہ تعالی بخشنے والا اور رحم کرنے والا...