الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
✍ قال شُفَيّ الأصبحي :
مَنْ كَـثُرَ كلامه كَـثُرَتْ خطيئته
رقائق ابن المبارك1031
جس کا کلام زیادہ ہو گا، اس کی خطائیں بھی زیادہ ہوں گی!!
شفی الاصبحی رحمہ اللہ
(کُنْ کَا لشَّجَرَۃِ یُرْمٰی إِلَیْہَا الْأَحْجَارُ وَتَرْمِیْ إِلَیْہِمُ الْأَثْمَارَ۔))
’’آپ ایک درخت کے مانند ہو جائیں کہ لوگ اس کی طرف پتھر پھینکتے ہیں اور وہ ان کی طرف پھل پھینکتا ہے۔
ابن القيم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک دفعہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا :
رکاوٹیں اور آزمائشیں تو سردی و گرمی کی طرح ہوتی ہیں، جب بندہ جان لے کہ یہ لازمی ہی آئیں گی تو وہ ان کے آنے پر نہ تو غصہ کرتا ہے اور نہ ہی مایوس و غمگین ہوتا ہے۔
[مدارج السالكين: ٣٦١/٣]
اگر کسی شخص کو دیکھیں کہ وہ قرآن سے زیادہ موسیقی میں دلچسپی لیتا ہے تو سمجھ لیں کہ اس کا دل اللہ کی محبت سے خالی ہے۔
امام ابن قیم
الجواب الكافي (٢٣٦) .
وباؤں کے فوائد
آرزؤں کی کمی، عمل کی تحسین، خواب غفلت سے بیداری اور آخرت کی تیاری!
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ
من فوائد الوباء والطواعين:
تقصير الأمل،
وتحسين العمل،
واليقظة من الغفلة،
والتزوّد للرّحلة
ـــــــــ ـــــــــ ـــــــــ ـــــــــ ـــــــــ
بذل الماعون في فضل الطاعون
للحافظ ابن حجر...
حسن بصریؒ سے کسی نے کہاکہ آپ میری غیبت کرتے ہیں؟ فرمایا:
میری نظر میں ابھی تمھاری یہ حیثیت نہیں کہ تمھیں اپنی نیکیوں پر حاکم بناؤں
(تفسیر قرطبی 3/ 336)
"جو اسباب کا انکاری ہے، اس کا توکل بیکار ہے۔"
(ابن القيم رحمه الله)
"والذي يحقق التوكل القيام بالأسباب المأمور بها ، فمن عطلها لم يصح توكله"
ابن القیم رحمہ اللہ نے یہ بات اپنی کتاب الفوائد کے صفحہ نمبر 87 مطبعة دار الكتب العلميہ میں کیا ہے۔
رحمت جس قدر تیزی سے قرآن سننے والے کی طرف جاتی ہے، کسی دوسرے کی طرف نہیں جاتی!
لیث بن سعد رحمہ اللّٰہ
قال الليث بن سعد رحمه الله: ما الرحمة إلى أحد بأسرع منها إلى مستمع القرآن. [ الجامع لأحكام القرآن ١\١٨ ]
قال ابن قدامة رحمه الله:
قد تُكتسبُ الأخلاقُ الحسنةُ بمصاحبةِ أهلِ الخيرِ،
فإن الطَّبعَ لِصٌ يَسرقُ الخيرَ وَالشَّر.
مختصر منهاج القاصدين: ١٥٣.
اخلاق حسنہ اہلِ خیر کی مصاحبت سے بھی حاصل کیے جاتے ہیں کہ طبعِ انسانی چور ہے، خیر و شر چرا لیتی ہے!
ابن قدامہ رحمہ اللّٰہ
عن عثمان بن زائدة قال :
كتب إليَّ سفيان الثوري :
إن أردتَّ أن يصحَّ جسمك ويقلَّ نومك فأقلَّ مِن الأكل .
جامع العلوم والحكم [٧٩٣].
اگر چاہتے ہو کہ تمھارا جسم صحت مند رہے اور نیند کم آئے تو کھانا کم کھایا کرو!
سفیان ثوری رحمہ اللّٰہ
قال أبوالدرداء رضي الله عنه :
إِنَّ الذين أَلْسِنَتُهُمْ رَطْبَةٌ بِذِكْرِ اللَّهِ
يَدْخُلُ أحدهم الجنة
وهو يَضْحَكُ
[ الزهد للإمام أحمد ٧٣٠ ]
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جنکی زبانیں اللہ کے ذکر سے تر رہتی ہیں وہ ہنستے ہوئے جنت میں داخل ہونگے۔
قال الإمام ابن حزم رحمه الله
.
إن استحقرتَ عيوبك، ففكِّر فيها لو ظهرت إلى الناس .
.
الأخلاق و السير : 190
امام ابن حزم فرماتے ہیں:
اگر تم اپنے گناہوں کو چھوٹا سمجھتے ہو، تو سوچو اگر وہ لوگوں کے سامنے ظاھر ہوجائے؟
قال شيخ الإسلام ابنُ تيميةَ وهو يتكلم على الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر:
فلا بدَّ مِن هذه الثلاثة:
1- العلم
2- والرِّفق
3- والصبر
( الاستقامة: 233/2 )
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہے:
علم ، نرمی اور صبر