الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں:
جس کی شریعت کے مقابلے
میں اپنی رائے پیش کرنے کی عادت ہو اس کے دل میں ایمان قرار نہیں پکڑ سکتا۔
[درء تعارض العقل والنقل : ١٨٧/١]
علم اور علما سے دوری جہالت کی عمل داری کو مضبوط کرتی ہے!
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ
✍️قال ابن الجوزي -رحمه الله- :
«.. البُعد عن العِلم والعُلماء يُقوّي سُلطانَ الجَهل! .»
[ تلبيس إبليس : ( ص١٣٥ )]
عقل مند کو چاہیے کہ جب اس کا بھائی ماضی کے کسی قصور یا سابقہ کوتاہی پر اس سے معذرت کرے تو وہ اس کا عذر قبول کر لے، اور اس سے ایسے پیش آئے کہ گویا اس نے کوئی برائی کی ہی نہیں!
(محدث ابن حبان رحمہ اللّٰہ)
▪قال ابو حاتم البستي :
الواجب على العاقل إذا اعتذر إليه أخوه بجرم مضى، أو لتقصير سبق، أن...
مسجد میں بیٹھنے والا دراصل اپنے پروردگار سے نشست کرتا ہے!
سعید بن مسیب رحمہ اللہ
⚘قال التابعي الجليل سعيد بن المسيب:
"مَن جلس في المسجد، فإنما يجالس ربه عزوجل".
فتح الباري لابن رجب (٤/٦١)
امام سفیان بن عینیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اپنی پریشانیوں کو (لوگوں سے) چھپانا عظیم ترین نیکیوں میں سے ہے۔
اسنادہ صحیح
قال سفيان بن عيينه - رحمه الله -:
من أبر البر " كتمان المصائب ".
حلية الأولياء ( ٧ / ٢٨٥ ) .
من ظن انہ یاخذ من الکتاب والسنۃ بدون ان یقتدی بالصحابۃ ویتبع غیر سبیلھم فھو من اھل البدعۃ
(مختصر الفتاویٰ المصریۃ،ص183)
جس شخص کوزعم ہے کہ صحابہ کرام کونظرانداز کرکے خودہی قرآن و سنت کو ٹھیک ٹھیک سمجھ لےگا،وہ اہل بدعت میں سے ہے
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ
خالق اور مخلوق میں اصل تعلق عبودیت کا ہے، جس کی عبودیت اللہ کے لیے اکمل ہو گی، وہی اللہ کے ہاں افضل ہو گا۔
حافظ ابن تیمیہؓ
قال #ابن_تيمية رحمه الله:
ليس بين الخالق والمخلوق إلا نسبة العبودية، فمن كانت عبوديته لله أكمل كان عند #الله أفضل .
"جامع المسائل ٢٨٩/٤"
زبان کو قابو میں رکھنے سے زیادہ سخت چیز اور کوئی نہیں، حج نہ جہاد اور نہ ہی سرحدوں پر پڑاو!
فضیل بن عیاض رحمہ اللہ
✍قال الفضيل بن عياض رحمه الله تعالى :
"لا حج و لا جهاد و لا رباط أشد من حبس اللسان".
(حسن السمت/ ص/ 76)
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جمعہ کے دن صدقہ کرنا بقیہ تمام دنوں میں صدقہ کرنے سے زیادہ افضل ہے۔
واسنادہ صحیح
والصدقة فيه أعظم من الصدقة في سائر الأيام
مصنف عبد الرزاق ) برقم ( 5558 )
جب دشمن ہلہ بول دے تو اختلاف کی کوئی وجہ نہیں،اس صورت میں دشمن سے اپنا دین، جان اورعصمتیں بچانا بالاجماع واجب ہے
امام ابن تیمیہ رح
[الفتاوى الكبرى : ٦٠٧/٤]
عن ابن عيينة - رحمه الله تعالى - قال :
《 كان يقال : إنَّ أفضل ما أُعطي العبد في الدُّنيا الحِكْمَة ، وفي الآخرة الرَّحمة 》.
المجالسة وجواهر العلم (6/304)
سلف کے یہاں کہا جاتا تھا:
انسان کو سب سے افضل چیز جو عطا کی گئی وہ دنیا میں حکمت ہے اور آخرت میں رحمت!
بعض اہل علم کا مقولہ ہے: میرے پاس کچھ خاص علم نہیں، البتہ یہ جانتا ہوں کہ میں نہیں جانتا!
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ
قال الحافظ ابن عبد البر رحمه الله: قال بعض العلماء: ليس معي من العلم إلاّ أنِّي أعلم أنِّي لست أعلم. جامع بيان العلم ٥٣٠/١
قال التابعي الإمام محمد بن سيرين :
اتَّقِ اللَّهَ فِي الْيَقَظَةِ
وَلاَ تُبَالِ بِمَا رَأَيْتَ فِي الْمَنَامِ ..
[ عبد الله بن أحمد في زوائد الزهد١٨٠٤ ]
امام ابن سیرین تابعی فرماتے ہیں:
بیداری میں اللہ کا تقوی اختیار کرو، اور جو کچھ خواب میں دیکھو اس کی پرواہ نہ کرو