الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
روز قیامت سب سے زیادہ حساب اس کا ہو گا جو صحت مند اور صاحبِ فراغت ہے!
معاویہ بن قرة رحمہ اللّٰہ
قال معاوية بن قرة - رحمه الله -:
(أكثر الناس حساباً يوم القيامة الصحيح الفارغ).
"اقتضاء العلم العمل" (ص103)
ماں کی شان
عوام بن حوشب نے امام مجاہدؒ سے پوچھا:
نماز کھڑی ہو جائے اور ماں بلا لے تو کیا کروں؟ فرمایا: ماں کی پکار پہ لبیک کہو!
قال العوام بن حوشب: سألتُ مجاهدًا: تُقَام الصلاة وتدعوني والدتي؟ قال: أجِب والدتك.
مصنف ابن أبي شيبة (٨٠٩٩)
سلف کے ہاں بچہ بڑا ہونے لگتا تو اسے حفظِ قرآن اور سماع حدیث میں مشغول کرتے، یوں ایمان اس کے دل میں پختہ ہو جاتا!
ابن الجوزیؒ
كان السّلف إذا نشَأ لأحدهم ولد شغلوهُ بحفظ القُرآن، وسمَاع الحَديث، فيثبت الإيمان في قلبه."
[ابن الجوزي -رحمهُ الله-]
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
" تكفیر میں وه لوگ جلدی كرتے ہیں جن كی طبیعت پر جهالت غالب ہوتی ہے "
قال شیخ الاسلام ابن تیمیة رحمه الله:
'' المبادرة إلی التکفیر إنما تغلب علی طباع من یغلب علیھم الجھل ''
(السبعینیة:345)
راستے سے تکلیف دہ چیزوں کو ہٹانا صدقہ ہے تو اذیت ناک چیزیں وہاں پھینکنا گناہ ہے۔
(شیخ ابن عثیمین رحمہ اللّٰہ)
يقول العلامة العثيمين رحمه الله
« وإذا كانت إماطة الأذى عن الطريق صدقة
فإن إلقاء الأذى في الطريق سيئة ».
[ شرح رياض الصالحين للعلامة ابن عثيمين (٣٧/٣) ].
جھوٹی باتوں کی اشاعت اور جھوٹ سے چند گھڑیوں میں اتنا فساد ہوتا ہے جتنا جادوگر ایک سال میں نہیں کرسکتا
یحیی بن أبی کثیر رحمتہ اللہ
بهجة المجالس لابن عبدالبر [٤٠٣/١]
اعتبارعبادت کےزیادہ ہونے کا نہیں؛اعتبار اس بات کاہے کہ عبادت کتنی سنت کےمطابق اوربدعت سے بچی ہوئی ہے
ناصرالدين الألباني رحمه الله
سلسلة الأحاديث الصحيحة : ١٣/٥
تین چیزیں دنیا چاہنے والے کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہیں:چمٹ جانے والا غم،مسلسل تھکاوٹ،کبھی نہ ختم ہونے والی حسرت
امام ابن القيم رحمه الله
إغاثة اللهفان : ٥٨/١
جسے ابوبکرؓ و عمرؓ کی فضیلت معلوم نہیں!
وہ سنت سے بے خبر ہے!
امام ابو جعفر محمد الباقر رحمہ اللہ
قال أبو جعفر محمد بن علي الباقر: من لم يعرف فضل أبي بكر وعمر رضي الله عنهما فقد جهل السنة. (أبو نعيم في الحلية)١٨٥/٣