الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
امام اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"جب اللہ کسی قوم کے لیے بُرائی (بربادی) کا ارادہ کرتا ہے، تو ان کے لیے بحث و جدال کو آراستہ کردیتا ہے اور عمل سے ان کو دور کردیتا ہے۔"
[تاريخ دمشق لابن عساكر، جلد ۳۵، صفحہ نمبر ۲۰۱]
قال ابن حبان :
" ما رأيت أحد تكبّر على من دونه إلا ابتلاه الله بالذلة لمن فوقه " .
روضة العقلاء 62
"میرا مشاہدہ ہے کہ جو اپنے سے کم تر سے تکبّر کا رویہ اپناتا ہے، خدا اسے برتر کے سامنے ذلت میں مبتلا کر دیتا ہے!"
محدث ابن حبانؓ
"عمل کے بغیر علم ایسے ہے جیسے شجر بے ثمر، منافق کا علم اس کے قول میں ہے اور مومن کا علم اس کے عمل میں ہے!"
عبداللّٰہ بن المعتز رحمہ اللہ
قال عبد الله بن المعتز رحمه الله: (علم بلا عمل كشجرة بلا ثمرة)
وقال أيضاً: (علم المنافق في قوله، وعلم المؤمن في عمله)
رواه الخطيب في اقتضاء العلم العمل(٣٨)
عبد اللہ بن ابی الہدیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم عبد اللہ بن مسعود کے ساتھ شام یا عمان میں تھےتو لوگوں نے جنت کا تذکرہ کیا:
پس انہوں نے کہا: "جنت کے انگوروں کے گچھوں میں سے ایک گچھا یہاں سے لےکر صنعاء [یمن] تک بڑا اور لمبا ہوگا۔"
[صحيح الترغيب والترهيب:3730]
شفیق بلخی ؒ فرماتےہیں :
علاماتِ توبہ
(1) ماضی پر رونا-
(2) مبتلاے معصیت ہونے سے ڈرنا-
(3) بری صحبت ترک کرنا ۔
(4) نیکوں کا ساتھ اختیار کرنا-
قال شقيق البلخي رحمه الله : علامة التوبة : البكاء على ما سلف و الخوف من الوقوع في الذنب
وهجران إخوان السوء وملازمة الأخيار نزهة الفضلاء صـ 711
"توحید وہ پہلی چیز جس کے ساتھ اسلام میں داخل ہوا جاتا ہے اور توحید ہی وہ آخری چیز ہے جس کے ساتھ دنیا چھوڑی جاتی ہے۔"
پس توحید ہی پہلا فرض ہوا اور توحید ہی آخری فرض!
یعنی توحید اول اور توحید آخر !
امام ابن قیم رحمہ اللّٰہ
(مدارج السالكين ٣/٤٤٣)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"جب بندہ ہمیشہ اللہ تعالٰی کا شُکر ادا کرتا ہے اور اپنے گناہوں پر توبہ استغفار کرتا رہتا ہے تو خیر و بھلائی بھی اسکے لئے مسلسل بڑھتی رہتی ہے. اور شر اس سے دور رہتا ہے۔"
(مجموع الفتاوی 14/262)
تم دیکھو گے کہ اہلِ باطل گواہیوں، خواہشات، اور اعمال میں تو ایک دوسرے سے مختلف ہونگے لیکن اہلِ حق کی عداوت میں سب ایک ہونگے!
تابعی قتادہ رحمہ اللہ
[تفسیر الطبری 292/23]