الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
قال شيخ الإسلام ابن تيميَّة رحمه الله :"... ومما ينبغي أن يعلم أن القرآن والحديث إذا عُرِف تفسيره من جهة النبي صلى الله عليه وسلم لم يُحتج في ذلك إلى أقوال أهل اللغة... ".
[الفرقان بين الحق والبطلان:٢٣٤].
اور یہ جان لینا چاہئے! کہ جب قرآن وحدیث کی تفسیر(وضاحت)
نبیﷺکیطرف سے مل جائے، تو اسمیں...
"جو اپنے نفس کو پہچان لیتا ہے وہ لوگوں کے عیب تلاش کرنے کی بجائے اپنے نفس کی اصلاح میں لگ جاتا ہے اور جو اپنے رب کو پہچان لیتا ہے وہ اپنی خواہشات کے پیچھے چلنے کی بجائے اپنے رب کو راضی کرنے میں لگ جاتا ہے۔"
امام ابن القیم رحمہ اللہ
[كتاب الفوائد صـ57]
"ایمان کے مضبوط ترین حلقے [دو] ہیں، اللہ کیلئے محبت کرنا اور اللہ کیلئے بغض رکھنا۔"
امام ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ ’’امام مجاہد (تابعی و مفسر قرآن) رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں ۔
(کتاب الایمان: 111، وسندہ صحیح)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اللہ تعالی روزِ قیامت ضرور ایسی مغفرت کرے گا کہ کسی نے اسکا تصور بھی نہیں کیا ہوگا!
( الزهد ﻻبن المبارك 1364)
قال سفيان بن عيينة رحمه الله:
إذا وافقت السريرة العلانية، فذلك العدل،
وإذا كانت السريرة أفضل من العلانية، فذلك الفضل،
وإذا كانت العلانية أفضل من السريرة، فذلك الجوْر.
[صفة الصفوة 2/ 541].
جلوت و خلوت یکساں ہوں تو یہ عدل ہے۔
خلوت، جلوت سے بہتر ہو تو فضیلت ہے۔
اور جلوت، خلوت سے اچھی ہو...
کفر کے چار ارکان ہیں: تکبر، حسد، غصہ اور شہوت_
تکبر: تابعداری سے روکتا ہے اور حسد نصیحت قبول کرنےاور دوسروں کو نصیحت کرنے سے_ غصہ عدل سے روکتا ہے اور شہوت عبادت کے لئے فارغ ہونے سے روکتی ہے_
(علامہ ابن القیم رحمہ اللہ)
[کتاب الفوائد صـ157]
مشہور تابعی إبراهيم النخعی رحمہ اللّٰه فرماتے ہیں :
شادی کرو اور یاد رکھو کہ جو رب اس عورت کو اس کے گھر میں رزق سے نوازتا تھا وہی تمہیں اور اس کو بھی تمہارے گھر میں بھی رزق عطا کرے گا۔
(تاريخ إبن محرز : صـ١٠٥)
امام ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"خوش بختی کی علامت یہ ہے کہ آپ نیک اعمال کریں اور اس کے قبول نہ ہونے سے بھی ڈریں اور بدبختی کی علامت یہ ہے کہ آپ گناہ بھی کریں اور نجات کی امید بھی رکھیں۔"
(فتح الباري: ٣٠١/١١)
امام حسن بصری فرماتے ہیں:
"میں علم کا کوئی باب سیکھ کر کسی مسلمان کو سکھاؤں یہ مجھے زیادہ پسند ہے اس سے کہ ساری دنیا کی دولت میری ہو اور اللہ کے راستے میں صدقہ کروں۔"
(الفقيه والمتفقه ١٠٢/١)
امام ابن قیم فرماتے ہیں:
"کسی نعمت کا چِھن جانا دو باتوں کی وجہ سے ہوتا ہے!
اللہ کے تقوے کو چھوڑ دینا اور لوگوں سے برا سلوک کرنا"
أحكام أهل الذمة (٨٨/١)
امام ابن جریر طبری رحمه الله فرماتے ہیں :
"بے شک اللہ تعالی نے مومنوں کو ایک دوسرے کا ہر قسم کا مذاق اڑانے سے منع فرما دیا ہے۔"
(تفسیر الطبری ، 22/376)