الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
امام فضیل بن عیاض کہتے ہیں:
جس نے اپنے بھائی میں کوئی برائی دیکھی پھر اسکے منہ پر ہنسا ، تو اس نے اسکے ساتھ خیانت کی (یعنی بجائے نصیحت کرنے کے اسکی تحقیر کرکے)
(المجالسة وجواهر العلم ١١٥/٥)
امام سفیان الثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
جب تم نیکی کا حکم دیتے ہو تو مؤمن کی کمر مضبوط کرتے ہو اور جب کسی برائی سے روکتے ہو تو منافق کی ناک مٹی میں ملا دیتے ہو۔"
(الأمر بالمعروف للخلال صـ٧٨)
"میں نے علم حاصل کرنا چاہا تو اسکا کچھ حصہ ملا اور ادب حاصل کرنا چاہا تو پتا چلا کہ اہل ادب تو دنیا میں رہے ہی نہیں۔"
مُحَدِّث عبد اللہ بن المبارک رحمہ اللہ
[الآداب الشرعية 208/4]
امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
توحید سے منہ پھیرنے والا مشرک ہے چاہے وہ مانےیا نا مانے!
سنت سے منہ پھیرنے والا بدعتی ہے چاہے وہ مانے یا نہ مانے!
(إغاثة اللھفان من مصاید الشیطان : 214/1)
امام ابن عقیل حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
اگر لوگ شریعت کے ساتھ ایسے وابستگی اختیار کریں جیسے رسوم و رواج کے ساتھ کرتے ہیں ؛ تو ان کے معاملات سدھر جائیں۔
(الآداب الشرعية لابن مفلح : ٣٨٤/٣)
امام سفیان الثوری فرماتے ہیں:
جب تمھیں مشرق و مغرب کے کسی شخص کے بارے میں پتہ چلے کہ وہ اھل سنت میں سے ہیں تو انہیں سلام بھیجو اور انکے لیے دعا کرو، اھلِ سنت کس قدر کم ہیں!
(رواه اللالكائي #٥۰)
امام ابو القاسم الاصبھانی اپنی مایہ ناز کتاب الحجة في بيان المحجة میں فرماتے ہیں:
"سلف کا یہ کہنا کہ فلاں سنت پر ہے یا اھل سنت میں سے ہے اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ قول و عمل میں وہ وحی اور اثر (کتاب و سنت، صحابہ کے آثار) کے موافق ہے۔"
(الحجة في بيان المحجة ٤١١/٢)
امام ابن معین رحمہ الله فرماتے ہیں کہ:
"میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ جیسا کسی کو نہیں دیکھا! ہم ان کے ساتھ پچاس سال تک رہے ، لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنی کسی بھی خوبی اورکسی بھی بھلائی پہ ہمارے سامنے فخر نہیں کیا۔"
(حلية الأولياء لأبي نعيم: 9/ 181)
"دنیا میں اصل زاہد وہ شخص ہے جو صرف رزقِ حلال پر اکتفا کرے (چاہے بظاہر وہ دنیا سے بہت محبت رکھتا ہو)۔
اور دنیا میں رغبت رکھنے والا انسان وہ ہے، جو اس کی پرواہ نہ کرے کہ جو وہ کما رہا ہے وہ حلال ہے یا حرام! (چاہے بظاہر وہ دنیا سے بیزار نظر آتا ہو)۔"
ابو امیتہ رحمہ اللہ
[الزهد ٣٢]
شیخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله کا اپنے مخالفین کے ساتھ حسنِ سلوک دیکھ کر ان کے ایک قریبی ساتھی کہا کرتے تھے :
”کاش میں اپنے دوستوں کے حق میں ایسا ہو جاؤں، جیسے ابنِ تیمیہ اپنے دشمنوں کے حق میں ہیں۔“
(مدارج السالكين لابن القيم : ٣٤٥/٢)
امام سفیان ثورى رحمہ الله معروف زاہد ابراہیم بن ادہم رحمہ الله کے پاس آیا کرتے اور کہتے:
"ابراہیم ! دعا کیجیے کہ اللہ ہماری موت توحید پر کرے۔"
(الثبات عند الممات لابن الجوزي : ۸۰)