الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
کتاب کا نام
اسلامی قانون وراثت (سوالاً جواباً)
مصنف
ابو نعمان بشیر احمد
نظرثانی
ابو محمد حافظ عبدالستار حماد
ناشر
مکتبہ دارالسلام،لاہور
تبصرہ
دیگر معاملات کی طرح تقسیم وراثیت سے متعلقہ اسلام کی تعلیمات نہایت عادلانہ اور منصفانہ ہیں۔ تاکہ مرحومین کے پسماندگان کی مامون و محفوظ اور پر امن دنیوی...
آپ نے اپنى زندگى ميں بے شمار داعى اور خطيب تيار كرنے، ان كو پروان چڑهانے اور منبر رسول كے تقدس كے رموز سكھانے كے علاوہ كئى دينى مراكز بهى قائم كئے- شیخوپورہ ميں آپ كا معمول يہ تها كہ كسى ايك دينى مركز كو تعمير كركے، آباد كرنے اور اس ميں اسلام كى تبليغ و تعليم كا خاطرخواہ انتظام كرنے كے بعد آپ...
اور شانِ اوليا كا نقشہ ان اشعار ميں بيان كرتے:
تجلى چهرياں تے فاغسلوا دا تے جلوہ نور سيماهم وجوه دا
اُجالا لا إله إلا هو دا تے شعلہ واركعوا تے واسجدوا دا
زبان وچ ذوق شيريں فاقرء وا دا تے وظيفہ فاذكروا تے واشكرو دا
ہتھاں وچ فيض حتى تُنفقوا دا جسم وچ زور بهريا وجاهدوا دا
اكهاں وچ نير...
بہت سے خطبا نے آپ كى زندگى ميں آپ كا سا بننے كى كوشش كى بلكہ ايك احمق خطيب نے آپ كے سامنے اپنى اس احمقانہ خواہش كا اظہار بهى كرديا كہ كاش ايك آل پاكستان كانفرنس كا انعقاد ہو اور اس ميں آپ كا خطاب ہو- جب آپ كا خطاب جوبن پر ہو تو آپ يكايك اپنا خطاب بند كركے اپنى پگڑى ميرے سر پر ركھ ديں اور اعلان...
مولانا مرحوم اللہ تعالىٰ كى توفيق وعنايت سے سارى زندگى اتحاد بين المسلمین كے داعى رہے اور مكّے كى مثال دے كر سمجھاتے رہے كہ مسلمانوں ايك مُكے كى طرح متحد ہوجاؤ، ديكهو اكيلى انگشت ِشہادت، وسطىٰ، بنصر، خنصر اور انگوٹها كچھ نہيں كرسكتے ليكن جب يہ متحد ہوجاتے ہيں تو مُكا بن كر بہت كچھ كرسكتے ہيں-...
جب مولانا كو اپنے قتل كے منصوبے پر تبصرہ كرنے كو كہا گيا تو آپ نے فرمايا: ہم اپنے قتل ہونے سے كب ڈرنے والے ہيں بلكہ ہم تو اس شہادت كو قبول كرنے پر تيار ہيں ليكن سوچنے كى بات يہ ہے كہ مخالف مسلك علما كے قتل كے بدلے سو شہيد كے ثواب كا فتوىٰ دينے والے مولوى بذاتِ خود يہ ثواب كيوں نہيں حاصل كرتے؟...
آپ كى زندگى كے آخرى دنوں ميں ڈاكٹر غلام مرتضىٰ ملك او رپروفيسر عطاء الرحمن ثاقب قتل كيس كے مجرموں نے انكشاف كيا كہ ہمارے پروگرام ميں مولانا محمد حسين شیخوپورى كو قتل كرنا بهى شامل تها اور اس كى منصوبہ بندى ميں ہى تهے كہ ہم حيرت انگيز طريقے سے دهر لئے گئے- حضرت مولانا محمد حسين شیخوپورى،ڈاكٹر...
راقم الحروف بذاتِ خود بہت سے ايسے افراد كو جانتا ہے جو كسى دور ميں كٹر قسم كے بدعتى تهے اور لاوٴڈ سپيكروں پر اپنے مخالفين كو منكر اور گستاخ كے القاب دے كر كوستے تهے ليكن وہ آپ كى تقرير سن كر توحيد و سنت كے داعى بن گئے- غالبا ً ١٩٧٤ء كى بات ہے كہ ميں نے ديپالپور كے جلسہ عام ميں ايك صاحب كو آپ كى...
آپ كے فرقہ پرست مخالف بهى آپ كے جادو اثر وعظ سے بڑے خوفزده رہتے تهے- ان كے خوف كى وجہ يہ نہ تهى كہ آپ اپنے وعظ ميں دشنام طرازى كريں گے بلكہ اس وجہ سے كہ آپ ان كى دھكائى ہوئى فرقہ پرستى كى آگ كو بجھا ديں گے۔ آپ نے اپنى سارى زندگى ميں مذہبى مخالفين كو مار كر سو شہيد كا ثواب حاصل كرنے كا فتوىٰ نہيں...
آہ ! شیخ القرآن مولانا محمد حسین شیخوپورى رحمہ اللہ
يادِ رفتگاں
مولانا عبد الجبار سلفى
چمنستانِ رسالت كا يہ بلبل تقريباً ستاسى سال قبل، یعنى ١٩١٨ء ميں اس دنيا ميں تشريف لايا اور تقريباً پینسٹھ سال تك مختلف گلستانوں ميں چہچہاتا رہا اور وما جعلنا لبشر من قبلك الخُلد كے...
یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جب ہم اپنے مشاہر پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسے نابغہ روزگار کم ہی نظر آتے ہیں۔ جنہوں نے تحقیق و تصنیف کے ساتھ دعوت و تبلیغ کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہوں اور بلاشبہ ایسے ناموں میں ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم کا نام انتہائی نمایاں ہے۔ ان کی سرگرمیاں تحقیق و تفوق کے...
ڈاکٹر صاحب نے اسی تحقیقی و علمی ذوق کی بنا پر دیارِ مغرب کو اپنا مسکن بنایا اور اپنی ساری زندگی اسی ذوق کی نذر کردی۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنا طویل عرصہ مغرب میں رہنے کے باوجود ان کی طرزِ زندگی یا ان کی فکر پر مغربیت کا ادنیٰ سا شائبہ تک نہیں۔ اسی طرح عجز و انکساری بھی ان کی شخصیت کا نمایاں...
ڈاکٹر صاحب نہ صرف ان تحقیقی سرگرمیوں میں مصروف رہے، بلکہ تدریس اور تبلیغ بھی ان کا میدانِ کا ر رہے۔ ان تبلیغی مشاغل کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے ایک جریدے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ
اس سوال پر کہ آپ نے پیرس ہی کو کیوں اپنی مستقل رہائش کے لئے منتخب کیا ، ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ ایک تو ایسا...
ڈاکٹر صاحب کی متنوع اور پیچیدہ تحقیقی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والا شخص حیرت وممنوعیت کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ ان کی ساری کی ساری زندگی تحقیق و جستجو، اشاعت اور تبلیغ اسلام ہی سے عبارت ہے۔ اس سلسلے میں آپ ابن تیمیہؒ کے متبع نظر آتے ہیں۔ ہر قسم کے تکلّفات اور جھمیلوں سے آزاد بس اپنے مشن میں...
ڈاکٹر محمد حمیداللہ مرحوم۔۔۔۔ایک عہدآفرین شخصیت
یادِ رفتگاں
عظیم ترمذي
رکن مجلس التحقیق الاسلامی
عالم اسلام کے معروف محقق، مؤرخ اور مفسر ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ گذشتہ دنوں فلوریڈا کے ہسپتال میں ۹۶ سال کی عمر میں اپنے خالق حقیق سے جاملے۔ ان کی وفات، ان کے کارناموں اور مشن سے...
اس ادارے کو ایک اور شرف بھی حاصل ہے کہ اس کی طرف سے جامع ترمذی کی شرح تحفة الاحوذی کو شائع کیا گیا ہے جو بہت بڑی علمی خدمت ہے۔ یہ شرح علامہ عبدالرحمن مبارکپوری نے مرتب کی ہے جو مسلم دنیا میں فن حدیث کے امام تسلیم کئے جاتے ہیں۔
مولانا حج بیت اللہ سے بھی مشرف ہوئے۔ آپ نے سعودی عرب کے مشہور شہروں...
یہ وہ بابرکت اور خوش نصیب درس گاہیں ہیں جن کو آپ نے علم کا چمنستان بنا دیا۔ آج وہاں سے علوم و معارف کی خوشبو بکھر رہی ہے۔ آپ کے مشہور تلامذہ یہ ہیں:
مولانا عبدالحمید ہزاروی، مولانا حافظ احسان الٰہی ظہیر، مولانا عبداللہ راولپنڈی، مولانا ارشاد الحق اثری، پروفیسر محمد ظفر اللہ (جامعہ ابی بکر...
اور بھی اساتذہ ہوں گے جن کو میدانِ تدریس میں زیادہ شہرت نہ ملی ہو۔ آپ نے میٹرک، فاضل عربی، فاضل فارسی کے امتحانات پرائیویٹ اُمیدوار کی حیثیت سے دیئے اور نتائج میں کامیابی حاصل کی۔ آپ نے عمرعزیز کے پچاس سال تدریسی مصروفیات میں گزارے۔ اس طویل عرصہ میں سینکڑوں طلبہ نے آپ سے علمی فیض پایا اور...
متانت ، وقار، کسر نفسی اور خندہ پیشانی آپ کی سیرت کا بڑا حصہ تھا۔ میرے دورِ طالب علمی پر عرصہ دراز گزر چکا تھا مگر ان کے ذہن میں میری شناخت اور پہچان اسی طرح تازہ تھی جیسے آج بھی میں ان کا شاگرد ہوں۔ بڑی بے تکلفی کا اظہار کرتے اور مجھے کہتے تم میرے ایسے شاگرد ہو جس پر مجھے ناز ہے۔ چند ہفتوں کی...
میرے ہم سبق جو طلبہ تھے، ان کے یہ نام ہیں: قدرت اللہ فوق، محمد علی جانباز، عبدالمجید سنانوی، عبدالغفور فیصل آبادی، عبدالرحمن فیصل آبادی، صلاح الدین چک نمبر ۹۲ گ ب اور محمد صدیق چک نمبر ۷۲ گ ب۔
یہ غالباً ۱۹۵۰ء کے بعد کا دور ہے جو خالص علمی دور تھا۔ کتابوں کے متون، شروح اور حواشی پڑھنے کا دور...