الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
میں اس حدیث کے متعلق چھان بین کر رہاتھا کہ دیکھا محمد عامر یونس بھائی نے اس کی تحقیق کا لنک دے دیا ہے
اسلئے اب مزید کی ضرورت نہیں ، وہی تحریر کافی ہے ،
یہ مضمون اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں فقیر نے لکھا تھا ، فیاض بھائی اس مضمون کو حسب ضرورت جہاں چاہیں نقل کریں
تاہم حوالہ ضرور دیں ، اس کا انہیں ہی فائدہ ہوگا ۔
کیونکہ میری تحقیق پر کسی نے گرفت کی تو وضاحت کیلئے انہیں بتانا پڑے گا کہ اصل مضمون کس کا تھا ،
اور اس کی وضاحت میرے ہی ذمہ ہے ،
بہت عمدہ اور مفید کتاب ہے ،
اختصار کے باوجود ماہ محرم اور واقعہ کربلا کے متعلق شرعی نقطہ نظر کی وضاحت کی گئی ہے
اللہ تعالی مصنف اور یہاں فورم پر پیش کرنے والوں کو جزائے خیر سے نوازے۔ آمین
جزاکم اللہ احسن الجزاء
بھائی میں اس متعلق سادہ الفاظ میں آپ کو بتا چکا ہوں ،
شیخ فرماتے ہیں :
نوٹ:
واضح رہے کہ حدیث براء رضی اللہ عنہ جس میں برزخ میں روح لوٹائے جانے کی بات ہے وہ صحیح ہے ۔
لیکن اس حدیث میں روح لوٹائے جانے کا جو معاملہ ہے وہ برزخی ہے کیونکہ برزخ میں سوال وجواب وغیرہ کے لئے یہ روح لوٹائی جاتی ہے...
میرا موقف قلیب بدر کے مقتولین کے متعلق وہی ہے جو شیخ محترم نے لکھا ،
لیکن جاہل تکفیری ڈاکٹر عثمانی اینڈ کمپنی کا واویلا قبر میں میت کا زندوں کی جوتیوں کی آواز سننے کے متعلق ہے،
جس کے متعلق شیخ محترم لکھتے ہیں :
پیارے بھائی
محترم شیخ کفایت اللہ صاحب نے منہال بن عمرو کے متعلق لکھا ہے :
تو اگر شیخ صاحب کی بات آپ کے نزدیک صحیح ہے ، تو منہال کی ایسی روایات بتائیں جن میں وہ منفرد بھی ہو اور اس نے واضح غلطی بھی کی ہو "
نبی اکرم ﷺ کا واضح فرمان عالی شان ہے کہ :
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب جماعت کھڑی ہو...
تیسری روایت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی بتائی ہے ، لیکن وہ روایت لکھی نہیں ،
اور اسلئے نہیں لکھی کہ اس میں صاف صاف مروی ہے کہ جناب عبداللہ نے یہ دو رکعتیں مسجد سے باہر پڑھی تھیں
امام طحاوی لکھتے ہیں :
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: «خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ...
دوسری روایت جسے امام طحاوی نے روایت کیا ہے وہ یہ ہے:
طحاوی شرح معانی الآثار میں فرماتے ہیں :
حدثنا أبو بكرة، قال: ثنا أبو عمر الضرير، قال: ثنا عبد العزيز بن مسلم، قال: أنا مطرف بن طريف، عن أبي عثمان الأنصاري، قال: «جاء عبد الله بن عباس والإمام في صلاة الغداة , ولم يكن صلى الركعتين فصلى عبد الله...
السلام علیکم ورحمۃ اللہ
پہلی روایت دراصل مصنف عبد الرزق اور المعجم الکبیر طبرانی میں منقول ہے، درج ذیل الفاظ سے
(( حدثنا إسحاق بن إبراهيم، عن عبد الرزاق، عن الثوري، عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن أبي موسى، قال: «جاء ابن مسعود، والإمام يصلي الصبح فصلى ركعتين إلى سارية، ولم يكن صلى ركعتي الفجر»
اس...
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
پیارے بھائی
حافظ ابن حجرؒ کا اس حدیث کو " الصحیح " کی شرط پر کہنا صحیح ہے
یہاں الصحیح سے مراد میرا خیال ہے صحیح بخاری ہے
لیکن ملحوظ رہے کہ یہ حدیث امام بغویؒ نے معجم الصحابہ میں جس سند سے نقل فرمائی ہے اس اسناد سے حافظ صاحب کا حکم صحیح ہے ،
جبکہ امام...