الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
المیہ یہ ہوا کہ اس موضوع کے تحت جو میں عربی زبان کے بعض جملے حوالوں کے ساتھ لکھے تھے اس پر کسی نے کوئی بات نہیں کی مجھے علم نہیں تھا ورنہ میں ان کی اردو بھی ساتھ ہی لکھ دیتا تاکہ تنقید کرنے والوں کو مزید آسانی ہو جاتی
نہیں بات ایسی نہیں ہے جہاں حکیم فیض عالم صدیقی صاحب کی بات ٹھیک ہوتی ہے وہاں ان کی تائید حق ہے اور جہاں وہ غلط ہیں تو ان کی تائید بھی غلط صرف یہ کہنا کہ جو بات حکیم فیض عالم صدیقی صاحب نے لکھ دی وہ صحیح ہے اگر میں یہ بات کہوں تو غلط ہے لیکن کسی کی چند باتوں پر اسے مکمل غلط کہنا جب کہ وہ باتیں ان...
اور ابو محمد بھائی کیا مورخ ہونے کے لیے آپ کو تعارف کروانا ایک لازمی شرط ہے جیسا کہ حدیث کا استاد کو محدث کہا جا سکتا ہے اور تفسیر کے استاد کو مفسر تو تاریخ کے استاد کو مورخ کہنے میں کیا حرج ہے ؟
اور محترم القول السدید صاحب میری ان باتوں سے آپ سے بحث کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آنکھوں دیکھا بھی غلط ہوتا ہے کیونکہ آنکھیں وہ کچھ دیکھتی ہیں جو انسان کا دل اور دماغ اس کو دکھانا چاہتا ہے۔
اس لیے آپ اپنی سوچ کے ساتھ رہیں اور میں اپنی سوچ کےک ساتھ
جہاں تک خالد بشیر رحمہ اللہ کے قاتلوں کی بات ہے تو وہ بات تو اب کھل چکی ہے کہ کس طرح را کے درندوں نے ان کا قتل کیا اور اس کے لیے بطور مدد جماعت الدعوۃ کے جس لیڈر کے انتہائی قریبی رشتہ دار کو انہوں نے خریدا تھا مزے کی بات تو یہ ہے کہ اب خود اس لیڈر کی حادثاتی موت بھی ایک معمہ بنی ہوئی ہے اور خود...
یعنی مورخ یا تاریخ کا طالب علم یا استاد بننے کے لیے گمنام ہونا ایک بہت بری رکاوٹ ہے یا کوئی شرعی شرط یا کتاب و سنت کی کوئی شرط ہے کہ مشہور بھی ہوا جائے
یہ بطور مثال صرف چند اخباری تراشے جو کہ مجھے سکین کروا کر بھیجے گئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے طول و عرض کے اہل حدیث مکاتب فکر انہیں اہل حدیث ہی سمجھتے تھے اور یہ واضح رہے کہ یہ تمام تراشے ان کی وفات کے بعد کے ہیں یعنی آخری احوال کے بعد ہیں اور جس جس نے اس پر تعزیت کا اظہار کیا وہ کم از کم ان...
اور یہ بیان معروف عالم دین جامعہ ابی بکر الاسلامیہ کے سابق مدیر تعلیم اور شیخ الحدیث اور شارح سنن ابو داؤد مطبوع دارالسلام ابو عمار عمر فاروق السعیدی حفظہ اللہ کا بیان ہے