الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پڑوسی کو ستانا حرام ہے، پڑوسی کو ستانے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَبْدٌ لَا یَاْمَنُ جَارُہٗ بَوَائِقَہٗ۔ (احمد)
وہ بندہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی ایذاؤں سے امن میں نہ ہو۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
مَنْ اٰذٰی جَارَہٗ فَقَدْ اٰذَانِیْ وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللہَ وَمَنْ حَارَبَ جَارَہٗ فَقَدْ حَارَبَنِیْ وَمَنْ حَارَبَنِیْ فَقَدْ حَارَبَ اللہَ عَزَّوَجَلَّ۔ (ترغیب و ترہیب)
جس نے اپنے پڑوسی کو ایذا پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی، جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے...
یعنی اچھے اور بُرے ہونے کی یہی کسوٹی ہے کیوں کہ پڑوسی اپنے پڑوسی کے اخلاق حمیدہ اور افعال ذمیمہ سے خوب واقف ہوتا ہے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺنے فرمایا:
مَنْ یَّاخُذُ مِنِّیْ ھٰؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ فَیَعْمَلُ بِھِنَّ اَوْیُعَلِّمُ مَنْ یَّعْمَلُ بِھِنَّ فَقُلْتُ...
نیک و بد کی یہ پہچان ہے کہ اگر پڑوسی اپنے پڑوسی کے بارے میں یہ کہے گا کہ یہ اچھا ہے تو وہ اچھا ہے اور جو بُرا کہے وہ بُرا ہے۔ ا س کے بارے میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول کریم ﷺکی خدمت میں عرض کیا:
یَارَسُوْلَ اللہِ کَیْفَ لِیْ اَعْلَمُ اِذَا...
قیامت کے دن ہمسایہ اپنے ہمسایہ کے بارے میں یہ شکایت کرے گا کہ اس نے مجھے نہ اچھی باتوں کی نصیحت کی نہ بُری باتوں سے روکا نہ نماز پڑھنے کو کہا اور نہ روزہ رکھنے کو کہا۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کتاب الصلوٰۃ ومایلزم لہا کے صفحہ ۲۲ میں فرماتے ہیں:
وَقَدْجَائَ الْحَدِیْثُ قَالَ یَجِیْءُ...
پڑوس کو ستانا گناہ کبیرہ ہے، قیامت کے روز سب سے پہلے ان دو پڑوسیوں کی اللہ کے سامنے پیشی ہوگی جنہوں نے دنیا میں ایک دوسرے کی حق تلفی کی ہوگی۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اَوَّلُ الْخَصْمَیْنِ یَوْمَ الْقَیٰمَۃِ جَارَانِ۔ (مسند احمد)
قیامت کے روز سب سے پہلے دو پڑوسی اللہ کے سامنے پیش ہوں گے جنہوں نے...
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پڑوسی کو ایذا پہنچانے والا مومن نہیں ہے بلکہ پڑوسی کو ایذا پہنچانے والا دوزخی ہے۔
جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ اِنَّ فُلَانَۃً تُذْکَرُ مِنْ کَثْرَۃِ صَلٰوتِھَا وَصِیَامِھَا وَصَدَقَتِھَا غَیْرَ اَنَّھَا تُؤْذِیْ...
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا خدا اور رسول کے ساتھ محبت کی نشانی ہے اور اگر اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا تو یہ اللہ و رسول کے ساتھ دشمنی رکھنے کی علامت ہے۔
جیسا کہ خود رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:
وَاللہِ لَایُؤْمِنُ وَاللہِ لَا یُؤْمِنُ وَاللہِ لَا...
رسول اللہ ﷺکی سچی محبت یہی ہے کہ آپ کے پیغام اور ارشاد پر پورا پورا عمل کیا جائے اور پڑوسی کی عزت کی جائے۔
سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی قراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ یَوْمًا فَجَعَلَ اَصْحَابُہٗ یَتَمَسَّحُوْنَ بِوَضُوْئِ ہٖ فَقَالَ...
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے مؤطا میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ گوشت کا ایک ٹکڑا لٹکائے جا رہے ہیں۔ پوچھا، کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا، کہ امیر المومنین! گوشت کھانے کو جی چاہتا تھا تو ایک درہم کا گوشت خریدا ہے۔ فرمایا: اے جابر! کیا اپنے...
پڑوسی خواہ دوست ہو یا دشمن، مسلمان ہو یا غیر مسلم، سبھی کا برابر حق ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے یہاں بکری ذبح کی گئی تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے فرمایا:
ھَلْ اَھْدَیْتُمْ مِّنْھَا لِجَارِنَا الْیَھُوْدِیِّ قَالُوْا لَا قَالَ ابْعَثُوْا لَہٗ مِنْھَا فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ...
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قریب والے پڑوسی کا زیاد حق ہے اگر آسودہ پڑوسی آسودہ ہوکر کھائے پیئے اور غریب و محتاج پڑوسی کی خبر گیری نہ کرے تو وہ کامل مومن نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
لَیْسَ الْمُؤْمِنُ الَّذِیْ یَشْبَعُ وَجَارُہٗ جَائِعٌ۔ (شعب الایمان)
یعنی وہ مومن نہیں ہے جو خود آسودہ ہو اور اس...
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رضی اللہ عنہا نے کہا:
یَارَسُوْلَ اللہِ اِنَّ لِیْ جَارَیْنِ فَاِلٰی اَیّھِمَا اُھْدِیْ قَالَ الٰی اَقْرَبِھِمَا مِنْکِ بَابًا۔ (بخاری)
یا رسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں تو میں کس کے یہاں ہدیہ اور تحفہ بھیجوں؟ آپ نے فرمایا کہ جس کا دروازہ تمہارے دروازے سے...
اگر پڑوسی کو دیوار میں میخ اور کھونٹی گاڑنے کی ضرورت پیش آجائے اور گاڑنے سے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے گا تو گاڑنے سے نہیں روکنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
لَا یَمْنَعُ جَارٌ جَارَہٗ اَنْ یَّغرِزَ خَشَبَتَہٗ فِیْ جِدَارِہٖ۔ (بخاری و مسلم)
یعنی کوئی پڑوسی اپنے ہمسایہ پڑوسی کو دیوار میں کھونٹی...
قرآن مجید میں ایسی چیزوں کو ’’مَاعُوْنَ‘‘ کہا گیا ہے جس کی ممانعت سے روکا گیا ہے اور نہ دینے والوں کی بڑی مذمت بیان کی گئی ہے:
اَرَءَيْتَ الَّذِيْ يُكَذِّبُ بِالدِّيْنِ۱ۭ فَذٰلِكَ الَّذِيْ يَدُعُّ الْيَتِيْمَ۲ۙ وَلَا يَحُضُّ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۳ۭ فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۴ۙ...
یہ نصیحت و وصیت دونوں پڑوسنوں کے لیے ہے۔ یعنی نہ تو بھیجنے والی پڑوسن اپنے معمولی تحفے و ہدیے کو حقیر سمجھ کر اپنی پڑوسن کو تحفہ نہ بھیجے اور دوسری پڑوسن اس معمولی ہدیہ کو دیکھ کر منہ نہ پھیرے بلکہ شکریہ کے ساتھ قبول کرلے۔
اسی طرح سے جب کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن سے روزمرہ کی برتنے والی چیز مانگے تو...
اس قسم کے ہدیے اور تحفے بھیجنے کا موقع عورتوں کو پیش آیا کرتا ہے اس لیے رسول اللہ ﷺنے خصوصیت کے ساتھ عورتوں کو مخاطب کرکے فرمایا:
وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَۃٌ لِجَارَتِھَا وَلَوْ فِرْسَنُ شَاْۃٍ۔ (بخاری و مسلم)
کوئی پڑوسن اپنے پڑوسن کے لیے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے اگرچہ دینے کے لیے بکری کا کھر ہی...
رسول اللہ ﷺنے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ نصیحت فرمائی تھی:
اِذَا طَبَخْتَ مَرَقَۃً فَاَکْثِرْ مَائَ ھَا وَتَعَاھَدْ جِیْرَانَکَ۔ (بخاری)
جب تم کوئی شوربہ دار چیز پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ملالو اور اس سے اپنے پڑوسی کی خبرگیری کرو۔
یعنی اس کے یہاں بھی بھیج دیا کرو۔ اس طرح کرنے سے آپس میں...
پڑوسیوں میں محبت کی ترقی اور تعلقات کی استواری کا بہترین ذریعہ باہم ہدیوں اور تحفوں کا تبادلہ ہے۔ رسول اکرم ﷺخود اپنی بیویوں کو اس کی تاکید فرمایا کرتے تھے۔ اس بنا پر ایک دفعہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ یارسول اللہ! میرے دو پڑوسی ہیں تو میں ان میں سے کس کے پاس ہدیہ بھیجوں؟ تو آپ نے...
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نیک پڑوسی جو اپنے پڑوسی کو نہیں ستاتا ہے وہ اللہ کا پیارا ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
خَیْرُالْاَصْحَابِ عِنْدَ اللہِ خَیْرُھُمْ لِصَاحِبِہٖ وَخَیْرُ الْجِیْرَانِ عِنْدَاللہِ خَیْرُھُمْ لِجَارِہٖ۔ (ترمذی)
اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساتھیوں میں سے وہ سب سے بہتر ساتھی ہے...