الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
نیک پڑوسی باعث سعادت اور موجب برکت ہے اور بُرا پڑوسی باعث نحوست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَرْبَعٌ مِّن السَّعَادَۃِ اَلْمَرْئَ ۃُ الصَّالِحَۃُ وَالْمَسْکَنُ الْوَاسِعُ وَالْجَارُ الصَّالِحُ وَالْمَرْکَبُ الْہَنِیءُ وَاَرْبَعٌ مِّن الشَّقَآئِ اَلْجَارُ السُّوْئُ وَالْمَرْئَ ۃُ...
نیک پڑوسی باعث خیر و رحمت و برکت ہے
اور اس کی نیکی کی وجہ سے پاس پڑوس کے سو گھرانوں سے مصیبتوں کو اللہ تعالیٰ دُور فرما دیتا ہے۔ نیک پڑوسی کی بہت فضیلت ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
اِنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ لَیْدَفَعُ بِالْمُسْلِمِ الصَّالِحِ عَنْ مِائَۃِ اَھْلِ بَیْتٍ مِنْ جِیْرَانِہِ...
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ’’الادب المفرد‘‘ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو نقل فرمایا ہے:
قَاَل رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ اِنَّ لِیْ جَارًا یُوْذِیْنِیْ فَقَالَ اِنْطَلِقْ فَاَخْرِجْ مَتَاعَکَ اِلَی الطَّرِیْقِ فَانْطَلَقَ فَاَخْرَجَ مَتَاعَہٗ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ...
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پڑوسی کی ایذارسانی پر حتی الامکان صبر کرنا چاہیے۔ جب معاملہ حد سے بڑھ جائے تو گھر کے سامان کو راستہ میں ڈال دے۔ جب لوگوں کو پڑوسی کی تکلیف رسانی کی خبر ہوگی تو وہ اس تکلیف رساں پڑوسی کو بُرا بھلا کہیں گے تو وہ اس کو تکلیف دینے اور مصیبت میں ڈالنے سے باز رہے گا۔
چنانچہ ترغیب و ترہیب میں ہے کہ حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جَائَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَشْکُوْا جَارَہٗ فَقَالَ اِطْرَحْ مَتَاعَکَ عَلٰی طَرِیْقٍ فَطَرَحَہٗ فَجَعَلَ النَّاسُ یَمُرُّوْنَ عَلَیْہِ وَیَلْعَنُوْنَہٗ فَجَائَ اِلَی النَّبِیِّ...
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ پڑوسی کو ستانا اور تکلیف دینا بڑی بے انصافی اور گناہ کبیرہ ہے، لیکن جہاں تک ہوسکے مظلوم پڑوسی ظالم پڑوسی کی تکلیفوں پر صبر کرے اور اگر ناقابل برداشت ہو تو اپنے گھر کے سامان کو باہر راستے میں ڈالے تاکہ آنے جانے والے اس ظالم پڑوسی کو بُرا بھلا کہیں، ممکن ہے کہ وہ اس کی...
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ میں فلاں محلے میں رہتا ہوں اور سب سے زیادہ قریبی پڑوسی مجھے ستاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺنے سیدنا ابوبکر و عمر اور علی رضی اللہ عنہم کو بھیجا کہ وہ مسجد کے دروازے پر کھڑے ہوکر پکار پکار کر یہ اعلان...
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کافر و مشرک کا بھی پڑوسی ہونے کی وجہ سے حق ہے جس کی ادائیگی مکارم اخلاق میں داخل ہے۔ یہ ہمسائیگی درجہ بدرجہ چالیس گھروں تک رہتی ہے۔
اب اس سلسلے کی ان احادیث کو پڑھیے اور سنیے جن میں رسول اللہ ﷺ نے پڑوسی کے حقوق کی اہمیت بتائی ہے اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کا تاکیدی حکم دیا ہے خواہ وہ پڑوسی رشتہ دار ہو یا اجنبی مسلمان ہو یا کافر۔
اسلام نے انہیں حکمتوں کو سامنے رکھ کر ہمسائیگی کے حقوق کی دفعات بنائی ہیں۔ عربوں میں دوسری قوموں سے زیادہ اسلام سے پہلے بھی پڑوس اور ہمسائیگی کے حقوق نہایت اہم تھے بلکہ عزت و افتخار کے موجب تھے۔ اگر کسی عرب کے پڑوس کے لیے بے عزتی اور عار کا موجب تھا تو اس کے لیے اس خاطر لڑنے مرنے کو وہ اپنی...
اور ایک نکتہ یہ بھی ہے کہ انسان کو اسی سے تکلیف اور دکھ پہنچنے کا اندیشہ بھی زیادہ ہے جو ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے باہمی تعلقات خوش گوار رکھنا اور ایک دوسرے کو ملائے رکھنا ایک سچے مذہب کا سب سے بڑا فرض ہے، تاکہ برائیوں کا سدّباب ہو کر یہ پڑوس دوزخ کے بجائے بہشت کا نمونہ ہو۔
ہر انسان بظاہر جسمانی اور مادی حیثیت سے جتنا ایک دوسرے سے علیحدہ اور بجائے خود مستقل ہے، اخلاقی اور روحانیت کی حیثیت سے فرض ہے کہ وہ اتنا ہی ایک دوسرے سے ملا ہوا ہو۔ اور ایک کا وجود دوسرے کے وجود سے پیوستہ ہو۔ اسی لیے ہر مذہب نے ان دونوں انسانوں پر جو ایک دوسرے کے قریب آباد ہوں، ایک دوسرے کی...
ہر انسانی برادری کے ساتھ ہمدردی و خیرخواہی تو ضروری ہے ہی لیکن بعض بعض لوگوں کے ساتھ نصیحت اور خیرخواہی انسانیت کا جوہر اور شرافت کا رکن اعظم ہے۔ اس میں سے پڑوسی اور ہمسایہ ہیں۔ ہمسایہ اور پڑوسی وہ رہنے والے دو آدمی ہیں جو ایک دوسرے کے قریب رہتے و بستے ہیں۔ انسانیت اور اس کے تمدن کا باہمی اشتراک...
مسجد احمد، ترمذی، ابوداؤد کی روایت میں ہے:
اَلْمُؤْمِنُ مِرْأَۃُ الْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنُ اَخُوالْمُؤْمِنِ یَکُفُّ عَنْہُ ضَیْعَتَہٗ وَیَحُوْطُہٗ مِنْ وَّرَائِہٖ۔
یعنی ہر مومن اپنے مومن بھائی کے لیے آئینہ ہے اور بھائی ہے اگر اس کے اندر کا عیب دیکھے تو نہایت نرمی سے اس کے عیب کو اس کے سامنے...
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کے عیوب چھپانا بھی اسلامی حق ہے۔ اگر کوئی مسلمان بھائی کی آبرو ریزی کررہا ہو تو حتی الامکان اس کو آبرو ریزی سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’جو مسلمان اپنے بھائی کی ایسی جگہ مدد کرے جہاں اس کی بے عزتی کی جارہی ہو اور توہین کی جارہی ہو تو...
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان بھائی کے عیوب چھپانا بھی اسلامی حق ہے۔ اگر کوئی مسلمان بھائی کی آبرو ریزی کررہا ہو تو حتی الامکان اس کو آبرو ریزی سے بچانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
’’جو مسلمان اپنے بھائی کی ایسی جگہ مدد کرے جہاں اس کی بے عزتی کی جارہی ہو اور توہین کی جارہی ہو تو...
ایک حدیث میں آپ ﷺنے اس طرح فرمایا:
اَلْمُسْلِمُ اَخُوا لْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یُسْلِمُہٗ وَمَنْ کَانَ فِیْ حَاجَۃِ اَخِیْہِ کَانَ اللہُ فِیْ حَاجَتِہٖ۔ (بخاری)
یعنی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرے نہ اس کو ظالم کے ہاتھ میں چھوڑے اور جو شخص اپنے بھائی مسلمان کی...