الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
مصادر کتاب
۱۔ الإحکام فی أصول الأحکام۔ از امام ابن حزم رحمہ اللہ۔
۲۔ الإرشاد از خلیلی
۳۔ اعلام الموقعین از ابن القیم الجوزیہ
۴۔ الإلماع از قاضی عیاض بن موسیٰ
۵۔ الباعث الحثیث از ابن کثیر
۶۔ البیان لتفسیر آی القرآن از امام ابن تیمیۃ
۷۔ تاریخ بغداد از خطیب بغدادی
۸۔ التاریخ الکبیر از امام...
٭… زمانۂ حال میں ہر جدید ذہن، اسلام کی تعبیر اپنے علم و فہم اور رجحان کے مطابق کرنا چاہتا ہے۔ ماڈرن ازم نے مرعوبیت کی وہ بنیاد رکھی ہے کہ بڑے بڑے بہک گئے ہیں۔ بدعملی اور بے دینی زمانہ و حالات کے مطابق دینداری سمجھی جا رہی ہے۔ خرافات و بدعات کو سیاسی ضرورت سمجھ لیا گیا ہے۔ جدت پسندی کے لئے انکار...
دوسری طرف روشن خیال لوگ ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ مگر محراب و منبر اور مسجد، مدرسہ اور عالم دین سے نالاں ہیں۔ غیروں جیسا بننے میں انہیں جتنا فخر ہوتا ہے اتنا ہی رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام جیسا بننے سے انہیں سخت نفرت ہے۔ انہی کی زبان، انہی کی اٹھان اور انہی کی شان پر وارفتہ ہیں۔ یہ نئے...
ایک اور گروہ بھی ہے جو:
… حدیث رسول کو ترقی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ اور قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے بجائے رسول محترم ﷺ کی احادیث کو وزن دیں اپنی رائے اور امریکہ و روس کی مثالیں دے کر اپنی بات کو باوزن بناتے ہیں۔ ان کا کلچر و ثقافت ان کے لئے (اسوہ حسنہ) مثالی کلچر ہے۔ مگر انہیں شاید...
حرف آخر
ہمارا مطالعہ ہے کہ حدیث رسول کے بارے میں مسلمانوں کی اکثریت نابلد ہے۔ بہت کم لوگ ہیں جو اس کی علمی، تحقیقی اور استدلالی حیثیت کو جانتے ہیں۔ اور بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جو صحیح حدیث رسول ﷺ کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں۔اس کی کچھ وجوہات ہیں۔ مثلاً:
… لوگ جاننے کی کوشش کرتے ہیں مگر انہیں یہ...
٭… صحیح حدیث کی موجودگی میں اختلاف ہوناممکن ہی نہیں۔کیونکہ اس میں صحت کی تمام شروط موجود ہیں۔ جب کہ اس سے مختلف قول، فتوی یااجتہاد ایسی صحت کی شرائط نہیں رکھتا۔ پھر اگر اختلاف ہو تو اس میں حدیث رسول کا کیا قصور؟ کیونکہ اختلاف اب حدیث رسول میں نہیں بلکہ کسی کے فہم یاذاتی سوچ میں ہوسکتا ہے ۔ رسول...
٭ …استنباطی یا اجتہادی اختلاف کو ختم کرنے کے لئے{ إِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْئٍ فَرُدُّوْہُ إِلَی اللّٰہِ َو الرَّسُوْلِ} کی آیت کو ہمیشہ پیش نظر رکھاجائے تاکہ امت ، شخصیات میں پڑنے کی بجائے براہ راست اسوۂ رسول سے مستفید ہونے کی خوگر بنے۔ اور یہ بھی اس کے ذہن میں پیوست ہو جائے کہ اختلاف...
اک نیا شوشہ
کیا حدیث مجتہدین کے اختلاف کا سبب بنی؟
٭…حدیث کی تخفیف کے لئے یہ بھی عجیب وغریب سا مفروضہ گھڑا گیا کہ مجتہدین کے اجتہادات ، استنباطات اور ان کے مختلف فقہی مسالک کی وجہ حدیث ِرسول ہی بنی ہے اس لئے کہ جب بھی کوئی حدیث ان کی نظر سے گذری تو ہر فقیہ نے اس حدیث کی روایت اور متن کے اعتبار...
قاعدۂ تخریج پر فقہ کا آغاز:
یہ علماء انتہائی سمجھ دار ، ذہنِ رسا اورایک شے سے دوسری شے کی طرف ذہن کی بسرعت منتقلی کا ملکہ رکھتے تھے۔جس کے ذریعے سے وہ اپنے اصحاب کے اقوال پر مسائل کے جواب میں تخریج کردیتے۔ کل میسر لما خلق لہ۔ جو تخلیقی ملکہ آدمی کے پاس ہوتاہے اسی کے ذریعے اس کے لئے کام کی آسانی...
فقہاء محدثین کے مقابلے میں ایسے علماء ابھرے جو روایت ِحدیث سے تو گھبراتے تھے مگر فتوی دینے میں نڈر تھے:
امام مالک وامام سفیان رحمہما اللہ کے زمانہ میں کچھ لوگ ایسے تھے جو مسائل کوبیان کرنا مکروہ نہیں سمجھتے تھے اور اندھا دھندفتوی دیتے تھے یہ سلسلہ ان کے بعد بھی جاری رہا۔ وہ کہا کرتے: فقہ پر تو...
جمع حدیث کا سلسلہ ختم ہوچکا ہاں دقت ِنظری ابھی باقی ہے:
اللہ تعالیٰ نے ان کے بعد اگلی نسل میں کچھ لوگ ایسے اٹھائے جنہوں نے احادیث کا ایک قابل قدر ذخیرہ اور فقہ کے ابتدائی اصول تیار پائے۔ انہوں نے نئے فنون کا سوچا۔ مثلاً: کبار محدثین کے مابین متفقہ احادیث ِصحیحہ کی تمیز شروع ہوئی۔جیسے یزید بن...
ہر مسئلے کا حل محدثین نے حدیث یا اثر میں ضرور پایا ہے:
الغرض جب محدثین نے فقہ کو ان قواعد پر استوار کیاتو کوئی ایسا مسئلہ نہیں تھا جس میں ان کے اسلاف نے کوئی گفتگو نہ فرمائی اور پھر وہ مسئلہ ان کے اپنے زمانہ میں بھی ابھرا ہوتو انہوں نے اس میں کوئی نہ کوئی حدیث ۔۔مرفوع، متصل، یا مرسل یا موقوف۔۔...
ارشادِ رسولﷺہوتے ہوئے کسی کی رائے یا فکر کوئی حیثیت نہیں رکھتی:
امام ترمذی نے سائب بن یزید سے روایت کی ہے جو کہتے ہیں ہم امام وکیع کے پاس بیٹھے تھے تو انہوں نے ایک شخص کو ۔۔۔جو رائے کو ہی اہم سمجھتا تھا۔۔۔کہا: رسول اکرم ﷺ نے اشعار کیا مگر ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ یہ مثلہ ہے؟اس آدمی نے کہ امام...
سیدنا عبد اللہ بن مسعود کی قاضیوں کو نصیحت:
وہ فرماتے ہیں: ہم پر وقت ایسا آگیا ہے کہ نہ ہم فیصلے کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس مقام پر اپنے آپ کو سمجھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہی یہی تھا کہ ہم وہاں پہنچ گئے ہیں جہاں تم دیکھتے ہو۔جسے آج کے بعد قاضی بننے کی پیشکش کی جائے تو وہ قاضی بننے کے بعد جو کچھ...
تمام اصول دورِ اول میں ہی مستخرج ہوئے:
یہ انہی علماء صحابہ و تابعین کا کارنامہ ہے جنہوں نے ان اصولوں کی تصریحات تک کردی ہیں۔میمون بن مہران کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جب بھی کوئی اہم مسئلہ پیش آتا تو وہ کتاب اللہ میں اس کا حل تلاش کرتے۔اگر مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ دے دیتے۔ ورنہ وہ...
جب کوئی مسئلہ قرآن کریم یا سنت رسول ﷺ میں نہ ہوتا تو صحابہ کرام کی رائے کو تسلیم کیا جاتا:
۱۔ احادیث کو بخوبی ٹٹولنے سے جب فقہاء محدثین فارغ ہوتے اور کسی مسئلہ میں حدیث نہ پاتے تو صحابہ وتابعین کی جماعت کے اقوال کو لے لیا کرتے۔اس سلسلے میں وہ ایک کو چھوڑ کر دوسرے کے قیدی نہیں بنتے تھے اور نہ ہی...
طبقات محدثین کے سرخیل:
یہ ایسا طبقہ ہے جو طبقات محدثین کا سرخیل ہے۔ ان کے محقق علماء روایت کے سسٹم کو مستحکم کرنے اور مراتب حدیث کی معرفت کے بعد فقہ کی طرف پلٹے۔ باوجود یکہ انہیں علم تھا کہ احادیث وآثار ہرمذہب کے اور ہر مذہب حدیث کے مخالف ومتناقض ہے اس لئے ان کی کوئی ایسی انفرادی رائے بھی نہ بن...
مدون احادیث کی کثرت:
امام سفیان ثوری اور امام وکیع رحمہما اللہ اور ان کے ہم پایہ دیگر محدثین، حدیث کی تحقیق وتفتیش میں حد درجہ محنت کیا کرتے ۔ حدیث مرفوع متصل صرف اسی سے لیتے جس نے تقریباً ہزار احادیث کو جمع کررکھا ہو جیسا کہ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اپنے رسالۃ إلی أہل مکۃ میں لکھا ہے۔
کبار...
اہل الحدیث ہی سب سے زیادہ اہل علم ہوا کرتے ہیں:
امام شافعی رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ سے ایک بار فرمایا: آپ لوگ ہماری نسبت صحیح احادیث کا زیادہ علم رکھتے ہیں۔ جب بھی کوئی حدیث صحیح ہو خواہ وہ کوفی سند والی ہو یا بصری وشامی سند والی ، مجھے بھی بتادیا کیجئے تاکہ میں اسی کے مطابق اپنی فقہ کو...
رائے سے فتوی دینا مکروہ:
امام شعبی رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: جب آپ جیسے علماء سے سوال کیا جاتا تو ان کا رد عمل کیا ہوتا؟ فرمانے لگے: تم واقف حال سے ہی مسئلہ دریافت کررہے ہو۔ جب عالم سے سوال کیا جاتا تو وہ اپنے ساتھی عالم سے کہتا: انہیں فتوی دو۔ تو یہی بات آگے گھوم کر پہلے کے پاس لوٹ آتی۔امام شعبیؒ...