• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

نتائجِ‌تلاش

  1. محمد نعیم یونس

    اہل الحدیث اور اصحاب الرائے کے مابین فرق

    ان ادوار پرشاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا تاریخی تبصرہ اور علمی محاکمہ حجۃ اللہ البالغۃ ۱؍۲۷۴ اہل الحدیث اور اصحاب الرائے کے مابین فرق آگاہ رہئے! امام سعید بن المسیب ، ابراہیم نخعی اور زہری یا امام مالک وسفیان جیسے ائمہ معتبرین کے زمانہ میں ۔۔یا ان کے بعد کے ادوار میں۔۔ علماء حق رائے زنی کو پسند...
  2. محمد نعیم یونس

    جدید انداز تصنیف

    ٭…ہمارے دور میں بھی بحمد للہ کئی اہم کام ایسے ہوئے ہیں جو شاید پچھلی صدیوں میں نہیں ہوسکے۔ شروحاتِ حدیث ، رجالِ حدیث اور تخریجِ حدیث پر قابل قدر کام ہوا ہے۔ جس میں نواب صدیق حسن خان آف بھوپال کی کتب حدیث وشروح، میاں نذیر حسین محدث دہلوی کے ارشد تلامذہ میں عبد الرحمن مبارکپوری، شمس الحق ڈیانوی کی...
  3. محمد نعیم یونس

    جدید انداز تصنیف

    چوتھا مرحلہ: جدید انداز تصنیف اس دور کی تصنیفات میں جدید نکھار یہ آیا کہ امہات کتب سے احادیث کا موضوعاتی، روایتی، رحلاتی، اور متنی انتخاب ہونا شروع ہوگیا۔مثلاً : احادیث احکام کو ایک مجموعہ میں جمع کیا گیا ہے جیسے طہارہ، نماز، روزہ، زکوۃ، اور حج سے متعلق مسائل پر مبنی روایات کواکٹھا کرکے کتب...
  4. محمد نعیم یونس

    ایک نیا دوراور مختلف علوم سے دل چسپی

    ٭…اس فلسفے کو پیش کرنے کے بعد نبوت ورسالت، ملائکہ، معاد،جنت وجہنم، شریعت، فرض، واجب، حلال وحرام، صلاۃ وصیام اور حج جیسی اصطلاحات کے معانی بدل دیے اور من مانی تشریح شروع کردی۔ اس طرح بتدریج شریعت کو معطل قرار دے دیا۔ بلکہ شریعت ِمحمدی کے نسخ کے داعی بھی بن گئے۔ حقائق وظواہر کا یہ فلسفہ قدرے تصوف...
  5. محمد نعیم یونس

    ایک نیا دوراور مختلف علوم سے دل چسپی

    ٭…تیسری صدی ہجری میں معتزلہ کاجبر ان علماء حق سے فلسفہ اعتزال نہ منوا سکاجنہوں نے کتاب وسنت کی نصوص پر قائم رہ کر اس میں یونانی فلسفہ کی درآمد کے امکان کو ختم کردیا تھا۔یہ فلسفہ کتاب وسنت سے اس اعتبار سے متصادم تھا کہ اس کے دونوں علوم (عقلیہ ونقلیہ) کے مصادر اور مبادیات کتاب وسنت سے مختلف تھے۔اس...
  6. محمد نعیم یونس

    ایک نیا دوراور مختلف علوم سے دل چسپی

    ایک نیا دوراور مختلف علوم سے دل چسپی وجوہات واسباب: چوتھی صدی ہجری کا آغاز ہوتے ہی علم حدیث، ضعف کا شکار ہوتا گیا۔اس کی ایک و جہ منطق وفلسفے کی سرکای سر پرستی تھے۔ دوسری اہم وجہ باب ِاجتہاد بند ہونے کی صدا اور تقلید ِشخصی کی گرفت تھی۔امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس انحطاط کی ابتداء رواۃ کے نویں طبقہ...
  7. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    کیا صحیح حدیث خلاف عقل ہو سکتی ہے؟ بہت سے سمجھ دار لوگ بعض اوقات احادیث کو پڑھتے یا سنتے ہیں تو انہیں اس میں کوئی Logic نظر نہیں آتی۔ انہیں وہ خلاف عقل سمجھ کر رد کردیتے ہیں۔ کیا آپ ﷺ کو رسول اللہ ماننے کے بعد عقل یا Logic کی کوئی حیثیت ہے؟ ایمان کی بات یہ ہے کہ بالکل نہیں رہ جاتی۔ مگر پھر بھی...
  8. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    ٭… مصطلح الحدیث کا آغاز: پہلی صدی ہجری کی برکات میں سے مصطلحات حدیثیہ کا علم بھی ہے۔ہر حدیث کے دو حصے ہوتے ہیں: سند اور متن۔ دونوں کو جب نقد کی بھٹی سے گزارا گیا تو علوم الحدیث وجود میں آئے جس کی ایک شاخ مصطلح الحدیث ہے۔ راوی اور روایت کا حال بیان کرنے کے لئے جو لفظ ادا کیا گیا وہ مصطلح...
  9. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    ٭…کچھ نادان کسی بھی مسئلے پر لکھتے وقت ضعیف وصحیح وموضوع احادیث کو جمع کرکے انہیں خلط ملط کرتے ہیں اور پھراپنی دانش کی چھری اس پرچلاتے ہیں۔ جہاں چاہا راوی پر بغیر کسی اصول کے جرح کردی اور جہاں چاہا اسے عادل قرار دے کر اپنے نتائج اخذ کرلئے۔آیات واحادیث کی حسب منشأمعنوی تعبیر غیر معلوم شاعری سے...
  10. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    ٭…جرح وتعدیل بھی راوی کے بارے میں محدثین کا ایک فیصلہ ہے بالکل اس جج کی طرح جو محض گواہوں اور شواہد کی ثبوت کے بعد کسی مجرم کو پھانسی دینے کا فیصلہ کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جج کا یہ فیصلہ یقینی ہوتا ہے؟ نہیں بلکہ قیاسی ہی ہوتا ہے۔ پھر بھی صدر مملکت کے پاس حتمی منظوری کے لئے جاتا ہے جو ججز کے اس...
  11. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    ٭… پانچ لاکھ سے زائد راویوں میں چند سو ہی راوی شاید ایسے ہوں گے جن کے بارے میں محدثین کی تنقید میں تضاد ہے۔مگر لاکھوں کے مقابلہ میں ان کی حیثیت کیا یہ ہونی چاہئے کہ سارا ذخیرۂ حدیث ہی مشکوک ہو جائے؟ کتنے فقہاء، مفسرین، اور مجتہد و دانشور ایسے گذرے ہیں جو اپنی علمی سرگرمیوں کے دوران ہی فوت...
  12. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    ٭… یحییٰ بن سعید القطان (م: ۱۹۸ھ)، عبد الرحمن بن مہدی(م: ۱۹۸ھ) نے اپنے استاذ یحییٰ القطان کی دو ہزار احادیث اپنی کتاب میں شامل کیں جنہیں وہ انہی کی زندگی میں روایت کیا کرتے تھے، (تہذیب الکمال ۳۱؍۳۳۶) محمد بن ادریس الشافعی(م: ۲۰۴ھ) ، یزید بن ہارون واسطی(م: ۲۰۶ھ) جن کی مجالس علمیہ میں ستر ہزار...
  13. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    ٭… محمد بن اسحق (م: ۳۱۱ھ) کی صحیح ابن خزیمہ، سعید بن عثمان المعروف بابن السکن(م: ۳۵۳ھ) کی الصحیح المنتقی، امام طحاویؒ(م: ۳۲۱ھ) کی شرح معانی الآثار وغیرہ کی کتب بھی اس عرصہ میں منظر عام پر آچکی تھیں۔ ٭…امام ابن حبانؒ(۲۷۵۔۳۵۴ھ) کی نقد رواۃ میں کتب الثقات اور الضعفاء اہل علم میں خاصی معروف...
  14. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    ٭… اسی طرح امام ابن حبان بستی (م: ۳۵۴ھ) کی التقاسیم والانواع ، کتاب المجروحین اور کتاب الثقات کے مقدمات میں پہلی دو کتب کے مقدمے علوم حدیث کا شاہکار سمجھے گئے ہیں۔ وجہ شاید یہ ہو کہ ابن حبان چوتھی صدی ہجری کے ان ماہرینِ حدیث میں سے ہیںجنہوں نے بڑے اہم مباحث پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ ٭… امام حمد...
  15. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    امام بیہقی مزید فرماتے ہیں: آج اگر کوئی ایسی حدیث لے آتا ہے جو ان ائمہ کے ہاں مذکور نہیں تو وہ قبول نہیں کی جاسکتی۔یا اگر ائمہ حدیث کے ہاں کسی معروف حدیث کو آج کوئی روایت کرتا ہے تو وہ اس کی روایت میں منفرد نہیں ہوگا کیونکہ اس سے پہلے یہ حدیث کسی اور کی روایت سے ائمہ حدیث ذکر کر چکے۔ جس کی حجت...
  16. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    ٭…اسی تیسری صدی میں حدیث کے مختلف علوم پر کتب لکھی گئیں جن میں رجال، انساب، اسماء و کنی، القاب، مؤتلف ومختلف، غریب الحدیث، جرح وتعدیل، فقہ الحدیث، اصول الحدیث، مناہج المحدثین، شروحات، طبقات، فضائلِ صحابہ، استدراکات، مرسل، ضعیف، صحیح، موضوع، اختلاف الحدیث، معرفۃ اصول الروایۃ وغیرہ پر اہل علم نے...
  17. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    تبصرہ: نقد روایت کی کوکھ سے علمِ رجال برآمد ہوا جس نے لاکھوں محدثین کے حالات وواقعات قلمبند کردئے۔ رجال کے ماہرین نے راوی کے ذاتی کوائف، اس کی اہلیت وقابلیت، تقوی وصلاح اور صغائر وکبائر سے اس کا اجتناب، اس کی ثقاہت وضعف، درایت وضبط، شذوذ ونکارت جیسے تمام پہلو جانچے ، راوی کے اساتذہ وطلبہ،...
  18. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    ٭… امام بخاریؒ(۱۹۴۔۲۵۶ھ) نے اپنی صحیح میں جس طرح نقد حدیث کو پرویا ہے اسی طرح نقد رواۃ میں بھی ان کی تواریخ ثلاثہ بلند مقام رکھتی ہیں۔ اسی موضوع پر ان کی ایک اور کتاب الکنی المجردۃ ہے اور دوسری الضعفاء ہے۔ ٭…امام مسلمؒ (۲۰۴۔۲۶۱ھ) نے بھی نقد حدیث میں بے مثال کام کیا ہے ان کی معروف کتب میں...
  19. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    موقوفاتِ صحابہ وتابعین کے ذریعہ انہوں نے ہر فن کے بارے میں اہم فوائد کا اضافہ کیا ہے۔جو تراجم ابواب میں منتشر ہیں۔ جو اہم نیا مسئلہ ہو اس کے حل کا طریقہ امام محترم نے بتایا ہے کہ حدیث رسول کو کس طرح ذہن میں لائیں؟ اور کس طرح اس کی نص سے استدلال لیں؟ امام محترم نے اپنی صحیح میں چنداہم مصطلحات...
  20. محمد نعیم یونس

    زمانہ عروج

    مشہور تصانیفِ حدیث وعلوم ِحدیث: ٭…یہ دونوں صدیاں علم حدیث کی پختگی کے ادوار ہیں ۔نقد حدیث کے ذریعے احادیث کی تنقیح وتہذیب کا دور ہے۔ سنت رسول سے استنباط و استدلال اور فقہیات میں مجتہدانہ سوچ کا دور ہے۔ ٭… اس دور کی مشہور ترین تصانیف میں الجامع الصحیح از امام بخاری ہے۔ امام محترم سے قبل بیشتر...
Top