الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
شاید آپ کو یہاں ان سائنس فکشن کہانیوں کی بو آرہی ہوگی جو زمان کی اضافیت پر مبنی ہیں (جیسے ٹائم مشین یا پلینٹ آف دی ایپس).. ان کہانیوں کے مصنفین سائنسی بنیادوں پر کہانی لکھتے ہوئے بتاتے ہیں کہ کس طرح روشنی کی رفتار کے قریب سفر کرتے ہوئے خلابازوں کا وقت تھم جاتا ہے، اور پھر جب وہ کئی سالوں بعد...
اس منظرنامہ کو ہم ایک اور دلچسب شکل میں بھی پیش کر سکتے ہیں.. وہ یوں کہ اگر ہم فرض کریں کہ شبانہ کی بدقسمتی سے فہیم کے ساتھ شادی ہوگئی، اور فہیم نے اپنی "فہامت" سے اسے اتنا تنگ کیا کہ وہ اسے اور اپنے دس سالہ بیٹے کو چھوڑ کر، ایک خلائی جہاز میں سوار ہوکر روشنی کی رفتار سے قریب رفتار میں کائناتی...
یقیناً نا ممکن ہے.. کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ شبانہ روشنی کی رفتار سے سفر کر سکے.. اور نا ہی کوئی بھی دوسری مادی شئے، چنانچہ وقت نہیں رکے گا، بلکہ انتہائی حد تک سست پڑجائے گا جب تک کہ وہ روشنی یا اس سے قریب رفتار میں سفر کرتی رہے گی.
چلیے ذرا معاملے کو کچھ اور واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں: اگر...
مگر.. کیا ہو اگر شبانہ خلاء میں روشنی کی رفتار سے نکل کھڑی ہو؟
اگر ایسا ہوجائے، اور مساوات کے قاعدے لاگو کیے جائیں، تو ہم پر اور کائنات میں ہر مشاہدہ کرنے والے پر انکشاف ہوگا کہ شبانہ کا جو وقت ہم ریکارڈ کر رہے ہیں وہ صفر ہے، یا دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ: شبانہ کا وقت رک گیا ہے اور وہ...
ہم پھر کہیں گے کہ: چونکہ ہر حرکت نسبتی ہے، چنانچہ دونوں باتیں درست ہیں.. بالکل جیسے آپ کہیں کہ: کیا ملتان سے کراچی آتی ہوئی ٹرین کراچی سٹیشن کے قریب آرہی ہے یا کراچی کا سٹیشن اس کے قریب ہو رہا ہے؟ .. یہاں دونوں باتیں نسبتی ہیں، اور یہی بات وقت کے ساتھ صادق آتی ہے، کیونکہ اس کا انحصار اس ماحول پر...
اگر فہیم اور شبانہ دونوں بالکل ایک ہی رفتار سے سفر کرتے تو وقت کے بھنور میں نہ پھنستے، کیونکہ اس حالت میں ان دونوں کی نسبتی رفتار صفر ہوتی، چنانچہ فہیم کو شبانہ کا وقت بالکل اپنے وقت کے مطابق لگتا، اسی طرح شبانہ کو بھی فہیم کا وقت اپنے وقت کے مطابق لگتا، یعنی دونوں وقت میں کوئی فرق محسوس نہ...
یہاں کوئی پوچھ سکتا ہے کہ: یہاں کون سچ کہہ رہا ہے؟ .. کیا شبانہ کا وقت سست ہوا ہے یا فہیم کا؟
بظاہر یہ سوال کافی منطقی اور معقول معلوم ہوتا ہے مگر درحقیقت یہ ایک احمقانہ سوال ہے، بالکل اس طرح جیسے کوئی سوال کرے کہ: انسان حجم میں بڑا ہے یا چھوٹا؟ .. اس سوال کے جواب کا انحصار کسی دوسری شئے کی...
خلاء میں فہیم اور شبانہ کی حالت پر واپس آتے ہیں.. شبانہ فہیم کی نسبت روشنی کی نوے فیصد 90% رفتار سے سفر کر رہی ہے.. ہم نے دیکھا کہ کس طرح یہ رفتار لمبائیوں پر اثر انداز ہوکر انہیں سکیڑ دیتی ہے، اور کمیت پر اثر انداز ہوکر اسے بڑھا دیتی ہے.. تو کیا یہ رفتار وقت پر بھی اثر انداز ہوگی؟ اور اگر اثر...
ہر متحرک چیز اپنے ساتھ اپنا زمان یعنی وقت بھی لے جاتی ہے، اس سے ہمارا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنے ہاتھ میں گھڑی باندھے ہوئے ہے یا "الارم" ساتھ لیے ہوئے ہے، یا اس طرح کا کوئی آلہ جن سے ہم وقت کو اپنی زمین پر ناپتے ہیں اور جنہیں ہم نے اپنی مرضی سے بنا کر ان میں سیکنڈ، منٹ اور گھنٹے شامل کر کے اپنی روز...
خیر فہیم اور فلکیات دان کی بحث کو چھوڑ کر ہم زمان کی اضافیت پر بات کرتے ہیں جس طرح کہ آئن سٹائن نے اسے اپنی مساوات کے ذریعے پیش کیا جو دماغ کی چولیں تک ہلا دیتی ہے.. کیونکہ سائنسدان زمان، حرکت اور فضاء (مکان یا کائنات) کو جس طرح دیکھتے ہیں وہ ہمیں ان ظاہری حقائق سے بہت دور لے جاتا ہے جو ہمیں...
یہاں فہیم مسکراتے ہوئے کہتا ہے: تو مجھ پر اعتراض کیوں کیا جب میں نے آپ کو کہا کہ واقعہ اسی جگہ ہوا ہے؟
فلکیات دان: کیونکہ تمام اجرامِ فلکی منظم رفتار سے ایک دوسرے کی نسبت حرکت کرتے رہتے ہیں، اس لیے پوری کائنات میں کوئی چیز ساکن نہیں.. کیونکہ ان کی حرکت کے نتیجے میں ان کے مقامات ایک دوسرے کی...
فہیم (حیرت سے): آپ کے کہنے کا کیا مطلب ہے؟
فلکیات دان: میرا مطلب ہے کہ ہمیں کائناتی واقعات کو شبانہ کی موت یا ہماری زمین پر ہو رہے کسی دوسرے واقعے سے منسلک نہیں کرنا چاہیے.. آپ کہہ سکتے ہیں کہ شبانہ کی موت ٹھیک اسی وقت ہوئی جب آپ سگریٹ جلا رہے تھے، یا ٹھیک اسی وقت ہوئی جب بجلی کڑکی، یا جب کوئی...
اس کے بعد پھر کبھی فہیم کی اس فلکیات دان سے ملاقات ہوتی ہے تو وہ ان سے پوچھتا ہے کہ کیا وہ "علم نجوم" پر یقین رکھتے ہیں؟ فلکیات دان کہتا ہے کہ: آپ کو یہ سوال کرنے کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟
فہیم: کیا آپ کو یاد ہے کہ شبانہ کی موت بالکل اسی وقت ہوئی تھی جس وقت وہ ستارہ آسمان میں پھٹ گیا تھا اور آپ...
چلیے اسے ایک مثال سے واضح کرتے ہیں: فرض کرتے ہیں کہ فہیم اور شبانہ ایک فلکیات دان سے اس کی رصدگاہ میں ملنے جاتے ہیں تاکہ کائنات کے بارے میں اپنی معلومات میں اضافہ فرما سکیں، گفتگو کے دوران اچانک آسمان میں ایک ستارہ بڑے زور سے چمکتا ہے اور پھر پھٹ جاتا ہے، بالکل اسی وقت جب اس دھماکے کی تصویر ٹیلی...
اسی طرح آپ یہ یقین بھی نہیں دلا سکتے کہ یہ واقعہ اس واقعے سے پہلے واقع ہوا ہے، یا بعد میں اور پھر خاموش ہوجائیں، کیونکہ اس حالت میں آپ کی بات - ہمارے موضوع کے حساب سے - بے معنی ہے، ما سوائے اگر آپ اس ماحول کو اپنے ماحول سے متعین کردیں، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص اپنے ماحول کے حساب سے آپ...
جیسے فہیم صاحب کائناتی زمان کو اپنے شعور اور احساس سے مربوط کرنا چاہتے ہوں، چنانچہ ان کی خوشی اور غمی کے لیے وہ تیز یا سست ہوتا ہو، دراصل ان کے یہ احساسات ایک نفسی چیز ہیں جو صرف انہی سے ہی مربوط ہیں، ان کا اس وقت سے کوئی تعلق نہیں جس کی ہم بات کر رہے ہیں.
آئن سٹائن نے جب زمان پر غور وخوض کیا...
وقت کا ناپ در حقیقت فضاء میں معینہ مقامات ہیں.. فجر، دوپہر یا غروب ما سوائے ہمارے اور سورج کے درمیان معینہ زاویوں کے اور کچھ نہیں.. یعنی زمین مکان میں حرکت کرتی ہے جس سے زمان ہوتا ہے.
آئن سٹائن سے پہلے سائنسدان وقت کو مطلق گردانتے تھے.. ایک ساکن چیز جو کبھی تبدیل نہیں ہوتی، اس کے علاوہ وہ اپنی...
زمان ومکان سے حرکت کے تعلق کی آسان مثال سفر کے ذرائع یعنی ٹرانسپورٹیشن ہے.. اگر ہم فرض کریں کہ اسی 80 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی ایک ٹرین جو بغیر رکے منظم رفتار سے کراچی سے ملتان کا سفر کرے، تو آپ وقت پر بھروسہ کر کے اس کے مکان (مقام) کا تعین کر سکتے ہیں، یا مکان پر بھروسہ کر کے...
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ: وقت ایک ساکن چیز ہے جو حرکت نہیں کرتا، بلکہ ہم اس میں حرکت کرتے ہیں.. کچھ کا خیال ہے کہ وقت کا کوئی وجود نہیں، بلکہ جو چیزیں ہمارے احساسات ہم تک منتقل کر کے کسی صورت میں دکھاتے ہیں وہ حقیقی معنوں میں وجود ہی نہیں رکھتیں.. ایسے حضرات سے ہم کہتے ہیں: آپ کو مثلاً ثابت کرنا ہوگا...
کوئی کہتا ہے کہ: جن واقعات سے ہم گزرتے ہیں وہی ہمیں وقت کے گزرنے کا احساس دلاتے ہیں.. ہم ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ ماضی میں ہوا، اور یہ اب ہو رہا ہے، اور بہت کچھ مستقبل میں ہوگا.. تو کیا جن واقعات سے ہم گزرتے ہیں پہلے سے تیار یا مقدر ہیں؟ .. بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایسا ہی ہے، یعنی واقعات پہلے سے ہی مرتب...