الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں
۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ڈھیلوں سے کم کے ساتھ استنجا کرنے سے منع فرمایا۔
[صحیح مسلم، الطھارۃ، باب الاستطابۃ، حدیث:262 ]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رفع حاجت کے لیے جاتے تو دور چلے جاتے۔
[صحیح] سنن ابی داود، الطھارۃ، باب التخلی عند قضاء الحاجۃ، حدیث:1 ، وسندہ حسن، وجامع الترمذی،...
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے منع فرمایا۔
[صحیح البخاری، الوضو، باب النھی عن الاستنجاء بالیمین، حدیث:153,154 ، وصحیح مسلم، الطھارۃ، باب النھی عن الاستنجاء بالیمین، حدیث:267 ]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جو کوئی پتھر سے استنجا کرے وہ طاق پتھر لے۔"...
بیت الخلا سے نکلتے وقت کی دعا
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے نکتے تو فرماتے:
"غفرانک"
[صحیح] سنن ابی داود، الطھارۃ، باب باب ما یقول الرجل اذا دخل الخلاء؟ حدیث:30، وسندہ صحیح، وجامع الترمذی، الطھارۃ، باب باب ما یقول الرجل اذا دخل الخلاء؟ حدیث:7 ،...
رفع حاجت کے مسائل
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جب تم قضائے حاجت کے لیے آو تو قبلے کی طرف منہ کرو نہ پیٹھ۔"
[صحیح البخاری، الصلاۃ، باب قبلۃ اھل المدینۃ واھل الشام والمشرق، حدیث:394 وصحیح مسلم، الطھارۃ، باب الاستطبۃ، حدیث:264,265 ۔ اگر بیت الخلا ہی قبلہ رخ بنے ہوئے ہوں تو پھر قبلے...
بیت الخلا سے نکلتے وقت کی دعا
عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلا سے نکلتے تو فرماتے:
"غفرانک"
[صحیح] سنن ابی داود، الطھارۃ، باب باب ما یقول الرجل اذا دخل الخلاء؟ حدیث:30، وسندہ صحیح، وجامع الترمذی، الطھارۃ، باب باب ما یقول الرجل اذا دخل الخلاء؟ حدیث:7...
رفع حاجت کے آداب و مسائل
بیت الخلا میں جاتے وقت کی دعا
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رفع حاجت کے لیے بیت الخلا میں داخل ہونے کا ارادہ کرتے تو فرماتے:
"اللھم انی اعوذبک من الخبث والخبآئث"
[صحیح البخاری، الوضو، باب ما یقول عند الخلاء؟ حدیث:142، وصحیح...
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے غسل کرنے سے منع فرمایا۔
[صحیح البخاری، الوضو، باب البول فی الماء الدائم، حدیث:239 ]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے پانی میں پیشاب کرنے اور پھر اس سے وضو کرنے سے منع فرمایا۔
[صحیح] جامع الترمذی، الطھارۃ، باب ماجاء فی...
احکامِ طہارت
پانی کے احکام
نماز کے لیے وضو شرط ہے۔ وضو کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح وضو کے لیے پانی کا پاک ہونا شرط ہے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کی گیا:
کیا ہم بضاعہ کے کنویں سے وضو کرسکتے ہیں۔ یہ ایسا کنواں ہے جس میں حیض...
ہمیں اب سوال اٹھانا چاہیے کہ: اگر ہم کائنات کو زمان ومکان میں دیکھیں.. تو کیا وہ ہمیں اپنی حقیقت میں نظر آئے گی؟ .. حقیقت یہ ہے کہ ہمیں حقیقت نا تو زمان میں اور نا ہی مکان میں ہی نظر آتی ہے.. ہمیں ستارے وہاں نظر نہیں آتے جہاں وہ دراصل ہوتے ہیں، بلکہ ہمیں ان کا ماضی نظر آتا ہے.. جب وہ وہاں...
اور اب ہم ایک تین ابعادی دنیا کی طرف آتے ہیں جس میں طول، عرض اور گہرائی موجود ہے، اس دنیا میں ہر چیز مجسم نظر آتی ہے.. پہاڑ، درخت، گھر، گاڑیاں، ہوائی جہاز، راکٹ ور ایک وسیع فضاء جسے اس دنیا کے لوگ اپنی آنکھوں اور دوربینوں سے کچھ نہ کچھ دریافت کرنے کی غرض سے تکتے ہی رہتے ہیں، انہیں اس کی گہرائی...
اس کے بعد ہمیں چاہیے کہ ہم ایک ایسی مخلوقات کا تصور کریں جو دو ابعادی کائنات میں رہتی ہو، طول اور عرض.. یہ دو بعد ایک سطح دار رقبہ بناتے ہیں، اور ان میں یہ مخلوقات جس سمت میں چاہتی ہیں حرکت کرتی ہیں مگر وہ اوپر کی طرف کود (جمپ) نہیں سکتیں، اور نا ہی انہیں اپنی کائنات کی کوئی گہرائی نظر آتی ہے...
مگر کچھ سمجھدار لوگ اس سے اس معاملے پر بحث کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ: اس دوسرے بعد سے تمہارا کیا مطلب ہے جسے تم نے “چوڑائی” کا نام دیا ہے؟ .. تو جواباً وہ کہتا ہے کہ: اس کا مطلب ایک سطح یا رقبے کا وجود ہے جس میں ہم کسی بھی سمت میں گھوم سکتے ہیں.. تو وہ کہتے ہیں: یہ سطح اور سمت سے تمہاری کیا مراد...
اور اب فرض کرتے ہیں کہ اس ایک ابعادی دنیا میں ایک ریاضیاتی سائنس دان آتا ہے اور اپنی کائنات پر ذرا گہرے انداز میں غور وفکر کرتا ہے اور اپنی ریاضیاتی مساواتوں سے ایک دوسرا بعد دریافت کرتا ہے جسے وہ “چوڑائی” کا نام دیتا ہے.. اور جب وہ اپنی دنیا کی مخلوقات میں اپنی دریافت کا اعلان کرتا ہے تو کوئی...
چار ابعادی کائنات سے آئن سٹائن کی کیا مراد تھی، اسے سمجھنے کے لیے ہم اپنے تخیل کے کچھ گھوڑے دوڑانے کی کوشش کرتے ہیں.. اور ایک ایسی مخلوقات کا تصور کرتے ہیں جو صرف ایک ابعادی کائنات میں رہتی ہے.. اس صورت میں ان مخلوقات کو اپنی دنیا اس طرح نظر نہیں آئے گی جس طرح کہ ہمیں اپنی دنیا نظر آتی ہے.. وہ...
کائنات کو آئن سٹائن نے اسی طرح بیان کیا جیسا کہ اسے وہ اپنی ریاضیاتی مساواتوں میں نظر آتی تھی، اور جیسا کہ دیگر ریاضی دانوں کو نظر آتی ہے.. صرف اسی زبان سے - ریاضیاتی سائنس کی زبان - وہ ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات کی حقیقت سے قریب تر تصویر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے با وجود ہم عقل سے اس...
چار ابعادی عجیب کائنات!
اگر کسی ایسے شخص کو - جس کا ریاضیاتی سائنس سے کوئی تعلق نہ ہو - یہ بتا دیا جائے کہ کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو چار ابعادی صفت کی حامل ہیں تو اس کے بدن میں یقیناً جھرجھری سی دوڑ جائے گی، اس کے با وجود ہمیں اپنی زبان میں ایسا کوئی لفظ نہیں ملتا جس کے ذریعے ہم اسے بیان کر سکیں...
ہم چاہے جتنا بھی اپنی زبان میں اس موضوع پر بحث کر لیں، ہمارے گھومنے کا دائرہ ہمیشہ کھوکلا ہی رہے گا.. ہم وقت کو اس طرح کبھی نہیں سمجھ پائیں گے جس طرح ریاضیاتی مساواتیں ہمیں سمجھانا چاہتی ہیں.. اور اگر ریاضیاتی مساواتیں تخیل کی پرواز ہوتیں، یا ان کی کوئی بنیاد ہی نہ ہوتی، تو ہم پر کبھی بھی کائنات...
اب ہمیں ان تضادات کی طرف واپس چلنا چاہیے جو حرکت اور رفتار پر بات کرتے ہوئے ہمیں درپیش رہیں، اور کس طرح ہم نے حرکت اور رفتار کے قوانین کا اطلاق کیا جیسا کہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں کرتے ہیں (یعنی رفتاریں جمع یا منفی کرتے ہیں).. مگر اضافیت کی مساواتوں نے بتایا کہ یہ بالکل درست نہیں، اور ان میں...
یہاں فہیم ہمیں ٹوکتے ہوئے کہتا ہے: ان ایٹمی دلیلوں سے ہمیں کیا لینا دینا؟ .. ہمیں تو اپنی ارد گرد کی دنیا سے ثبوت چاہیے.. ہم اپنی عمریں لمبی ہوتی دیکھنا چاہتے ہیں.. ہم چاہتے ہیں کہ وقت ہمارے لیے سست ہو نا کہ ایٹمی جسیموں کے لیے.
فہیم کو ہمارا جواب یہ ہے کہ: فی الوقت زمین پر ایسا کوئی انسان نہیں...
یہاں سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب درست بھی ہے؟ .. کیا کوئی ایسی ایک بھی مشاہداتی دلیل ہے جو ثابت کرے کہ رفتار کے بڑھنے سے وقت سست پڑجاتا ہے؟
جی ہاں.. اس بات کے بھی کئی مشاہداتی ثبوت موجود ہیں.. اس کا ثبوت سائنسدانوں کو ان کائناتی جسیموں میں ملا ہے جو ہماری زمین کی طرف انتہائی تیزی سے بڑھتے ہیں،...