• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تصوف وہ راہ ہے۔۔۔۔۔۔

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,108
ری ایکشن اسکور
322
پوائنٹ
156
اس سے مراد تصوف ہے اور یہ میں نہیں کہہ رہا یہ آپ کے امام کا ہی کا قول ہے جو میں آپ کی خدمت میں پیش کرچکا ہوں
ویسے اب تک کسی نے میرے اس پوائنٹ پر اظہار خیال نہیں کیا کہ
علم دین کا وہ کون سا شعبہ ہے جو اس طرح عبادت الہی کرنے کی راہ بتاتا ہے ؟؟؟


ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہاں عبادت الہی کا ذکر ہے
اس کے لئے ذیادہ لمبی بات نہیں کروں گا صحیح بخاری کی ایک طویل حدیث کا چھوٹا سا حصہ پیش کروں گا
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے جب تمام کافروں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے نیک و بد دونوں قسم کے مسلمان ' ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم دنیا میں ان سے ایسے وقت جدا ہوئے کہ ہمیں ان کی دنیاوی فائدوں کے لئے بہت زیادہ ضرورت تھی اور ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا ہے کہ ہر قوم اس کے ساتھ ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔ بیان کیا کہ پھر اللہ جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے اور اس دن انبیاء کے سوا اور کوئی بات نہیں کرے گا۔ پھر پوچھے گا کیا تمہیں اس کی کوئی نشانی معلوم ہے؟ وہ کہیں گے کہ "ساق" (پنڈلی) پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اس کے لیے سجدہ میں گر جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھا وے اور شہرت کے لئے اسے سجدہ کرتے تھے ' وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح ہو کر رہ جائے گی۔
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7439

صحیح بخاری کی اس حدیث میں مومنوں کا اللہ تبارک تعالیٰ کو دیکھ کر ایسے پہچان لینے کا اور کیا معنی ہوسکتا ہے کہ یہ مومن اللہ کی عبادت اللہ کو دیکھ کرتے رہے ہونگے جب کہ اللہ تعالیٰ ان مومنوں کے سامنے اس صؤرت کے علاوہ اپنی شان کے لائق جلوہ افروز ہوگا جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پہلی بار دیکھا تھا یعنی جب اللہ نے فرمایا تھا أَلست بربّكم اور سب لوگوں نے اس کے جواب میں فرمایا تھا قالوا بلي‌ ویسے ایک بات تو ہے کہ اس پہلی بار کے دیکھنے کو علم دین کے جس شعبے میں یاد دلانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ تصوف ہی ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟؟ کیا آپ کو اس پہلی دفعہ کا دیکھنا بھی یاد ہے ؟؟؟
﷽​
دیدارِ الٰہی کا تصور قرآن کی نظر میں​
دنیا میں دیدارِ الٰہی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:-
اور جب موسیٰ علیہ السلام ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں ایک نظر تم کو دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بیشک آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا ہوں ۔
سورت الاعراف آیت نمبر 143

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی دیدارِ الہٰی کی خواہش کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی کا ظہور کوہِ طور پہاڑ پر ظاہر فرمایا تو حضرت موسٰیؑ پہاڑ کو ریزہ ریزہ دیکھ کر بے ہوش ہو گئے اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت موسٰیؑ نے تجلی نہیں بلکہ پہاڑ کا مشاہدہ فرمایا تھا کیوں کہ آیت کے الفاظ ہیں'' لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے '' یہ نہیں فرمایا کہ '' میری تجلی کی طرف دیکھو اگر تم اسکو برداشت کرگئے تو پھر میرا دیدار کر سکو گے'' کیوں کہ تجلی ظاہر فرمانے کےلیے کا اشارہ کوہِ طور پہاڑ کی طرف ہے نہ کہ حضرت موسٰیؑ کی طرف۔
اس سے مزید پتہ چلتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا دیدار براہِ راست ممکن نہیں تو بلا واسطہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے ؟ لہذا جب حضرت موسٰیؑ جیسا عظیم المرتبت اور جلیل القدر پیغمبر بھی تجلی کے ظہور کے وقت کوہِ طور پہاڑ کو ریزہ ریزہ دیکھ کر بے ہوش گئے تو جو لوگ '' تجلیاتِ ربانیہ '' کا بلاواسطہ مشاہدہ ہونے یا کرنے کا دعوٰی کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے بے خوف ہیں ؟ ورنہ اللہ تعالیٰ کا اس دنیا میں بلا واسطہ یا براہِ راست تو اور دور کی بات ہے۔

آخرت میں دیدارِ الٰہی

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :-
اس روز بہت سے چہرے ترو تازہ اور بارونق ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھتے ہونگے۔
سورت القیامتہ آیت نمبر 23- 22

اس آیت میں اللہ تعالٰی نے قیامت والے دن اہلِ ایمان کے دیدارِ الٰہی سے مشرف ہرنے کا ذکر فرمایا ہے یہ دیدار مرنے کے بعد آخرت میں صرف اہلِ ایمان کو نصیب ہو گا اگرچہ اہلِ ایمان میں بھی کچھ گناہگار ہونگے مگر وہ کفر و شرک کی غلاظتوں سے پاک ہونگے چناچہ اللہ تعالٰی ان کو بھی اپنے دیدار سے محروم نہیں رکھے گا۔ اس آیت میں بھی دیدارِ الٰہی صرف آخرت سے مختص ہے۔
مزید فرمایا :-
اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے جو جزا اور سزا کے دن کو جھٹلاتے رہے اسے صرف وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے آگے نکل جانے والا (اور) گناہگار ہوتا ہے جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔
سورت المطففین آیت نمبر 15- 10

جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو روزِ آخرت کا انکار کرتے ، حد سے گزرتے ، شریعت کا مذاق اڑاتے اور گناہوں کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں اور اس نتیجے میں ان کے برے اعمال کا زنگ انکے دلوں پر جما رہتا ہے تو ایسے لوگ اس قابل نہیں ہونگے کہ ان کو آخرت میں دیدارِ الٰہی کے اعزاز سے نوازا جائے۔ کفر و شرک کا یہ حجاب ہی ان کو دیدارِ الٰہی سے ہمیشہ کےلیے محروم رکھے گا۔

قابلِ غور نکات

اگر ان تینوں آیات کو ملا کر پڑھا اور سمجھا جائے تو درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:-
دنیا میں کسی کے لیے بھی دیدارِ الٰہی ممکن نہیں قطع نظر کہ وہ ہستی چاہے نبی ، رسول، صحابی یا ولی ہی کی کیوں نہ ہو۔دیدارِ الٰہی آخرت میں صرف اہلِ ایمان کےلیے مخصوص ہے قطع نظر کہ وہ گناہگار ہوں یا نیکوکار۔صرف کفار و مشرکین آخرت میں دیدارِ الٰہی سے محروم رکھے جائیں گے۔

آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آخرت میں دیدارِ الٰہی اللہ تعالٰی کا سب سے بڑا فضل و کرم ہے یہ نہ تو ہمارے عمل کا صلہ ہے اور نہ ہی عمل اس بات کو لازم ہے کہ دیدارِ الٰہی ہو۔ لہذا اس دنیا میں کسی بھی صورت یا حالت میں دیدارِ الٰہی عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن سے بھی متصادم ہے۔
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
اگر آپ شیخ کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تو کیا نبی ﷺ کا اسوہ حسنہ شیخ سے بڑھ کر نہیں ؟ جبکہ اس بات کا سو فیصد امکان ہے کہ شیخ پر بھی شیطان کا حملہ ہو سکتا ہے وہ بھی غلطی کر سکتا ہے اس لیے اللہ تعالٰی نے ہمیں نبی ﷺ کی صورت میں ایسا نمونہ دیا ہے کہ ہمیں اب کسی شیخ کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی قیامت ، حشر و نشر یا جہنم کا تذکرہ پڑھ کر بھی نصیحت نہیں پکڑتا تو اس میں قرآن کا نہیں بلکہ اسکا اپنا قصور ہے۔ آپ مجھے ایسے لوگ دکھانے کی زحمت نہ کریں جو نصیحت نہیں پکڑتے میں بھی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں مذکورہ آیت میں بھی سچوں کا ساتھ دینے کا حکم ہے کسی شیخ کی صحبت اختیار کرنے کا نہیں۔ دوسری آیت قرآن میں اس طرح آئی ہے " اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰي قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا 24؀ "کیا یہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں '' ۔ لیجئے اس آیت میں آپ کا جواب آگیا۔ اس آیت میں ''قرآن مجید'' ہی میں تدبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس میں کسی کی بھی تخصیص نہیں کی گئی ہے۔ لگتا ہے آپ نے صرف شیخ کی ہی صحبت اختیار کی قرآن میں تدبر نہیں کیا۔ میں آپ کو قرآن میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔
محترم اگر آپ دوبارہ کھلے دل و ٹھنڈے مزاج سے میری پوسٹس ملاحظہ فرما لیں تو میں شکر گزار ہوں گا۔
صادقین کون ہوتے ہیں؟ شیخ اسی کو بنایا جاتا ہے جو قول و عمل میں سچا ہو۔
افلا یتدبرون والی آیت سے آپ اس آیت کے حکم کی نفی کرنا چاہتے ہیں؟ پھر حجیت حدیث کا کیا کریں گے؟
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
اس سے مزید پتہ چلتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا دیدار براہِ راست ممکن نہیں تو بلا واسطہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے ؟ لہذا جب حضرت موسٰیؑ جیسا عظیم المرتبت اور جلیل القدر پیغمبر بھی تجلی کے ظہور کے وقت کوہِ طور پہاڑ کو ریزہ ریزہ دیکھ کر بے ہوش گئے تو جو لوگ '' تجلیاتِ ربانیہ '' کا بلاواسطہ مشاہدہ ہونے یا کرنے کا دعوٰی کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے بے خوف ہیں ؟ ورنہ اللہ تعالیٰ کا اس دنیا میں بلا واسطہ یا براہِ راست تو اور دور کی بات ہے۔

آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آخرت میں دیدارِ الٰہی اللہ تعالٰی کا سب سے بڑا فضل و کرم ہے یہ نہ تو ہمارے عمل کا صلہ ہے اور نہ ہی عمل اس بات کو لازم ہے کہ دیدارِ الٰہی ہو۔ لہذا اس دنیا میں کسی بھی صورت یا حالت میں دیدارِ الٰہی عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن سے بھی متصادم ہے۔
ایک بات عرض کرتا چلوں۔ دنیا میں دیدار ان آنکھوں سے نہیں ہو سکتا۔
منام میں یا تصور میں نہ ہو سکنے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

محترم علی بہرام۔ کانک تراہ کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ اپنی ظاہری آنکھوں سے اللہ رب العزت کو دیکھ رہا ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تصور اور استحضار ہو کہ اللہ پاک کو دیکھ رہا ہوں۔
البتہ میں اتنی حد تک متفق ہوں کہ یہ چیز مستقل پریکٹس کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو مجلی کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اور تصوف اسی عملی پریکٹس اور تزکیہ کا نام ہے۔
ٹی ایچ کے بھائی۔ آپ کی بات بھی بجا کہ قرآن میں تدبر کرنا چاہیے۔
لیکن مجھے یہ بتائیے اگر یہ تدبر کسی شیخ کی مدد سے ہو تو کیا حرج ہے؟
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
ایک بات عرض کرتا چلوں۔ دنیا میں دیدار ان آنکھوں سے نہیں ہو سکتا۔
منام میں یا تصور میں نہ ہو سکنے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

محترم علی بہرام۔ کانک تراہ کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ اپنی ظاہری آنکھوں سے اللہ رب العزت کو دیکھ رہا ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تصور اور استحضار ہو کہ اللہ پاک کو دیکھ رہا ہوں۔
البتہ میں اتنی حد تک متفق ہوں کہ یہ چیز مستقل پریکٹس کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو مجلی کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اور تصوف اسی عملی پریکٹس اور تزکیہ کا نام ہے۔
ٹی ایچ کے بھائی۔ آپ کی بات بھی بجا کہ قرآن میں تدبر کرنا چاہیے۔
لیکن مجھے یہ بتائیے اگر یہ تدبر کسی شیخ کی مدد سے ہو تو کیا حرج ہے؟
بجا ارشاد فرمایا آپ نے کہ یہ دیکھنا آنکھ کا دیکھنا نہیں پھر بھی ہے بہرحال دیکھنا ہی ہے ،اوراس کی راہ سوائے تصوف کے علم دین کے اور کسی شعبے میں بات نہیں کی جاتی اسی لئے علماء اسلام نے " احسان " کو تصوف کہا ہے ۔
 

علی بہرام

مشہور رکن
شمولیت
ستمبر 18، 2013
پیغامات
1,216
ری ایکشن اسکور
162
پوائنٹ
105
﷽​
دیدارِ الٰہی کا تصور قرآن کی نظر میں​
دنیا میں دیدارِ الٰہی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:-
اور جب موسیٰ علیہ السلام ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں ایک نظر تم کو دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بیشک آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا ہوں ۔
سورت الاعراف آیت نمبر 143

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی دیدارِ الہٰی کی خواہش کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی کا ظہور کوہِ طور پہاڑ پر ظاہر فرمایا تو حضرت موسٰیؑ پہاڑ کو ریزہ ریزہ دیکھ کر بے ہوش ہو گئے اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت موسٰیؑ نے تجلی نہیں بلکہ پہاڑ کا مشاہدہ فرمایا تھا کیوں کہ آیت کے الفاظ ہیں'' لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے '' یہ نہیں فرمایا کہ '' میری تجلی کی طرف دیکھو اگر تم اسکو برداشت کرگئے تو پھر میرا دیدار کر سکو گے'' کیوں کہ تجلی ظاہر فرمانے کےلیے کا اشارہ کوہِ طور پہاڑ کی طرف ہے نہ کہ حضرت موسٰیؑ کی طرف۔
اس سے مزید پتہ چلتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا دیدار براہِ راست ممکن نہیں تو بلا واسطہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے ؟ لہذا جب حضرت موسٰیؑ جیسا عظیم المرتبت اور جلیل القدر پیغمبر بھی تجلی کے ظہور کے وقت کوہِ طور پہاڑ کو ریزہ ریزہ دیکھ کر بے ہوش گئے تو جو لوگ '' تجلیاتِ ربانیہ '' کا بلاواسطہ مشاہدہ ہونے یا کرنے کا دعوٰی کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے بے خوف ہیں ؟ ورنہ اللہ تعالیٰ کا اس دنیا میں بلا واسطہ یا براہِ راست تو اور دور کی بات ہے۔۔
﷽​
دیدارِ الٰہی کا تصور قرآن کی نظر میں​
دنیا میں دیدارِ الٰہی

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:-
اور جب موسیٰ علیہ السلام ہمارے وقت پر آئے اور ان کے رب نے ان سے باتیں کیں تو عرض کیا کہ اے میرے پروردگار اپنا دیدار مجھ کو کرا دیجئے کہ میں ایک نظر تم کو دیکھ لوں ارشاد ہوا کہ تم مجھ کو ہرگز نہیں دیکھ سکتے لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔ پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو تجلی نے اس کے پرخچے اڑا دیئے اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے پھر جب ہوش میں آئے تو عرض کیا، بیشک آپ کی ذات پاک ہے میں آپ کی جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلے آپ پر ایمان لانے والا ہوں ۔
سورت الاعراف آیت نمبر 143

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی دیدارِ الہٰی کی خواہش کا تذکرہ فرمایا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی کا ظہور کوہِ طور پہاڑ پر ظاہر فرمایا تو حضرت موسٰیؑ پہاڑ کو ریزہ ریزہ دیکھ کر بے ہوش ہو گئے اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت موسٰیؑ نے تجلی نہیں بلکہ پہاڑ کا مشاہدہ فرمایا تھا کیوں کہ آیت کے الفاظ ہیں'' لیکن تم اس پہاڑ کی طرف دیکھتے رہو وہ اگر اپنی جگہ پر برقرار رہا تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے '' یہ نہیں فرمایا کہ '' میری تجلی کی طرف دیکھو اگر تم اسکو برداشت کرگئے تو پھر میرا دیدار کر سکو گے'' کیوں کہ تجلی ظاہر فرمانے کےلیے کا اشارہ کوہِ طور پہاڑ کی طرف ہے نہ کہ حضرت موسٰیؑ کی طرف۔
اس سے مزید پتہ چلتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا دیدار براہِ راست ممکن نہیں تو بلا واسطہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے ؟ لہذا جب حضرت موسٰیؑ جیسا عظیم المرتبت اور جلیل القدر پیغمبر بھی تجلی کے ظہور کے وقت کوہِ طور پہاڑ کو ریزہ ریزہ دیکھ کر بے ہوش گئے تو جو لوگ '' تجلیاتِ ربانیہ '' کا بلاواسطہ مشاہدہ ہونے یا کرنے کا دعوٰی کرتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے بے خوف ہیں ؟ ورنہ اللہ تعالیٰ کا اس دنیا میں بلا واسطہ یا براہِ راست تو اور دور کی بات ہے۔

آخرت میں دیدارِ الٰہی

اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :-
اس روز بہت سے چہرے ترو تازہ اور بارونق ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھتے ہونگے۔
سورت القیامتہ آیت نمبر 23- 22

اس آیت میں اللہ تعالٰی نے قیامت والے دن اہلِ ایمان کے دیدارِ الٰہی سے مشرف ہرنے کا ذکر فرمایا ہے یہ دیدار مرنے کے بعد آخرت میں صرف اہلِ ایمان کو نصیب ہو گا اگرچہ اہلِ ایمان میں بھی کچھ گناہگار ہونگے مگر وہ کفر و شرک کی غلاظتوں سے پاک ہونگے چناچہ اللہ تعالٰی ان کو بھی اپنے دیدار سے محروم نہیں رکھے گا۔ اس آیت میں بھی دیدارِ الٰہی صرف آخرت سے مختص ہے۔
مزید فرمایا :-
اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے جو جزا اور سزا کے دن کو جھٹلاتے رہے اسے صرف وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے آگے نکل جانے والا (اور) گناہگار ہوتا ہے جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔
سورت المطففین آیت نمبر 15- 10

جیسا کہ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو روزِ آخرت کا انکار کرتے ، حد سے گزرتے ، شریعت کا مذاق اڑاتے اور گناہوں کی دلدل میں پھنسے رہتے ہیں اور اس نتیجے میں ان کے برے اعمال کا زنگ انکے دلوں پر جما رہتا ہے تو ایسے لوگ اس قابل نہیں ہونگے کہ ان کو آخرت میں دیدارِ الٰہی کے اعزاز سے نوازا جائے۔ کفر و شرک کا یہ حجاب ہی ان کو دیدارِ الٰہی سے ہمیشہ کےلیے محروم رکھے گا۔

قابلِ غور نکات

اگر ان تینوں آیات کو ملا کر پڑھا اور سمجھا جائے تو درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:-
دنیا میں کسی کے لیے بھی دیدارِ الٰہی ممکن نہیں قطع نظر کہ وہ ہستی چاہے نبی ، رسول، صحابی یا ولی ہی کی کیوں نہ ہو۔دیدارِ الٰہی آخرت میں صرف اہلِ ایمان کےلیے مخصوص ہے قطع نظر کہ وہ گناہگار ہوں یا نیکوکار۔صرف کفار و مشرکین آخرت میں دیدارِ الٰہی سے محروم رکھے جائیں گے۔

آخر میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آخرت میں دیدارِ الٰہی اللہ تعالٰی کا سب سے بڑا فضل و کرم ہے یہ نہ تو ہمارے عمل کا صلہ ہے اور نہ ہی عمل اس بات کو لازم ہے کہ دیدارِ الٰہی ہو۔ لہذا اس دنیا میں کسی بھی صورت یا حالت میں دیدارِ الٰہی عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن سے بھی متصادم ہے۔
دیدار الہی یہ ایک الگ موضوع ہے اور موجودہ دھاگے کے موضوع کی مناسبت سے کچھ سوالات اٹھائے گئے ہیں اگر ان پر کچھ ارشاد فرمائیں تو نوازش ہوگی
1۔ علم دین کا وہ کون سا شعبہ ہے جو اس طرح عبادت الہی کرنے کی راہ بتاتا ہے ؟؟؟ یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرنی ہے کہ عبد معبود کو دیکھ رہا ہے یعنی "احسان"
2۔ صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث میں مومنوں کا اللہ تبارک تعالیٰ کو دیکھ کر ایسے پہچان لینے کا اور کیا معنی ہوسکتا ہے کہ یہ مومن اللہ کی عبادت اللہ کو دیکھ کرتے رہے ہونگے جب کہ اللہ تعالیٰ ان مومنوں کے سامنے اس صؤرت کے علاوہ اپنی شان کے لائق جلوہ افروز ہوگا جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پہلی بار دیکھا تھا یعنی جب اللہ نے فرمایا تھا أَلست بربّكم اور سب لوگوں نے اس کے جواب میں فرمایا تھا قالوا بلي‌ ویسے ایک بات تو ہے کہ اس پہلی بار کے دیکھنے کو علم دین کے جس شعبے میں یاد دلانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ تصوف ہی ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟؟
3۔کیا آپ کو اس پہلی بار کا دیکھنا بھی یاد ہے ؟؟؟
والسلام
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,108
ری ایکشن اسکور
322
پوائنٹ
156
ایک بات عرض کرتا چلوں۔ دنیا میں دیدار ان آنکھوں سے نہیں ہو سکتا۔
منام میں یا تصور میں نہ ہو سکنے پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

محترم علی بہرام۔ کانک تراہ کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ اپنی ظاہری آنکھوں سے اللہ رب العزت کو دیکھ رہا ہو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تصور اور استحضار ہو کہ اللہ پاک کو دیکھ رہا ہوں۔
البتہ میں اتنی حد تک متفق ہوں کہ یہ چیز مستقل پریکٹس کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو مجلی کرنے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ اور تصوف اسی عملی پریکٹس اور تزکیہ کا نام ہے۔
ٹی ایچ کے بھائی۔ آپ کی بات بھی بجا کہ قرآن میں تدبر کرنا چاہیے۔
لیکن مجھے یہ بتائیے اگر یہ تدبر کسی شیخ کی مدد سے ہو تو کیا حرج ہے؟
منام میں یا تصور میں بھی اللہ تعالیٰ کے دیدار کا کوئی ثبوت قرآن میں نہیں ہے۔ اگر منام میں یا تصور میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکتا تو حضرت موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ سے ایسی درخواست ضرور کرتے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت موسیٰؑ کو یہ نہیں فرمایا کہ تم حالتِ منام یا تصور میں میرا دیدار کر سکتے ہو۔ لہذا آپ کا یہ کہنا بھی بے جا ہے۔
'' کانک تراہ '' والی حدیث پر بھی میں اپنا مضمون انشاءاللہ بہت جلد پیش کرونگا۔

آپ اگر '' شیخ '' ہی کی مدد سے قرآن میں تدبر کرنا چاہتے ہیں تو کریں مگر یاد رکھیں '' شیخ '' آپ کو اپنا ہی نقطہ ءنظر بتائے گا اور آپ اسکی ہی پیروی کریں گے قطع نظر کہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ آپ اس طرح اپنے فہم سے کبھی بھی قرآن میں غور و فکر کر سکنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔

میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ قرآنی گرائمر کا مطالعہ کریں اور اس کی روشنی میں قرآن پر غور و فکر کریں۔
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,108
ری ایکشن اسکور
322
پوائنٹ
156
محترم اگر آپ دوبارہ کھلے دل و ٹھنڈے مزاج سے میری پوسٹس ملاحظہ فرما لیں تو میں شکر گزار ہوں گا۔
صادقین کون ہوتے ہیں؟ شیخ اسی کو بنایا جاتا ہے جو قول و عمل میں سچا ہو۔
افلا یتدبرون والی آیت سے آپ اس آیت کے حکم کی نفی کرنا چاہتے ہیں؟ پھر حجیت حدیث کا کیا کریں گے؟
مجھے تو لگتا ہے کہ '' شیخ '' کا تصور نکالا ہی اس لئے گیا ہے کہ لوگوں کو آسانی سے قرآن مجید سے بے نیاز کیا جا سکے۔
افلا یتدبرون والا اعتراض آپ کا وہم ہے۔
 

محمد علی جواد

سینئر رکن
شمولیت
جولائی 18، 2012
پیغامات
1,988
ری ایکشن اسکور
1,533
پوائنٹ
304
اس سے مراد تصوف ہے اور یہ میں نہیں کہہ رہا یہ آپ کے امام کا ہی کا قول ہے جو میں آپ کی خدمت میں پیش کرچکا ہوں
ویسے اب تک کسی نے میرے اس پوائنٹ پر اظہار خیال نہیں کیا کہ
علم دین کا وہ کون سا شعبہ ہے جو اس طرح عبادت الہی کرنے کی راہ بتاتا ہے ؟؟؟


ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ یہاں عبادت الہی کا ذکر ہے
اس کے لئے ذیادہ لمبی بات نہیں کروں گا صحیح بخاری کی ایک طویل حدیث کا چھوٹا سا حصہ پیش کروں گا
حضور نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے جب تمام کافروں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا یہاں تک کہ وہی باقی رہ جائیں گے جو خالص اللہ کی عبادت کرتے تھے نیک و بد دونوں قسم کے مسلمان ' ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو جب کہ سب لوگ جا چکے ہیں؟ وہ کہیں گے ہم دنیا میں ان سے ایسے وقت جدا ہوئے کہ ہمیں ان کی دنیاوی فائدوں کے لئے بہت زیادہ ضرورت تھی اور ہم نے ایک آواز دینے والے کو سنا ہے کہ ہر قوم اس کے ساتھ ہو جائے جس کی وہ عبادت کرتی تھی اور ہم اپنے رب کے منتظر ہیں۔ بیان کیا کہ پھر اللہ جبار ان کے سامنے اس صورت کے علاوہ دوسری صورت میں آئے گا جس میں انہوں نے اسے پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اور کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں! لوگ کہیں گے کہ تو ہی ہمارا رب ہے اور اس دن انبیاء کے سوا اور کوئی بات نہیں کرے گا۔ پھر پوچھے گا کیا تمہیں اس کی کوئی نشانی معلوم ہے؟ وہ کہیں گے کہ "ساق" (پنڈلی) پھر اللہ تعالیٰ اپنی پنڈلی کھولے گا اور ہر مومن اس کے لیے سجدہ میں گر جائے گا۔ صرف وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو دکھا وے اور شہرت کے لئے اسے سجدہ کرتے تھے ' وہ بھی سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی پیٹھ تختہ کی طرح ہو کر رہ جائے گی۔
صحيح البخاري - الصفحة أو الرقم: 7439

صحیح بخاری کی اس حدیث میں مومنوں کا اللہ تبارک تعالیٰ کو دیکھ کر ایسے پہچان لینے کا اور کیا معنی ہوسکتا ہے کہ یہ مومن اللہ کی عبادت اللہ کو دیکھ کرتے رہے ہونگے جب کہ اللہ تعالیٰ ان مومنوں کے سامنے اس صؤرت کے علاوہ اپنی شان کے لائق جلوہ افروز ہوگا جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پہلی بار دیکھا تھا یعنی جب اللہ نے فرمایا تھا أَلست بربّكم اور سب لوگوں نے اس کے جواب میں فرمایا تھا قالوا بلي‌ ویسے ایک بات تو ہے کہ اس پہلی بار کے دیکھنے کو علم دین کے جس شعبے میں یاد دلانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ تصوف ہی ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟؟ کیا آپ کو اس پہلی دفعہ کا دیکھنا بھی یاد ہے ؟؟؟
سوال ہے کہ "تصوف" کی اصطلا ح کی صحابہ کرام رضوان الله اجمعین کے دور میں کیا حثیت تھی - کیوں کہ نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم کے فرمان کے مطابق آپ کا اور آپ کے صحابہ کا دور خیر القرون (سب سے بہترین دور) ہے- اب آپ بتائیں کہ صحابہ کرام رضوان الله اجمعین نے الله کو دیکھ کر عبادت کرنے کا کیا مطلب اخذ کیا ؟؟؟ کیا صرف بعد کے صوفی حضرات ہی اس حدیث کے مفہوم کو سمجھ سکے ؟؟؟ اور صحابہ کرام رضوان الله اجمعین کے عقل و فہم (نعوزباللہ) اس بات سے عاری رہے کہ الله کی عبادت کس طرع کرنی ہے ؟؟؟

آپ فرما رہے ہیں کہ "حدیث میں مومنوں کا اللہ تبارک تعالیٰ کو دیکھ کر ایسے پہچان لینے کا اور کیا معنی ہوسکتا ہے کہ یہ مومن اللہ کی عبادت اللہ کو دیکھ کرتے رہے ہونگے"

سوال یہ کہ جو اس درجے پر نہ پہنچ سکا (یعنی آپ کے نزدیک جو صوفی نہیں) کیا وہ الله کو نہیں پہچان سکے گا ؟؟؟ کیوں کہ حدیث کے الفاظ سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ تمام مومن مسلمان الله کو پہچان لیں گے -

الله کو تو تمام لوگ پہچانیں گے جن کو الله اپنا دیدار کرائے گا اور یہ اس وجہ سے کہ الله و تبارک الیٰ ان تمام لوگوں سے ان کے پیدا ہونے سے پہلے عالم بالا میں ایک عہد لے چکا ہے کہ صرف میری عبادت کرنا اور میری ذات کے ساتھ کسی کو ہرگز شریک نہ کرنا - ملاحظه ہوں قران کی کچھ آیات -


وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ۭ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ۭ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ ﴾ (آل عمران:۸۱)
''اور (وہ وقت بھی یاد کرو )جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا کہ اگر میں تمہیں کتاب و حکمت عطا کروں گا پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے و اس کی تصدیق کرتا ہو جو تمہارے پاس ہے تمہیں لازماً ایمان لانا ہوگا اور اس کی نصرت کرنی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو؟ اور میرے اس عہد کی ذمہ داری قبول کرتے ہو؟ نبیوں نے کہا ہم اقرار کرتے ہیں فرمایا گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں۔

وَاذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَمِيْثَاقَهُ الَّذِيْ وَاثَقَكُمْ بِهٖٓ ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ﴾ (المائدۃ:۷)
''اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو جو اس نے تم پر کیا ہے اور اس عہد کو جو اس نے تم سے لیا ہے اور جب کہ تم نے سنا اور اطاعت کی

وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ ۛ شَهِدْنَا ۛ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَٰذَا غَافِلِينَ سوره آل عمران ١٨٢
اور جب تیرے رب نے بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان کی جانوں پر اقرار کرایا کہ میں تمہارا رب نہیں ہوں انہوں نے کہا ہاں ہے ہم اقرار کرتے ہیں- کبھی قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہمیں تو اس کی خبر نہیں تھی-


یہ تمام عہد الله نے انسانوں کی روحوں سے ان کی پیدا ہونے سے پہلے عالم بالا میں لئے تھے - جس پر تمام روحوں نے نے یہ اقرار کیا تھا کہ ہم تیری ذات کے ساتھ شرک نہیں کریں گے - یہ الگ بات ہے کہ دنیا میں آنے کے بعد ان میں سے اکثریت گمراہ ہو گئی - لیکن عالم بالا میں یہ ان میں جو مومن ہونگے اپنے رب سے ملاقات کرچکے تھے اور اب جب قیامت کے دن یہ مومن اپنے رب کو دیکھینگے تو پہچان لیں گے کے یہی ہمارا رب ہے جس نے ابتدا میں ہم سے عہد لیا تھا - اور یہی اس حدیث کا مفہوم ہے - یہ بات ذہن رہے کہ اس دیدار الہی کے حق دار صرف الله کے مومن بندے ہونگے نہ کہ گمراہ اور مشرک زدہ صوفی حضرات -

وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ سوره القیامہ ٢٢-٢٣
کئی چہرے اس دن تر و تازہ ہو ں گے - اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے


والسلام -
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,684
ری ایکشن اسکور
746
پوائنٹ
290
منام میں یا تصور میں بھی اللہ تعالیٰ کے دیدار کا کوئی ثبوت قرآن میں نہیں ہے۔ اگر منام میں یا تصور میں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکتا تو حضرت موسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ سے ایسی درخواست ضرور کرتے اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بھی حضرت موسیٰؑ کو یہ نہیں فرمایا کہ تم حالتِ منام یا تصور میں میرا دیدار کر سکتے ہو۔ لہذا آپ کا یہ کہنا بھی بے جا ہے۔
'' کانک تراہ '' والی حدیث پر بھی میں اپنا مضمون انشاءاللہ بہت جلد پیش کرونگا۔

آپ اگر '' شیخ '' ہی کی مدد سے قرآن میں تدبر کرنا چاہتے ہیں تو کریں مگر یاد رکھیں '' شیخ '' آپ کو اپنا ہی نقطہ ءنظر بتائے گا اور آپ اسکی ہی پیروی کریں گے قطع نظر کہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ آپ اس طرح اپنے فہم سے کبھی بھی قرآن میں غور و فکر کر سکنے کے قابل نہیں ہو سکیں گے۔

میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ قرآنی گرائمر کا مطالعہ کریں اور اس کی روشنی میں قرآن پر غور و فکر کریں۔
مجھے تو لگتا ہے کہ '' شیخ '' کا تصور نکالا ہی اس لئے گیا ہے کہ لوگوں کو آسانی سے قرآن مجید سے بے نیاز کیا جا سکے۔
افلا یتدبرون والا اعتراض آپ کا وہم ہے۔

موسی علیہ السلام کہتے کہ اللہ پاک مجھے اپنا آپ منام مین دکھا دیں یا میں آپ کی تجلیات کا یا آپ کی ذات کا تصور کر لیتا ہوں؟ عجیب
یہ تو موسی علیہ السلام پر اپنی پسند لگانے والی بات ہو گئی۔ بھئی انہوں نے آنکھوں سے دیکھنا چاہا اور اللہ پاک نے فرمایا کہ نہیں دیکھ سکتے۔
اس میں باقی چیزوں کی نہ نفی ہوئی نہ اثبات۔

قرآنی گرائمر والے مشورے پر جزاک اللہ خیرا۔ بندہ آپ کی طرح اہل علم نہیں لیکن نرا جاہل بھی نہیں۔

جس چیز کا نہ تو قرآن و حدیث میں انکا ہو نہ اثبات اس کی کیا حیثیت ہوتی ہے؟ اور اگر اس کی طرف اشارہ موجود ہو تو کیا حیثیت ہوتی ہے؟

افلا یتدبرون والا اعتراض میرا وہم ہے؟ ہوگا بھائی۔ آپ درست کہتے ہوں گے۔ شیخ کے تصور والی بات آپ کا وہم ہے۔
 

T.K.H

مشہور رکن
شمولیت
مارچ 05، 2013
پیغامات
1,108
ری ایکشن اسکور
322
پوائنٹ
156
دیدار الہی یہ ایک الگ موضوع ہے اور موجودہ دھاگے کے موضوع کی مناسبت سے کچھ سوالات اٹھائے گئے ہیں اگر ان پر کچھ ارشاد فرمائیں تو نوازش ہوگی۔
سوال:- علم دین کا وہ کون سا شعبہ ہے جو اس طرح عبادت الہی کرنے کی راہ بتاتا ہے ؟ یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرنی ہے کہ عبد معبود کو دیکھ رہا ہے یعنی "احسان" ؟

جواب :- قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ کَأَنَّکَ تَرَاهُ فَإِنَّکَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاکَ
اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول احسان کس کو کہتے ہیں؟ فرمایا احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اور اگر تم اس کو نہیں دیکھ رہے تو (کم از کم اتنا یقین رکھو) کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 100

یہ طویل حدیث کا ایک حصہ ہےاس میں '' احسان '' کا تذکرہ ہو رہا ہے ، عبد کا معبود کو دیکھنے کا نہیں۔ عبادت صرف نماز تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ عبادت کا مطلب ہے ہر لمحہ زندگی کا اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت میں گزارنا۔ احسان کا مطلب ہے کسی کام کو بہترین انداز میں ادا کرنا۔ لہذا یہاں سمجھنے میں کوئی اشکال نہیں رہتا کہ ہمیں اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت میں گزارنی چاہیے اور یہاں اسی مفہوم میں عبادت اور احسان کا ذکر ہوا ہے۔ اور کامل اطاعت اسی وقت ممکن ہے جب اس میں '' رضا '' کا عنصر شامل ہو۔چناچہ ہم احسان کو دو درجوں میں تقسیم کریں گے۔

پہلا درجہ ( مقربینِ الٰہی)
کانک تراہ (گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے)
اس حدیث میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہےکہ جس طرح ایک شخص اپنے محبوب کو سامنے دیکھتا ہے اوراس سے ایک پل کے لیے بھی جدا نہیں ہونا چاہتا اور اس کیفیت کو برقرار رکھنے کے لیے محبوب اپنے چاہنے والے سے کامل اطاعت کی شرط لگاتا ہے تو وہ شخص گویا کہ اپنے آپ کو اپنے محبوب کے ہر حکم کے آگے بلا چون و چرا سر جھکا دیتا ہے کیوں کہ وہ نہیں چاہتا کہ معصیتوں اور گناہوں کے دلدل میں پھنستا چلا جائےاور اپنے آپ کو اپنے محبوب کے رخِ انور کے دیدار سے محروم کر لے۔ اس بات کی وضاحت ان آیات سے بھی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:-
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِيْ نَفْسَهُ ابْـتِغَاۗءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ ٢٠٧؁
اور بعض لوگ وہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے والا ہے۔
سورت البقرۃ آیت نمبر 207
قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ١٦٢؀ۙ
آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔
سورت الانعام آیت نمبر 162
وَمَنْ يُّسْلِمْ وَجْهَهٗٓ اِلَى اللّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۭ وَاِلَى اللّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ 22؀
جو شخص اپنا رخِ اطاعت اللہ کی طرف جھکا دے اور وہ (اپنے عَمل اور حال میں) صاحب احسان بھی ہو تو اس نے مضبوط حلقہ کو پختگی سے تھام لیا، اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کی طرف ہے۔
سورت لقمٰن آیت نمبر 22
ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْكِتٰبَ الَّذِيْنَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۚ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ ۚ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ ۚ وَمِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَــيْرٰتِ بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْــفَضْلُ الْكَبِيْرُ 32؀ۭ
پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں یہ بڑا فضل ہے۔
سورت فاطر آیت نمبر 32

اوپر بیان کردہ آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے درجے والے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت میں دے دیتے ہیں چونکہ ایسے لوگوں میں قربانی اور جانثاری کا جذبہ بدرجہ اتم موجود ہوتا ہے اس لیے وہ اپنی جان و مال کی بھی پرواہ نہیں کرتے گویا کہ وہ اپنی '' رضا '' کو فقط اللہ تعالیٰ کی '' رضا و قضا '' کی خاطر بیچ دیتے ہیں۔ وہ نیکوکاری میں دوسروں سے بازی لے جاتے ہیں اور دوسروں کے لیے قابلِ اتباع بن جاتے ہیں۔ اس طرح یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل کے صحیح حقدار ٹھہرتے ہیں۔ یہ لوگ حقیقت میں '' سمعنا و اطعنا '' اور '' اشد حب للہ '' کی عملی تفسیر بن جاتے ہیں۔ یہی '' سابقون '' یعنی '' مقربینِ الٰہی '' کا معزز خطاب پاتے ہیں۔

دوسرا درجہ ( اصحاب الیمین)
فانہ یراک ( پس بیشک وہ تجھے دیکھ رہا ہے)
ہم نے پہلے حصے میں بتایا کہ عبادت کا سب سے اونچا معیار اور مقام تو یہی ہے کہ اپنے آپ کو ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دو اور اسی مقام کو حاصل کرنے کی تمہیں جدو جہد اور محنت کرنی چاہیے تاہم اگر تم اس معیار پر پورا نہیں اترتے اور دین کے ہر پہلو پر اگر عمل کرنا تم کو دشوار نظر آتا ہے اور طبیعت میں '' رضا '' کے عنصر کے ساتھ ساتھ '' جبر '' کی بھی آمیزش ہے تو فرائض کی پابندی اور محرمات کے ارتکاب سے اجتناب کرتے ہوئے کم از کم اس بات سے تو بے خبر اور بے نیاز نہ رہو کہ ایک باطن ہستی تم کو ہر آن اور ہر وقت تم پر نظر رکھے ہوئے ہے جس سے تمہاری کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ۔
اس دوسرے پہلو کی وضاحت ان آیات سے بھی ہوتی ہے:-
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:-
اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀
اگر تم بڑے گناہوں سے بچتے رہو گے جس سے تم کو منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے چھوٹے گناہ دور کر دیں گے اور عزت و بزرگی کی جگہ داخل کریں گے۔
سورت النساء آیت نمبر 31
وَالَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْـفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ يَغْفِرُوْنَ 37؀ۚ
اور کبیرہ گناہوں سے اور بےحیائیوں سے بچتے ہیں اور غصے کے وقت (بھی) معاف کر دیتے ہیں۔
سورت الشورٰی آیت نمبر 37
وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ ١٣٤؁ۚ وَالَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ ١٣٥؁
اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناہ کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں فی الواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وہ لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے۔
سورت آل عمران آیت نمبر 135- 134
وَلِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ۙ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَاۗءُوْا بِمَا عَمِلُوْا وَيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰى 31؀ۚاَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ۭ
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے اور ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بےحیائی سے بھی سوائے کسی چھوٹے گناہ کے ۔
سورت النجم آیت نمبر 31-30

ان آیات سے اس بات پر روشنی پڑتی ہےکہ اس مقام اور درجہ میں ایسے لوگوں کا رویہ پہلے درجے کے لوگوں سے مختلف ہے۔ وہ اطاعت تو اللہ تعالیٰ ہی کی کرتے ہیں اور اس ہی کے حکم پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ کبھی شیطان یا اپنے نفس کے نرغے میں آ کر بسا اوقات معصیت کا شکار ہو جاتے ہیں اور کچھ تو کبائر کا بھی ارتکاب کر جاتے ہیں مگر ان کی یہ کیفیت محض تھوڑی دیر تک ہی رہتی ہے اور وہ جلد ہی اپنے پروردگار کے حضور توبہ و استغفار کر کے اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔ وہ معصیت میں مبتلا رہنے کی کیفیت کو اپنا شعار نہیں بناتے بلکہ ہروقت اپنے خالق و مالک کی بندگی کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔چناچہ اگروہ نیکی کا رویہ اپنائیں رکھیں اور برائیوں میں اتنے نہ پھنسیں کہ کبائر تک نوبت آئے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اتنی محدودنہیں کہ انہیں صرف صغائر کے ارتکاب پر عذاب دے بلکہ وہ انکی چھوٹی خطاؤں اور گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور انہیں عزت کا مقام و مرتبہ بھی عطاء فرمائےگا۔

لہذااس توضیح و تشریح کے بعد یہ بات سمجھنے میں کوئی دقت نہیں رہتی کہ '' احسان '' کا پہلا درجہ (مقربینِ الٰہی) '' کانک تراہ '' اور دوسرا درجہ (اصحاب الیمین) '' فانہ یراک '' کا کیا مطلب اور فرق ہے۔

مزید یہ کہ حدیث کے الفاظ یہ نہیں ہیں کہ '' احسان یہ ہے کہ گویا کہ تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو '' بلکہ الفاظ یہ ہیں کہ '' احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے '' تو پتہ چلا کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا ذکر احسان کے ساتھ ہو رہا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا۔

اس حدیث سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے وقت بندے اللہ تعالیٰ کا دیدار کرتے ہیں کیونکہ میں اپنے پچھلے مضمون '' دیدارِ الٰہی کا تصور قرآن کی نظر میں '' قرآنی آیات کی روشنی میں یہ ثابت کر چکا ہوں کہ آخرت میں دیدارِ الٰہی اللہ تعالٰی کا سب سے بڑا فضل و کرم ہے یہ نہ تو ہمارے عمل کا صلہ ہے اور نہ ہی عمل اس بات کو لازم ہے کہ دیدارِ الٰہی ہو۔ لہذا اس دنیا میں کسی بھی صورت یا حالت میں دیدارِ الٰہی عقل کے بھی خلاف ہے اور قرآن سے بھی متصادم ہے۔


سوال:- صحیح بخاری کی مذکورہ حدیث میں مومنوں کا اللہ تبارک تعالیٰ کو دیکھ کر ایسے پہچان لینے کا اور کیا معنی ہوسکتا ہے کہ یہ مومن اللہ کی عبادت اللہ کو دیکھ کر کرتے رہے ہونگے جب کہ اللہ تعالیٰ ان مومنوں کے سامنے اس صؤرت کے علاوہ اپنی شان کے لائق جلوہ افروز ہوگا جس میں انھوں نے اللہ تعالیٰ کو پہلی بار دیکھا تھا یعنی جب اللہ نے فرمایا تھا أَلست بربّكم اور سب لوگوں نے اس کے جواب میں فرمایا تھا قالوا بلي‌ ویسے ایک بات تو ہے کہ اس پہلی بار کے دیکھنے کو علم دین کے جس شعبے میں یاد دلانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ تصوف ہی ہے آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے ؟

جواب:- رہا اللہ تعالیٰ کو پہلی بار دیکھنے کا معاملہ، تو ہو سکتا ہے کہ مرنے کے بعد عالمِ برزخ میں اور روزِ محشر سے پہلے مسلمانوں کو بہشت کے نظاروں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اپنا دیدار بھی کرا دیں کیونکہ جب مرنے کے بعد غیب سے پردہ اٹھ ہی جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا عالمِ برزخ میں پہلی بار دیدار کرا دینا کچھ بعید نہیں لگتا۔

شائد اس لیے مسلمان جب میدانِ محشر میں اللہ تعالیٰ کو دوسری صورت میں دیکھ کر پہچان نہیں سکیں گے تو اللہ تعالیٰ اپنی اس پہلی صورت میں جسے مسلمان عالمِ برزخ میں دیکھ چکے ہوں اپنی شان کے لائق جلوہ افروز ہونگے اور مسلمان اللہ تعالیٰ کے ساتھ چل دیں گے۔

'' عہدِ الست '' والی آیت سے بھی اس بات کا ثبوت نہیں نکلتا کہ بنی آدم سے اقرار لیتے وقت اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار کرایا ہو گا۔ اگر اس سے دیدارِ الٰہی ثابت ہوتا ہے تو اس میں سب طرح کے لوگوں شامل ہو جاتے ہیں قطع نظر وہ کفار ہوں یا مومنین کیوں کہ یہ سب نبی آدم میں شامل ہیں۔ جبکہ قرآنی دلائل کے ساتھ یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار آخرت میں صرف مومنین سے خاص ہے اس میں کفار و مشرکین شامل نہیں۔ اور دیدارِ الٰہی اس دنیا میں کسی کے لیے بھی ممکن نہیں چاہے وہ نبی ، رسول ، صحابی یا ولی ہی کیوں نہ ہو۔

نبیﷺ نے فرمایا کہ '' تم عنقریب اپنے رب کو اپنی ظاہری آنکھوں سے دیکھو گے جس طرح تم چودھویں رات کے چاند کو دیکھتے ہو ''
صحیح بخاری ، کتاب التوحید ، جلد نمبر 03

اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دیدارکو چاند کو دیکھنے کی کیفیت سے بطورِ مثال بیان فرمایا گیا ہے اگر '' عہدِ الست '' کے وقت اللہ تعالیٰ کا دیدار ہوا ہوتا تو نبی ﷺ چاند کی بجائے اس '' عہدِ الست '' والی آیت کا حوالہ دیتے۔

سوال:- کیا آپ کو اس پہلی بار کا دیکھنا بھی یاد ہے ؟

جواب:- اس سوال کا جواب اوپر آ چکا ہے۔
واللہ اعلم
 
Top