• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَ‌ىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ‌ مَاذَا تَرَ‌ىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ‌ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّـهُ مِنَ الصَّابِرِ‌ينَ ﴿١٠٢﴾
پھر جب وہ (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے، (١) تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا کہ میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ (٢) بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا لائیے انشاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔
١٠٢۔١ یعنی دوڑ دھوپ کےلائق ہوگیا یا بلوغت کے قریب پہنچ گیا، بعض کہتے ہیں کہ اس وقت یہ بچہ ۱۳ سال کا تھا۔
١٠٢۔٢ پیغمبر کا خواب، وحی اور حکم الٰہی ہی ہوتا ہے۔ جس پر عمل ضروری ہوتا ہے۔ بیٹے سے مشورے کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ بیٹا بھی امتثال امر الہٰی کے لیے کس حد تک تیار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ ﴿١٠٣﴾
اس کو (بیٹے کو) پیشانی (١) کے بل گرا دیا۔
١٠٣۔١ ہر انسان کے منہ (چہرے) پر دو جبینیں (دائیں اور بائیں) ہوتی ہیں اور درمیان میں پیشانی (جَبْهَةٌ) اس لیے لِلْجَبِينِ کا زیادہ صحیح ترجمہ "کروٹ پر" ہے یعنی اس طرح کروٹ پر لٹا لیا، جس طرح جانور کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخ کروٹ پر لٹایا جاتا ہے۔ "پیشانی یا منہ کے بل لٹانے کا" ترجمہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ مشہور ہے حضرت اسماعیل عليہ السلام نے وصیت کی کہ انہیں اس طرح لٹایا جائے کہ چہرہ سامنے نہ رہے جس سے پیار و شفقت کا جذبہ امر الہٰی پر غالب آنے کا امکان نہ رہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَ‌اهِيمُ ﴿١٠٤﴾
تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم!

قَدْ صَدَّقْتَ الرُّ‌ؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿١٠٥﴾
یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا، (١) بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔
١٠٥۔١ یعنی دل کے پورے ارادے سے بچے کو ذبح کرنے کے لیے زمین پر لٹا دینے سے ہی تو نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہے، کیونکہ اس سے واضح ہو گیا کہ اللہ کے حکم کے مقابلے میں تجھے کوئی چیز بھی عزیز تر نہیں ہے، حتیٰ کہ اکلوتا بیٹا بھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
إِنَّ هَـٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ ﴿١٠٦﴾
درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا۔ (١)
١٠٦۔١ یعنی لاڈلے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم، یہ ایک بڑی آزمائش تھی جس میں تو سرخرو رہا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ ﴿١٠٧﴾
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا۔ (١)
١٠٧۔١ یہ بڑا ذبیحہ ایک مینڈھا تھا جو اللہ تعالیٰ نے جنت سے حضرت جبرائیل عليہ السلام کے ذریعے سے بھیجا۔ (ابن کثیر) اسماعیل عليہ السلام کی جگہ اسے ذبح کیا گیا اور پھر اس سنت ابراہمی کو قیامت تک قرب الہٰی کے حصول کے لیے ایک ذریعہ اور عیدالاضحیٰ کا سب سے پسندیدہ عمل قرار دے دیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَتَرَ‌كْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِ‌ينَ ﴿١٠٨﴾
اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا۔

سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَ‌اهِيمَ ﴿١٠٩﴾
ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو۔

كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿١١٠﴾
ہم نیکو کاروں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔

إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ ﴿١١١﴾
بیشک وہ ہمارے ایمان دار بندوں میں سے تھا۔

وَبَشَّرْ‌نَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِّنَ الصَّالِحِينَ ﴿١١٢﴾
اور ہم نے اس کو اسحاق (علیہ السلام) نبی کی بشارت دی جو صالح لوگوں میں سے ہو گا۔ (١)
١١٢۔١ حضرت ابراہیم عليہ السلام کے مذکورہ واقعے کے بعد اب ایک بیٹے اسحاق عليہ السلام کی اور اس کے نبی ہونے کی خوش خبری دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ اسماعیل عليہ السلام تھے۔ جو اس وقت ابراہیم عليہ السلام کے اکلوتے بیٹے تھے، اسحاق عليہ السلام کی ولادت ان کے بعد ہوئی ہے۔ مفسرین کے درمیان اس کی بابت اختلاف ہے کہ ذبیح کون ہے، اسماعیل عليہ السلام یا اسحاق عليہ السلام؟ امام ابن جریر نے حضرت اسحاق عليہ السلام کو اور ابن کثیر اور اکثر مفسرین نے حضرت اسماعیل عليہ السلام کو ذبیح قرار دیا ہے اور یہی بات صحیح ہے۔ امام شوکانی نے اس میں توقف اختیار کیا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھئے تفسیر فتح القدیر اور تفسیر ابن کثیر)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَبَارَ‌كْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰ إِسْحَاقَ ۚ وَمِن ذُرِّ‌يَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ مُبِينٌ ﴿١١٣﴾
اور ہم نے ابراہیم و اسحاق (علیہما السلام) پر برکتیں نازل فرمائیں، (١) اور ان دونوں کی اولاد میں بعضے تو نیک بخت ہیں اور بعض اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والے ہیں۔ (٢)
١١٣۔١ یعنی ان دونوں کی اولاد کو بہت پھیلایا اور انبیاء و رسل کی زیادہ تعداد انہی کی نسل سے ہوئی۔ حضرت اسحاق عليہ السلام کے بیٹے یعقوب عليہ السلام ہوئے، جن کے بارہ بیٹوں سے بنی اسرائیل کے ۱۲ قبیلے بنے اور ان سے بنی اسرائیل کی قوم بڑھی اور پھیلی اور اکثر انبیا ان ہی میں سے ہوئے۔ حضرت ابراہیم عليہ السلام کے دوسرے بیٹے اسماعیل عليہ السلام سے عربوں کی نسل چلی اور ان میں آخری پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہوئے۔
١١٣۔٢ شرک و معصیت اور ظلم و فساد کا ارتکاب کرکے۔ خاندان ابراہیمی میں برکت کے باوجود نیک و بد کے ذکر سے اس طرف اشارہ کر دیا کہ خاندان اور آبا کی نسبت، اللہ کے ہاں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ وہاں تو ایمان اور عمل صالح کی اہمیت ہے۔ یہود و نصاریٰ اگرچہ حضرت اسحاق عليہ السلام کی اولاد سے ہیں۔ اسی طرح مشرکین عرب حضرت اسماعیل عليہ السلام کی اولاد سے ہیں۔ لیکن ان کے جو اعمال ہیں وہ کھلی گمراہی یا شرک و معصیت پر مبنی ہیں۔ اس لیے یہ اونچی نسبتیں ان کے لیے عمل کا بدل نہیں ہو سکتیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُ‌ونَ ﴿١١٤﴾
یقیناً ہم نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر بڑا احسان کیا۔ (١)
١١٤۔١ یعنی انہیں نبوت و رسالت اور دیگر انعامات سے نوازا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنَجَّيْنَاهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْ‌بِ الْعَظِيمِ ﴿١١٥﴾
اور انہیں اور ان کی قوم کو بہت بڑے دکھ درد سے نجات دی۔ (١)
١١٥۔١ یعنی فرعون کی غلامی اور اس کے ظلم و استبداد سے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَنَصَرْ‌نَاهُمْ فَكَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ ﴿١١٦﴾
اور ان کی مدد کی تو وہی غالب رہے۔

وَآتَيْنَاهُمَا الْكِتَابَ الْمُسْتَبِينَ ﴿١١٧﴾
اور ہم نے انہیں (واضح اور) روشن کتاب دی۔

وَهَدَيْنَاهُمَا الصِّرَ‌اطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿١١٨﴾
اور انہیں سیدھے راستے پر قائم رکھا۔

وَتَرَ‌كْنَا عَلَيْهِمَا فِي الْآخِرِ‌ينَ ﴿١١٩﴾
اور ہم نے ان دونوں کے لیے پیچھے آنے والوں میں یہ بات باقی رکھی۔

سَلَامٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُ‌ونَ ﴿١٢٠﴾
کہ موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) پر سلام ہو۔

إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ﴿١٢١﴾
بے شک ہم نیک لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔

إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ ﴿١٢٢﴾
یقیناً یہ دونوں ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔

وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْ‌سَلِينَ ﴿١٢٣﴾
بے شک الیاس (علیہ السلام) بھی پیغمبروں میں سے تھے۔ (١)
١٢٣۔١ یہ حضرت ہارون عليہ السلام کی اولاد میں سے ایک اسرائیلی نبی تھے۔ یہ جس علاقے میں بھیجے گئے تھے اس کا نام بعلبک تھا، بعض کہتے ہیں اس جگہ کا نام سامرہ ہے جو فلسطین کا مغربی وسطی علاقہ ہے۔ یہاں کے لوگ بعل نامی بت کے پجاری تھے۔ (بعض کہتے ہیں یہ دیوی کا نام تھا)
 
Top