• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَإِذَا الْكَوَاكِبُ انتَثَرَ‌تْ ﴿٢﴾
اور جب ستارے جھڑ جائیں گے۔

وَإِذَا الْبِحَارُ‌ فُجِّرَ‌تْ ﴿٣﴾
اور جب سمندر بہہ نکلیں گے۔ (١)
٣-۱ اور سب کا پانی ایک ہی سمندر میں جمع ہو جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ پچھمی ہوا بھیجے گا۔ جو اس میں آگ بھڑ کا دے گی جس سے فلک شگاف شعلے بلند ہوں گے۔

وَإِذَا الْقُبُورُ‌ بُعْثِرَ‌تْ ﴿٤﴾
اور جب قبریں (شق کر کے) اکھاڑ دی جائیں گی۔ (١)
٤۔١ یعنی قبروں سے مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ بُعْثِرَتْ، اکھیڑ دی جائیں گی، یا ان کی مٹی پلٹ دی جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَ‌تْ ﴿٥﴾
(اس وقت) ہر شخص اپنے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے (یعنی اگلے پچھلے اعمال) کو معلوم کر لے گا۔ (١)
٥-۱ یعنی جب مذکورہ امور واقع ہوں گے تو انسان کو اپنے تمام کیے دھرے کا علم ہو جائے گا، جو بھی اچھا یا برا عمل اس نے کیا ہو گا، وہ سامنے آجائے گا، پیچھے چھوڑے ہوئے عمل سے مراد اپنے کردار و عمل کے اچھے یا برے نمونے ہیں جو دنیا میں وہ چھوڑ آیا اور لوگ ان نمونوں پر عمل کرتے ہیں۔ یہ نمونے اگر اچھے ہیں تو اس کے مرنے کے بعد ان نمونوں پر جو لوگ بھی عمل کریں گے، اس کا ثواب اسے بھی پہنچتا رہے گا اور اگر برے نمونے اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے تو جو جو بھی اسے اپنائے گا، ان کا گناہ بھی اس شخص کو پہنچتا رہے گا، جس کی مساعی سے وہ برا طریقہ یا کام رائج ہوا۔

يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّ‌كَ بِرَ‌بِّكَ الْكَرِ‌يمِ ﴿٦﴾
اے انسان! تجھے اپنے رب کریم سے کس چیز نے بہکایا؟ (١)
٦-۱ یعنی کس چیز نے تجھے دھوکے اور فریب میں مبتلا کر دیا کہ تو نے اس رب کے ساتھ کفر کیا، جس نے تجھ پر احسان کیا اور تجھے وجود بخشا، تجھے عقل و فہم عطا کی اور اسباب حیات تیرے لیے مہیا کیے۔

الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ ﴿٧﴾
جس (رب نے) تجھے پیدا کیا، (١) پھر ٹھیک ٹھاک کیا، (٢) اور پھر درست اور برابر بنایا۔ (۳)
٧۔١ یعنی حقیر نطفے سے، جب کہ اس سے پہلے تیرا وجود نہیں تھا۔
٧۔٢ یعنی تجھے ایک کامل انسان بنا دیا، تو سنتا ہے، دیکھتا ہے اور عقل و فہم رکھتا ہے۔
٧۔۳ تجھے معتدل، کھڑا اور حسن صورت والا بنایا، یا تیری دونوں آنکھوں، دونوں کانوں، دونوں ہاتھوں اور دونوں پیروں کو برابر بنایا۔ اگر تیرےاعضا میں یہ برابری اور مناسبت نہ ہوتی تو تیرے وجود میں حسن کے بجائے بے ڈھب پن ہو جاتا۔ اسی تخلیق کو دوسرے مقام پر أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ سے تعبیر فرمایا، ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾ ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
فِي أَيِّ صُورَ‌ةٍ مَّا شَاءَ رَ‌كَّبَكَ ﴿٨﴾
جس صورت میں چاہا تجھے جوڑ دیا۔ (١)
٨-۱ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ بچے کو جس کے چاہے مشابہ بنا دے۔ باپ کے، ماں کے یا ماموں اور چچا کے۔ دوسرا مطلب ہے کہ وہ جس شکل میں چاہے، ڈھال دے، حتیٰ کہ قبیح ترین جانور کی شکل میں بھی پیدا کر سکتا ہے لیکن یہ اس کا لطف و کرم اور مہربانی ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتا اور بہترین انسانی شکل میں ہی پیدا فرماتا ہے۔

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِالدِّينِ ﴿٩﴾
ہرگز نہیں بلکہ تم تو جزا و سزا کے دن کو جھٹلاتے ہو۔ (١)
٩-۱ كَلا، حَقًّا کے معنی میں بھی ہو سکتا ہے۔ اور کافروں کے اس طرز عمل کی نفی بھی جو اللہ کریم کی رافت و رحمت سے دھوکے میں مبتلا ہونے پر مبنی ہے یعنی اس فریب نفس میں مبتلا ہونے کا کوئی جواز نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تمہارے دلوں میں اس بات پر یقین نہیں ہے کہ قیامت ہو گی اور وہاں جزا و سزا ہو گی۔

وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ ﴿١٠﴾
یقیناً تم پر نگہبان عزت والے۔

كِرَ‌امًا كَاتِبِينَ ﴿١١﴾
لکھنے والے مقرر ہیں۔

يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ ﴿١٢﴾
جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں۔ (١)
١٢-۱ یعنی تم تو جزا و سزا کے منکر ہو، لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ تمہارا ہر قول اور ہر فعل نوٹ ہو رہا ہے۔ اللہ کی طرف سے فرشتے تم پر بطور نگران مقرر ہیں جو تمہاری ہر اس بات کو جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ یہ گویا انسانون کو تنبیہ ہے کہ ہر عمل اور بات سے پہلے سوچ لو کہ وہ غلط تو نہیں۔ یہ وہی بات ہے جو پہلے گزر چکی ہے مثلاً ﴿عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ * مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ﴾ (سورة ق: ۱۷-۱۸) یعنی "ایک فرشتہ اس کے دائیں اور دوسرا اس کے بائیں جانب بیٹھا ہوا ہے، انسان جو بولتا ہے، اس کے پاس نگران، تیار اور حاضر ہے" یعنی لکھنے کے لیے۔ کہتے ہیں ایک فرشتہ نیکی اور دوسرا بدی لکھتا ہے۔ اور احادیث و آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ دن کے دو فرشتے الگ اور رات کے دو فرشتے الگ ہیں۔ آگے نیکوں اور بدوں، دونوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

إِنَّ الْأَبْرَ‌ارَ‌ لَفِي نَعِيمٍ ﴿١٣﴾
یقیناً نیک لوگ (جنت کے عیش و آرام اور) نعمتوں میں ہوں گے۔

وَإِنَّ الْفُجَّارَ‌ لَفِي جَحِيمٍ ﴿١٤﴾
اور یقیناً بدکار لوگ دوزخ میں ہوں گے۔ (١)
١٤-۱ جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا، ﴿فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ﴾ (الشورى: ۷)

يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ الدِّينِ ﴿١٥﴾
بدلے والے دن اس میں جائیں گے۔ (١)
١٥۔١ یعنی جس دن جزا و سزا کے دن کا وہ انکار کرتے تھے اسی دن جہنم میں اپنے اعمال کی پاداش میں داخل ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَائِبِينَ ﴿١٦﴾
وہ اس سے کبھی غائب نہ ہونے پائیں گے۔ (١)
١٦-۱ یعنی کبھی اس سے جدا نہیں ہوں گے اور اس سے غائب نہیں ہوں گے۔ بلکہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ﴿١٧﴾
تجھے کچھ خبر بھی ہے کہ بدلے کا دن کیا ہے۔

ثُمَّ مَا أَدْرَ‌اكَ مَا يَوْمُ الدِّينِ ﴿١٨﴾
میں پھر (کہتا ہوں کہ) تجھے کیا معلوم کہ جزا (اور سزا) کا دن کیا ہے۔ (١)
١٨-۱ تکرار، اس کی عظمت و ضخامت اور اس دن کی ہولناکیوں کی وضاحت کے لیے ہے۔

يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا ۖ وَالْأَمْرُ‌ يَوْمَئِذٍ لِّلَّـهِ ﴿١٩﴾
(وہ ہے) جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لیے کسی چیز کا مختار نہ ہو گا، اور (تمام تر) احکام اس روز اللہ کے ہی ہوں گے۔ (١)
١٩۔١ یعنی دنیا میں تو اللہ نے عارضی طور پر، آزمانے کے لیے، انسانوں کو کم و بیش کے کچھ فرق کے ساتھ اختیارات دے رکھے ہیں۔ لیکن قیامت والے دن تمام اختیارات کلیتاً صرف اور صرف اللہ کے پاس ہوں گے۔ جیسے فرمایا لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ (سورۂ مؤمن: ۱۶) چنانچہ نبی ﷺ نے اپنی پھوپھی حضرت صفیہ رضی الله عنہا اور اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی الله عنہا کو فرما دیا تھا لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا (صحيح مسلم، كتاب الإيمان) اور بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب کو بھی متنبہ فرما دیا أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، وَاللهِ لا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللهِ شَيْئًا (مسلم، كتاب مذكور، بخاری، سورة الشعراء)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
سورة المطففین


(سورہ مطففین مکی ہے اور اس میں چھتیس آیتیں ہیں۔ بعض اسے مکی اور بعض مدنی قرار دیتے ہیں، بعض کے نزدیک مکے اور مدینے کے درمیان نازل ہوئی۔ اس کی شان نزول میں یہ روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو اہل مدینہ ناپ تول کے لحاظ سے خبیث ترین لوگ تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل فرمائی، جس کے بعد انہوں نے اپنی ناپ تول صحیح کر لی۔ ابن ماجہ)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔

وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ ﴿١﴾
بڑی خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔

الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ﴿٢﴾
کہ جب لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں۔

وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُ‌ونَ ﴿٣﴾
اور جب انہیں ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔ (١)
٣۔١ یعنی لینے اور دینے کے الگ الگ پیمانے رکھنا اور اس طرح ڈنڈی مار کر ناپ تول میں کمی کرنا، بہت بڑی اخلاقی بیماری ہے، جس کا نتیجہ دین و آخرت میں تباہی ہے۔ ایک حدیث ہے، جو قوم ناپ تول میں کمی کرتی ہے، تو اس پر قحط سالی، سخت محنت اور حکمرانوں کا ظلم مسلط کر دیا جاتا ہے۔ (ابن ماجہ)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
أَلَا يَظُنُّ أُولَـٰئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ ﴿٤﴾
کیا انہیں مرنے کے بعد جی اٹھنے کا خیال نہیں۔

لِيَوْمٍ عَظِيمٍ ﴿٥﴾
اس عظیم دن کے لیے۔

يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٦﴾
جس دن سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ (١)
٦-۱ یہ ڈنڈی مارنے والے اس بات سے نہیں ڈرتے کہ ایک بڑا ہولناک دن آنے والا ہے جس میں سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے جو تمام پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے؟ مطلب یہ ہے کہ یہ کام وہی لوگ کرتے ہیں جن کے دلوں میں اللہ کا خوف اور قیامت کا ڈر نہیں ہے۔ احادیث میں آتا ہے، کہ جس وقت رب العالمین کے لیے کھڑے ہوں گے تو پسینہ انسانوں کے آدھے آدھے کانوں تک پہنچا ہو گا۔ (صحيح، بخاری، تفسير سورة المطففين) ایک اور روایت میں ہے کہ قیامت والے دن سورج مخلوق کے اتنا قریب ہو گا کہ ایک میل کی مقدار کے قریب فاصلہ ہو گا۔ (حدیث کے راوی حضرت سلیم بن عامر کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی ﷺ نے میل سے زمین کی مسافت والا میل مراد لیا ہے یا وہ سلائی جس سے سرمہ آنکھوں میں ڈالا جاتا ہے) پس لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ہوں گے، یہ پسینہ کسی کے ٹخنوں تک، کسی کے گھٹنوں تک، کسی کی کمر تک ہو گا اور کسی کے لیے یہ لگام بنا ہوا ہو گا، یعنی اس کے منہ تک پسینہ ہو گا۔ (صحيح مسلم، صفة القيامة والجنة، باب في صفة يوم القيامة)

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ‌ لَفِي سِجِّينٍ ﴿٧﴾
یقیناً بدکاروں کا نامہ اعمال سجین میں ہے۔ (١)
٧۔١ سِجِّينٌ، بعض کہتے ہیں سِجْنٌ (قید خانہ) سے ہے، مطلب ہے کہ قید خانے کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصے میں ایک جگہ ہے، جہاں کافروں، ظالموں اور مشرکوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے جمع اور محفوظ ہوتے ہیں۔ اسی لیے آگے اسے "لکھی ہوئی کتاب" قرار دیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا سِجِّينٌ ﴿٨﴾
تجھے کیا معلوم سجین کیا ہے؟

كِتَابٌ مَّرْ‌قُومٌ ﴿٩﴾
(یہ تو) لکھی ہوئی کتاب ہے۔

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ ﴿١٠﴾
اس دن جھٹلانے والوں کی بڑی خرابی ہے۔

الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ﴿١١﴾
جو جزا و سزا کے دن کو جھٹلاتے رہے۔

وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ﴿١٢﴾
اسے صرف وہی جھٹلاتا ہے جو حد سے آگے نکل جانے والا (اور) گناہ گار ہوتا ہے۔

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿١٣﴾
جب اس کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو کہہ دیتا ہے کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں۔ (١)
١٣۔١ یعنی اس کا گناہوں میں انہماک اور حد سے تجاوز اتنا بڑھ گیا ہے کہ اللہ کی آیات سن کر ان پر غور و فکر کرنے کے بجائے، انہیں اگلوں کی کہانیاں بتلاتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَ‌انَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ ﴿١٤﴾
یوں نہیں (١) بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ (چڑھ گیا) ہے۔ (۲)
١٤-۱ یعنی یہ قرآن کہانیاں نہیں، جیسا کہ کافر کہتے اور سمجھتے ہیں۔ بلکہ یہ اللہ کا کلام اور اس کی وحی ہے جو اس کے رسول پر جبرائیل علیہ السلام امین کے ذریعے سے نازل ہوئی ہے۔
١٤-۲ یعنی ان کے دل اس قرآن اور وحی الہٰی پر ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ ان کے دلوں پر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے پردے پڑ گئے ہیں اور وہ زنگ آلود ہو گئے ہیں رَيْنٌ، گناہوں کی وہ سیاہی ہے جو مسلسل ارتکاب گناہ کی وجہ سے اس کے دل پر چھا جاتی ہے۔ حدیث میں ہے "بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو وہ سیاہی دور کر دی جاتی ہے، اور اگر توبہ کے بجائے، گناہ پر گناہ کیے جاتا ہے تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے، حتیٰ کہ اس کے پورے دل پر چھا جاتی ہے۔ یہی وہ رَيْنٌ ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔ (ترمذی، باب تفسیر سورۃ المطففین، ابن ماجہ، کتاب الزھد، باب ذکرالذنوب۔ مسند أحمد ۲۹۷/۲)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
كَلَّا إِنَّهُمْ عَن رَّ‌بِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوبُونَ ﴿١٥﴾
ہرگز نہیں یہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔ (١)
١٥۔١ ان کے برعکس اہل ایمان روئیت باری تعالیٰ سے مشرف ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ ﴿١٦﴾
پھر یہ لوگ بالیقین جہنم میں جھونکے جائیں گے۔

ثُمَّ يُقَالُ هَـٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تُكَذِّبُونَ ﴿١٧﴾
پھر کہہ دیا جائے گا کہ یہی ہے وہ جسے تم جھٹلاتے رہے۔

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَ‌ارِ‌ لَفِي عِلِّيِّينَ ﴿١٨﴾
یقیناً یقیناً نیکوکاروں کا نامہ اعمال علیین میں ہے۔ (١)
١٨۔١ عِلِّيِّينُ، عُلُوٌّ (بلندی) سے ہے۔ یہ سِجِّينٌ کے برعکس، آسمانوں میں یا جنت میں یا سدرۃ المنتہیٰ یا عرش کے پاس جگہ ہے جہاں نیک لوگوں کی روحیں اور ان کے اعمال نامے محفوظ ہیں، جس کے پاس مقرب فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔
 
Top