قارئینِ کرام جب غیر مقلدین، اہلحدیث اور سلفی وغیرہم کا جب کوئی چارہ نہیں چلتا تو اس وقت یہ کبھی احناف کو اپنا پِیر بناتے ہیں اور کبھی امتیوں کو۔ اس وقت ان کو اللہ تعالیٰ کا حکم ”فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ“ پتہ نہیں کیوں یاد نہیں رہتا!
جب احناف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھی ہوئی مربوط نمازلکھ کر امتِ مسلمہ کو پہنچا دینے کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے ہیں تو احادیث سے ان کی تردید کرنے کی کوشش شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت پتہ نہیں کیوں ان کو قولِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ”وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي“ کیوں بھول جاتا ہے۔
جب احناف ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی روایت آخری خلیفہ راشد علی رجی اللہ تعالیٰ عن سے پیش کرتے ہیں تو پتہ نہیں ان کو قولِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ”مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الْمَهْدِيِّينَ الرَّاشِدِينَ تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ“ کیوں یاد نہیں رہتا۔
دلائل میں جب قرآن و حدیث پیش کی ا جاتا ہے تو اسے امتیوں کے اقوال سے رد کرتے ہوئے معلوم نہیں یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُبِينًا“ کیوں بھول جاتے ہیں؟