• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
108- بَاب مَا جَاءَ فِي غُسْلِ النِّسَاءِ مِنَ الْجَنَابَةِ
۱۰۸- باب: عورتوں کے غسل جنابت کا طریقہ​

603- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي، أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ: < إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ، ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ مِنَ الْمَاءِ فَتَطْهُرِينَ >، أَوْ قَالَ: < فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ >۔
* تخريج: م/الحیض ۱۲ (۳۳۰)، د/الطہارۃ ۹۹ (۲۵۱)، ت/الطہارۃ ۷۷ (۱۰۵)، ن/الطہارۃ ۱۵۰ (۲۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۷۲)، وقد أخرجہ: حم ( ۶/ ۲۸۹، ۳۱۵)، دي/الطہارۃ ۱۱۵(۱۱۹۶) (صحیح)

۶۰۳- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں چوٹی کو مضبوطی سے باندھنے والی عورت ہوں، کیا اسے غسل جنابت کے لئے کھولوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تمہیں یہی کافی ہے کہ تین چلو پانی لے کر اپنے سر پر بہا لو پھر پورے بدن پر پانی ڈالو، پاک ہو جاؤ گی''، یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ: ''اس وقت تم پاک ہو گئیں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی جب ایسا کیا تو پاک ہو گئی کیونکہ مقصود سارے سر کا بھیگ جانا ہے، اور تین لپوں میں یہ سارا کام پورا ہو جاتا ہے، اگر پورا نہ ہو تو اس سے زیادہ بھی ڈال سکتی ہے، مگر بندھی ہوئی چوٹی کا کھولنا ضروری نہیں، اکثر علماء کے نزدیک رفع تکلیف کا یہ حکم عورتوں کے لئے خاص ہے۔

604- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: بَلَغَ عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَاللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَأْمُرُ نِسَائَهُ، إِذَا اغْتَسَلْنَ، أَنْ يَنْقُضْنَ رُئُوسَهُنَّ، فَقَالَتْ: يَا عَجَبًا لابْنِ عَمْرٍو هَذَا،أَفَلا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُئُوسَهُنّ،لَقَدْ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ نَغْتَسِلُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ، فَلا أَزِيدُ عَلَى أَنْ أُفْرِغَ عَلَى رَأْسِي ثَلاثَ إِفْرَاغَاتٍ۔
* تخريج: م/الحیض ۱۲ (۳۳۱)، ن/الغسل ۱۲ (۴۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴)، دي/الطہارۃ ۶۸ (۷۷۶) (صحیح)

۶۰۴- عبیدبن عمیر کہتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ خبر پہنچی کہ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اپنی بیویوں کو غسل کے وقت چوٹی کھولنے کا حکم دیتے ہیں، تو فرمایا: عبد اللہ بن عمرو پر تعجب ہے، وہ عورتوں کو سر منڈانے کا حکم کیوں نہیں دے دیتے، بیشک میں اور رسول اکرم ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے، میں اپنے سر پر تین چلو سے زیادہ پانی نہیں ڈالتی تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
109- بَاب مَا جَائَ فِي الْجُنُبِ يَنْغَمِسُ فِي الْمَائِ الدَّائِمِ أَيُجْزِئُهُ؟
۱۰۹- باب: کیا جنبی کا ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہ لگا لینا کافی ہے؟​

605- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيَّانِ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ أَنَّ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَغْتَسِلْ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ وَهُوَ جُنُبٌ > فقَالَ: كَيْفَ يَفْعَلُ؟ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! فَقَالَ: يَتَنَاوَلُهُ تَنَاوُلا۔
* تخريج: م/الطہارۃ ۲۹ (۲۸۳)، ن/الطہارۃ ۱۳۹ (۲۲۱)، المیاہ ۳ (۳۳۲)، الغسل ۱ (۳۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۳۶) (صحیح)

۶۰۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوئی شخص ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے''، پھر کسی نے کہا: ابو ہریرہ! تب وہ کیا کرے؟ کہا: اس میں سے پانی لے لے کر غسل کرے۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ٹھہرے ہوئے پانی میں غوطہ لگانا منع ہے کیونکہ اس سے دوسرے لوگوں کو کراہت ہو گی، اس کا یہ مطلب نہیں کہ پانی ناپاک ہو جائے گا، اس لئے منع ہے کیونکہ پانی اگر دو قلہ سے زیادہ ہو تو وہ اس طرح کی نجاست سے ناپاک نہیں ہوتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
110- بَاب الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ
۱۱۰- باب: انزال (منی نکلنے) سے غسل واجب ہو جاتا ہے​

606- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَخَرَجَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ: <لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ؟> قَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: <إِذَا أُعْجِلْتَ أَوْ أُقْحِطْتَ، فَلا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ >۔
* تخريج: خ/الوضوء ۳۴ (۱۸۰)، م/الحیض۲۱ (۳۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۱، ۲۶، ۹۴) (صحیح)

۶۰۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر قبیلہ انصار کے ایک شخص کے پاس ہوا، آپ نے اسے بلوایا، وہ آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''شاید ہم نے تم کو جلد بازی میں ڈال دیا''، اس نے کہا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم جلد بازی میں ڈال دئیے جاؤ، یا جماع انزال ہونے سے قبل موقوف کرنا پڑے تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کافی ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: آگے آنے والی احادیث سے یہ حدیث منسوخ ہے۔

607- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ السَّائِبِ، عنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ؛ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ >۔
* تخريج: ن/الطہارۃ ۱۳۲ (۱۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۱۶، ۴۲۱)، دي/الطہارۃ ۷۴ (۷۸۵) (صحیح)

۶۰۷- ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''پانی (غسل) پانی (منی نکلنے ) سے ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں: ایک یہ کہ انزال کے بغیر غسل واجب نہیں اس صورت میں ''إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ'' والی روایت سے یہ روایت منسوخ ہو گی، دوسرے یہ کہ حدیث خواب کے متعلق ہے، بیدار ہونے کے بعد جب تک تری نہ دیکھے تو صرف خواب میں کچھ دیکھنے سے غسل واجب نہیں ہوتا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
111- بَاب مَا جَاءَ فِي وُجُوبِ الْغُسْلِ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ
۱۱۱- باب: مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جانے پر غسل کا وجوب​

608- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ، فَعَلْتُهُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَاغْتَسَلْنَا۔
* تخريج: ت/الطہارۃ ۸۰ (۱۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۹۹)، وقد أخرجہ: ط/الطہارۃ ۱۸ (۷۲)، حم (۶/ ۱۶۱، ۱۶۱، ۲۳۹) (صحیح)

۶۰۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب مرد اور عورت کی شرم گاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اور رسول اکرم ﷺ نے ایسا کیا، تو ہم نے غسل کیا۔

609- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنْبَأَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الإِسْلامِ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِالْغُسْلِ بَعْدُ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۸۴ (۲۱۴، ۲۱۵)، ت/الطہارۃ ۸۱ (۱۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/ ۱۱۵، ۱۱۶)، دي/الطہارۃ ۷۴ (۷۸۷) (صحیح)

۶۰۹- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی، پھر ہمیں بعد میں غسل کا حکم دیا گیا ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ کہ اب چاہے انزال ہو یا نہ ہو غسل واجب ہے۔

610- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِذَا جَلَسَ الرَّجُلُ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ، ثُمَّ جَهَدَهَا، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ >۔
* تخريج: خ/الغسل ۲۸ (۲۹۱)، م/الحیض۲۲ (۳۴۸)، د/الطہارۃ ۸۴ (۲۱۶)، ن/الطہارۃ ۱۲۹ (۱۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۵۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۴، ۳۴۷، ۳۹۳، ۴۷۱، ۵۲۰)، دي /الطہارۃ ۷۵ (۷۸۸) (صحیح)

۶۱۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ''جب مرد عورت کے چار زانوؤں کے درمیان بیٹھے، پھر مجامعت کرے، تو غسل واجب ہو گیا''۔

611- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ، وَتَوَارَتِ الْحَشَفَةُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۷۶، ومصباح الزجاجۃ: 235)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۸) (صحیح)
(سند میں حجاج بن أرطاۃ ضعیف ہیں، لیکن حدیث صحیح مسلم وغیرہ میں متعدد طرق سے وارد ہے، اس لئے یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ ۳/۲۶۰)۔
۶۱۱- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب مرد اور عورت کی شرم گاہیں مل جائیں اور حشفہ (سپاری) چھپ جائے، تو غسل واجب ہو گیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: ابتداء اسلام میں انزال کے بغیر غسل واجب نہ تھا، اس کے بعد محض ''الْتَقَى الْخِتَانَانِ'' یعنی شرمگاہوں کے ملنے سے غسل واجب کر دیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
112- بَاب مَنِ احْتَلَمَ وَلَمْ يَرَ بَلَلا
۱۱۲- باب: جسے احتلام ہو اور تری نہ دیکھے اس کے حکم کا بیان​

612- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَرَأَى بَلَلا، وَلَمْ يَرَ أَنَّهُ احْتَلَمَ، اغْتَسَلَ، وَإِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلَمْ يَرَ بَلَلا، فَلا غُسْلَ عَلَيْهِ>۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۹۵ (۲۳۶)، ت/الطہارۃ ۸۲ (۱۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۵۶)، دي/الطہارۃ ۷۷ (۷۹۲) (حسن)
(تراجع الألبانی: رقم: ۵۱۶)
۶۱۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، اور تری دیکھے، لیکن احتلام یاد نہ ہو تو غسل کرلے، اور اگر احتلام یاد ہو لیکن تری نہ دیکھے تو اس پر غسل نہیں''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: لیکن تری سے مراد منی ہے، اگر تری محسوس نہ ہو تو اکثر اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہ ہو گا، اگر گرمی یا دیری کے سبب منی خشک ہو جائے، تو غسل ضروری ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
113- بَاب مَا جَاءَ في الاستِتَارِ عِندَ الغسلِ
۱۱۳- باب: غسل کے وقت پردہ کرنے کا بیان​

613- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلاسُ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو السَّمْحِ قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ ﷺ فَكَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ : < وَلِّنِي > فَأُوَلِّيهِ قَفَايَ، وَأَنْشُرُ الثَّوْبَ فَأَسْتُرُهُ بِهِ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۳۷ (۳۷۶)، ن/الطہارۃ ۱۴۳ (۲۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۵۱) (صحیح)

۶۱۳- ابو السمح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، جب آپ غسل کا ارادہ کرتے تو فرماتے: ''میری طرف پیٹھ کر لو'' تو میں پیٹھ آپ کی طرف کر لیتا، اور کپڑا پھیلا کر پردہ کر دیتا۔

614- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ سَبَّحَ فِي سَفَرٍ، فَلَمْ أَجِدْ أَحَدًا يُخْبِرُنِي، حَتَّى أَخْبَرَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَدِمَ عَامَ الْفَتْحِ، فَأَمَرَ بِسِتْرٍ فَسُتِرَ عَلَيْهِ، فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ سَبَّحَ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ ۔
* تخريج: م/الحیض ۱۶ (۳۳۶)، المسافرین ۱۳ (۳۳۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۰۳)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۲۱ (۲۸۰)، الصلاۃ ۴ (۳۵۷)، الأدب ۹۴ (۶۱۵۸)، ت/الاستئذان ۳۴ (۲۷۳۴)، ن/الطہارۃ ۱۴۳ (۲۲۵)، ط/قصر الصلاۃ ۸ (۲۸)، حم (۶/۳۴۲، ۴۲۵) دي/الصلاۃ ۱۵۱ (۱۴۹۴) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۱۳۷۹)(صحیح)

۶۱۴- عبد اللہ بن عبد اللہ بن نوفل کہتے ہیں: میں نے پوچھا: رسول اللہ ﷺ نے سفر میں نفل صلاۃ پڑھی ہے؟ تو مجھے کوئی بتانے والا نہیں ملا، یہاں تک کہ مجھے اُمّ ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ فتح مکہ کے سال آئے، پھر آپ نے ایک پردہ لگانے کا حکم دیا ، پردہ کر دیا گیا، تو آپ نے غسل کیا، پھر نفل کی آٹھ رکعتیں پڑھیں۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس باب کی احادیث سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ غسل کرتے وقت پردہ کر لینا چاہئے، لیکن اگر کوئی کپڑے پہنے ہوئے ہے، تو بلا پردہ غسل کرنے کی اجازت ہے، نیز اس حدیث سے تو سفر میں نفل پڑھنا ثابت ہوا بعضوں نے کہا یہ صلاۃ الضحیٰ نہیں تھی بلکہ یہ مکہ فتح ہونے پر صلاۃ شکر تھی، اور سعید بن ابی وقاص نے جب کسریٰ کا خزانہ فتح کیا تو ایسا ہی کیا۔

615- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحِمَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْحَمِيدِ أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَغْتَسِلَنَّ أَحَدُكُمْ بِأَرْضِ فَلاةٍ، وَلا فَوْقَ سَطْحٍ لا يُوَارِيهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ يَرَى، فَإِنَّهُ يُرَى >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۲۳۶) (ضعیف جدًا)
(حسن بن عمارۃ متروک الحدیث ہے، بلکہ حدیث گھڑا کرتا تھا، اور عبد الحمید ضعیف الحدیث ہیں، نیز أبو عبیدہ کا سماع ابن مسعود سے رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۸۱۸ )
۶۱۵- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کھلے میدان میں یا چھت پر بغیر پردہ کے کوئی شخص ہرگز غسل نہ کرے، اگر وہ کسی کو نہ دیکھتا ہو تو اسے تو کوئی دیکھ سکتا ہے''۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگر ایسے مقام میں غسل کی ضرورت پڑے تو کسی چیز کی آڑ کر لے تاکہ ستر پر لوگوں کی نگاہیں نہ پڑیں ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
114- بَاب مَا جَاءَ فِي النَّهْيِ لِلْحَاقِنِ أَنْ يُصَلِّيَ
۱۱۴- باب: پیشاب یا پاخانہ روک کر صلاۃ پڑھنے کی ممانعت​

616- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَرْقَمَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ، وَأُقِيمَتِ الصَّلاةُ، فَلْيَبْدَأْ بِهِ>۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۴۳ (۸۸)، ت/الطہا رۃ ۱۰۸ (۱۴۲)، ن/ الإ مامۃ ۵۱ (۸۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۴۱)، وقد أخرجہ: ط/قصرالصلاۃ ۱۷ (۴۹)، حم (۴/۳۵)، دي/الصلاۃ ۱۳۷ (۱۴۶۷) (صحیح)

۶۱۶- عبد اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص قضائے حاجت کا ارادہ کرے، اور صلاۃ کے لئے اقامت کہی جائے، تو پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو لے'' ۔

617- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ السَّفْرِ بْنِ نُسَيْرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَهُوَ حَاقِنٌ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۲۳۷)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۵۰، ۲۶۰، ۲۶۱) (صحیح)
(سند میں بشر بن آدم، سفر بن نسیر ضعیف ہیں، لیکن حدیث دوسرے طرق سے صحیح ہے، دیکھئے اوپر کی حدیث (۶۱۶) نیز ملاحظہ ہو: ضعیف أبی داود : ۱۱، ۱۲)
۶۱۷- ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ آدمی صلاۃ پڑھے اور وہ پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے ہو۔

618- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلاةِ وَبِهِ أَذًى >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۵۰، ومصباح الزجاجۃ: ۲۳۸)، وقد أخرجہ: د/الطہارۃ ۴۳ (۸۹)، حم (۲/۴۴۲، ۴۷۱) (صحیح)

۶۱۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی پیشاب یا پاخانہ کی اذیت و تکلیف کی حالت میں صلاۃ کے لئے نہ کھڑا ہو''۔

619- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي حَيٍّ الْمُؤَذِّنِ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ : < لا يَقُومُ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ حَاقِنٌ حَتَّى يَتَخَفَّفَ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۴۳ (۹۰)، ت/الصلا ۃ ۱۴۸ (۳۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸۰) (صحیح)
(اس سند میں بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز اور بھی کلام ہے لیکن دوسرے طرق سے یہ ثابت ہے)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۹۲۳)
۶۱۹- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوئی مسلمان پیشاب یا پاخانہ روکے ہوئے صلاۃ کے لئے نہ کھڑا ہو جب تک کہ وہ قضائے حاجت کرکے ہلکا نہ ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
115- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ الَّتِي قَدْ عَدَّتْ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا قَبْلَ أَنْ يَسْتَمِرَّ بِهَا الدَّمُ
۱۱۵- باب: مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان​

620- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ ابْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَشَكَتْ إِلَيْهِ الدَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ. فَانْظُرِي إِذَا أَتَى قَرْؤُكِ فَلا تُصَلِّي، فَإِذَا مَرَّ الْقَرْءُ فَتَطَهَّرِي، ثُمَّ صَلِّي مَا بَيْنَ الْقَرْءِ إِلَى الْقَرْءِ>۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۰۸ (۲۸۰)،۱۱۰ (۲۸۶)، ن/الطہارۃ ۱۳۴ (۲۰۱)، الحیض۲ (۳۵۰)، ۴ (۳۵۸)، ۶ (۳۶۲)، الطلاق ۷۴ (۳۵۸۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۱۹)، وقد أخرجہ: ط/الطہارۃ ۲۹ (۱۰۴)، حم (۶/۴۲۰، ۴۶۳)، دي/الطہارۃ ۸۴ (۸۰۱) (صحیح)

۶۲۰- فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، اور آپ سے (کثرت) خون کی شکایت کی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ رگ کا خون ہے، تم دیکھتی رہو جب مدت حیض آئے تو صلاۃ نہ پڑھو، اور جب حیض گزر جائے توغسل کرو، پھر دوسرے حیض کے آنے تک صلاۃ پڑھتی رہو'' ۱؎۔
وضاحت ۱؎: استحاضہ ایک بیماری ہے جس میں عورت کا خون ہمیشہ جاری رہتا ہے، جس عورت کو یہ بیماری ہو اس کو مستحاضہ کہتے ہیں، اس کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ مستحاضہ: جس کے حیض کی مدت اس بیماری کے شروع ہونے سے پہلے متعین اور معلوم ہو، دوسرے وہ جس کو شروع ہی سے یہ بیماری ہو جائے، اور حیض کی مدت متعین نہ ہوئی ہو۔

621- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ،(ح) وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَائَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلا أَطْهُرُ،أَفَأَدَعُ الصَّلاةَ؟ قَالَ: < لا إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي>، هَذَا حَدِيثُ وَكِيعٍ۔
* تخريج:حدیث عبد اللہ بن الجراح قد أخرجہ: م/الطہارۃ ۱۴ (۳۳۳)، ن/الطہارۃ ۱۳۸ (۲۱۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۵۸)، وحدیث أبوبکر بن أبي شیبۃ أخرجہ: م/الطہارۃ ۱۴ (۳۳۳)، ت/الطہارۃ ۹۳ (۱۲۵)، ن/الطہارۃ ۱۳۵ (۲۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۲۵۹)، وقد أخرجہ: خ/الوضوء ۶۴ (۲۲۸)، الحیض ۹ (۳۰۶)، ۲ (۳۲۰)، ۲۵ (۳۲۵)، د/الطہارۃ ۱۰۹ (۲۸۲) (صحیح)

۶۲۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حُبیش رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں ، اور عر ض کیا: اللہ کے رسول! مجھے مسلسل خون آتا رہتا ہے اور میں پاک نہیں ہو پاتی ہوں، تو کیا میں صلاۃ چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں، یہ رگ کا خون ہے، حیض نہیں ہے جب حیض آئے تو صلاۃ ترک کر دو، اور جب وہ ختم ہو جائے تو خون دھو کر (یعنی غسل کرکے) صلاۃ پڑھو''۔ یہ وکیع کی حدیث ہے۔

622- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ (إِمْلاءً عَلَيَّ مِنْ كِتَابِهِ، وَكَانَ السَّائِلُ غَيْرِي)،أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَثِيرَةً طَوِيلَةً قَالَتْ: فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ أَسْتَفْتِيهِ وَأُخْبِرُهُ، قَالَتْ فَوَجَدْتُهُ عِنْدَ أُخْتِي زَيْنَبَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً قَالَ: < وَمَا هِيَ؟ أَيْ هَنْتَاهُ > قُلْتُ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً طَوِيلَةً كَبِيرَةً، وَقَدْ مَنَعَتْنِي الصَّلاةَ وَالصَّوْمَ، فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهَا؟ قَالَ: <أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ، فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ > قُلْتُ: هُوَ أَكْثَرُ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شَرِيكٍ۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۱۰ (۲۸۷)، ت/الطہارۃ ۹۵ (۱۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۸۲، ۴۳۹، ۴۴۰)، دي/الطہارۃ ۸۴ (۸۰۹) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے : ۶۲۷) (حسن)
(سند میں عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی وجہ سے بعض کلام ہے کیونکہ ان کو مقارب الحدیث بلکہ منکر الحدیث کہا گیا ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے)
۶۲۲- ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے بہت لمبا استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا، میں نبی اکرم ﷺ کے پاس اس سے متعلق بتانے اور فتوی پوچھنے کے لئے آئی، میں نے آپ کو اپنی بہن زینب رضی اللہ عنہا کے پاس پایا، میں نے عرض کیا: اے رسول اللہ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''پگلی! کیا کام ہے؟'' میں نے کہا: مجھے ایک لمبے عرصہ تک خون آتا رہتا ہے جو صوم وصلاۃ میں رکاوٹ کا سبب ہے، آپ اس سلسلے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''میں تمہارے لئے روئی تجویز کرتا ہوں (اس کو شرم گاہ پہ رکھ لیا کرو) کیوں کہ یہ خون جذب کرلے گی''، میں نے عرض کیا: خون اس سے بھی زیادہ ہے، پھر راوی نے شریک کے ہم معنی حدیث بیان کی۔

623- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: "سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ ﷺ قَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاةَ؟ قَالَ: لا. وَلَكِنْ دَعِي قَدْرَ الأَيَّامِ وَاللَّيَالِي الَّتِي كُنْتِ تَحِيضِينَ > قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي حَدِيثِهِ: < وَقَدْرَهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، وَصَلِّي >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۰۸ (۲۷۴ ، ۲۷۵)، ن/الطہارۃ ۱۳۴ (۲۰۹)، الحیض ۳ (۳۵۴ ،۳۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۵۸)، وقد أخرجہ: ط/الطہارۃ ۲۹ (۱۰۵)، دي/الطہارۃ ۸۴ (۸۰۷) (صحیح)

۶۲۳- امّ المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا: مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے، پاک نہیں رہتی ہوں، تو کیا میں صلاۃ چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں، بلکہ جن دنوں میں تمہیں حیض آتا ہے اتنے دن صلاۃ چھوڑ دو''، ابو بکر بن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں کہا: ''ہرمہینہ سے بقدر ایام حیض صلاۃ چھوڑ دو، پھرغسل کرو، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر صلاۃ ادا کرو۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگرچہ خون آیا کرے، کیونکہ وہ حیض کا خون نہیں ہے، اس حدیث سے اور حدث والوں کا بھی حکم نکلا جیسے کسی کو پیشاب کی بیماری ہو جائے یا ریاح (ہوا خارج ہونے) کی، وہ بھی صلاۃ ترک نہ کرے بلکہ ہر صلاۃ کے لئے وضو کرے، اور جب تک وقت باقی رہے ایک ہی وضو سے فرض اور نفل ادا کرے، گو حدث ہوتا رہے۔

624- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: جَائَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي امْرَأَةٌ أُسْتَحَاضُ فَلا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلاةَ؟ قَالَ: < لا إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ، وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، اجْتَنِبِي الصَّلاةَ أَيَّامَ مَحِيضِكِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي وَتَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلاةٍ، وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۱۳ (۲۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۷۲)، وقد أخرجہ: خ/الوضو ء ۶۴ (۲۲۸)، ن/الطہارۃ ۱۳۸ (۲۱۹)، ط/الطہارۃ ۲۹ (۱۰۴)، حم (۶/۴۲، ۲۰۴، ۲۶۲)، دي/الطہارۃ ۸۴ (۸۰۱) (صحیح)
(آخری ٹکڑا: ''وَإِنْ قَطَرَ الدَّمُ عَلَى الْحَصِيرِ'' کے علاوہ بقیہ حدیث صحیح ہے)
۶۲۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں اور کہا: اللہ کے رسول! مجھے استحاضہ کا خون آتا رہتا ہے جس سے میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں، تو کیا میں صلاۃ چھوڑ دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں، یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں ہے، اپنے حیض کے دنوں میں صلاۃ نہ پڑھو، پھر غسل کرو اور ہر صلاۃ کے لئے الگ وضو کرو، (اور صلاۃ پڑھو) خواہ خون چٹائی ہی پر کیوں نہ ٹپکے''۔
وضاحت۱؎: ہر صلاۃ کے لئے وضو کرنا زیادہ صحیح طریقہ ہے، اور اگر مستحاضہ دوسری صلاتوں کو ملا کر پڑھنا چاہے، تو اس طرح کرے کہ ایک صلاۃ میں دیر کرے، اس کو اخیر وقت پر ادا کرے، اور دوسری میں جلدی کرے، اس کو اول وقت پر ادا کرے، اور دونوں صلاتوں کے لئے ایک ہی وضو کرلے، اور کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ ہرصلاۃ کے لئے غسل کرنا واجب ہے یا ہر دو صلاۃ کے لئے یا ہر روز ایک بار بلکہ غسل اسی وقت کافی ہے جب عادت کے موافق حیض سے پاک ہونے کا وقت آئے یا خون کی رنگت کے لحاظ سے معلوم ہو جائے کہ اب حیض کا خون جا چکا ہے۔

625- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، قَالا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: <الْمُسْتَحَاضَةُ تَدَعُ الصَّلاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلاةٍ، وَتَصُومُ وَتُصَلِّي>۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۱۳ (۲۹۷)، ت/الطہارۃ ۹۴ (۱۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۴۲)، وقد أخرجہ: دي/الطہارۃ ۸۴ (۸۲۰) (صحیح)

۶۲۵- عدی بن ثابت کے دادا دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں صلاۃ چھوڑ دے، پھر غسل کرے، اور ہر صلاۃ کے لئے وضو کرے، اور صوم رکھے اور صلاۃ پڑھے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
116- بَاب مَا جَاءَ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ إِذَا اخْتَلَطَ عَلَيْهَا الدَّمُ فَلَمْ تَقِفْ عَلَى أَيَّامِ حَيْضِهَا
۱۱۶- باب: حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق نہ کر سکنے والی اور اپنے حیض کے دن کا علم نہ رکھنے والی مستحاضہ کا بیان​

626- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتِ: اسْتُحِيضَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ، وَهِيَ تَحْتَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، سَبْعَ سِنِينَ، فَشَكَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < إِنَّ هَذِهِ لَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ، وَإِنَّمَا هُوَ عِرْقٌ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَلاةَ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي >، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاةٍ، ثُمَّ تُصَلِّي، وَكَانَتْ تَقْعُدُ فِي مِرْكَنٍ لأُخْتِهَا زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، حَتَّى إِنَّ حُمْرَةَ الدَّمِ لَتَعْلُو الْمَاءَ ۔
* تخريج:خ/الحیض ۲۷ (۳۲۷)، م/الحیض ۱۴ (۳۳۴)، د/الطہارۃ ۱۱۰(۲۸۵) ،۱۱۱ (۲۸۸)، ن/الطہارۃ ۱۳۴ (۲۰۳)، الحیض ۴ (۳۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۱۶، ۱۷۹۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۸۳،۱۴۱،۱۸۷)، دي/الطہارۃ ۸۴ (۸۰۱) (صحیح)

۶۲۶- عروہ بن زبیر اور عمرہ بنت عبد الرحمن کہتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھی، جو سات برس تک استحاضہ میں مبتلا رہیں، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ حیض نہیں ہے، بلکہ ایک رگ کا خون ہے، جب حیض آئے تو صلاۃ چھوڑ دو، اور جب ختم ہو جائے تو غسل کرو، اور صلاۃ پڑھو''۔
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ وہ ہر صلاۃ کے لئے غسل کرتیں پھر صلاۃ پڑھتی تھیں، اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنی بہن زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ایک ٹب میں بیٹھا کرتی تھیں یہاں تک کہ خون کی سرخی پانی کے اوپر آجاتی۱؎ ۔

وضاحت۱؎: ہر صلاۃ کے لئے وضو کرنا ہی صحیح ترین طریقہ ہے، اور اگر کسی میں طاقت ہے، اور اس کے لئے سہولت ہے تو ہر صلاۃ کے لئے غسل بھی کر سکتی ہے، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اپنے طور پر ہر صلاۃ کے لئے غسل کرتی تھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
117- بَاب مَا جَاءَ فِي الْبِكْرِ إِذَا ابْتَدَأَتْ مُسْتَحَاضَةً أَوْ كَانَ لَهَا أَيَّامُ حَيْضٍ فَنَسِيَتْهَا
۱۱۷- باب: باکرہ شروع ہی سے مستحاضہ ہو جائے یا حیض کے دنوں کو بھول جائی تو کیا کرے؟​

627- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ؛ أَنَّهَا اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ. فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: إِنِّي اسْتُحِضْتُ حَيْضَةً مُنْكَرَةً شَدِيدَةً، قَالَ لَهَا: < احْتَشِي كُرْسُفًا > قَالَتْ لَهُ: إِنَّهُ أَشَدُّ مِنْ ذَلِكَ إِنِّي أَثُجُّ ثَجًّا، قَالَ: < تَلَجَّمِي وَتَحَيَّضِي فِي كُلِّ شَهْرٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ، ثُمَّ اغْتَسِلِي غُسْلا، فَصَلِّي وَصُومِي ثَلاثَةً وَعِشْرِينَ، أَوْ أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ، وَأَخِّرِي الظُّهْرَ وَقَدِّمِي الْعَصْرَ، وَاغْتَسِلِي لَهُمَا غُسْلا، وَأَخِّرِي الْمَغْرِبَ وَعَجِّلِي الْعِشَاءَ، وَاغْتَسِلِي لَهُمَا غُسْلا، وَهَذَا أَحَبُّ الأَمْرَيْنِ إِلَيَّ >۔
* تخريج: د/الطہارۃ ۱۱۰ (۲۸۷)، ت/الطہارۃ ۹۵ (۱۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۸۲،۴۴۰)، دي/الطہارۃ ۸۴ (۸۰۹) (حسن)
(سند میں ضعف ہے اس لئے کہ اس میں شریک اور عبد اللہ بن محمد بن عقیل دونوں ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، (ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۸۸)، (یہ حدیث مکرر ہے ، دیکھئے: ۶۲۲)
۶۲۷- حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے عہد میں استحاضہ ہو گیا تو وہ آپ ﷺ کے پاس آئیں، اور عرض کیا: مجھے بری طرح سے سخت استحاضہ ہو گیا ہے، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا:'' شرم گاہ کے اندر تھوڑی روئی رکھ لو''، وہ بولیں: وہ اس سے زیادہ سخت ہے، بہت تیز بہہ رہا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ایک لنگوٹ کی طرح کس لو، اور اللہ کے علم کے موافق ہر مہینہ میں چھ یا سات روز حیض کے شمار کر لو، پھر غسل کرکے تیئس یا چوبیس دن تک صلاۃ پڑھو اور صیام رکھو، (آسانی کے لئے) ظہر میں دیر اور عصر میں جلدی کرکے دونوں صلاتوں کے لئے ایک غسل کر لو، اسی طرح مغرب میں دیر اور عشاء میں جلدی کرکے دونوں کے لیے ایک غسل کرلو،۱؎ اور مجھے ان دونوں طریقوں میں سے یہ زیادہ پسند ہے'' ۲؎ ۔
وضاحت۱؎: اور فجر کی صلاۃ کے لئے ایک غسل کرلو۔
وضاحت۲؎: دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہر صلاۃ کے لئے غسل کرے، تو دن رات میں پانچ بار غسل کرنا ہو گا، اور اس صورت میں صر ف تین بار غسل کرنا پڑے گا، اس حدیث سے ان لوگوں نے دلیل لی ہے جنہوں نے مستحاضہ کو ہر صلاۃ کے لئے غسل کرنے کا حکم دیا ہے، مگر یہ حکم نہایت سخت ہے، اور ضعیف اور کمزور عورتوں سے یہ بار اٹھانا مشکل ہے، خصوصاً سرد ملکوں میں، پس عمدہ طریقہ وہی ہے جو دوسری حدیثوں سے ثابت ہے کہ حیض کے ختم ہو جانے پر صرف ایک بار غسل کرلے، پھر ہر صلاۃ کے لئے وضو کرتی رہے۔
 
Top