• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
169- بَاب مَا جَاءَ فِي الاغْتِسَالِ فِي الْعِيدَيْنِ
۱۶۹- باب: عیدین میں غسل کرنے کا بیان​

1315- حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ الأَضْحَى۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۵۰۸، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۴) (ضعیف جدا)
(یہ سند بہت ضعیف ہے، اس لئے کہ اس میں جبارہ ہیں، جن کی حدیثوں میں غفلت کی وجہ سے اضطراب ہے، نیز حجاج بن تمیم کی مروی حدیثوں کی کوئی متابعت نہیں، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۴۶، امام بزار کہتے ہیں کہ عیدین میں غسل کی کوئی صحیح حدیث مجھے یاد نہیں ہے، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر۲/۶۱)
۱۳۱۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر اورعید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے۔

1316- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عُقْبَةَ بْنِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَدِّهِ الْفَاكِهِ بْنِ سَعْدٍ- وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَغْتَسِلُ يَوْمَ الْفِطْرِ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، وَيَوْمَ عَرَفَةَ، وَكَانَ الْفَاكِهُ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالْغُسْلِ فِي هَذِهِ الأَيَّاِم۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۷۸) (موضوع)
(یوسف بن خالد متروک و کذاب ہے، حدیثیں گھڑتا تھا، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۴۱۶)۔
۱۳۱۶- فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ جنہیں رسول اللہ ﷺ سے شرف صحبت حاصل تھا کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر، عید الاضحی اور عرفہ کے دن غسل فرمایا کرتے تھے اور فاکہ رضی اللہ عنہ اپنے اہل و عیال کو ان دنوں میں غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
170- بَاب فِي وَقْتِ صَلاةِ الْعِيدَيْنِ
۱۷۰- عیدین کی صلاۃ کے وقت کا بیان​

1317- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ،عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُسْرٍأَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّاسِ يَوْمَ فِطْرٍ أَوْ أَضْحَى، فَأَنْكَرَ إِبْطَاءَ الإِمَامِ، وَقَالَ: إِنْ كُنَّا لَقَدْ فَرَغْنَا سَاعَتَنَا هَذِهِ، وَذَلِكَ حِينَ التَّسْبِيحِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۲۴۶، (۱۱۳۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۰۶) (صحیح)
(دوسری سندوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں راوی عبد الوہاب بن ضحاک متروک ہیں)
۱۳۱۷- عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ عید الفطر یا عید الاضحی کے دن نکلے تو امام کے تاخیر کرنے پر ناگواری کا اظہار کیا، اور کہنے لگے کہ ہم لوگ تو اس وقت عیدین کی صلاۃ سے فارغ ہو جایا کرتے تھے، اور وہ وقت کراہت کے گزرنے کے بعد صلاۃ الضحی (چاشت کی نفل) کا وقت ہوتا تھا ۱؎۔
وضاحت۱؎: نفل فجر کے بعد اس وقت صحیح ہوتی ہے، جب سورج ایک نیزے کے مقدار بلند ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
171- بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاةِ اللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ
۱۷۱- باب: تہجد (قیام اللیل) دو دو رکعت پڑھنے کا بیان​

1318- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى۔
* تخريج: انظر حدیث: رقم ۱۱۷۴، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۵۲) (صحیح)

۱۳۱۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کی نفل صلاۃ دو دو رکعت پڑھتے تھے ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سلسلہ میں اختلاف ہے کہ نفل صلاۃ کیسے پڑھی جائے، صحیح امام شافعی ہی کی رائے ہے کہ نفل صلاۃ دو دو رکعت کرکے پڑھنا افضل ہے، خواہ دن کی صلاۃ ہو یا رات کی، ان کی دلیل ''صلاة الليل والنهار مثنى مثنى'' والی حدیث ہے جو صحیح ہے، دو دو رکعت کرکے پڑھنے میں بہت سے فوائد ہیں، اس میں دعا، نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ (درود) و سلام کی زیادتی ہے، نیز جماعت میں شرکت کے لئے صلاۃ بیچ سے چھوڑنی نہیں پڑتی وغیرہ وغیرہ، ایسے چار چار کرکے بھی پڑھنا جائز ہے۔

1319- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < صَلاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۲۰۶ (۴۳۷)، ن/قیام اللیل ۲۴ (۱۶۷۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۱۹) (صحیح)

۱۳۱۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہے''۔

1320- حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، و عَنْ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، و عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ ﷺ عَنْ صَلاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ: <يُصَلِّي مَثْنَى مَثْنَى، فَإِذَا خَافَ الصُّبْحَ أَوْتَرَ بِوَاحِدَةٍ >۔
* تخريج: حدیث طاوس وسالم: أخرجہ: م/المسافرین۲۰ (۷۴۹)، ن/قیام اللیل۲۴ (۱۶۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۳۰، ۷۰۹۹)، وحدیث عبد اللہ بن دینار عن ابن عمر تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفۃ الأشراف: ۷۱۷۶) وقد أخرجہ: خ/الوتر ۱ (۹۹۰)، د/الصلاۃ ۳۱۴ (۱۳۲۶)، ط/صلاۃاللیل ۳ (۱۳)، حم (۲/۴۹، ۵۴، ۶۶)، دي/الصلاۃ ۱۵۴ (۱۴۹۹)، ۱۵۵ (۱۵۰۰) (صحیح)

۱۳۲۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سے رات کی صلاۃ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''دو دو رکعت پڑھے، جب طلوع فجر کا ڈر ہو تو ایک رکعت وتر پڑھ لے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس ایک رکعت سے ساری صلاۃ جو اس نے پڑھی ہے وتر ہو جائے گی، اور رات کی صلاۃ کبھی وتر میں داخل ہوتی ہے جیسے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ سات رکعتیں وتر کی پڑھتے تھے، ان کے بیچ میں نہ سلام پھیرتے تھے، نہ بات کرتے تھے اور کبھی وتر الگ ہوتی ہے جیسے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے، پانچ رکعتیں ان میں وتر کی ہوتیں، ان میں اخیر میں بیٹھتے، اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے، اور آٹھویں کے بعد بیٹھتے تھے پھر سلام پھیرتے تھے، پھر دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے، تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، پھر اخیر عمر میں سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور چھٹی یا ساتویں رکعت میں بیٹھتے تھے، اور ایک روایت میں ہے کہ سات رکعتیں پڑھیں، صرف آخری رکعت میں بیٹھے، اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ رمضان وغیر رمضان میں آٹھ رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے، اور تین وتر کی پڑھتے تو کل گیارہ رکعتیں ہوئیں، ابن حزم کہتے ہیں کہ احادیث میں رات کی صلاۃ وتر سمیت تیرہ آئی ہے، اور ہر طرح سنت ہے۔

1321- حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَثَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ بِاللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۸۰)، وقد أخرجہ: ن/الکبرٰي الصلاۃ ۴۳ (۴۰۵)، د/الطہارۃ ۳۰ (۵۸)، حم (۱/ ۲۱۸)، (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۲۸۸) (صحیح)

۱۳۲۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ رات میں (نفل) صلاۃ دو دو رکعت پڑھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
172- بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاةِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى
۱۷۲- باب: رات اور دن کی (نفلی) صلاۃ دو دو رکعت ہیں​

1322- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،(ح) و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُوبَكْرِ بْنُ خَلادٍ، قَالا: حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَائٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا الأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: <صَلاةُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۰۲ (۱۲۹۵)، ت/الصلاۃ ۳۰۱ (۵۹۷)، ن/قیام اللیل ۲۴ (۱۶۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۴۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۶، ۵۱)، دي/الصلاۃ ۱۵۵ (۱۵۰۰) (صحیح)
(''والنہار'' کی زیادتی کے ساتھ یہ حدیث صحیح ہے، ابن خزیمہ ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور کہا کہ اس کے رواۃ ثقہ ہیں، اور مسلم نے علی البارقی سے حجت پکڑی ہے، اور ثقہ کی زیادتی مقبول ہوتی ہے، علامہ البانی نے سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ میں اس کی تصحیح کی ہے، لیکن بعض اہل علم نے ''والنہار'' کو ضعیف کہا ہے، کیونکہ یہ زیادتی علی البارقی الازدی کے طریق سے مروی ہے، اور یہ ابن معین کے نزدیک ضیعف ہیں، ملاحظہ ہو: التلخیص الحبیر: ۵۴۴)
۱۳۲۲- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا: ''رات اور دن کی (نفل) صلاۃ دو دو رکعت ہے''۔

1323- حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، يَوْمَ الْفَتْحِ، صَلَّى سُبْحَةَ الضُّحَى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَلَّمَ مِنْ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۰۱ (۱۲۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۱۰)، وقد أخرجہ: خ/الغسل ۲۱ (۲۸۰)، الصلاۃ ۴ (۳۵۷)، الجزیۃ ۹ (۳۱۷۱)، الأدب ۹۴ (۶۱۵۸)، م/الحیض ۱۶ (۳۳۶)، المسافرین ۱۳ (۳۳۶)، ت/الوتر ۱۵ (۴۷۴)، الاستئذان ۳۴ (۲۷۳۴)، ن/الطہارۃ ۱۴۳ (۲۲۶)، ط/صلاۃالضحیٰ ۸ (۲۷)، دي/الصلاۃ ۱۵۱ (۱۴۹۴)(صحیح) دون زیادۃ ''ثم سلم۔۔۔ الخ'' کما رواہ الآخرون والمؤلف برقم: ۱۳۷۸۔

۱۳۲۳- ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن صلاۃ الضحیٰ (چاشت کی نفل) آٹھ رکعت پڑھی، اور ہر دو رکعت پر سلام پھیرا ۱؎۔
وضاحت۱؎: صلاۃ الضحیٰ کی رکعتوں کی تعداد کے سلسلہ میں روایتوں میں اختلاف ہے، دو، چار، آٹھ اور بارہ رکعات تک کا ذکر ہے، اس سلسلہ میں صحیح بات یہ ہے کہ روایتوں کے اختلاف کو گنجائش پر محمول کیا جائے، اور جتنی جس کو توفیق ملے پڑھے اس فرق کے ساتھ کہ آٹھ رکعت تک کا ذکر فعلی حدیثوں میں ہے، اور بارہ کا ذکر قولی حدیث میں ہے، بعض نے اسے بدعت کہا ہے لیکن بدعت کہنا غلط ہے، متعدد احادیث سے اس کا مسنون ہونا ثابت ہے، تفصیل کے لئے دیکھئے (مصنف ابن ابی شیبہ۲/۴۰۵) ۔
اکثر علماء کے نزدیک چاشت اور اشراق کی صلاۃ ایک ہی ہے، جو سورج کے ایک یا دو نیزے کے برابر اوپر چڑھ آنے پر پڑھی جاتی ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ صلاۃ الضحیٰ چاشت کی صلاۃ اشراق کے بعد پڑھی جاتی ہے۔

1324- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحاَقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ السَّعْدِيِّ، عنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ تَسْلِيمَةٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۴۳۶۰، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۶) (ضعیف)
(اس کی سند میں ابو سفیان طریف بن شھاب السعدی ضعیف راوی ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۰۲۳)
۱۳۲۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ''ہر دو رکعت پر سلام ہے''۔

1325- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَبْدُرَبِّهِ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نَافِعِ ابْنِ الْعَمْيَاءِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ، يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَدَاعَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < صَلاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَتَشَهَّدُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَتَبَائَسُ وَتَمَسْكَنُ وَتُقْنِعُ، وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ، فَهِيَ خِدَاجٌ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۰۲ (۱۲۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۶۷) (ضعیف)
(اس کے روای عبد اللہ بن نافع بن العمیاء مجہول ہیں)
۱۳۲۵- مطلب بن ابی وداعہ ۱؎ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رات کی صلاۃ دو دو رکعت ہے، اور ہر دو رکعت کے بعد تشہد ہے، اور اللہ کے سامنے اپنی محتاجی و مسکینی ظاہر کرنا، اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا، اور کہنا ہے کہ اے اللہ! مجھ کو بخش دے، جو کوئی ایسا نہ کرے (یعنی اپنی محتاجی اور فقروفاقہ ظاہر نہ کرے تو) اس کی صلاۃ ناقص ہے''۔
وضاحت۱؎: مطلب بن أبی وداعہ وہم ہے، صحیح (المطلب بن ربیعہ ہے) ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۸۸، تہذیب الکمال، ترجمہ المطلب بن ربیعہ ۲۸؍ ۷۶)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
173- بَاب مَا جَاءَ فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ
۱۷۳- باب: ماہ رمضان میں قیام اللیل (تراویح) کا بیان​

1326- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۹۱)، وقد أخرجہ: خ/الإیمان ۲۸ (۳۷)، لیلۃ القدر ۱ (۲۰۱۴)، م/المسافرین ۲۵ (۷۵۹)، د/الصلاۃ ۳۱۸ (۱۳۷۱)، ت/الصوم ۱ (۶۸۳)، ن/الصیام ۳ (۶۱۰۴)، ط /الصلاۃ في رمضان ۱ (۲)، حم (۲/۲۳۲، ۲۴۱، ۳۸۵، ۴۷۳، ۵۰۳)، دي/الصوم ۵۴ (۱۸۱۷) (صحیح)

۱۳۲۶- ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے ایمان اور ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان کے صیام رکھے، اور (اس کی راتوں میں) قیام کیا، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: رمضان میں رات کوعبادت کرنا سنت ہے خواہ اخیر رات میں کرے یا شروع رات میں، اور اس کا وقت صلاۃ عشاء کے بعد سے صلاۃ فجر تک ہے، اور قیام رمضان تہجد پڑھنے سے ادا ہو جاتا ہے، یہ ضروری نہیں کہ تراویح ہی پڑھے، تہجد کی طرح آٹھ رکعتیں تراویح کی ادا کرے، نبی کریم ﷺ سے یہی ثابت ہے۔
لیکن جو شخص آخری رات میں تہجد پڑھتا ہو یا پڑھ سکتا ہو تو اس کے حق میں یہی زیادہ افضل و بہتر ہے کہ وہ آخری رات میں پڑھے، اور اگر پہلے صلاۃ تراویح با جماعت پڑھنی ہو، اور آخری رات میں آدمی تنہا ہو، تو باجماعت صلاۃ اس کے لئے افضل اور زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ باجماعت پڑھنے والے کو پوری رات کے قیام کا ثواب ملے گا۔
بیس رکعت کی مروجہ تراویح پر عوام کی محافظت نے صحیح احادیث سے ثابت گیارہ رکعت تراویح کو ترک کر دیا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ:
۱- نبی اکرم ﷺ نے (۱۱) رکعت سے زیادہ صلاۃ تراویح نہیں ادا فرمائی، اور عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی اللہ عنہما کو سنت صحیحہ کے مطابق لوگوں کو (۱۱) رکعت تراویح ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا، واضح رہے کہ عہد فاروقی میں رمضان میں لوگوں کے بیس رکعت تراویح پڑھنے کی روایت شاذ اور ضعیف ہے، اور ثقہ راویوں کی اس روایت کے خلاف ہے کہ یہ (۱۱) رکعات تھیں، اور ان کے پڑھانے کا حکم عمر رضی اللہ عنہ نے دیا تھا، شاذ روایت (یعنی ثقہ راوی کی روایت جس کی ثقات نے مخالفت کی ہو) اگر صحیح بھی ہو جائے تو ثقات یا زیادہ ثقہ راوی کی صحیح اور محفوظ روایت کو لینا، اور اس پر عمل کرنا اولی اور بہتر ہے، کیونکہ یہ عدد میں سنت نبویہ کے مطابق ہے، نیز اس میں یہ بھی نہیں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیس رکعت پڑھانے کا حکم دیا تھا، بلکہ لوگوں کا فعل تھا جو اس صحیح روایت کے خلاف تھا جس میں (۱۱) رکعت تراویح پڑھانے کا حکم موجود ہے، اگر یہ فعل عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح اور ثابت بھی ہوتا تو اس پر عمل اور مطابق سنت صحیح روایت پر عمل نہ کرنا ایسا امر نہیں تھا کہ عامل بالحدیث جماعت مسلمین کے گروہ سے خارج ہوجائے جیسا کہ تعصب اور جہالت کے شکار لوگ تصور کرتے ہیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ جو بات سمجھی جا سکتی ہے وہ بیس رکعات کے جواز کی ہے، لیکن یہ بات قطعی طور سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس فعل کو کیا، اور جس پر مواظبت فرمائی وہ افضل ہے، اور وہ (۱۱) رکعت ہے، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کی رمضان کی صلاۃ کے بارے میں استفسار کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعتوں سے زیادہ صلاۃ (تراویح وتہجد) نہیں پڑھتے تھے، چار رکعتیں تو ایسی ادا فرماتے کہ جس کے طول اور حسن کے متعلق کچھ نہ پوچھو، پھر چار رکعتیں مزید پڑھتے اس کے طول و حسن کو نہ پوچھو، پھر تین رکعتیں ادا فرماتے (صحیح بخاری، وصحیح مسلم)۔
ان رکعات میں کمی بھی ممکن ہے، حتی کہ صرف ایک رکعت ہی پڑھ لے تو ایسا کر سکتا ہے، اس پر رسول اکرم ﷺ کی قولی اور فعلی دونوں حدیثیں دلیل ہیں، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے استفسار کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کتنی رکعت وتر ادا فرماتے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور چھ رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور دس رکعتیں پڑھ کر تین وتر پڑھتے، اور سات رکعات سے کم پر آپ وتر نہیں پڑھتے تھے، اور نہ تیرہ رکعات سے زیادہ پڑھتے تھے (سنن ابی داود، مسند احمد)، اور تیرہ رکعتیں یوں کہ دو رکعتیں عشاء کے بعد کی سنتیں ہیں، یا وہ دو ہلکی رکعتیں جن سے نبی اکرم ﷺ تہجد کی صلاۃ کا افتتاح فرماتے تھے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے اس کو راجح قرار دیا ہے۔
اور رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ وتر حق ہے، جو چاہے پانچ رکعت وتر پڑھے، جو چاہے تین رکعت، جو چاہے ایک ہی رکعت پڑھے، (طحاوی، ومستدرک الحاکم)
یہ بھی واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی سے بھی (۲۰) رکعت تراویح کا پڑھنا ثابت نہیں ہے، اور بیس رکعت پر اجماع کا جن لوگوں نے دعوی کیا ہے ان کا دعوی باطل ہے، سنت سے ثابت (۱۱) رکعت تراویح کی وجہ سے علماء نے اس سے زائد رکعات پر نکیر کی ہے۔

1327- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ ابْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: صمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْهُ، حَتَّى بَقِيَ سَبْعُ لَيَالٍ، فَقَامَ بِنَا لَيْلَةَ السَّابِعَةِ حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ كَانَتِ اللَّيْلَةُ السَّادِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا، فَلَمْ يَقُمْهَا، حَتَّى كَانَتِ الْخَامِسَةُ الَّتِي تَلِيهَا، ثُمَّ قَامَ بِنَا حَتَّى مَضَى نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْنَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ، فَقَالَ: < إِنَّهُ مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، فَإِنَّهُ يَعْدِلُ قِيَامَ لَيْلَةٍ > ثُمَّ كَانَتِ الرَّابِعَةُ الَّتِي تَلِيهَا، فَلَمْ يَقُمْهَا، حَتَّى كَانَتِ الثَّالِثَةُ الَّتِي تَلِيهَا، قَالَ فَجَمَعَ نِسَائَهُ وَأَهْلَهُ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ، قَالَ فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلاحُ، قِيلَ: وَمَا الْفَلاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ، قَالَ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنْ بَقِيَّةِ الشَّهْرِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۱۸ (۱۳۷۵)، ت/الصوم ۸۱ (۸۰۶)، ن/السہو ۱۰۳ (۱۳۶۵)، قیام اللیل ۴ (۱۶۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۵۹، ۱۶۳)، دي/الصوم ۵۴ (۱۸۱۸) (صحیح)

۱۳۲۷- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رمضان کے صیام رکھے، آپ نے کسی بھی رات ہمارے ساتھ صلاۃ تراویح نہ ادا فرمائی، یہاں تک کہ جب سات راتیں باقی رہ گئیں، تو ساتویں (یعنی تیئیسویں) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا، یہاں تک کہ رات تہائی کے قریب گزر گئی، پھر اس کے بعد چھٹی (یعنی چوبیسویں) رات کو جو اس کے بعد آتی ہے، آپ نے قیام نہیں کیا یہاں تک کہ اس کے بعد والی پانچویں یعنی (پچیسویں) رات کو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ رات آدھی کے قریب گزر گئی، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! کا ش آپ باقی رات بھی ہمیں نفل پڑھاتے رہتے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی امام کے ساتھ قیام کرے یہاں تک کہ وہ فارغ ہو جائے، تو وہ ساری رات کے قیام کے برابر ہے، پھر جب اس کے بعد والی چوتھی (یعنی چھبیسویں) رات آئی تو آپ نے اس میں قیام نہیں کیا، جب اس کے بعد والی تیسری (یعنی ستائیسویں) رات آئی تو آپ ﷺ نے اپنی بیویوں اور گھر والوں کو جمع کیا، اور لوگ بھی جمع ہوئے، ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ نے ہمارے ساتھ قیام کیا یہاں تک کہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم سے''فلاح'' فوت نہ ہو جائے، ان سے پوچھا گیا: فلاح کیا ہے؟ کہا: سحری: پھر آپ ﷺ نے ماہ رمضان کے باقی دنوں میں تراویح با جماعت نہیں پڑھی۱؎۔
وضاحت۱؎: اگر مہینہ تیس دن کا شمار کیا جائے تو سات راتیں چوبیس سے رہتی ہیں، اور اگر انتیس دن کا مانا جائے تو تیئسویں سے سات راتیں رہتی ہیں اس حساب سے تیئسویں اور پچیسویں اور ستائیسویں رات میں نبی کریم ﷺ نے قیام کیا، یہ راتیں طاق بھی ہیں اور متبرک بھی، غالب یہی ہے کہ لیلۃ القدر بھی انہیں راتوں میں ہے، اس سے معلوم ہوا کہ ستائیسویں رات کا لیلۃ القدر ہونا راجح ہے، لیلۃ القدرکی تعیین میں لوگوں کا بہت اختلاف ہے اور یقینی طور پر کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کب ہے، البتہ جو سال بھر تہجد پڑھتا رہے گا وہ لیلۃ القدر بھی ضرور پائے گا، ان شاء اللہ، اس حدیث میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صرف تین راتیں تراویح پڑھیں، دوسری حدیث میں ہے کہ چوتھی رات کو بھی لوگ جمع ہوئے لیکن آپ ﷺ حجرہ مبارک سے باہر تشریف نہ لائے اور صبح کو فرمایا کہ میں ڈرا ایسا نہ ہو یہ صلاۃ تم پر فرض ہو جائے، اس حدیث سے تراویح کے باجماعت پڑھنے کی مشروعیت ثابت ہو گئی۔

1328- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَعُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيِّ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ (ح) و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ، كِلاهُمَا عَنِ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ: لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِالرَّحْمَنِ فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ يَذْكُرُهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: نَعَمْ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ذَكَرَ شَهْرَ رَمَضَانَ فَقَالَ: < شَهْرٌ كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ >۔
* تخريج: ن/الصیام ۲۲ (۲۲۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۲۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۹۱، ۱۹۵) (ضعیف)
(نضر بن شیبان لین الحدیث ہے، جس کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، لیکن دوسرا ٹکڑا ''فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا'' شواہد کی وجہ سے صحیح ہے، کما تقدم، نیز ملاحظہ ہو: التعلیق الرغیب ۲ /۷۳)۔
۱۳۲۸- نضر بن شیبان کہتے ہیں کہ میں ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے ملا اور کہا: آپ مجھ سے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے، جو آپ نے رمضان سے متعلق اپنے والد سے سنی ہو، ابو سلمہ نے کہا: ہاں، میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ماہ رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا: ''وہ ایسا مہینہ ہے کہ اللہ تعالی نے تمہارے اوپر اس کے صیام کو فرض قرار دیا ہے، اور میں نے اس کے قیام اللیل کو تمہارے لئے مسنون قرار دیا ہے، لہٰذا جو شخص ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے اس مہینے میں صیام رکھے، اور راتوں میں نفل پڑھے، وہ اپنے گناہوں سے اس طرح نکل جائے گا جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے جنا تھا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
174- بَاب مَا جَاءَ فِي قِيَامِ اللَّيْلِ
۱۷۴- باب: تہجد (قیام اللیل) پڑھنے کا بیان​

1329- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < يَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَى قَافِيَةِ رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِاللَّيْلِ بحَبْلٍ فِيهِ ثَلاثُ عُقَدٍ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ فَذَكَرَ اللَّهَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ، انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا، فَيُصْبِحُ نَشِيطًا طَيِّبَ النَّفْسِ قَدْ أَصَابَ خَيْرًا وَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، أَصْبَحَ كَسِلا خَبِيثَ النَّفْسِ لَمْ يُصِبْ خَيْرًا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۵۵۰)، وقد أخرجہ: خ/التہجد ۱۲ (۱۴۴۲)، بدأالخلق ۱۱ (۳۲۶۹)، م/المسافرین ۲۸ (۷۷۶)، د/الصلاۃ ۳۰۷ (۱۳۰۶)، ن/قیام اللیل۵ (۱۶۰۸)، ط/قصرالصلاۃ ۲۵ (۹۵)، حم (۲/۲۴۳، ۲۵۳) (صحیح)

۱۳۲۹ - ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے ہر شخص کی گدی پر رات میں شیطان رسّی سے تین گرہیں لگا دیتا ہے، اگر وہ بیدار ہوا اور اللہ کو یاد کیا، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے، پھر جب اٹھ کر وضو کیا تو ایک گرہ اور کھل جاتی ہے، پھر جب صلاۃ کے لئے کھڑا ہوا تو ساری گرہیں کھل جاتی ہیں، اس طرح وہ چست اور خوش دل ہو کر صبح کرتا ہے، جیسے اس نے بہت ساری بھلائی حاصل کر لی ہو، اور اگر ایسا نہ کیا تو سست اور بری حالت میں صبح کرتا ہے، جیسے اس نے کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کی'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: مولف نے اس حدیث سے قیام اللیل مراد لیا ہے، اور ممکن ہے کہ صلاۃ فجر کے لئے اٹھنے سے اور وضو کرنے سے بھی شیطان کی یہ گرہیں کھل جائیں، والعلم عند الله، ہم کو گرہ کی تاویل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، درحقیقت شیطان یہ گرہیں لگاتا ہے اور بعضوں نے تاویل کی اور اس سے غفلت کی رسی مراد لی، اور گرہوں سے اس غفلت کو مضبوط کر دینا، اور رات کے لمبی ہونے کا احساس دلا دینا مراد لیا ہے، جب کہ صحیح بخاری کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ جب وہ اٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس سے کہتا ہے کہ ابھی رات بہت ہے۔

1330- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ رَجُلٌ نَامَ لَيْلَةً حَتَّى أَصْبَحَ، قَالَ: < ذَلِكَ الشَّيْطَانُ بَالَ فِي أُذُنَيْهِ >۔
* تخريج: خ/التہجد ۱۳ (۱۱۴۴)، بدأالخلق ۱۱ (۳۲۷۰)، م/المسافرین ۲۸ (۷۷۴)، ن/قیام اللیل ۵ (۱۶۰۹، ۱۶۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۷۵، ۴۲۷) (صحیح)

۱۳۳۰- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا گیا جو صبح تک سوتا رہا، آپ نے فرمایا: ''شیطان نے اس شخص کے کانوں میں پیشاب کر دیا ہے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کان میں پیشاب کرنا حقیقت ہے گرچہ ہمیں اس کا ادراک نہیں ہوتا، اور بعضوں کے نزدیک کنایہ ہے اس بات سے کہ جو شخص سویا رہتا ہے اور رات کو اٹھ کر صلاۃ نہیں پڑھتا تو شیطان اس کے لئے اللہ کی یاد میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اسی کو شیطان کے آدمی کے کان میں پیشاب کر نے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

1331- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا تَكُنْ مِثْلَ فُلانٍ، كَانَ يَقُومُ اللَّيْلَ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ >۔
* تخريج: خ/التہجد ۱۹ (۱۱۵۲)، م/الصیام ۳۵ (۱۱۵۹)، ن/قیام اللیل ۵۰ (۱۷۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۰) (صحیح)

۱۳۳۱- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم فلاں شخص کی طرح نہ ہو جا نا جو رات میں تہجد پڑھتا تھا، پھر اس نے اسے چھوڑ دیا'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: مطلب یہ ہے کہ وہ قیام اللیل میں زیادہ محنت کرنے لگا تو اس پر برقرار نہ رہ سکا، تو تم ایسا مت کرنا، اگر تھوڑی عبادت کرے تو بہتر ہے بشرطیکہ ہمیشہ کرے۔

1332- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَدَثَانِيُّ قَالُوا: حَدَّثَنَا سُنَيْدُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ لِسُلَيْمَانَ: يَابُنَيَّ! لا تُكْثِرِ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ، فَإِنَّ كَثْرَةَ النَّوْمِ بِاللَّيْلِ تَتْرُكُ الرَّجُلَ فَقِيرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: (تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۰۹۴، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۷) (ضعیف)
(اس حدیث کو ابن الجوزی نے موضوعات میں ذکر کیا ہے، اور کہا ہے: ''لایصح عن رسو ل اللہ، ویوسف لایتابع علی حدیثہ، یہ رسول اللہ ﷺ سے صحیح نہیں ہے، اور یوسف کی حدیث کا کوئی متابع نہیں ہے)
۱۳۳۲- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سلیمان بن داود علیہما السلام کی ماں نے سلیمان سے کہا: بیٹے! تم رات میں زیادہ نہ سویا کرو اس لئے کہ رات میں بہت زیادہ سونا آدمی کو قیامت کے دن فقیر کر دے گا''۔

1333- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُوسَى أَبُو يَزِيدَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ كَثُرَتْ صَلاتُهُ بِاللَّيْلِ حَسُنَ وَجْهُهُ بِالنَّهَارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۳۶، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۸) (موضوع)
(ابن الجوزی نے اس حدیث کو باطل کہا ہے، (۲/۱۰۹- ۱۱۰) اس کی سند میں ثابت بن موسیٰ ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۴۶۴۴)
۱۳۳۳- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص رات میں زیادہ صلاتیں پڑھے گا، دن میں اس کے چہرے سے نور ظاہر ہو گا''۔

1334- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَعَبْدُالْوَهَّابِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَلامٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَقِيلَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لأَنْظُرَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا اسْتَبَنْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْئٍ تَكَلَّمَ بِهِ، أَنْ قَالَ: < يَا أَيُّهَا النَّاسُ! أَفْشُوا السَّلامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلامٍ >۔
* تخريج: ت/القیامۃ ۴۲ (۲۴۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۳۳۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۵۱)، دي/الصلاۃ ۱۵۶ (۱۵۰۱)، (حدیث مکرر ہے، دیکھئے: ۳۲۵۱) (صحیح)

۱۳۳۴- عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو لوگ آپ کی طرف دوڑ پڑے، اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ آئے ہیں، تو لوگوں کے ساتھ آپ کو دیکھنے کے لئے میں بھی آیا، جب میں نے کوشش کرکے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک دیکھا، تو پہچان لیا کہ ''آپ کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے، پہلی بات آپ نے جو کہی وہ یہ تھی کہ لوگو! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، اور رات کو صلاۃ پڑھو، جب کہ لوگ سوئے ہوں، تب تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
175- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ أَيْقَظَ أَهْلَهُ مِنَ اللَّيْلِ
۱۷۵- باب: (عبادت کے لیے) رات میں بیوی کو جگانے کا بیان​

1335- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُومُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ مِنَ اللَّيْلِ وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّيَا رَكْعَتَيْنِ، كُتِبَا مِنَ الذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۰۷ (۱۳۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۶۵، ۱۲۱۹۵) (صحیح)

۱۳۳۵- ابو سعید اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب آدمی رات میں بیدار ہو اور اپنی بیوی کو جگائے، اور دونوں دو رکعت صلاۃ پڑھیں، تو وہ دونوں ذاکرین (اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے) اور ذاکرات (کثرت سے یاد کرنے والیوں) میں سے لکھے جائیں گے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: ان کی شان میں قرآن میں یہ آیا ہے: ''وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ [الأحزاب:۳۵]، (اللہ کی یاد کثرت سے کرنے والے مرد اور عورتیں) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قیام اللیل (تہجد) کے لئے دو رکعت بھی کافی ہے، اور سنت آٹھ، دس اور بارہ ہے، اور اس کے بعد وتر، اگر دو رکعت بھی نہ ہو سکیں تو صرف بستر پر ہی رہ کر تھوڑی دیر دعا اور استغفار کر لے، اور اللہ کی یہ یاد بھی غنیمت ہے۔

1336- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < رَحِمَ اللَّهُ رَجُلا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ امْرَأَتَهُ فَصَلَّتْ، فَإِنْ أَبَتْ رَشَّ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ، رَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَصَلَّتْ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى، فَإِنْ أَبَى رَشَّتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۰۷ (۱۳۰۸)، ۳۴۸ (۱۴۵۰)، ن/ قیام اللیل ۵ (۱۶۱۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۸۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۰، ۴۳۶) (حسن صحیح)

۱۳۳۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی اس شخص پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوا، اور صلاۃ پڑھی، اور اپنی بیوی کو بھی جگایا، اس نے صلاۃ پڑھی، اگر نہ اٹھی تو اس کے چہرہ پہ پانی چھڑکا، اللہ تعالی اس عورت پر رحم کرے، جو رات میں بیدار ہوئی، پھر اس نے صلاۃ پڑھی اور اپنے شوہر کو جگایا، اس نے بھی صلاۃ پڑھی اگر نہ اٹھا تو اس کے منہ پر پانی چھڑکا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
176- بَاب فِي حُسْنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ
۱۷۶- باب: قرآن مجید کو اچھی آواز سے پڑھنے کا بیان​

1337- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ ذَكْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، وقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِابْنِ أَخِي، بَلَغَنِي أَنَّكَ حَسَنُ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ، فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَابْكُوا، فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَاكَوْا، وَتَغَنَّوْا بِهِ، فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ، فَلَيْسَ مِنَّا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۹۰۰، ومصباح الزجاجۃ: ۴۶۹) وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۳۵۵ (۱۴۶۹) (ضعیف)
(اس میں راوی ابو رافع، اسماعیل بن رافع ضعیف و مترو ک ہیں، لیکن آخری جملہ ''وتغنوا به ......'' صحیح ہے، کیونکہ صحیح بخاری میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، (البخاری ۱۳/ ۵۰ و مسلم (۱/۵۴۵)
۱۳۳۷- عبد الرحمن بن سائب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ آئے، وہ نابینا ہو گئے تھے، میں نے ان کو سلام کیا، تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے انہیں (اپنے بارے میں) بتایا: تو انہوں نے کہا: بھتیجے! تمہیں مبارک ہو، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم قرآن اچھی آواز سے پڑھتے ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''یہ قرآن غم کے ساتھ اترا ہے لہٰذا جب تم قرآن پڑھو، تو رؤو، اگر رو نہ سکو تو بہ تکلف رؤو، اور قرآن پڑھتے وقت اسے اچھی آواز کے ساتھ پڑھو ۱؎، جو قرآن کو اچھی آواز سے نہ پڑھے، وہ ہم میں سے نہیں ہے''۔
وضاحت۱؎: حدیث میں ''تغنى'' کا لفظ ہے، اور ''تغنى'' کا معنی گانا ہے، قرآن میں ''تغنى'' نہیں ہو سکتی، لہذا ''تغنى'' سے یہ مراد ہو گا کہ باریک آواز سے درد کے ساتھ اس کو پڑھنا بایں طور کہ پڑھنے والے پر اور سننے والے سب پر اثر ہو، اور دلوں میں اللہ کا خوف اور خشوع پیدا ہو، اور تجوید کے قواعد کی رعایت باقی رہے، کلمات اور حروف میں کمی اور بیشی نہ ہو، سفیان بن عیینہ نے کہا: تغنی بالقرآن کا یہ معنی ہے کہ قرآن کو دولت لازوال سمجھے، اور دنیاداروں سے غنی یعنی بے پرواہ رہے۔

1338- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ سَابِطٍ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَتْ: أَبْطَأْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ، ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ: <أَيْنَ كُنْتِ؟ > قُلْتُ: كُنْتُ أَسْتَمِعُ قِرَائَةَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِكَ لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَ قِرَائَتِهِ وَصَوْتِهِ مِنْ أَحَدٍ، قَالَتْ، فَقَامَ وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى اسْتَمَعَ لَهُ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: < هَذَا سَالِمٌ، مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي أُمَّتِي مِثْلَ هَذَا >۔
* تخريج: تفرد بہ، ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۰۳، ومصباح الزجاجۃ: ۴۷۰)، و حم (۶/۱۶۵) (صحیح)

۱۳۳۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک روز میں نے عشاء کے بعد رسول اللہ ﷺ کے پاس آنے میں دیر کر دی، جب میں آئی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم کہاں تھیں''؟ میں نے کہا: آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص کی تلاوت سن رہی تھی، ویسی تلاوت اور ویسی آواز میں نے کسی سے نہیں سنی، یہ سنتے ہی آپ کھڑے ہوئے، اور آپ ﷺ کے ساتھ میں بھی کھڑی ہوئی، آپ نے اس شخص کی قراءت سنی، پھر آپ میری جانب متوجہ ہوئے، اور فرمایا: ''یہ ابو حذیفہ کے غلام سالم ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میری امت میں ایسا شخص پیدا کیا'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: سالم مولی ابو حذیفہ مشہور قاری اور خوش آواز تھے، یہ دونوں صفات ایک قاری میں بہت کم جمع ہوتی ہیں، اکثر لوگ خوش آواز تو ہوتے ہیں لیکن تجوید یعنی قواعد قرأت سے ناواقف ہوتے ہیں، اور بعض قاری ہوتے ہیں لیکن ان کی آواز اچھی نہیں ہوتی، نیز حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عورت کو اجنبی مرد کی آواز سننے میں کوئی حرج نہیں۔

1339- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ صَوْتًا بِالْقُرْآنِ، الَّذِي إِذَا سَمِعْتُمُوهُ يَقْرَأُ، حَسِبْتُمُوهُ يَخْشَى اللَّهَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۴۶، ومصباح الزجاجۃ: ۴۷۱) (صحیح)
(دوسرے طرق سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس حدیث کی سند میں دو راوی عبد اللہ بن جعفر اور ابراہیم بن اسماعیل بن مجمع ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: مصباح الزجاجۃ: ۴۷۵، بتحقیق عوض الشہری)
۱۳۳۹- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں میں سب سے عمدہ آواز میں قرآن پڑھنے والا وہ ہے کہ جب تم اس کی قراءت سنو تو تمہیں ایسا لگے کہ وہ اللہ سے ڈرتا ہے ۱؎۔
وضاحت ۱؎: یعنی درد انگیز آواز سے پڑھتا ہو، اور اس پر رقت طاری ہو جاتی ہو۔

1340- حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدِ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ مَيْسَرَةَ، مَوْلَى فَضَالَةَ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لَلَّهُ أَشَدُّ أَذَنًا إِلَى الرَّجُلِ الْحَسَنِ الصَّوْتِ بِالْقُرْآنِ يَجْهَرُ بِهِ، مِنْ صَاحِبِ الْقَيْنَةِ إِلَى قَيْنَتِهِ >.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۴۰، ومصباح الزجاجۃ:۴۷۲)، وقد أخرجہ : حم (۶/۱۹، ۲۰) (ضعیف)
(ولید بن مسلم کثیر التدلیس والتسویہ اور میسرہ لین الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۹۵۱)
۱۳۴۰- فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی خوش الحان شخص کا قرآن اس سے زیادہ متوجہ ہو کر سنتا ہے جتنا کہ گانا سننے والا اپنی توجہ گانے والی کی طرف لگاتا ہے''۔

1341- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْمَسْجِدَ فَسَمِعَ قِرَائَةَ رَجُلٍ فَقَالَ: < مَنْ هَذَا؟ > فَقِيلَ: عَبْدُاللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: < لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۱۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۷۳)، وقد أخر جہ: ن/الافتتاح ۸۳ (۱۰۲۰)، حم (۲/۳۵۴، ۳۶۹، ۴۵۰) (حسن صحیح)

۱۳۴۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ ﷺ نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا: ''یہ کون ہے''؟ عرض کیا گیا: عبد اللہ بن قیس ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''انہیں داود (علیہ السلام) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: مزامیر: جمع ہے مزمار کی، مزمار کہتے ہیں ستار کو، یا بجانے کے آلہ کو، یہاں مزمار سے مراد خوش الحانی ہے، اور داود علیہ السلام بہت خوش الحان تھے، اور آپ کی اچھی آواز سے آدمی تو آدمی جانور بھی مست ہو کر کھڑے ہو جاتے تھے۔

1342- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ الْيَامِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ عَوْسَجَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ يُحَدِّثُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < زَيِّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُمْ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۵۵ (۱۴۶۸)، ن/الافتتاح ۸۳ (۱۰۱۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۵)، وقد أخرجہ: خ/التوحید ۵۲ تعلیقًا، حم (۴/۲۸۳، ۲۸۵، ۳۰۴)، دي/فضائل القرآن ۳۴ (۳۵۴۳) (صحیح)

۱۳۴۲- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: خطابی وغیرہ نے اس کا ایک مفہوم یہ بتایا ہے کہ قرآن کے ذریعہ اپنی آواز کو زینت دو، یعنی اپنی آوازوں کو قرآن کی تلاوت میں مشغول رکھو، اس مفہوم کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں ''زَيِّنُوا أَصْوَاتَكُمْ بالْقُرْآنَ'' کے الفاظ ہیں، اور یہ مطلب نہیں ہے کہ موسیقی کی طرح آواز نکالو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
177- بَاب مَا جَاءَ فِيمَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ مِنَ اللَّيْلِ
۱۷۷- باب: جو کوئی رات کا مقررہ وظیفہ یا ورد پڑھے بغیر سو جائے تو کیا کرے؟​

1343- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ابْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، وَعُبَيْدَاللَّهِ بْنَ عَبْدِاللَّهِ أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ، أَوْ عَنْ شَيْئٍ مِنْهُ، فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلاةِ الْفَجْرِ وَصَلاةِ الظُّهْرِ، كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ >۔
* تخريج: م/المسافرین ۱۸ (۷۴۷)، د/الصلاۃ ۳۰۹ (۱۳۱۳)، ت/الصلاۃ ۲۹۱ (الجمعۃ۵۶) (۸۵۱)، ن/قیام اللیل۵۶ (۱۷۹۱، ۱۷۹۲، ۱۷۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۹۲)، وقد أخرجہ: ط/القرآن ۳ (۳)، حم (۱/۳۲، ۵۳)، دي/الصلاۃ ۱۶۷ (۱۵۱۸) (صحیح)

۱۳۴۳- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اپنا پورا وظیفہ (ورد) یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ کر سو جائے، اور اسے فجر و ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کو ایسا لکھا جا ئے گا گویا اس نے رات میں پڑھا''۔

1344- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ،عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < مَنْ أَتَى فِرَاشَهُ، وَهُوَ يَنْوِي أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ، فَغَلَبَتْهُ عَيْنُهُ حَتَّى يُصْبِحَ، كُتِبَ لَهُ مَا نَوَى، وَكَانَ نَوْمُهُ صَدَقَةً عَلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ >۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۵۴ (۱۷۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۳۷) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الإرواء: ۴۵۴)
۱۳۴۴- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اپنے بستر پہ آئے، اور ارادہ رکھتا ہو کہ رات میں اٹھ کر صلاۃ پڑھے گا، پھر اسے ایسی نیند آئی کہ صبح ہو گئی، تو اس کا ثواب اس کی نیت کے مطابق لکھا جائے گا، اور اس کا سونا اس کے رب کی طرف سے اس پر صدقہ ہو گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
178- بَاب فِي كَمْ يُسْتَحَبُّ [أن] يُخْتَمَ الْقُرْآنُ؟
۱۷۸- باب: قرآن مجیدکو کتنے دن میں ختم کرنا مستحب ہے؟​

1345- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الطَّائِفِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ جَدِّهِ أَوْسِ بْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ، فَنَزَّلُوا الأَحْلَافَ عَلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَنْزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَنِي مَالِكٍ فِي قُبَّةٍ لَهُ، فَكَانَ يَأْتِينَا كُلَّ لَيْلَةٍ بَعْدَ الْعِشَاءِ فَيُحَدِّثُنَا قَائِمًا عَلَى رِجْلَيْهِ، حَتَّى يُرَاوِحَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ، وَأَكْثَرُ مَا يُحَدِّثُنَا مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنْ قُرَيْشٍ، وَيَقُولُ: < وَلا سَوَائَ، كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ مُسْتَذَلِّينَ، فَلَمَّا خَرَجْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ كَانَتْ سِجَالُ الْحَرْبِ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ .نُدَالُ عَلَيْهِمْ وَيُدَالُونَ عَلَيْنَا >، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ أَبْطَأَ عَنِ الْوَقْتِ الَّذِي كَانَ يَأْتِينَا فِيهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ أَبْطَأْتَ عَلَيْنَا اللَّيْلَةَ، قَالَ: < إِنَّهُ طَرَأَ عَلَيَّ حِزْبِي مِنَ الْقُرْآنِ فَكَرِهْتُ أَنْ أَخْرُجَ حَتَّى أُتِمَّهُ >.
قَالَ أَوْسٌ: فَسَأَلْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، كَيْفَ تُحَزِّبُونَ الْقُرْآنَ؟ قَالُوا: ثَلاثٌ وَخَمْسٌ وَسَبْعٌ وَتِسْعٌ وَإِحْدَى عَشْرَةَ وَثَلاثَ عَشْرَةَ وَحِزْبُ الْمُفَصَّلِ۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۲۶ (۱۳۹۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۳۷) (ضعیف)
(اس سند میں ابو خالد متکلم فیہ نیز عثمان لین الحدیث ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود : ۲۴۶)
۱۳۴۵- اوس بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس ثقیف کے ایک وفد میں آئے، تو لوگوں نے قریش کے حلیفوں کو مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے پاس اتارا، اور رسول اللہ ﷺ نے بنو مالک کو اپنے ایک خیمہ میں اتارا، چنانچہ آپ ﷺ ہر رات عشاء کے بعد ہمارے پاس تشریف لاتے، اور کھڑے کھڑے باتیں کرتے یہاں تک کہ ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں پر بدل بدل کر کھڑے رہتے، اور اکثر وہ حالات بیان کرتے جو اپنے خاندان قریش سے آپ کو پیش آئے تھے، اور فرماتے: ''ہم اور وہ برابر نہ تھے، ہم کمزور اور بے حیثیت تھے، لیکن جب ہم مدنیہ آئے تو لڑائی کا ڈول ہمارے اور ان کے درمیان رہا، ہم ان کے اوپر ڈول نکالتے اور وہ ہمارے اوپر ڈول نکالتے'' ۱؎ ایک رات آپ ﷺ نے اپنے وقت مقررہ پر آنے میں تاخیر کی؟ تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ نے آج رات تاخیر کی؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''میرا قرآن کا وظیفہ پڑھنے سے رہ گیا تھا، میں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس کو پوراکئے بغیر نکلوں''۔
اوس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے پوچھا: آپ لوگ قرآن کے وظیفے کیسے مقرر کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: پہلا حزب تین سورتوں کا ۲؎ دوسرا حزب پانچ سورتوں کا ۳؎، تیسرا حزب سات سورتوں کا ۴؎، چوتھا حزب نو سورتوں کا ۵؎، پانچواں حزب گیارہ سورتوں کا ۶؎، چھٹا حزب تیرہ سورتوں کا ۷؎ اور ساتواں حزب مفصل کا ۸؎۔
وضاحت۱؎: کبھی ہمیں فتح حاصل ہوتی اور کبھی انہیں۔
وضاحت۲؎: بقرہ، آل عمران اور نساء۔
وضاحت۳؎: مائدہ، انعام، اعراف، انفال اور براءۃ۔
وضاحت۴؎: یونس، ہود، یوسف رعد، ابراہیم، حجر اور نمل۔
وضاحت۵؎: بنی اسرائیل، کہف، مریم، طہ، انبیاء، حج، مومنون، نور اور فرقان۔
وضاحت۶؎: شعراء، نحل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ، احزاب، سبا، فاطر اور یٰسین۔
وضاحت۷؎: صافات، ص، زمر، ساتوں حوامیم، محمد، فتح اور حجرات۔
وضاحت۸؎: سورہ ق سے آخر قرآن تک۔

1346- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَكِيمِ بْنِ صَفْوَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: جَمَعْتُ الْقُرْآنَ فَقَرَأْتُهُ كُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَطُولَ عَلَيْكَ الزَّمَانُ، وَأَنْ تَمَلَّ، فَاقْرَأْهُ فِي شَهْرٍ >، فَقُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ: < فَاقْرَأْهُ فِي عَشْرَةٍ > قُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي، قَالَ: <فَاقْرَأْهُ فِي سَبْعٍ > قُلْتُ: دَعْنِي أَسْتَمْتِعْ مِنْ قُوَّتِي وَشَبَابِي . فَأَبَى ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۴۵)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۵۴ (۱۹۷۸)، فضائل القرآن ۳۴ (۵۰۵۳، ۵۰۵۴)، م/الصوم ۳۵ (۱۱۵۹)، د/الصلاۃ ۳۲۵ (۱۳۸۸)، ت/القراء ات ۱۳ (۲۹۴۶)، ن/الصیام ۴۵ (۲۳۹۱، ۲۳۹۲)، حم (۲/۱۶۳، ۱۹۹)، دي/فضائل القرآن ۳۲ (۳۵۱۳) (صحیح)

۱۳۴۶- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے قرآن حفظ کیا، اور پورا قرآن ایک ہی رات میں پڑھنے کی عادت بنا لی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مجھے ڈر ہے کہ کچھ ہی عرصہ گزرنے کے بعد تم اکتا جاؤ گے، لہٰذا تم اسے ایک مہینے میں پڑھا کرو'' میں نے کہا: چھوڑئیے، مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجیے آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو دس دن میں پڑھا کرو'' میں نے کہا: چھوڑئیے مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ٹھیک ہے تو سات دن میں پڑھا کرو'' میں نے کہا: چھوڑئیے مجھے اپنی قوت اور جوانی سے فائدہ اٹھانے دیجیے، تو آپ ﷺ نے انکار کر دیا ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی سات دن سے کم میں ختم قرآن کی اجازت نہ دی، صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سات دن سے کم میں ختم قرآن نہ کر و، قسطلانی نے کہا کہ یہ نہی حرمت کے لئے نہیں ہے، اور بعض اہل ظاہر کے نزدیک تین دن سے کم میں قرآن ختم کرنا حرام ہے، نووی کہتے ہیں کہ اس کی کوئی حد نہیں، جب تک جی لگے اور جتنی طاقت ہو، اس کے لحاظ سے قرآن پڑھے، اور بہتر یہی ہے کہ سات دن سے کم میں ختم نہ کرے، انتہاء تین دن میں، اور قرآن کے معانی اور مطالب میں غور و فکر کرکے پڑھے، اور ہمارے زمانہ میں تو قرآن کے معانی کا ترجمہ ہر زبان میں ہو گیا ہے، پس ترجمہ کے ساتھ تلاوت کرنا زیادہ ثواب ہے، فقیہ ابو اللیث کہتے ہیں کہ اقل درجہ یہ ہے کہ آدمی سال بھر میں قرآن دوبار ختم کرے، اور حسن بن زیاد نے ابو حنیفہ رحمۃ اللہ سے نقل کیا ہے کہ جس نے سال بھر میں دو بار پورے قرآن کی قراءت مکمل کی اس نے قرآن کا حق ادا کیا، کیونکہ جبرائیل علیہ السلام نے جس سال نبی کریم ﷺ کی وفات ہوئی، دو بار قرآن کا دور کیا، اور بعض نے کہا چالیس دن سے زیادہ ختم قرآن میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔

1347- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،(ح) وحَدَّثَنَا أَبُوبَكْرِ بْنُ خلادٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلاثٍ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۲۶ (۱۳۹۴)، ت/القراء ا ت ۱۳ (۲۹۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۶۳، ۱۹۹)، دي/الصلاۃ ۱۷۳ (۱۵۳۴)، فضائل القرآن ۳۲ (۳۵۱۴) (صحیح)

۱۳۴۷- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس نے قرآن تین دن سے کم میں پڑھا، اس نے سمجھ کر نہیں پڑھا'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: بلکہ صرف طوطے کی طرح رٹ لگا لی ہے، اگرچہ یہ بھی ثواب سے خالی نہیں ہے، لیکن ادب کے خلاف ہے۔

1348- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: لا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ حَتَّى الصَّبَاحِ۔
* تخريج: ن/قیام اللیل ۱۵ (۱۶۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۰۸)، و م/المسافرین ۱۸ (۷۴۶) (صحیح)

۱۳۴۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ہی رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔
 
Top