• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
189- بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاةِ الْحَاجَةِ
۱۸۹- باب: صلاۃِ حاجت کا بیان​

1384- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، عَنْ فَائِدِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى الأَسْلَمِيِّ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ إِلَى اللَّهِ، أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، فَلْيَتَوَضَّأْ وَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُكَ أَلا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلا غَفَرْتَهُ، وَلاهَمًّا إِلا فَرَّجْتَهُ، وَلا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلا قَضَيْتَهَا لِي، ثُمَّ يَسْأَلُ اللَّهَ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ مَا شَاءَ، فَإِنَّهُ يُقَدَّرُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۷۸، ومصباح الزجاجۃ: ۴۸۵)، قد أخرجہ: ت/الصلاۃ ۲۳۱ (۴۷۹) (ضعیف جدا)
(سوید بن سعید متکلم فیہ اور فائد بن عبد الرحمن منکر الحدیث ہیں)
۱۳۸۴- عبد اللہ بن ابی اوفی اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: ''جسے اللہ سے یا اس کی مخلوق میں سے کسی سے کوئی ضرورت ہو تو وہ وضو کرکے دو رکعت صلاۃ پڑھے، اس کے بعد یہ دعا پڑھے: ''لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، أَسْأَلُكَ أَلا تَدَعَ لِي ذَنْبًا إِلا غَفَرْتَهُ، وَلا هَمًّا إِلا فَرَّجْتَهُ، وَلا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلا قَضَيْتَهَا'' (کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے جو حلیم ہے، کریم (کرم والا) ہے، پاکی ہے اس اللہ کی جو عظیم عرش کا مالک ہے، تمام تعریف اس اللہ کے لئے ہے، جو سارے جہان کا رب ہے، اے اللہ! میں تجھ سے ان چیزوں کا سوال کرتا ہوں جو تیری رحمت کا سبب ہوں، اور تیری مغفرت کو لازم کریں، اور میں تجھ سے ہر نیکی کے پانے اور ہر گناہ سے پچنے کا سوال کرتا ہوں، اور میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میرے تمام گناہوں کو بخش دے، اور تمام غموں کو دور کر دے، اور کوئی بھی حاجت جس میں تیری رضا ہو اس کو میرے لئے پوری کر دے)۔ پھر اس کے بعد دنیا و آخرت کا جو بھی مقصد ہو اس کا سوال کرے، تو وہ اس کے نصیب میں کر دیا جائے گا۔

1385- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ سَيَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدَنِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي أَنْ يُعَافِيَنِي، فَقَالَ: < إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ لَكَ وَهُوَ خَيْرٌ، وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ > فَقَالَ: ادْعُهْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوئَهُ، وَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ، وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ < اللَّهُمَّ! إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ! إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى، اللَّهُمَّ! شَفِّعْهُ فِيَّ >.
قَالَ أَبُو إِسْحَاق: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ۔
* تخريج: ت/الدعوات ۱۱۹ (۳۵۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۶۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۳۸) (صحیح)

۱۳۸۵- عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک نابینا نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر عرض کیا: آپ میرے لئے اللہ تعالی سے صحت و عافیت کی دعا فرما دیجیے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے آخرت کی بھلائی چاہوں جو بہتر ہے، اور اگر تم چاہو تو میں تمہارے لئے دعا کروں، اس شخص نے کہا: آپ دعا کر دیجیے، تب آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اچھی طرح وضوء کرے، اور دو رکعت صلاۃ پڑھے، اس کے بعد یہ دعا کرے: ''اللَّهُمَّ! إِنِّي أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ! إِنِّي قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ لِتُقْضَى، اللَّهُمَّ! شَفِّعْهُ فِيَّ'' (اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری طرف توجہ کرتا ہوں محمد ﷺ کے ساتھ جو نبی رحمت ہیں، اے محمد! میں نے آپ کے ذریعہ سے اپنے رب کی جانب اس کام میں توجہ کی تاکہ پورا ہو جائے، اے اللہ! تو میرے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما)۔
ابو اسحاق نے کہا: یہ حدیث صحیح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
190- بَاب مَا جَاءَ فِي صَلاةِ التَّسْبِيحِ
۱۹۰- باب: صلا ۃ التسبیح کا بیان​

1386- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ، أَبُو عِيسَى الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِلْعَبَّاسِ: < يَا عَمِّ! أَلا أَحْبُوكَ، أَلا أَنْفَعُكَ، أَلا أَصِلُكَ > قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: < فَصَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا انْقَضَتِ الْقِرَائَةُ فَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ، ثُمَّ ارْكَعْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَك فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا قَبْلَ أَنْ تَقُومَ، فَتِلْكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، وَهِيَ ثَلاثُ مِائَةٍ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ، غَفَرَهَا اللَّهُ لَكَ > قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ يَقُولُهَا فِي يَوْمٍ؟ قَالَ: < قُلْهَا فِي جُمُعَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقُلْهَا فِي شَهْرٍ > حَتَّى قَالَ: < فَقُلْهَا فِي سَنَةٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۱۵)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۳۰۳ (۱۲۹۷)، ت/الصلاۃ ۲۳۳ (۴۸۲) (صحیح)
(دوسری سند سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، علماء نے اختلاف کیا ہے کہ یہ حدیث کیسی ہے، ابن خزیمہ اور حاکم نے اس کو صحیح کہا، اور ایک جماعت نے اس کو حسن کہا، اور ابن الجوزی نے اس کو موضوعات میں ذکر کیا، حافظ ابن حجر نے کہا یہ حدیث حسن ہے، اور ابن الجوزی نے برا کیا جو اس کو موضوع قرار دیا)۔
۱۳۸۶- ابو رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ''میرے چچا! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کو فائدہ نہ پہنچاؤں؟ کیا میں آپ سے صلہ رحمی نہ کروں؟ا نہوں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ''آپ چار رکعت پڑھئے، اور ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سورہ ملا کر پڑھیے، جب قراءت ختم ہو جائے تو ''سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ'' پندرہ مرتبہ رکو ع سے پہلے پڑھیے، پھر رکوع کیجیے اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے اور انہیں کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر سجدہ کیجیے، اور انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، پھر اپنا سر اٹھائیے، اور کھڑے ہونے سے پہلے انہی کلمات کو دس مرتبہ پڑھیے، تو ہر رکعت میں پچہتر (۷۵) مرتبہ ہوئے، اور چار رکعتوں میں تین سو (۳۰۰) مرتبہ ہوئے، تو اگر آپ کے گناہ ریت کے ٹیلوں کے برابر ہوں تو بھی اللہ انہیں بخش دے گا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو شخص اس صلاۃ کو روزانہ نہ پڑھ سکے؟ ! آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہفتہ میں ایک بار پڑھ لے، اگر یہ بھی نہ ہو سکے، تو مہینے میں ایک بار پڑھ لے'' یہاں تک کہ فرمایا: ''سال میں ایک بار پڑھ لے''۔

1387- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِالْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ: < يَا عَبَّاسُ! يَا عَمَّاهُ! أَلا أُعْطِيكَ، أَلا أَمْنَحُكَ، أَلا أَحْبُوكَ، أَلا أَفْعَلُ لَكَ عَشْرَ خِصَالٍ، إِذَا أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَقَدِيمَهُ وَحَدِيثَهُ، وَخَطَأَهُ وَعَمْدَهُ، وَصَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ، وَسِرَّهُ وَعَلانِيَتَهُ، عَشْرُ خِصَالٍ: أَنْ تُصَلِّيَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ الْقِرَائَةِ فِي أَوَّلِ رَكْعَةٍ قُلْتَ وَأَنْتَ قَائِمٌ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلااللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً، ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُ، وَأَنْتَ رَاكِعٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ الرُّكُوعِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَهْوِي سَاجِدًا فَتَقُولُهَا وَأَنْتَ سَاجِدٌ عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ تَرْفَعُ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ فَتَقُولُهَا عَشْرًا، فَذَلِكَ خَمْسَةٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، تَفْعَلُ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُصَلِّيَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً فَافْعَلْ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، فَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَفِي عُمُرِكَ مَرَّةً >۔
* تخريج: د الصلاۃ ۳۰۳ (۱۲۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۳۸) (صحیح)

۱۳۸۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ''اے عباس! اے چچا! کیا میں آپ کو عطیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ سے اچھا سلوک نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس خصلتیں نہ بتاؤں کہ اگر آپ اس کو اپنائیں تو اللہ تعالی آپ کے اگلے اور پچھلے، نئے اور پرانے، جانے اور انجانے، چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر سبھی گناہ بخش دے، وہ دس خصلتیں یہ ہیں: آپ چار رکعت پڑھیں، ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھیں، جب پہلی رکعت میں قراءت سے فارغ ہو جائیں تو کھڑے کھڑے پندرہ مرتبہ ''سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ'' کہیں، پھر رکوع کریں، اور بحالت رکوع اس تسبیح کو دس مرتبہ کہیں، پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ میں جائیں اور بحالت سجدہ ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ کریں، اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، پھر سجدہ سے اپنا سر اٹھائیں اور ان کلمات کو دس مرتبہ کہیں، تو یہ ہر رکعت میں پچہتر (۷۵) مرتبہ ہوا، چاروں رکعتوں میں اسی طرح کریں، اگر آپ سے یہ ہو سکے تو روزانہ یہ صلاۃ ایک مرتبہ پڑھیں، اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ہفتہ میں ایک بار پڑھیں، اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو مہینے میں ایک بار پڑھیں، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو اپنی عمر میں ایک بار پڑھیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
192- بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّلاةِ وَالسَّجْدَةِ عِنْدَ الشُّكْرِ
۱۹۲- باب: شکرانہ کی صلاۃ اور سجدہ شکر​

1391- حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَتْنِي شَعْثَاءُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ ، يَوْمَ بُشِّرَ بِرَأْسِ أَبِي جَهْلٍ، رَكْعَتَيْنِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفۃ الأشراف: ۵۱۸۶، ومصباح الزجاجۃ: ۴۸۹)، وقد أخرجہ: دي/الصلاۃ ۱۵۸ (۱۵۰۳) (ضعیف)
(شعثاء بنت عبد اللہ الاسدیہ مجہول اور سلمہ بن رجاء میں کلام ہے)
۱۳۹۱- عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس دن نبی اکرم ﷺ کو ابو جہل کا سر لائے جانے کی بشارت سنائی گئی، تو آپ ﷺ نے دو رکعت صلاۃ پڑھی۔

1392- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا أَبِي، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ ابْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدَةَ السَّهْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ بُشِّرَ بِحَاجَةٍ، فَخَرَّ سَاجِدًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۰) (حسن)
(اس کی سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
۱۳۹۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو کسی کام کے پورے ہو جانے کی بشارت سنائی گئی تو آپ سجدے میں گر پڑے ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ انسان کو جب کوئی خوشی پہنچے تو وہ سجدہ شکر کرے، جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کو خوشی پہنچی تو آپ نے سجدہ شکر کیا۔

1393- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ،عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ خَرَّ سَاجِدًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۱) (صحیح)

۱۳۹۳- کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کر لی تو وہ سجدے میں گر پڑے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خوشی کے موقع پر یا کسی مصیبت کے ٹلنے پر سجدہ شکر ادا کرنا جائز اور صحیح ہے، واضح رہے کہ کعب بن مالک، ہلال بن أمیہ، مرارہ بن ربیع رضی اللہ عنہم یہ تینوں غزوہ تبوک میں حاضر نہ ہو سکے تھے، جب آپ ﷺ غزوہ سے لوٹے تو یہ لوگ بہت شرمندہ ہوئے، اپنے قصور کا اعتراف کیا، ان کا قصہ بہت طویل ہے جو دوسری روایات میں موجود ہے، آخر اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کی، اور کعب رضی اللہ عنہ نے یہ خبر سنتے ہی سجدہ شکر ادا کیا۔

1394- حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُوعَاصِمٍ، عَنْ بَكَّارِ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا أَتَاهُ أَمْرٌ يَسُرُّهُ أَوْ يُسَرُّ بِهِ، خَرَّ سَاجِدًا، شُكْرًا لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى۔
* تخريج: د/الجہاد ۱۷۴ (۲۷۷۴)، ت/السیر ۲۵ (۱۵۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲، ۸، ۹، ۱۰) (حسن)

۱۳۹۴- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس جب کوئی ایسا معاملہ آتا جس سے آپ خوش ہوتے، یا وہ خوش کن معاملہ ہوتا، تو آپ اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدے میں گر پڑتے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
193- بَاب مَا جَاءَ فِي أَنَّ الصَّلاةَ كَفَّارَةٌ
۱۹۳- باب: صلاۃ گناہوں کا کفارہ ہے​

1395- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ وَسُفْيَانُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ، عَنْ أَسْمَاءَ بْنِ الْحَكَمِ الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: كُنْتُ إِذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ حَدِيثًا، يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِمَا شَاءَ مِنْهُ وَإِذَا حَدَّثَنِي عَنْهُ غَيْرُهُ، اسْتَحْلَفْتُهُ، فَإِذَا حَلَفَ صَدَّقْتُهُ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ حَدَّثَنِي وَصَدَقَ أَبُو بَكْرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَا مِنْ رَجُلٍ يُذْنِبُ ذَنْبًا، فَيَتَوَضَّأُ، فَيُحْسِنُ الْوُضُوءَ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ( وَقَالَ مِسْعَرٌ: ثُمَّ يُصَلِّي ) وَيَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، إِلا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۳۶۷ (۱۵۲۱)، ت/الصلاۃ ۱۸۲ (۴۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲، ۸، ۹، ۱۰) (حسن)

۱۳۹۵- علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں نبی اکرم ﷺ سے کوئی حدیث سنتا تو جتنا اللہ چاہتا اس سے مجھے نفع دیتا، اور جب کوئی اور مجھ سے نبی اکرم ﷺ کی حدیث بیان کرتا تومیں اسے قسم کھلاتا، جب وہ قسم کھا لیتا تو میں اس کی تصدیق کرتا، ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے حدیث بیان کی، وہ سچے تھے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے، پھر اچھی طرح وضو کرتا ہے، اور دو رکعتیں پڑھتا ہے''، (مسعر کی روایت میں ہے: ''پھر صلاۃ پڑھتا ہے، اور اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہے تو اللہ اس کے گناہ بخش دیتا ہے''۔

1396- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ (أَظُنُّهُ)، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُمْ غَزَوْا غَزْوَةَ السُّلاسِلِ، فَفَاتَهُمُ الْغَزْوُ، فَرَابَطُوا، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ أَبُو أَيُّوبَ وَعُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ، فَقَالَ عَاصِمٌ: يَا أَبَا أَيُّوبَ! فَاتَنَا الْغَزْوُ الْعَامَ، وَقَدْ أُخْبِرْنَا أَنَّهُ مَنْ صَلَّى فِي الْمَسَاجِدِ الأَرْبَعَةِ، غُفِرَ لَهُ ذَنْبُهُ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي! أَدُلُّكَ عَلَى أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنْ تَوَضَّأَ كَمَا أُمِرَ، وَصَلَّى كَمَا أُمِرَ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ عَمَلٍ > أَكَذَلِكَ يَا عُقْبَةُ؟ قَالَ: نَعَمْ۔
* تخريج: ن/الطہارۃ ۱۰۸ (۱۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۴۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۴۲۳) (حسن)

۱۳۹۶- عاصم بن سفیان ثقفی سے روایت ہے کہ وہ لوگ غزوہ سلاسل میں گئے ۱؎، لڑائی نہیں ہوئی، ان لوگوں نے صرف مورچہ باندھا، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لوٹ آئے، اس وقت ابو ایوب انصاری اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہما بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عاصم نے کہا: ابو ایوب! اس سال ہم سے جہاد فوت ہو گیا، اور ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ جو کوئی چاروں مسجدوں میں ۲؎ صلاۃ پڑھے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے، ابو ایوب نے کہا: میرے بھتیجے! کیا میں تمہیں اس سے آسان بات نہ بتاؤں؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ''جو کوئی وضوء کرے جیسا حکم دیا گیا ہے، اور صلاۃ پڑھے جس طرح حکم دیا گیا ہے، تو اس کے پچھلے گناہ بخش دئیے جائیں گے'' پوچھا: ایسے ہی ہے نا عقبہ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔
وضاحت۱؎: غزوہ سلاسل: یہ وہ غزوہ نہیں ہے جو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ۸ھ میں ہوا تھا یہ کوئی ایسا غزوہ تھا، جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوا تھا۔
وضاحت۲؎: چاروں مسجدوں سے مراد: مسجد حرام، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ، اور مسجد قبا ہے۔

1397 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَانَ بْنَ عُثْمَانَ يَقُولَ: قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < أَرَأَيْتَ لَوْكَانَ بِفِنَاءِ أَحَدِكُمْ نَهْرٌ يَجْرِي يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ، مَا كَانَ يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ؟ > قَالَ: لا شَيْئَ، قَالَ: < فَإِنَّ الصَّلاةَ تُذْهِبُ الذُّنُوبَ كَمَا يُذْهِبُ الْمَاءُ الدَّرَنَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۷۹، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۲)، و حم (۱/۷۲، ۱۷۷) (صحیح)

۱۳۹۷- عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''اگر تم میں سے کسی کے آنگن میں نہر بہہ رہی ہو جس میں وہ ہر روز پانچ مرتبہ غسل کرے، تو کیا اس کے بدن پہ کچھ میل کچیل باقی رہ جائے گا''؟ لوگوں نے کہا: کچھ نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''صلاۃ گناہوں کو ایسے ہی ختم کر دیتی ہے جس طرح پانی میل کچیل کو ختم کر دیتا ہے''۔

1398- حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلا أَصَابَ مِنِ امْرَأَةٍ، يَعْنِي مَا دُونَ الْفَاحِشَةِ، فَلا أَدْرِي مَا بَلَغَ، غَيْرَ أَنَّهُ دُونَ الزِّنَا، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ {أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ،إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلِي هَذِهِ؟ قَالَ: < لِمَنْ أَخَذَ بِهَا >۔
* تخريج: خ/مواقیت الصلاۃ ۵ (۵۲۶)، التفسیر ھود ۶ (۴۶۸۷)، م/التوبۃ ۷ (۲۷۶۳)، ت/التفسیر ۱۲ (۳۱۱۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۷۶)، وقد أخرجہ: د/الحدود ۳۲ (۴۴۶۸)، حم (۱/۳۸۵، ۴۳۰) (صحیح)

۱۳۹۸- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک عورت سے زنا سے کم کچھ بد تہذیبی کر لی، میں نہیں جانتا کہ وہ اس معاملہ میں کہاں تک پہنچا، بہر حال معاملہ زنا کاری تک نہیں پہنچا تھا، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ،إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ} [سورة الهود: ۴۱۱] (دن کے دونوں حصوں (صبح و شام) میں اور رات کے کچھ حصہ میں صلاۃ قائم کرو، بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں، اور یہ یاد کرنے والوں کے لئے نصیحت ہے)، پھر اس شخص نے عرض کیا: کیا یہ حکم میرے لئے خاص ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہر اس شخص کے لئے جو اس پر عمل کرے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: دن کے دونوں کناروں سے مراد فجر اور مغرب کی صلاۃ ہے، اور بعض کے نزدیک صرف عشاء اور بعض کے نزدیک مغرب اور عشاء دونوں مراد ہیں، اور ''رات کے کچھ حصہ میں'' سے مراد صلاۃ تہجد ہے، امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ممکن ہے کہ یہ آیت معراج سے قبل نازل ہوئی ہو، کیونکہ اس سے قبل دو صلاتیں ہی تھیں، ایک سورج ڈوبنے سے پہلے اور ایک سورج ڈوبنے کے بعد، اور رات کے پچھلے پہر صلاۃ تہجد تھی، اور معراج میں پانچ وقت کی صلاۃ فرض ہوئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
194- بَاب مَا جَاءَ فِي فَرْضِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا
۱۹۴- باب: پنچ وقتہ صلاۃ کی فرضیت اور ان کو پابندی سے ادا کرنے کا بیان​

1399- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < فَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلاةً، فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ، حَتَّى آتِيَ عَلَى مُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: مَاذَا افْتَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيَّ خَمْسِينَ صَلاةً، قَالَ: فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَوَضَعَ عَنِّي شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لا تُطِيقُ ذَلِكَ، فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ، لا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ، فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي >۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۱ (۳۴۹)، الأنبیاء ۵ (۳۳۴۲)، م/الإیمان ۷۴ (۱۶۳)، ن/الصلاۃ ۱ (۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵۶) (صحیح)

۱۳۹۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی نے (معراج کی رات) میری امت پر پچاس صلاتیں فرض کیں، تو میں انہیں لے کر لوٹا یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے پوچھا :آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے؟ میں نے کہا: پچاس صلاتیں میرے اوپر فرض کی ہیں، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس پھر جائیں آپ کی امت انہیں ادا نہ کر سکے گی، میں اپنے رب کے پاس لوٹا، تو اس نے آدھی معاف کر دیں، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا، اور ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس واپس جائیں آپ کی امت اس کو انجام نہ دے سکے گی، چنانچہ میں پھر اپنے رب کے پاس واپس گیا، تو اس نے کہا: اب لو یہ پانچ وقت کی صلاتیں (شمار میں) ہیں، جو (ثواب میں) پچاس صلاۃ کے برابر ہیں، میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی، اٹل ہوتی ہے، میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا، تو انہوں نے کہا: اپنے رب کے پاس جائیں، تو میں نے کہا: اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ روایت مختصر ہے، مفصل واقعہ صحیحین اور دوسری کتابوں میں مذکور ہے، اس میں یہ ہے کہ پہلی بار اللہ تعالی نے پچاس میں سے پانچ صلاۃ معاف کیں، اور نبی اکرم ﷺ موسیٰ علیہ السلام کے کہنے پر بار بار اللہ تعالیٰ کے پاس جاتے رہے، اور پانچ پانچ صلاۃ کم ہوتی رہیں یہاں تک کہ پانچ رہ گئیں، یہی عدد اللہ تعالی کے علم میں مقرر تھا، اس سے کم نہیں ہو سکتا تھا، سبحان اللہ مالک کی کیا عنایت ہے، ہم ناتواں بندوں سے پانچ صلاتیں تو ادا ہو نہیں سکتیں، پچاس کیونکر پڑھتے، حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رب العالمین عرش کے اوپر ہے، ورنہ بار بار نبی اکرم ﷺ کس کے پاس جاتے تھے، اور اس سے جہمیہ، معتزلہ اور منکرین صفات کا رد ہوتا ہے، جو اللہ تعالی کو جہت اور مکان سے منزہ و پاک جانتے ہیں، اور لطف یہ ہے کہ باوجود اس کے پھر اس کو ہر جہت اور ہر مکان میں سمجھتے ہیں، یہ حماقت نہیں تو کیا ہے، اگر اللہ تعالی (معاذ اللہ) ہر جہت اور ہر مکان میں ہوتا تو نبی اکرم ﷺ کو ساتوں آسمانوں کے اوپر جانے کی کیا ضرورت تھی؟ !۔

1400- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُصْمٍ أَبِي عُلْوَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أُمِرَ نَبِيُّكُمْ ﷺ بِخَمْسِينَ صَلاةً، فَنَازَلَ رَبَّكُمْ أَنْ يَجْعَلَهَا خَمْسَ صَلَوَاتٍ۔
* تخريج: تفرد یہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۰۸، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۱۵) (صحیح)
(سند میں شریک ضعیف ہیں، لیکن اگلی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، نیز شواہد کے لئے دیکھئے: مصباح الزجاجۃ ۴۹۸ ابن ماجہ میں ''ابن عباس'' ہے، اور صحیح ''ابن عمر'' ہے جیسا کہ سنن ابی داود (۱؍۱۷۱) میں ہے، اور اس کی سند میں ''ایوب بن جابر'' ضعیف ہے۔
۱۴۰۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ تمہارے نبی ﷺ کو پچاس صلاۃ کا حکم ہوا، پھر آپ ﷺ نے تمہارے رب سے تخفیف چاہی کہ پچاس کو پانچ کر دے۔

1401- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الْمُخْدِجِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللَّهُ عَلَى عِبَادِهِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يَنْتَقِصْ مِنْهُنَّ شَيْئًا،اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَهْدًا أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ قَدِ انْتَقَصَ مِنْهُنَّ شَيْئًا، اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ، لَمْ يَكُنْ لَهُ عِنْدَاللَّهِ عَهْدٌ، إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۹ ۳۳۷ (۱۴۲۰)، ن/الصلاۃ ۶ (۴۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۲۲)، وقد أخرجہ: ط/صلاۃ اللیل ۳ (۱۴) حم (۵/۳۱۵، ۳۱۹، ۳۲۲)، دي/الصلاۃ ۲۰۸ (۱۶۱۸) (صحیح)

۱۴۰۱- عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''پانچ وقت کی صلاتیں اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر فرض کی ہیں، لہٰذا جو کوئی ان کو بجا لائے اور ان کے حق کو معمولی حقیر سمجھ کر ان میں کچھ کمی نہ کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو جنت میں داخل کرنے کا وعدہ پورا کرے گا، اور جس کسی نے ان کو اس طرح ادا کیا کہ انہیں معمولی اور حقیر جان کر ان کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کی تو اس کے لئے اللہ تعالی کے پاس کوئی وعدہ نہیں، چاہے تو اسے عذاب دے، اور چاہے تو بخش دے'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: صلاۃ کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی کا مطلب یہ ہے کہ دوسرے کاموں کی طرح اس کا بھی پورا خیال نہ رکھے، کبھی پڑھے اور کبھی چھوڑ دے، یا جلدی جلدی پڑھے، شرائط اور آداب اور سنن کو اچھی طرح سے نہ بجا لائے، ایسا شخص گنہگار ہے، اللہ تعالی چاہے تو اسے سزا دے، اور چاہے تو معاف کر دے۔

1402- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي الْمَسْجِدِ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، قَالَ: فَقَالُوا: هَذَا الرَّجُلُ الأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِالْمُطَّلِبِ! فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : <قَدْ أَجَبْتُكَ > فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ! إِنِّي سَائِلُكَ وَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ، فَلا تَجِدَنَّ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ، فَقَالَ: < سَلْ مَا بَدَا لَكَ> قَالَ لَهُ الرَّجُلُ: نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < اللَّهُمّ! نَعَمْ > قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اللَّهُمَّ! نَعَمْ > قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اللَّهُمَّ! نَعَمْ > قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللَّهِ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اللَّهُمَّ! نَعَمْ > فَقَالَ الرَّجُلُ: آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ۔
* تخريج: خ/العلم ۶ (۶۳)، د/الصلاۃ ۲۳ (۴۸۶)، ن/الصیام ۱ (۲۰۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۷)، وقد أخرجہ: م/الإیمان ۳ (۱۲)، حم (۳/۱۶۷)، دي/الصلاۃ ۱۴۰ (۱۴۷۰) (صحیح)

۱۴۰۲- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں اونٹ پر سوار ایک شخص آیا، اور اسے مسجد میں بٹھایا، پھر اسے باندھ دیا، پھر پوچھنے لگا: تم میں محمد کون ہیں؟ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے، لوگوں نے کہا: یہ ہیں جو سفید رنگ والے، اور تکیہ لگائے بیٹھے ہیں، اس شخص نے آپ ﷺ سے کہا: اے عبد المطلب کے بیٹے! نبی اکرم ﷺ نے اس سے کہا: ''ہاں، میں نے تمہاری بات سن لی''، تو اس شخص نے کہا: اے محمد! میں آپ سے ایک سوال کرنے والا ہوں، اور سوال میں سختی برتنے والا ہوں، تو آپ دل میں مجھ پر ناراض نہ ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم جو چاہو پوچھو''، اس شخص نے کہا: میں آپ کو آپ کے رب کی قسم دیتا ہوں، اور آپ سے پہلے لوگوں کے رب کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب لوگوں کی جانب نبی بنا کر بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''یا اللہ! ہاں''، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالی نے آپ کو دن رات میں پانچ وقت صلاۃ پڑھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یا اللہ! ہاں''، پھر اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو سال کے اس مہینہ میں صوم رکھنے کا حکم دیا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یا اللہ! ہاں''، اس شخص نے کہا: میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں: کیا اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے کہ ہمارے مالداروں سے زکاۃ و صدقات لیں، اور اس کو ہمارے غریبوں میں تقسیم کریں؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یا اللہ! ہاں''، تو اس شخص نے کہا: میں آپ کی لائی ہوئی شریعت پہ ایمان لایا، اور میں اپنی قوم کے ان لوگوں کے لئے پیغام رساں کی حیثیت سے ہوں جو پیچھے رہ گئے ہیں، اور میں قبیلہ بنو سعد بن بکر کا ایک فرد ضمام بن ثعلبہ ہوں۔

1403- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا ضُبَارَةُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي السَّلِيْلِ، أَخْبَرَنِي دُوَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ: إِنَّ أَبَا قَتَادَةَ بْنَ رِبْعِيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: افْتَرَضْتُ عَلَى أُمَّتِكَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَعَهِدْتُ عِنْدِي عَهْدًا أَنَّهُ مَنْ حَافَظَ عَلَيْهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ أَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يُحَافِظْ عَلَيْهِنَّ؛ فَلا عَهْدَ لَهُ عِنْدِي >۔
* تخريج: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۸۲، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۴)، وقد آخرجہ: د/الصلاۃ ۹ (۴۳۰) (صحیح)
(شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں ''ضبارہ'' مجہول اور ''دوید'' متکلم فیہ ہیں، (تراجع الألبانی: رقم: ۵۸)، نیز بوصیری نے اس حدیث کو زوائد ابن ماجہ میں داخل کیا ہے، فرماتے ہیں کہ مزی نے تحفۃ الأشراف میں اس حدیث کو ابن الاعرابی کی روایت سے ابو داود کی طرف منسوب کیا ہے، جس کو میں نے لئو لُوی کی روایت میں نہیں دیکھا ہے)
۴۰۳ا- ابو قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تمہاری امت پر پانچ صلاۃ فرض کی ہیں، اور میں نے اپنے پاس سے یہ وعدہ کیا ہے کہ جو انہیں ان کے اوقات پر پڑھنے کی پابندی کرے گا، میں اسے جنت میں داخل کروں گا، اور جو ان کی پابندی نہیں کرے گا، تو اس کے لئے میرے پاس کوئی وعدہ نہیں'' ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
195- بَاب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّلاةِ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَسْجِدِ النَّبِيِّ ﷺ
۱۹۵- باب: مسجد حرام اور مسجد نبوی میں صلاۃ پڑھنے کی فضیلت​

1404- حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ رَبَاحٍ، وَعُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِاللَّهِ الأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < صَلاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ >.
* تخريج: خ/الصلاۃ في مسجد مکۃ والمدینۃ ۱ (۱۱۹۰)، م/الحج ۹۴ (۱۳۹۴)، ت/الصلاۃ ۱۲۶ (۳۲۵)، ن/المساجد ۷ (۶۹۵)، المناسک ۱۲۴ (۲۹۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۶۴، ۱۴۹۶۰)، وقد أخرجہ: ط/القبلۃ ۵ (۹)، حم (۲/۲۳۹، ۲۵۱، ۲۵۶، ۲۷۷، ۲۷۸، ۳۸۶، ۳۹۷، ۴۶۶، ۴۶۸، ۴۷۳، ۴۸۴، ۴۸۵، ۴۹۹) (صحیح)

۱۴۰۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری مسجد میں ایک صلاۃ دوسری مسجدوں کی ہزار صلاۃ سے افضل ہے ۱؎ ، سوائے مسجد حرام کے'' ۲؎۔
وضاحت۱؎: میری مسجد سے مراد مدینہ کی مسجد نبوی ہے، یہ فضیلت توسیع شدہ حصہ کو بھی شامل ہے، جیسا کہ شیخ الإسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ جہاں تک یہ مسجد نبوی بڑھتی جائے، وہ تمام حصے بھی اس فضیلت میں شامل ہوں گے۔
وضاحت۲؎: مسجد حرام میں ایک صلاۃ دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ صلاۃ سے افضل ہے۔

1404/أ- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَهُ۔
۱۴۰۴/أ- اس سند سے بھی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی مضمون کی حدیث مروی ہے۔

1405- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < صَلاةٌ فِي مَسْجِدِي هَذَا، أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاةٍ فِيمَا سِوَاهُ مِنَ الْمَسَاجِدِ، إِلا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ >۔
* تخريج: م/الحج ۹۴ (۱۳۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۷۹۴۸)، وقد أخرجہ: ن/الحج ۱۲۴ (۲۹۰۰)، حم (۲/۱۶، ۲۹، ۵۳، ۶۸، ۱۰۲) (صحیح)

۱۴۰۵- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''میری مسجد میں ایک صلاۃ پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار صلاۃ پڑھنے سے افضل ہے، سوائے مسجد حرام کے''۔

1406- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِالْكَرِيمِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < صَلاةٌ فِي مَسْجِدِي أَفْضَلُ مِنْ أَلْفِ صَلاةٍ فِيمَا سِوَاهُ، إِلا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ، وَصَلاةٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَفْضَلُ مِنْ مِائَةِ أَلْفِ صَلاةٍ فِيمَا سِوَاهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۳۴، ۳۴۳، ۳۹۷) (صحیح)

۱۴۰۶- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری مسجد میں ایک صلاۃ پڑھنی دوسری مسجدوں میں ہزار صلاۃ پڑھنے سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے، اور مسجد حرام میں ایک صلاۃ پڑھنی دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ صلاۃ سے افضل ہے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: یہاں مسجد حرام کا ذکر کرتے وقت مدینہ منورہ کی مسجد کا استثناء نہیں کیا، اور بظاہر یہی ہے کہ سوائے مسجد نبوی کے اور مسجدوں کی لاکھ صلاۃ سے افضل ہے، کیونکہ اگر مسجد نبوی کے ایک لاکھ صلاۃ سے افضل ہو تو دوسری مسجدوں کے ایک ارب صلاۃ سے افضل ہو گی، اور کیا عجب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اسی قدر ثواب عطا فرمائے، اور اس صورت میں یہ کہنا کہ دوسری مسجدوں کی ایک لاکھ صلاۃ سے افضل ہے، صحیح ہو گا کہ جب ایک ارب صلاۃ افضل ہوئی تو ایک لاکھ سے بطریق اولی افضل ہو گی، واللہ اعلم۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
196- بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّلاةِ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ
۱۹۶- باب: بیت المقدس میں صلاۃ پڑھنے کی فضیلت​

1407- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ أَخِيهِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلاةِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: < أَرْضُ الْمَحْشَرِ وَالْمَنْشَرِ، ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، فَإِنَّ صَلاةً فِيهِ كَأَلْفِ صَلاةٍ فِي غَيْرِهِ > قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَتَحَمَّلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: < فَتُهْدِي لَهُ زَيْتًا يُسْرَجُ فِيهِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَهُوَ كَمَنْ أَتَاهُ >۔
* تخريج: د/الصلاۃ ۱۴ (۴۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۶۳) (منکر)
(بوصیری نے کہا کہ بعض حدیث کو ابو داود نے روایت کیا ہے، شیخ البانی نے اس حدیث کو پہلے (صحیح ابو داود ۶۸) میں رکھا تھا، بعد میں اسے ضعیف ابی داود میں رکھ دیا، ابو داود کی روایت میں بیت المقدس میں صلاۃ پڑھنے کی فضیلت کا ذکر نہیں ہے، وجہ نکارت یہ ہے کہ زیتون کا تیل فلسطین میں ہوتا ہے، حجاز سے اسے بیت المقدس بھیجنے کا کیا مطلب ہے؟ نیز صحیح احادیث میں مسجد نبوی میں ایک صلاۃ کا ثواب ہزار صلاۃ ہے، جب کہ بیت المقدس کے بارے میں یہ ثواب صحاح میں نہیں وارد ہوا ہے)۔
۱۴۰۷- نبی اکرم ﷺ کی لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا : ''اللہ کے رسول! ہم کو بیت المقدس کا مسئلہ بتائیے''، آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ تو حشر و نشر کی زمین ہے، وہاں جاؤ اور صلاۃ پڑھو، اس لئے کہ اس میں ایک صلاۃ دوسری مسجدوں کی ہزار صلاۃ کی طرح ہے'' میں نے عرض کیا: اگر وہاں تک جانے کی طاقت نہ ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو تم تیل بھیج دو جسے وہاں کے چراغوں میں جلایا جائے، جس نے ایسا کیا گویا وہ وہاں گیا''۔

1408- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ الْجَهْمِ الأَنْمَاطِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ السَّيْبَانِيِّ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الدَّيْلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لَمَّا فَرَغَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ مِنْ بِنَاءِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، سَأَلَ اللَّهَ ثَلاثًا: حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ، وَمُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ، وَأَلا يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ أَحَدٌ، لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ فِيهِ، إِلا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ > فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : < أَمَّا اثْنَتَانِ فَقَدْ أُعْطِيَهُمَا، وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أُعْطِيَ الثَّالِثَةَ >۔
* تخريج: ن/المساجد ۶ (۶۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۸۸۴۴، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۷)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۶) (صحیح)
(دوسری سندوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں عبید اللہ بن الجہم مجہول الحال ہیں، اور ایوب بن سوید بالاتفاق ضعیف، بوصیری نے ذکر کیا ہے کہ بعض حدیث کو ابو داود نے ابن عمرو کی حدیث سے روایت کیا ہے، ایسے ہی نسائی نے سنن صغری میں روایت کی ہے)، یہ حدیث ابو داود میں ہمیں نہیں ملی، اور ایسے ہی مصباح الزجاجۃ کے محقق د.شہری کو بھی نہیں ملی (۵۰۲) نیز نسائی نے کتاب المساجد باب فضل المسجد الأقصی (۱؍۸) میں اور احمد نے مسند میں (۲؍۱۷۶) تخریج کیا ہے ابن خزیمہ (۲؍۱۷۶) اور ابن حبان (۱۰۴۲ مواردہ) اور حاکم (۱؍۲۰؍۲۱) نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے)
۱۴۰۸- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب سلیمان بن داود علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگیں، ایک تو یہ کہ میں مقدمات میں جو فیصلہ کروں، وہ تیرے فیصلے کے مطابق ہو، دوسرے مجھ کو ایسی حکومت دے کہ میرے بعد پھر ویسی حکومت کسی کو نہ ملے، تیسرے یہ کہ جو کوئی اس مسجد میں صرف صلاۃ ہی کے ارادے سے آئے وہ اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو جائے جیسے اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''دو باتیں تو اللہ تعالی نے سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائیں، مجھے امید ہے کہ تیسری چیز بھی انہیں عطا کی گئی ہو گی'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: سلیمان علیہ السلام کا حکم ہونا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے: {فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ وَكُلاًّ آتَيْنَا حُكْمًا وَعِلْمًا} (سورة الأنبياء: ۷۹)، {فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاء حَيْثُ أَصَابَ} (سورة ص: ۳۶) نیز ہوا پر اور جن وانس پر اور چرند و پرند سب پر ان کی حکومت تھی، جیسا کہ اس آیت میں موجود ہے: {وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاء وَغَوَّاصٍ} (سورة ص: ۳۷) اور تیسری بات کی صراحت چونکہ قرآن میں نہیں ہے اس لئے نبی اکرم ﷺ نے اس میں شک کیا۔

1409- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ: مَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَمَسْجِدِي هَذَا، وَالْمَسْجِدِ الأَقْصَى >۔
* تخريج: م/الحج ۹۵ (۱۳۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۸۳)، وقد أخرجہ: خ/فضائل الصلاۃ ۱ (۱۱۸۹)، د/الحج ۹۸ (۲۰۳۳)، ن/المساجد ۱۰ (۷۰۱)، ط/الجمعۃ ۷ (۱۶)، حم (۲/۲۳۴، ۲۳۸، ۲۷۸، ۵۰۱)، دي/الصلاۃ ۱۳۲ (۱۴۶۱) (صحیح)

۱۴۰۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ''تین مساجد: مسجد حرام، میری اس مسجد اور مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی اور مسجد کی جانب (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے''۔

1410- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى، وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا >۔
* تخريج: حدیث أبي سعید الخدري أخرجہ: خ/فضل الصلاۃ في مکۃ والمدینۃ ۶ (۱۱۸۸، ۱۱۸۹)، م/المناسک ۷۴ (۸۲۷)، ت/الصلاۃ ۱۲۷ (۳۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۷۹)، وحدیث عبد اللہ بن عمر و بن العاص قد تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۷، ۳۴، ۴۵، ۵۱، ۵۹، ۶۲، ۷۱، ۷۷) (صحیح)

۱۴۱۰- ابو سعید خدری اورعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تین مساجد: مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری اس مسجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف (ثواب کی نیت سے) سفر نہ کیا جائے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ان تین مسجدوں کے سوا تقرب اور ثواب کی نیت سے کسی اور مسجد کے لئے سفر صحیح نہیں ہے، جب ان تین مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد کے لئے تقرب کی نیت سے سفر کرنا جائز اور درست نہیں، تو اولیاء اور بزرگوں کے مشاہد و مقابر کی زیارت کے لئے سفر کرنا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔
امام الحرمین کے والد ابو محمد الجوینی، شیخ الإسلام ابن تیمیہ، ابن القیم اور عام علمائے اہل حدیث کا مذہب ظاہر حدیث کی رو سے یہی ہے کہ تقرب اور ثواب کی نیت سے ان تین مساجد کے علاوہ کسی اور مقام کا سفر ناجائز ہے۔ قاضی حسین اور قاضی عیاض نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے، اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کوہِ طور کی زیارت کے لیے سفر کیا تو ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ نے ان پر اعتراض کیا اور دلیل میں یہی حدیث پیش کی، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ اتفاق کیا، اور جو اہل علم ظاہر حدیث کی رو سے ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی اور مقام کا سفر جائز نہیں کہتے وہ انبیاء کی قبور کی زیارت کے لیے بھی سفر کو ممنوع اور ناجائز کہتے ہیں، یہاں تک کہ قبر نبوی کی زیارت کے لیے سفر کو بھی ناجائز کہتے ہیں، اور مسجد نبوی کی زیارت کی نیت سے سفر کو جائز کہتے ہیں، مدینہ طیبہ پہنچ کر قبر نبوی اور دوسری قبروں کی زیارت کو مستحب کہتے ہیں، دلائل کی روشنی میں یہ رائے زیادہ صحیح ہے، بعض جاہل شیخ الإسلام ابن تیمیہ وغیرہ کو بدنام کرتے ہیں کہ ان کے نزدیک نبی اکرم ﷺ کے قبر کی زیارت حرام ہے، حالانکہ یہ محض بہتان اور افتراء ہے، شیخ الإسلام ابن تیمیہ نے ہرگز یہ نہیں کہا ہے بلکہ زیارت قبر نبوی کی نیت سے سفر کرنے کو ناجائز کہا ہے، اور یہ قول بہت سارے صحابہ کرام اور تابعین عظام سے بھی منقول ہے، اور اس بات پر سب متفق ہیں کہ مدینہ پہنچ کر قبر نبوی کی زیارت مستحب ہے، اور جو علماء قبر کی زیارت کی نیت سے مدینہ کے سفر کو ناجائز کہتے ہیں وہ صحیح احادیث سے استدلال کرتے ہوئے ایسا کہتے ہیں، اور صحیح حدیث کا ماننا اور اس پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔
علماء کا ایک گروہ جن میں امام الحرمین، غزالی، نووی، سبکی، حافظ ابن حجر، سیوطی وغیرہ ہیں، انبیاء، اولیاء اور صلحاء کی قبور کی زیارت کے لیے سفرکو جائز کہتا ہے، اس کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ان تین مسجدوں کے سوا کسی اور مسجد میں صلاۃ ادا کرنے کے لیے سفر کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ ساری مساجد فضیلت میں برابر ہیں تو کسی مسجد کے لیے سفر بے فائدہ ہو گا، اور اس کی موید مسند احمد یہ حدیث ہے کہ مصلی کو کسی اور مسجد کی طرف کجاوہ نہیں باندھنا چاہئے سوائے مسجد حرام، مسجد اقصیٰ اور میری مسجد کے، لیکن سلف صالحین کا اس مسئلے میں فہم معتبر ہے جیسا کہ اوپر گزرا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے استدلال کو مان کر اپنی غلطی کا اعتراف کیا، اسی طرح سے اور بھی آثارِ سلف ہیں جس سے یہ بات مزید صاف ہو جاتی ہے کہ مذکورہ تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کا سفر ثواب کی نیت سے صحیح نہیں ہے، نیز قبور کی زیارت کے لیے سفر کرنا بھی جائز نہیں ہے، اور مدینہ کے سفر میں مسجد نبوی کی زیارت کی نیت ہونی چاہئے اور مدینہ پہنچ کر قبر نبوی اور دوسری قبور کی زیارت جائز اور مستحب ہے، اس مسئلے پر شیخ الإسلام ابن تیمیہ کی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے نیز علامہ البانی کی کتاب ''تحذیر الساجد من اتخاذ القبور مساجد'' بھی اہم کتاب ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
197- بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّلاةِ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ
۱۹۷- باب: مسجد قباء میں صلاۃ کی فضیلت​

1411- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَبْرَدِ، مَوْلَى بَنِي خَطْمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أُسَيْدَ بْنَ ظُهَيْرٍ الأَنْصَارِيَّ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: < صَلاةٌ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ كَعُمْرَةٍ >۔
* تخريج: ت/الصلاۃ ۱۲۶ (۳۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۵) (صحیح)

۱۴۱۱- اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مسجد قباء میں صلاۃ پڑھنا ایک عمرہ کے برابر ہے'' ۱ ؎۔
وضاحت:۱؎ مسجد قباء: ایک مشہور مسجد ہے، جو مسجد نبوی سے تھوڑے سے فاصلہ پر واقع ہے، رسول اکرم ﷺ جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے، تو سب سے پہلے اس مسجد کی بنیاد رکھی، اور مسلسل چار دن تک اسی مسجد میں صلاۃ پڑتے رہے، اور مسجد نبوی کے بننے کے بعد بھی آپ ﷺ مسجد قباء تشریف لے جاتے، اور وہاں صلاۃ پڑھتے، نیز قرآن کریم میں اس کے متعلق یوں مذکور ہے: {لَّمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمٍ أَحَقُّ أَن تَقُومَ فِيهِ} (سورة التوبة: ۱۰۸) ، ''جو مسجد (نبی اکرم ﷺ کے مدینہ آمد کے وقت) اوّل روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ آپ اس میں عبادت کے لیے کھڑے ہوں'' اور متعدد احادیث میں اس کی فضیلت آئی ہے۔

1412- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يَقُولَ: قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ تَطَهَّرَ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ أَتَى مَسْجِدَ قُبَاءَ، فَصَلَّى فِيهِ صَلاةً، كَانَ لَهُ كَأَجْرِ عُمْرَةٍ >۔
* تخريج: ن/المساجد ۹ (۷۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۵۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۸۷) (صحیح)

۱۴۱۲- سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اپنے گھر میں وضو کرے، پھر مسجد قباء آئے اور اس میں صلاۃ پڑھے، تو اسے ایک عمرہ کا ثواب ملے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
198- بَاب مَا جَاءَ فِي الصَّلاةِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ
۱۹۸- باب: جامع مسجد میں صلاۃ کی فضیلت​

1413- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا رُزَيْقٌ أَبُوعَبْدِاللَّهِ الأَلْهَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < صَلاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلاةٍ، وَصَلاتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلاةً، وَصَلاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ بِخَمْسِ مِائَةِ صَلاةٍ، وَصَلاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلاةٍ، وَصَلاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلاةٍ، وَصَلاته فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بِمِائَةِ أَلْفِ صَلاةٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۴، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۸) (ضعیف)
(اس سند میں ''ابو الخطاب'' مجہول الحال ہیں، اور رزیق کے بارے میں کلام ہے، ابن الجوزی نے اسے علل متناھیہ میں داخل کیا ہے (۲؍۸۶) ذھبی نے میزان الاعتدال (۴؍۵۲۰) میں اسے، منکر جداً یہ بہت منکر ہے کہا ہے)
۱۴۱۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''آدمی کی صلاۃ اپنے گھر میں ایک صلاۃ کے برابر ہے، محلہ کی مسجد میں پچیس صلاۃ کے برابر ہے، اور جامع مسجد میں پانچ سو صلاۃ کے برابرہے، مسجد اقصیٰ میں پچاس ہزار صلاۃ کے برابر ہے، مسجد نبوی میں پچاس ہزار صلاۃ کے برابر ہے، اور خانہ کعبہ میں ایک لاکھ صلاۃ کے برابر ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
199- بَاب مَا جَاءَ فِي بَدْءِ شَأْنِ الْمِنْبَرِ
۱۹۹- باب: منبررسول پہلے کیسے بنا؟​

1414 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يُصَلِّي إِلَى جِذْعٍ إِذْ كَانَ الْمَسْجِدُ عَرِيشًا، وَكَانَ يَخْطُبُ إِلَى ذَلِكَ الْجِذْعِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: هَلْ لَكَ أَنْ نَجْعَلَ لَكَ شَيْئًا تَقُومُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى يَرَاكَ النَّاسُ، وَتُسْمِعَهُمْ خُطْبَتَكَ ؟ قَالَ: < نَعَمْ > فَصَنَعَ لَهُ ثَلاثَ دَرَجَاتٍ، فَهِيَ الَّتِي أَعْلَى الْمِنْبَرِ، فَلَمَّا وُضِعَ الْمِنْبَرُ، وَضَعُوهُ فِي مَوْضِعِهِ الَّذِي هُوَ فِيهِ، فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَقُومَ إِلَى الْمِنْبَرِ، مَرَّ إِلَى الْجِذْعِ الَّذِي كَانَ يَخْطُبُ إِلَيْهِ، فَلَمَّا جَاوَزَ الْجِذْعَ، خَارَ حَتَّى تَصَدَّعَ وَانْشَقَّ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَمَّا سَمِعَ صَوْتَ الْجِذْعِ، فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ حَتَّى سَكَنَ،ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى، صَلَّى إِلَيْهِ، فَلَمَّا هُدِمَ الْمَسْجِدُ وَغُيِّرَ، أَخَذَ ذَلِكَ الْجِذْعَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَكَانَ عِنْدَهُ فِي بَيْتِهِ حَتَّى بَلِيَ، فَأَكَلَتْهُ الأَرَضَةُ وَعَادَ رُفَاتًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف : ۳۴، ومصباح الزجاجۃ: ۴۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۳۷)، دي/المقدمۃ ۶ (۳۶) (حسن)
(کھجور کے تنے کی گریہ و زاری سے متعلق کئی احادیث ہیں، جب کہ بعض اس بارے میں ہیں، نیز تفصیل کے لئے دیکھئے فتح الباری ۶؍۶۰۳)
۱۴۱۴- ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب مسجد چھپر کی تھی تو رسول اللہ ﷺ کھجور کے ایک تنے کی طرف صلاۃ پڑھتے تھے، اور اسی تنے پر ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص نے کہا: کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم آپ کے لئے کوئی ایسی چیز بنائیں جس پر آپ جمعہ کے دن کھڑے ہو کر خطبہ دیں تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ انہیں اپنا خطبہ سنا سکیں؟تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں'' پھر اس شخص نے تین سیڑھیاں بنائیں، یہی منبر کی اونچائی ہے، جب منبر تیار ہو گیا، تو لوگوں نے اسے اس مقام پہ رکھا جہاں اب ہے، جب نبی اکرم ﷺ نے منبر پر کھڑے ہونے کا ارادہ کیا، تو اس تنے کے پاس سے گزرے جس کے سہارے آپ خطبہ دیا کرتے تھے، جب آپ تنے سے آگے بڑھ گئے تو وہ رونے لگا، یہاں تک کہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، اس وقت آپ منبر سے اترے اور اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تب وہ خاموش ہوا، ۱؎ پھر آپ منبر پہ لوٹے، جب آپ صلاۃ پڑھتے تھے تو اسی تنے کی جانب پڑھتے تھے، پھر جب (عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تعمیر نو کے لئے) مسجد ڈھائی گئی، اور اس کی لکڑیاں بدل دی گئیں، تو اس تنے کو ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لے لیا، اور وہ ان کے گھر ہی میں رہا یہاں تک کہ پرانا ہو گیا، پھر اسے دیمک کھا گئی، اور وہ گل کر ریزہ ریزہ ہو گیا۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ کا ایک مشہور معجزہ مذکور ہے، یعنی لکڑی کا آپ ﷺ کی جدائی کے غم میں رونا، نیز اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز میں نفس اور جان ہے، یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ جس کو چاہے قوت گویائی عطا کر دے، اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو کہ منبر نبوی کی تین سیڑھیاں تھیں۔

1415- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ ذَهَبَ إِلَى الْمِنْبَرِ، فَحَنَّ الْجِذْعُ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ، فَقَالَ: < لَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: تفر د بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۹، ۶۲۹۷، ومصباح الزجاجۃ:۵۰۰)، وقد أخرجہ: ت/المناقب ۶ (۳۶۳۱)، حم (۱/ ۲۴۹، ۲۶۷، ۲۶۶، ۳۶۳)، دي/المقدمۃ ۶ (۴۰) (صحیح)

۱۴۱۵- انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کھجور کے ایک تنے کے سہارے خطبہ دیتے تھے، جب منبر تیار ہو گیا تو آپ منبر کی طرف چلے، وہ تنا رونے لگا تو آپ نے اسے اپنے گود میں لے لیا، تو وہ خاموش ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر میں اسے گود میں نہ لیتا تو وہ قیامت تک روتا رہتا''۔

1416- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مِنْ أَيِّ شَيْئٍ هُوَ؟ فَأَتَوْا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثْلِ الغَابَةِ، عَمِلَهُ فُلانٌ مَوْلَى فُلانَةَ، نَجَّارٌ، فَجَاءَ بِهِ، فَقَامَ عَلَيْهِ حِينَمَا وُضِعَ، فَاسْتَقْبَلَة، وَقَامَ النَّاسُ خَلْفَهُ، فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالأَرْضِ، ثُمَّ عَادَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَرَأَ ثُمَّ رَكَعَ فَقَامَ ثُمَّ رَجَعَ الْقَهْقَرَى حَتَّى سَجَدَ بِالأَرْضِ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۱۸ (۳۷۷)، الجمعۃ ۲۶ (۹۱۷)، م/المساجد ۱۰ (۵۴۴)، (تحفۃ الأشراف:۴۶۹۰)، وقد أخرجہ: د/الصلاۃ ۲۲۱ (۱۰۸۰)، ن/المساجد ۴۵ (۷۴۰)، حم (۵/۳۳۰)، دي/الصلاۃ ۴۵ (۱۲۹۳) (صحیح)

۱۴۱۶- ابو حازم کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے منبر کے بارے میں اختلاف کیا کہ وہ کس چیز کا بنا ہوا تھا، تو لوگ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے پوچھا؟ انہوں نے کہا: اب لوگوں میں کوئی ایسا باقی نہیں رہا جو اس منبر کا حال مجھ سے زیادہ جانتا ہو، وہ غابہ ۱؎ کے جھاؤ کا تھا، جس کو فلاں بڑھئی نے بنایا تھا، جو فلاں عورت کا غلام تھا، بہر حال وہ غلام منبر لے کر آیا، جب وہ رکھا گیا تو آپ اس پر کھڑے ہوئے، اور قبلہ کی طرف رخ کیا، اور لوگ آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے، آپ نے قرأت کی پھر رکوع کیا، اور رکوع سے اپنا سر اٹھایا، اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، اور زمین پہ سجدہ کیا، پھر منبر کی طرف لوٹ گئے، اور قرأت کی، پھر رکوع کیا پھر رکوع سے اٹھ کر سیدھے کھڑے ہوئے، پھر الٹے پاؤں پیچھے لوٹے، (اور منبر سے اتر کر) زمین پر سجدہ کیا۔
وضاحت۱؎: غابہ: ایک مقام کا نام ہے، جو مدینہ سے نو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔

1417- حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَقُومُ إِلَى أَصْلِ شَجَرَةٍ - أَوْ قَالَ إِلَى جِذْعٍ - ثُمَّ اتَّخَذَ مِنْبَرًا، قَالَ فَحَنَّ الْجِذْعُ، (قَالَ جَابِرٌ) حَتَّى سَمِعَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ، حَتَّى أَتَاهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَمَسَحَهُ فَسَكَنَ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ لَمْ يَأْتِهِ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۱۵)، وقد أخرجہ: خ/الجمعۃ ۲۶ (۹۱۸)، المناقب ۲۵ (۳۵۸۴)، ن/الجمعۃ ۱۷ (۱۳۹۷)، حم (۳/۳۰۶)، دي/الصلاۃ ۲۰۲ (۱۶۰۳) (صحیح)

۱۴۱۷- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک درخت کی جڑ، یا یوں کہا: ایک تنے کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر آپ ﷺ نے ایک منبر بنوا لیا، تو وہ تنا سسکیاں لے لے کر رونے لگا، یہاں تک کہ اس کے رونے کی آواز مسجد والوں نے بھی سنی، رسول اللہ ﷺ اس کے پاس آئے، اس پر اپنا ہاتھ پھیرا، تو وہ خاموش ہو گیا، بعض نے کہا کہ اگر آپ ﷺ اس کے پاس نہ آتے تو وہ قیامت تک روتا رہتا۔
 
Top