- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
21- بَاب مَا جَاءَ فِي الْغِيبَةِ وَالرَّفَثِ لِلصَّائِمِ
۲۱- باب: غیبت اور فحش کلامی پر صائم کے لیے وارد وعید کا بیان
۲۱- باب: غیبت اور فحش کلامی پر صائم کے لیے وارد وعید کا بیان
1689- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍالْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ، وَالْجَهْلَ، وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلا حَاجَةَ لِلَّهِ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ >۔
* تخريج: خ/الصوم ۸ (۱۹۰۳)، د/الصوم ۲۵ (۲۳۶۲)، ت/الصوم ۱۶ (۷۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۵۲، ۵۰۵) (صحیح)
۱۶۸۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص صیام میں جھوٹ بولنا، جہالت کی باتیں کرنا، اور ان پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے''۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ صوم صرف اسی کو مت سمجھو کہ کھانا پانی چھوڑ دیا تو صوم ادا ہو گیا، بلکہ صوم کی غرض و غایت اور مقصد یہ ہے کہ خواہشات نفس کو قابو میں رکھے، ہر طرح کے چھوٹے بڑے گناہوں سے بچے اور جھوٹ، غیبت، برے کام اور گالی گلوج سے دور رہے، ورنہ خطرہ ہے کہ صوم قبول نہ ہو اور یہ سب محنت بے کار ہو جائے، اگرچہ یہ سب باتیں یوں بھی منع ہیں خواہ صوم ہو یا نہ ہو لیکن صوم میں اور زیادہ سخت گناہ ہے۔
1690- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدٍالْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلا الْجُوعُ، وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلا السَّهَرُ >۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۷۳)، دي/الرقاق ۱۲ (۲۷۶۲) (حسن صحیح)
۱۶۹۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بہت سے صوم رکھنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے صوم سے بھوک کے سوا کچھ نہیں حاصل ہوتا، اور بہت سے رات میں قیام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو اپنے قیام سے جاگنے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی ان کو صیام اور عبادت کا نور حاصل نہیں ہوتا، اور نہ اس میں لذت و برکت ہوتی ہے بلکہ صوم و صلاۃ ان پر ایک بوجھ اور تکلیف ہے، دن میں بھوکا رہنا اور رات کو جاگنا بس اسی کو وہ کافی سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کی غلطی ہے، اگر آداب و شروط کے مطابق عبادت کریں تو وہ قبول ہو گی اور اس سے نور و لذت کی نعمت بھی حاصل ہو گی، اور اس وقت ان کو معلوم ہو جائے گا کہ صوم و صلاۃ کا مقصد صرف بھوکا رہنا اور جاگنا نہیں ہے، افسوس ہے کہ ہمارے زمانہ میں ایسے لوگ بہت ہو گئے ہیں جو صوم و صلاۃ کو ظاہری طورسے ادا کر لیتے ہیں اور خضوع و خشوع مطلق حاصل نہیں کرتے اگرچہ عوام کے لئے یہ بھی کافی ہے اور امید ہے کہ اللہ اپنی مہربانی سے قبول کر لے۔
1691- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلا يَرْفُثْ وَلايَجْهَلْ، وَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ، فَلْيَقُلْ: إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۳۶۲)، وقد أخرجہ: خ/الصوم ۲ (۱۸۹۴)، ۹ (۱۹۰۴)، م/الصوم ۳۰ (۱۱۵۱)، د/الصوم ۲۵ (۲۳۶۳)، ت/الصوم ۵۵ (۷۶۴)، ن/الصوم ۲۳ (۲۲۱۸)، ط/الصیام ۲۲ (۵۷)، حم (۲/۲۳۲)، دي/الصوم ۵۰ (۱۸۱۲) (صحیح)
ا۱۶۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کسی کے صیام کا دن ہو تو گندی اور فحش باتیں اور جماع نہ کرے اور نہ ہی جہالت اور نادانی کا کام کرے، اگر کوئی اس کے ساتھ جہالت اور نادانی کرے تو کہہ دے کہ میں صائم ہوں''۔