- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
15- بَاب لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ
۱۵- باب: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: ولی: جمہورعلماء کے نزدیک وہ ہے جو عصبات میں عورت کے سب سے زیادہ قریب ہو، اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک عصبہ کی غیر موجودگی میں ذوی الأرحام جیسے ماموں، نانا وغیرہ بھی ولی ہیں۔۱۵- باب: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان۱؎
1879- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ ابْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَيُّمَا امْرَأَةٍ لَمْ يُنْكِحْهَا الْوَلِيُّ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لاوَلِيَّ لَهُ >۔
* تخريج: د/النکاح ۲۰ (۲۰۸۳، ۲۰۸۴۸)، ت/النکاح ۱۴ (۱۱۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۶، ۱۶۶،۲۶۰)، دي/النکاح ۱۱(۲۲۳۰) (صحیح)
۱۸۷۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس عورت کا نکاح اس کے ولی نے نہ کیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے، اور اگر ولی اختلاف کریں ۱؎ تو حاکم اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہیں‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے خواہ عورت بالغ ہو یا نابالغ یہی ائمہ حدیث کا مذہب ہے۔
شاہ ولی اللہ دہلوی حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ ولی کی شرط نکاح میں اس لیے رکھی گئی ہے کہ اگر عورت اپنا نکاح خود سے کرلے تو یہ ایک قبیح حرکت ہے، جس کی بنیاد بے شرمی اور ولی کی حق تلفی اور اس کو خاطرمیں نہ لانا ہے، دوسرے یہ کہ نکاح اور زنا میں فرق و امتیاز نکاح کو مشتہر کر کے ضروری ہے، اور اس کا بہتر چرچا اور اس کی شہرت کا ذریعہ عورت کے اولیاء کی شادی میں حاضری ہے، تیسرے یہ کہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں اس لیے ان کو نکاح کا اختیار نہیں ہونا چاہئے اس لیے کہ اکثر مصلحت تک ان کی پہنچ نہیں ہو پاتی اورحسب و نسب کی حفاظت نہیں کر سکتیں تو احتمال ہے کہ برے آدمی یا غیر کفو کے ساتھ نکاح کر لیں، تو نتیجۃً اس کے خاندان کو عار لاحق ہو گی اس لیے اس برائی کے سد باب کے لیے ضروری ہوا کہ عورت کی شادی کے مسئلے میں ولی بھی ذمہ دار قرار دیا جائے۔
امام شافعی کہتے ہیں کہ نکاح صرف قریبی ولی کی زبان سے منعقد ہوتا ہے، اگر قریب کا ولی نہ ہو تو دور کے ولی سے اور اگر وہ بھی نہ ہو تو بادشاہ کے ذریعہ تو اگر کسی عورت نے اپنا نکاح خود کر لیا یا کسی کا نکاح کرا دیا گرچہ ولی کی اجازت سے یا بغیر اس کی اجازت کے تو بھی نکاح باطل ہو گا۔
ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ آزاد عاقل بالغ عورت کی مرضی سے ہونے والا نکاح بغیر ولی کے عقد کے ہو جائے گا، خواہ وہ کنواری ہو یا ثیبہ (غیرکنواری)
اور حدیث ’’لا نكاح إلا بولي‘‘ کا یہ مطلب کہ ایسا کرنا کفو میں کمی کے ڈرسے یا اس سے اس کو بے شرمی سے منسوب کیا جائے گا، مکروہ ہے یا کفو نہ ہونے کی صورت میں ولی کو اعتراض کا حق ہو گا، تو ’’لا تنكح‘‘ کا معنی یہ ہو گا کہ ولی کے اذن کے بغیر اس کو نکاح کا مستقل طور پر حق نہ ہو گا اس لیے کہ کفو نہ ہونے کی صورت میں ولی کو اعتراض کا حق ہو گا۔ امام محمد کہتے ہیں کہ نکاح کا انعقاد ولی کی اجازت پر موقوف ہے۔
قرآن میں ہے: {فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [سورة البقرة: ۲۳۰] آیت سے یہ نہیں نکلتا کہ بغیر ولی کے نکاح صحیح ہے، بلکہ آیت میں نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی ہے،اور یہ حدیث کے خلاف نہیں۔
حنفیہ دوسری حدیث ’’الأیم أحق بنفسہا‘‘(ثیبہ اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے) سے استدلال کرتے ہیں، لیکن اس سے بھی استدلال صحیح نہیں ہے اس لیے کہ حق دار ہونے سے یہاں مراد یہ ہے کہ ولی ایسی عورت کا نکاح جبراً نہیں کر سکتا۔
حدیث میں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا نکاح نبی اکرم ﷺ سے آپ کر لیا تھا اور کہا تھا کہ میرے اولیاء میں سے کوئی حاضر نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ خود دین و دنیا دونوں کے سردار اور سارے مسلمان مردوں اورعورتوں کے ولی تھے، آپ کا خود ارشاد ہے :’’أنا ولي من لا ولي لہ‘‘ (جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی میں ہوں) تو یہ نکاح بغیر ولی کہاں ہوا۔ نیز اس نکاح کو اور نکاحوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کہ نکاح کے باب میں کئی چیزیں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خاص تھیں، شاید یہ بھی اسی خاص چیزوں میں ہو، دوسری یہ کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکاح کرنا باعث فخر اور سعادت دارین ہے، اس میں ولی کی کیا ضرورت ہے، اسی لیے جب ام سلمہ نے یہ کہا کہ میرا کوئی ولی حاضرنہیں ہے تو آپ نے فرمایا: تمہارے اولیاء (سرپرستوں) میں کوئی ایسا نہیں ہے جو میرے نکاح کرنے سے ناراض ہو۔
خلاصہ یہ کہ ولی کے بغیر نکاح کرنے میں بہت سارے معاشرتی مفاسد اور نقصانات ہیں، اور برصغیر کے نئے ماحول میں اس مسئلے پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔ سیدھی بات یہ بات اس صحیح ترین حدیث پر بلا تاویل عمل کیا جائے تو اس سے عورتوں کے وقار اوران کے عزت و احترام کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
1880- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، و عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَفِي حَدِيثِ عَائِشَةَ: وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۶۲، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۱)، وقد أخرجہ: د/النکاح ۲۰ (۲۰۸۳)، ت/النکاح ۱۴ (۱۱۰۲)، حم (۶/۶۶، ۱۶۶، ۲۶۰، دي/النکاح ۱۱ (۲۲۳۰) (صحیح)
(حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حجاج کا عکرمہ سے سماع نہیں بھی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۶/ ۲۳۸- ۲۴۷)
۱۸۸۰- ام المومنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے‘‘۔
اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ’’جس کا کوئی ولی نہ ہو، اس کا ولی حاکم ہے‘‘۔
1881- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لانِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ>۔
* تخريج: د/النکاح ۲۰ (۲۰۸۵)، ت/النکاح ۱۴ (۱۱۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۱۳، ۴۱۸،۳۹۴)، دي/النکاح ۱۱ (۲۲۲۹) (صحیح)
۱۸۸۱- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے‘‘۔
1882- حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۲) (صحیح) (الزانیہ کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے، نیز ملا حظہ ہو: الإروا ء: ۱۸۴۱)۔
۱۸۸۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عورت عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی بازاری عورتیں جو ہوتی ہیں وہ بھی تو ایک مقررہ مال کے عوض ایک عقد کرتی ہیں، لیکن اس کو نکاح نہیں کہتے اس لئے کہ عورت کے اولیاء حاضر نہیں ہوتے، خود عورت اپنے آپ معاملہ طے کر لیتی ہے۔