• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ
۱۵- باب: بغیر ولی کے نکاح جائز نہ ہونے کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: ولی: جمہورعلماء کے نزدیک وہ ہے جو عصبات میں عورت کے سب سے زیادہ قریب ہو، اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک عصبہ کی غیر موجودگی میں ذوی الأرحام جیسے ماموں، نانا وغیرہ بھی ولی ہیں۔

1879- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ ابْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَيُّمَا امْرَأَةٍ لَمْ يُنْكِحْهَا الْوَلِيُّ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لاوَلِيَّ لَهُ >۔
* تخريج: د/النکاح ۲۰ (۲۰۸۳، ۲۰۸۴۸)، ت/النکاح ۱۴ (۱۱۰۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۶۶، ۱۶۶،۲۶۰)، دي/النکاح ۱۱(۲۲۳۰) (صحیح)

۱۸۷۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس عورت کا نکاح اس کے ولی نے نہ کیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے، اگر مرد نے ایسی عورت سے جماع کر لیا تو اس جماع کے عوض عورت کے لیے اس کا مہر ہے، اور اگر ولی اختلاف کریں ۱؎ تو حاکم اس کا ولی ہو گا جس کا کوئی ولی نہیں‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نکاح کے لئے ولی کا ہونا ضروری ہے خواہ عورت بالغ ہو یا نابالغ یہی ائمہ حدیث کا مذہب ہے۔
شاہ ولی اللہ دہلوی حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ ولی کی شرط نکاح میں اس لیے رکھی گئی ہے کہ اگر عورت اپنا نکاح خود سے کرلے تو یہ ایک قبیح حرکت ہے، جس کی بنیاد بے شرمی اور ولی کی حق تلفی اور اس کو خاطرمیں نہ لانا ہے، دوسرے یہ کہ نکاح اور زنا میں فرق و امتیاز نکاح کو مشتہر کر کے ضروری ہے، اور اس کا بہتر چرچا اور اس کی شہرت کا ذریعہ عورت کے اولیاء کی شادی میں حاضری ہے، تیسرے یہ کہ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں اس لیے ان کو نکاح کا اختیار نہیں ہونا چاہئے اس لیے کہ اکثر مصلحت تک ان کی پہنچ نہیں ہو پاتی اورحسب و نسب کی حفاظت نہیں کر سکتیں تو احتمال ہے کہ برے آدمی یا غیر کفو کے ساتھ نکاح کر لیں، تو نتیجۃً اس کے خاندان کو عار لاحق ہو گی اس لیے اس برائی کے سد باب کے لیے ضروری ہوا کہ عورت کی شادی کے مسئلے میں ولی بھی ذمہ دار قرار دیا جائے۔
امام شافعی کہتے ہیں کہ نکاح صرف قریبی ولی کی زبان سے منعقد ہوتا ہے، اگر قریب کا ولی نہ ہو تو دور کے ولی سے اور اگر وہ بھی نہ ہو تو بادشاہ کے ذریعہ تو اگر کسی عورت نے اپنا نکاح خود کر لیا یا کسی کا نکاح کرا دیا گرچہ ولی کی اجازت سے یا بغیر اس کی اجازت کے تو بھی نکاح باطل ہو گا۔
ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ آزاد عاقل بالغ عورت کی مرضی سے ہونے والا نکاح بغیر ولی کے عقد کے ہو جائے گا، خواہ وہ کنواری ہو یا ثیبہ (غیرکنواری)
اور حدیث ’’لا نكاح إلا بولي‘‘ کا یہ مطلب کہ ایسا کرنا کفو میں کمی کے ڈرسے یا اس سے اس کو بے شرمی سے منسوب کیا جائے گا، مکروہ ہے یا کفو نہ ہونے کی صورت میں ولی کو اعتراض کا حق ہو گا، تو ’’لا تنكح‘‘ کا معنی یہ ہو گا کہ ولی کے اذن کے بغیر اس کو نکاح کا مستقل طور پر حق نہ ہو گا اس لیے کہ کفو نہ ہونے کی صورت میں ولی کو اعتراض کا حق ہو گا۔ امام محمد کہتے ہیں کہ نکاح کا انعقاد ولی کی اجازت پر موقوف ہے۔
قرآن میں ہے: {فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [سورة البقرة: ۲۳۰] آیت سے یہ نہیں نکلتا کہ بغیر ولی کے نکاح صحیح ہے، بلکہ آیت میں نکاح کی نسبت عورت کی طرف کی ہے،اور یہ حدیث کے خلاف نہیں۔
حنفیہ دوسری حدیث ’’الأیم أحق بنفسہا‘‘(ثیبہ اپنے نفس کی اپنے ولی سے زیادہ حق دار ہے) سے استدلال کرتے ہیں، لیکن اس سے بھی استدلال صحیح نہیں ہے اس لیے کہ حق دار ہونے سے یہاں مراد یہ ہے کہ ولی ایسی عورت کا نکاح جبراً نہیں کر سکتا۔
حدیث میں ہے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنا نکاح نبی اکرم ﷺ سے آپ کر لیا تھا اور کہا تھا کہ میرے اولیاء میں سے کوئی حاضر نہیں ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ خود دین و دنیا دونوں کے سردار اور سارے مسلمان مردوں اورعورتوں کے ولی تھے، آپ کا خود ارشاد ہے :’’أنا ولي من لا ولي لہ‘‘ (جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی میں ہوں) تو یہ نکاح بغیر ولی کہاں ہوا۔ نیز اس نکاح کو اور نکاحوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا کہ نکاح کے باب میں کئی چیزیں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خاص تھیں، شاید یہ بھی اسی خاص چیزوں میں ہو، دوسری یہ کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکاح کرنا باعث فخر اور سعادت دارین ہے، اس میں ولی کی کیا ضرورت ہے، اسی لیے جب ام سلمہ نے یہ کہا کہ میرا کوئی ولی حاضرنہیں ہے تو آپ نے فرمایا: تمہارے اولیاء (سرپرستوں) میں کوئی ایسا نہیں ہے جو میرے نکاح کرنے سے ناراض ہو۔
خلاصہ یہ کہ ولی کے بغیر نکاح کرنے میں بہت سارے معاشرتی مفاسد اور نقصانات ہیں، اور برصغیر کے نئے ماحول میں اس مسئلے پر مزید غور و خوض کی ضرورت ہے۔ سیدھی بات یہ بات اس صحیح ترین حدیث پر بلا تاویل عمل کیا جائے تو اس سے عورتوں کے وقار اوران کے عزت و احترام کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔

1880- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، و عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا نِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ وَفِي حَدِيثِ عَائِشَةَ: وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۶۲، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۱)، وقد أخرجہ: د/النکاح ۲۰ (۲۰۸۳)، ت/النکاح ۱۴ (۱۱۰۲)، حم (۶/۶۶، ۱۶۶، ۲۶۰، دي/النکاح ۱۱ (۲۲۳۰) (صحیح)
(حجاج بن ارطاہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حجاج کا عکرمہ سے سماع نہیں بھی ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۶/ ۲۳۸- ۲۴۷)
۱۸۸۰- ام المومنین عائشہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے‘‘۔
اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: ’’جس کا کوئی ولی نہ ہو، اس کا ولی حاکم ہے‘‘۔

1881- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <لانِكَاحَ إِلا بِوَلِيٍّ>۔
* تخريج: د/النکاح ۲۰ (۲۰۸۵)، ت/النکاح ۱۴ (۱۱۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۹۱۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۴۱۳، ۴۱۸،۳۹۴)، دي/النکاح ۱۱ (۲۲۲۹) (صحیح)

۱۸۸۱- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ولی کے بغیر نکاح نہیں ہے‘‘۔

1882- حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ الْعُقَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ، وَلا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا، فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۴، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۲) (صحیح)
(الزانیہ کے جملہ کے علاوہ حدیث صحیح ہے، نیز ملا حظہ ہو: الإروا ء: ۱۸۴۱)۔
۱۸۸۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’عورت عورت کا نکاح نہ کرائے، اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے، پس بدکار وہی عورت ہے جو اپنا نکاح خود کرتی ہے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی بازاری عورتیں جو ہوتی ہیں وہ بھی تو ایک مقررہ مال کے عوض ایک عقد کرتی ہیں، لیکن اس کو نکاح نہیں کہتے اس لئے کہ عورت کے اولیاء حاضر نہیں ہوتے، خود عورت اپنے آپ معاملہ طے کر لیتی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب النَّهْيِ عَنِ الشِّغَارِ
۱۶- باب: نکاح شغار کی ممانعت​

1883- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الشِّغَارِ، وَالشِّغَارُ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ أَوْ أُخْتَكَ، عَلَى أَنْ أُزَوِّجَكَ ابْنَتِي أَوْ أُخْتِي، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ۔
* تخريج: خ/النکاح ۲۸ (۵۱۰۹)، الحیل ۴ (۶۹۶۰)، م/النکاح ۷ (۱۴۱۵)، د/النکاح ۱۵ (۲۰۷۴)، ت/النکاح ۳۰ (۱۱۶۴)، ن/النکاح ۶۱ (۳۳۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۲۳)، وقد أخرجہ: ط/النکاح ۱۱ (۲۴)، حم (۲/۷، ۱۹، ۶۲)، دي/النکاح ۹ (۲۲۲۶) (صحیح)

۱۸۸۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا ہے۔ اور شغار یہ ہے کہ کوئی آدمی کسی سے کہے: آپ اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح مجھ سے اس شرط پر کر دیں کہ میں اپنی بیٹی یا بہن کا نکاح تجھ سے کر دوں گا، اور ان دونوں کے درمیان کوئی مہر نہ ہو ۱؎۔
وضاحت۱؎: بلکہ ہر ایک جانب مہر یہی ہو کہ دوسرے کی بیٹی یا بہن یہ حاصل کرے، ابن عبد البر نے کہا یہ نکاح باجماع علماء ناجائز ہے لیکن اختلاف ہے کہ یہ نکاح صحیح ہے یا نہیں، جمہور اس کو باطل کہتے ہیں، اور شافعی نے کہا یہ نکاح مثل نکاح متعہ کے باطل ہے، اور ابو حنیفہ نے کہا نکاح صحیح ہو جائے گا، اور ہر ایک پر مہر مثل لازم ہو گا۔

1884- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الشِّغَارِ۔
* تخريج: م/النکاح ۷ (۱۴۱۶)، ن/النکاح ۶۱ (۳۳۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۷۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۸۶، ۴۳۹،۴۹۶) (صحیح)
۱۸۸۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شغار سے منع فرمایا۔

1885- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا شِغَارَ فِي الإِسْلامِ >۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۸، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۶۲) (صحیح)

۱۸۸۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسلام میں شغار نہیں ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب صَدَاقِ النِّسَاءِ
۱۷- باب: عورتوں کے مہر کا بیان​

1886- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَمْ كَانَ صَدَاقُ نِسَاءِ النَّبِيِّ ﷺ؟ قَالَتْ: كَانَ صَدَاقُهُ فِي أَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشًّا، هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ؟ هُوَ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ۔
* تخريج: م/النکاح ۱۳ (۱۴۲۶)، د/النکاح ۲۹ (۲۱۰۵)، ن/النکاح ۶۶ (۳۳۴۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۳۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۹۴)، دي/النکاح ۱۸ (۲۲۴۵) (صحیح )

۱۸۸۶- ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کا مہر کیا تھا ؟ انہوں نے کہا: آپ ﷺ کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، تم جانتے ہو نش کیا ہے؟ یہ آدھا اوقیہ ہے، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، ساڑھے بارہ اوقیہ کے کل پانچ سو درہم ہوئے۔

1887- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ (ح)وحَدَّثَنَا نَصْرُ ابْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لا تُغَالُوا صَدَاقَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا، أَوْ تَقْوًى عِنْدَ اللَّهِ، كَانَ أَوْلاكُمْ وَأَحَقَّكُمْ بِهَا مُحَمَّدٌ ﷺ، مَا أَصْدَقَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلا أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُثَقِّلُ صَدَقَةَ امْرَأَتِهِ حَتَّى يَكُونَ لَهَا عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ، وَيَقُولُ: قَدْ كَلِفْتُ إِلَيْكِ عَلَقَ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقَ الْقِرْبَةِ، وَكُنْتُ رَجُلا عَرَبِيًّا مَوْلِدًا، مَا أَدْرِي مَا عَلَقُ الْقِرْبَةِ، أَوْ عَرَقُ الْقِرْبَةِ۔
* تخريج: د/النکاح ۲۹ (۲۱۰۶)، ت/النکاح ۲۳ (۱۱۱۴)، ن/النکاح ۶۶ (۳۳۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۱، ۴۸) (حسن صحیح)

۱۸۸۷- ابو عجفاء سلمی کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: عورتوں کے مہر مہنگے نہ کرو، اس لئے کہ اگر یہ دنیا میں عزت کی بات ہوتی یا اللہ تعالی کے یہاں تقویٰ کی چیز ہوتی تو اس کے زیادہ حق دار محمد ﷺ ہوتے ، آپ ﷺ نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں میں سے کسی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ مقرر نہیں فرمایا، اور مرد اپنی بیوی کے بھاری مہر سے بوجھل رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مہر اس کے دل میں بیوی سے دشمنی کا سبب بن جاتا ہے، وہ کہتا ہے کہ میں نے تیرے لئے تکلیف اٹھائی یہاں تک کہ مشک کی رسی بھی اٹھائی، یا مجھے مشک کے پانی کی طرح پسینہ آیا۔
ابو عجفاء کہتے ہیں: میں پیدائش کے اعتبار سے عربی تھا۱؎ ، عمر رضی اللہ عنہ نے جو لفظ ’علق القربۃ‘ یا ’عرق القربۃ‘ کہا: میں اسے نہیں سمجھ سکا۔

وضاحت۱؎: یعنی اصلاً عرب کا رہنے والا نہ تھا بلکہ دوسرے ملک سے آکر عرب میں پیدا ہوا تھا۔

1888- حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِاللهِ، عَنْ عَبْدِاللّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ تَزَوَّجَ عَلَى نَعْلَيْنِ، فَأَجَازَ النَّبِيُّ ﷺ نِكَاحَهُ۔
* تخريج: ت/النکاح ۲۱ (۱۱۱۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۳۶)، وقد أخرجہ: (۳/۴۴۵، ۴۴۶)(ضعیف)
(سند میں عاصم بن عبید اللہ ضعیف ہیں)
۱۸۸۸- عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو فزارہ کے ایک شخص نے (مہر میں) دو جوتیوں کے بدلے شادی کی، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کا نکاح جائز رکھا۔

1889- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ،عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: < مَنْ يَتَزَوَّجُهَا؟ > فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ: < أَعْطِهَا وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ > فَقَالَ: لَيْسَ مَعِي، قَالَ: < قَدْ زَوَّجْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ >۔
* تخريج: خ/الوکالۃ ۹ (۲۳۱۰)، فضائل القرآن ۲۱ (۵۰۲۹)، ۲۲ (۵۳۰)، النکاح ۱۴ (۵۰۸۷)، ۳۲ (۵۱۲۱)، ۳۵ (۵۱۲۶)، ۳۷ (۵۱۳۲)، ۴۰ (۵۱۳۵)، ۴۴ (۵۱۴۱)، ۵۰ (۵۱۴۹)، ۵۱ (۵۱۵۰)، اللباس ۴۹ (۷۱۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۸۴)، وقد أخرجہ: م/النکاح ۱۳ (۱۴۲۵)، د/النکاح ۳۱ (۲۱۱۱)، ت/النکاح ۲۳ (۱۱۱۴)، ن/النکاح ۱ (۳۲۰۲)، ط/النکاح ۳ (۸)، حم (۵/۳۳۶)، دي/النکاح ۱۹ (۲۲۴۷)(صحیح)

۱۸۸۹- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی تو آپ نے فرمایا: ’’اس سے کون نکاح کرے گا‘‘؟ ایک شخص نے کہا: میں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’اسے کچھ دو چاہے لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو‘‘، وہ بولا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’میں نے اس کا نکاح تمہارے ساتھ اس قرآن کے بدلے کر دیا جو تمہیں یاد ہے‘‘۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر میں مال کی کوئی تحدید نہیں، خواہ کم ہو یا زیادہ، اسی طرح محنت مزدوری یا تعلیم قرآن پر بھی نکاح درست ہے، جمہورعلماء کی یہی رائے ہے، اور بعض نے دس درہم کی تحدید کی ہے، ان کے نزدیک اس سے کم میں مہر درست نہیں، لیکن ان کے دلائل اس قابل نہیں کہ ان صحیح احادیث کا معارضہ کر سکیں۔

1890- حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، حَدَّثَنَا الأَغَرُّ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ تَزَوَّجَ عَائِشَةَ عَلَى مَتَاعِ بَيْتٍ، قِيمَتُهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۴۱۹۱، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۴)(ضعیف)
(سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے)۔
۱۸۹۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے گھر میں موجود سامان پر نکاح کیا جس کی قیمت پچاس درہم تھی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ وَلا يَفْرِضُ لَهَا فَيَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ
۱۸- باب: ایک شخص نے شادی کی لیکن عورت کا مہر مقرر کرنے سے پہلے ہی مر گیا تو اس عورت کا حکم کیا ہو گا؟​

1891- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَمَاتَ عَنْهَا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، قَالَ فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ: لَهَا الصَّدَاقُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الأَشْجَعِيُّ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَضَى فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
* تخريج: د/النکاح ۳۲ (۲۱۱۴، ۲۱۱۵)، ت/النکاح ۴۳ (۱۱۴۵)، ن/النکاح ۶۸ (۳۳۵۸)، الطلاق ۵۷ (۳۵۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۴۷، ۳/۴۸۰، ۴/۲۸۰)، دي/النکاح ۴۷ (۲۲۹۲) (صحیح)

۱۸۹۱- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی عورت سے شادی کی، اور مہر کی تعین اور دخول سے پہلے ہی اس کا انتقال ہو گیا، تو انہوں نے کہا: اس عورت کو مہر ملے گا، اور میراث سے حصہ ملے گا، اور اس پہ عدت بھی لازم ہو گی، تو معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، جب آپ نے بروع بنت واشق رضی اللہ عنہا کے سلسلہ میں ایسے ہی فیصلہ کیا ۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ روایت مختصر ہے، بعض حدیثوں میں یوں ہے کہ عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عورت کو مہر مثل ملے گا، یعنی اس کے کنبے کی عورتوں کا جو مہر ہو گا وہی اس کو دلایا جائے گا، نہ کم اور نہ زیادہ، پھر معقل رضی اللہ عنہ نے گواہی دی تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نہایت خوش ہوئے کہ ان کا فیصلہ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے مطابق ہوا، علامہ ابن القیم نے کہا کہ اس فتوے کے معارض کوئی فتوی نہیں تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔

1891/أ- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ،عَنْ عَبْدِاللَّهِ مِثْلَهُ۔
۱۸۹۱/أ- اس سند سے بھی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19- بَاب خُطْبَةِ النِّكَاحِ
۱۹- باب: خطبۂ نکاح کا بیان
1892- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أُوتِيَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ جَوَامِعَ الْخَيْرِ وَخَوَاتِمَهُ،-أَوْ قَالَ: فَوَاتِحَ الْخَيْرِ،- فَعَلَّمَنَا خُطْبَةَ الصَّلاةِ وَخُطْبَةَ الْحَاجَةِ، خُطْبَةُ الصَّلاةِ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَخُطْبَةُ الْحَاجَةِ: أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلامُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ و أشهد أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ تَصِلُ خُطْبَتَكَ بِثَلاثِ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ: { يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ} إلى آخر الآية، {وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَائَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ} إلى آخر الآية،{اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ } إلى آخر الآية.
* تخريج: د/النکاح ۳۳ (۲۱۱۸)، ت/النکاح ۱۷ (۱۱۰۵)، ن/الجمعۃ ۲۴ (۱۴۰۵)، النکاح ۳۹ (۳۲۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۵۰۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۹۲، ۴۰۸، ۴۱۳، ۴۱۸، ۴۲۳، ۴۳۷)، دي/النکاح ۲۰ (۲۲۴۸) (صحیح)

۱۸۹۲- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خیر کے جامع کلمات دیئے گئے تھے ۱؎ خواہ وہ اخیر کے ہوں، یا کہا: شروع کے، آپ نے ہمیں صلاۃ کا خطبہ سکھایا اور حاجت کا خطبہ بھی، صلاۃ کا خطبہ یہ ہے: ''التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ'' (آداب بندگیاں، صلاتیں اور پاکیزہ خیراتیں، اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی! آپ پر سلام اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں نازل ہوں، اور سلام ہو ہم پر اور اللہ کے تمام نیک و صالح بندوں پر، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں) اور حاجت کا خطبہ یہ ہے: ''أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلامُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ و أشهد أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ'' (بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں) اس کے بعد اپنے خطبہ کے ساتھ قرآن کی تین آیتیں پڑھو: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ...} (اے ایمان والو! اللہ تعالی سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور مسلمان ہی رہ کر مرو) اخیر آیت تک {وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَائَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ }[سورة النساء، الآية:۱]....'' (اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو، بیشک اللہ تعالی تم پر نگہبان ہے) اخیر آیت تک {اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ} (اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالی تمہارے کام سنوارے دے گا، اور تمہارے گناہ معاف کرے گا، اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پا لی) (سورۃ الاحزاب الأیۃ: ۷۰،۷۱)...'' اخیر آیت تک ۲؎۔
وضاحت۱؎: جوامع الخیر یعنی آپ کی باتیں مختصر لیکن جامع اور مبنی برخیر ہوتی ہیں۔
وضاحت۲؎: سنن دارمی کی روایت میں ہے کہ اس خطبہ کے بعد پھر نکاح پڑھایا جائے یعنی ایجاب و قبول کرایا جائے، سنن ترمذی میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس خطبے میں تشہد نہیں وہ کوڑھ والے ہاتھ کی طرح ہے''۔

1893- حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لاشَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ . أَمَّا بَعْدُ >۔
* تخريج: م/الجمعۃ ۱۳ (۸۶۸)، ن/النکاح ۳۹ (۳۲۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۵۸۶) (صحیح)

۱۸۹۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (خطبہ میں) فرمایا: ''الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَمِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ . أَمَّا بَعْدُ''۔
(بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کوئی راہ نہیں دکھا سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی ساجھی نہیں، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں)۔

1894- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قُرَّةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < كُلُّ أَمْرٍ ذِي بَالٍ لا يُبْدَأُ فِيهِ بِالْحَمْدِ أَقْطَعُ >۔
* تخريج: د/الأدب ۲۱ (۴۸۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۲۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۵۹) (ضعیف)
(متصل مرفوع حدیث ضعیف ہے، قرۃ کی وجہ سے مرسل صحیح ہے)
۱۸۹۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو بھی اہم کام اللہ کی حمد و ثنا سے نہ شروع کیا جائے، وہ برکت سے خالی ہوتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب إِعْلانِ النِّكَاحِ
۲۰ - باب: نکاح کے اعلان کرنے کا بیان​

1895- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَالْخَلِيلُ بْنُ عَمْرٍو، قَالا: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ إِلْيَاسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ؛ قَالَ: < أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ، وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالْغِرْبَالِ>۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۵۳، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۵) (ضعیف) (اس کی سند میں خالد بن الیاس ضعیف و متروک الحدیث ہے، لیکن ''أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ'' کا جملہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء : ۱۹۹۳، الضعیفہ: ۹۸۲)
۱۸۹۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اس نکاح کا اعلان کرو اور اس پر دف بجاؤ''۔

1896- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < فَصْلُ بَيْنَ الْحَلالِ وَالْحَرَامِ، الدُّفُّ وَالصَّوْتُ فِي النِّكَاحِ >۔
* تخريج: ت/النکاح ۶ (۱۰۸۸)، ن/النکاح ۷۲ (۳۳۷۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۱۸،۴/۲۵۹) (حسن)

۱۸۹۶- محمد بن حاطب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ نکاح میں دف بجایا جائے، اور اس کا اعلان کیا جائے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: تاکہ سب لوگوں کو خبر ہو جائے کہ یہاں نکاح ہوا ہے، اب علماء کا اختلاف ہے کہ سوائے دف کے اور باجے بھی درست ہیں یا نہیں؟ جیسے طبلے سارنگی وغیرہ بعضوں نے دف کے سوا دوسرے سارے باجوں کو ناجائز رکھا ہے اور بعضوں نے شادی اور عید میں جائز رکھا ہے، اور وقتوں میں جائز نہیں رکھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب الْغِنَاءِ وَالدُّفِّ
۲۱- باب: (شادی بیاہ میں) گانے اور دف بجانے کا بیان​

1897- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ. حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْحُسَيْنِ، (اسْمُهُ خَالِدٌ الْمَدَنِيُّ ) قَالَ: كُنَّا بِالْمَدِينَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَالْجَوَارِي يَضْرِبْنَ بِالدُّفِّ، وَيَتَغَنَّيْنَ، فَدَخَلْنَا عَلَى الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ صَبِيحَةَ عُرْسِي وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ يَتَغَنَّيَتَانِ وَتَنْدُبَانِ آبَائِي الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَ بَدْرٍ، وَتَقُولانِ فِيمَا تَقُولانِ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ، فَقَالَ: < أَمَّا هَذَا فَلا تَقُولُوهُ، مَا يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ إِلا اللَّهُ >۔
* تخريج: خ/المغازي ۱۲ (۴۰۰۱)، النکاح ۴۸ (۵۱۴۷)، د/الأدب ۵۱ (۴۹۲۲)، ت/النکاح ۶ (۱۰۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۵۹، ۳۶۰) (صحیح)

۱۸۹۷- ابو الحسین خالد مدنی کہتے ہیں کہ ہم عاشورہ کے دن مدینہ میں تھے، لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور گا رہی تھیں، پھر ہم ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے یہ بیان کیا تو انہوں نے کہا: نبی اکرم ﷺ میری شادی کے دن صبح میں آئے، اس وقت میرے پاس دو لڑکیاں گا رہی تھیں، اور بدر کے دن شہید ہونے والے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کر رہی تھیں، گانے میں جو باتیں وہ کہہ رہی تھیں ان میں یہ بات بھی تھی: ''وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ'' (ہم میں مستقبل کی خبر رکھنے والے نبی ہے) آپ ﷺ نے فرمایا: ''ایسا مت کہو، اس لیے کہ کل کی بات اللہ تعالی کے علاوہ کوئی نہیں جانتا''۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شادی اور عید میں دف بجانا جائز ہے، اور اس کے جوازمیں صحیح احادیث وارد ہیں لیکن یہ ضروری ہے کہ غیر محرم عورتیں نہ گاتی ہوں اور جیسا اس زمانہ میں رواج ہے، جوان فاحشہ عورتیں گاتی بجاتی ہیں تو اس کے حرام ہونے میں کسی کو کلام نہیں ہے، اس حدیث سے ایک اہم بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ غیب کا علم اللہ تعالی کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے، اور اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔

1898- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الأَنْصَارُ فِي يَوْمِ بُعَاثٍ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ ﷺ؟ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدِ الْفِطْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < يَا أَبَا بَكْرٍ! إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا >۔
* تخريج: خ/العیدین ۲ (۹۴۹)، ۳ (۹۵۲)، ۲۵ (۹۸۷)، الجہاد ۸۱ (۲۹۰۷)، المناقب ۱۵ (۳۵۲۰)، مناقب الأنصار ۴۶ (۳۹۳۱)، م/العیدین ۴ (۸۹۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۰۱)، وقد أخرجہ: ن/العیدین ۳۲ (۱۵۹۴)، ۳۶ (۱۵۹۸)، حم (۶/۳۳، ۸۴، ۹۹، ۱۲۷) (صحیح)

۱۸۹۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے، اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں ایسے اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے جنگ بعاث کے دن کہے تھے، اور وہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں، تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کے گھر میں شیطان کا باجا ہو رہا ہے، اور یہ عید الفطر کا دن تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ابو بکر! ہر قوم کی ایک عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: بعض علماء نے کہا یہ واقعہ حجاب (پردہ) کے حکم نازل ہونے سے پہلے کا تھا، اور حافظ ابن حجر نے کہا کہ مجھے قوی دلیلوں سے یہ معلوم ہوا کہ رسول اکرم ﷺ کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ ﷺ کو اجنبی عورت کے ساتھ خلوت اور اس کی طرف نظر کرنا درست تھا، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خوشی یا شادی کے موقع پر دف بجانا اور گانا منع نہیں ہے۔

1899- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَرَّ بِبَعْضِ الْمَدِينَةِ فَإِذَا هُوَ بِجَوَارٍ يَضْرِبْنَ بِدُفِّهِنَّ وَيَتَغَنَّيْنَ وَيَقُلْنَ:
نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ
يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ
فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: "يَعْلَمُ اللَّهُ إِنِّي لأُحِبُّكُنَّ"۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۶) (صحیح)

۱۸۹۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ کے ایک راستہ سے گزرے تو دیکھا کہ کچھ لڑکیاں دف بجاتے ہوئے گا رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں:
نَحْنُ جَوَارٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ
يَا حَبَّذَا مُحَمَّدٌ مِنْ جَارِ

ہم بنی نجار کی لڑکیاں ہیں
کیا ہی عمدہ پڑوسی ہیں محمد ﷺ
یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں تم سے محبت رکھتا ہوں''۔

وضاحت۱؎: اس سے بھی معلوم ہوا کہ عید کے دن دف بجانا اور گانا صحیح ہے۔

1900- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ،أَنْبَأَنَا الأَجْلَحُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَنْكَحَتْ عَائِشَةُ ذَاتَ قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الأَنْصَارِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟ > قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: < أَرْسَلْتُمْ مَعَهَا مَنْ يُغَنِّي؟ > قَالَتْ: لا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < إِنَّ الأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ، فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفۃ الأشراف: ۶۴۵۳، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۷) (حسن)
(''غزل'' کا جملہ منکر ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۴۶۵)
۱۹۰۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے اپنی ایک قرابت دار خاتون کی شادی کرائی، تو رسول اللہ ﷺ وہاں تشریف لائے، اور فرمایا: ''تم لوگوں نے دلہن کو رخصت کر دیا''؟ لوگوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کے ساتھ کوئی گانے والی بھی بھیجی''؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''انصار کے لوگ غزل پسند کرتے ہیں، کاش تم لوگ دلہن کے ساتھ کسی کو بھیجتے جو یہ گاتا: ''أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ'' (ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، اللہ تمہیں اور ہمیں سلامت رکھے'') ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: دوسری روایت میں ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے چل کر مدینہ پہنچے تو انصار کی لڑکیاں راستوں پر گاتی بجاتی نکلیں، اور آپ ﷺ کی آمد پر کی خوشی میں کہا:
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مٍنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ وَجَبَ الشُّكْرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا للهِ دَاع
آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی تم سے محبت رکھتا ہے'' اصل یہ ہے کہ الأعمال بالنیات، ان لڑکیوں کو گانے سے اور کوئی غرض نہ تھی سوا اس کے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی آمد کی خوشی میں ایسا کرتی تھیں، اور یہ لڑکیاں پیشہ ور گانے والیاں نہ تھیں بلکہ کمسن اور نابالغ تھیں، اور آپ ﷺ کے تشریف لانے کی خوشی میں معمولی طور سے گانے بجانے لگیں، یہ مباح ہے اس کی اباحت میں کچھ شک نہیں۔
ابن القیم زاد المعاد میں لکھتے ہیں کہ لڑکیوں کے استقبال کا یہ واقع غزوہ تبوک سے واپسی کا ہے۔

1901- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى،حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَسَمِعَ صَوْتَ طَبْلٍ فَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ تَنَحَّى، حَتَّى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ ،( تحفۃ الأشراف: ۷۴۰۷، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۸) (صحیح)
(یہ ''زمارۃ راع'' کے لفظ سے صحیح ہے، اور اس میں ''طبل'' کا ذکر منکر ہے)
۱۹۰۱- مجاہد کہتے ہیں کہ میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا انہوں نے طبلہ کی آواز سنی تو اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں ڈال لیں، اور وہاں سے ہٹ گئے یہاں تک کہ ایسا تین مرتبہ کیا، پھر کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے۔
وضاحت۱؎: یہ دلیل ان لوگوں کی ہے جو مزامیر کو حرام کہتے ہیں، شاید نبی اکرم ﷺ کو طبلہ کی سخت آواز ناگوار ہو گی اس لیے آپ ﷺ نے کان بند کر لیے ورنہ راستہ میں چلنا اور محلہ میں رہنا دشوار ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب فِي الْمُخَنَّثِينَ
۲۲- باب: ہجڑوں کا بیان​

1902- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ،عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَمِعَ مُخَنَّثًا وَهُوَ يَقُولُ لِعَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ: إِنْ يَفْتَحِ اللَّهُ الطَّائِفَ غَدًا دَلَلْتُكَ عَلَى امْرَأَةٍ تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَخْرِجُوهُ مِنْ بُيُوتِكُمْ >۔
* تخريج: خ/المغازي ۵۶ (۴۳۲۴)، اللباس ۶۲ (۵۸۸۷)، النکاح ۱۱۳ (۵۲۳۵)، م/السلام ۱۳ (۲۱۸۰)، د/الأدب ۶۱ (۴۹۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۲۹۰، ۳۱۸) (صحیح)

۱۹۰۲- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، وہاں ایک ہجڑے کو سنا جو عبد اللہ بن ابی امیہ سے کہہ رہا تھا: اگر اللہ کل طائف کو فتح کر دے گا تو میں تم کو ایک عورت بتاؤں گا جو سامنے آتی ہے چار سلوٹوں کے ساتھ اور پیچھے مڑتی ہے آٹھ سلوٹوں کے ساتھ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسے اپنے گھروں سے باہر نکال دو'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: عربی میں ہجڑے کو مخنث کہتے ہیں یہ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو خلقی جس کے بدن میں پیدائش ہی کے وقت سے نرمی اور اعضاء میں عورتوں کی طرح لوچ ہوتا ہے اس پر گناہ نہیں، نہ یہ اللہ تعالی کے نزدیک برا ہے، دوسرے جو خصیئے نکال کر بنائے جاتے ہیں، یہ مذموم ہیں، پہلے یہ مخنث ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما کے گھر جاتا تھا، اس وجہ سے کہ عورتوں کو مخنث سے تعلق نہیں ہوتا تو وہ غیر اولی الاربہ میں داخل ہوا، اس کے بعد جب رسول اکرم ﷺ نے دیکھا کہ وہ عورتوں کے اوصاف بیان کرتا ہے تو آپ نے اس کو گھروں میں جانے سے منع کر دیا، اس مخنث کا نام ہیت تھا، اس کے بعد آپ ﷺ نے اس کو مدینہ سے حمے کی طرف نکلوا دیا تھا جب عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت ہوئی تو لوگوں نے کہا اب وہ بوڑھا اور ناتواں ہو گیا ہے اور محتاج ہے تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اجازت دی کہ ہفتہ میں ایک بار جمعہ کے دن شہر میں آیا کرے اور بھیک مانگ کر پھر اپنی جگہ چلا جایا کرے اور وہیں رہے۔

1903- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سُهَيْلٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَعَنَ الْمَرْأَةَ تَتَشَبَّهُ بِالرِّجَالِ وَالرَّجُلَ يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۹۴، ومصباح الزجاجۃ: ۶۷۹) (حسن صحیح)

۱۹۰۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عورت پر لعنت کی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے، اور اس مرد پر لعنت کی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرے۔

1904- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ لَعَنَ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ، وَلَعَنَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ۔
* تخريج: خ/اللباس ۶۱ (۵۸۸۵)، د/اللباس ۳۱ (۴۰۹۷)،ت/الأدب ۳۴ (۲۷۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۸۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵۱، ۲۵۴، ۳۰۰، ۳۳۹)، دي/الإستئذان ۲۱ (۲۶۹۱) (صحیح)

۱۹۰۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں پر لعنت کی، اور مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب تَهْنِئَةِ النِّكَاحِ
۲۳- باب: نکاح پر مبارک باد دینے کا بیان​

1905- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا رَفَّأَ قَالَ: <بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ>۔
* تخريج: د/النکاح ۳۷ (۲۱۳۰)، ت/النکاح ۷ (۱۰۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۹۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/ ۳۸۱)، دي/النکاح ۶ (۲۲۱۹) (صحیح)

۱۹۰۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب شادی کی مبارک باد دیتے تو فرماتے: ''بَارَكَ اللَّهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ'' "اللہ تم کو برکت دے، اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں میں خیر پر اتفاق رکھے"۔

1906- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ، فَقَالُوا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لاتَقُولُوا هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا، كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۰۱۴)، وقد أخرجہ: ن/النکاح ۷۳ (۳۳۷۳)، حم (۱/۲۰۱، ۳/ ۴۵۱) (صحیح)

۱۹۰۶- عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے (جاہلیت کے دستور کے مطابق) یوں کہا: ''بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ'' (میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں) تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:''اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ'' اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اگرچہ اس موقع پر جاہلیت کا دستور بھی ایسا برا نہ تھا مگر چونکہ اس سے یہ نکلتا تھا کہ بیٹیوں کا ہونا اس کو پسند نہیں ہے، اس وجہ سے ممانعت کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب الْوَلِيمَةِ
۲۴- باب: ولیمہ کا بیان​

1907- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ رَأَى عَلَى عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ: < مَا هَذَا؟ أَوْ مَهْ > فَقَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: <بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ >۔
* تخريج: خ/البیوع ۱ (۲۰۴۹)، مناقب الأنصار۳ (۳۷۸۱)، ۵۰ (۳۹۳۷)، النکاح ۷ (۵۰۷۲)، ۴۹ (۵۱۳۸)، ۵۴ (۵۱۵۳)، ۵۶ (۵۱۵۵)، ۶۸ (۵۱۶۷)، الأدب ۶۷ (۶۰۸۲)، الدعوات ۵۳ (۶۳۸۳)، م/النکاح ۱۳ (۱۴۲۷)، ت/النکاح ۱۰ (۱۰۹۴)، ن/النکاح ۷۵ (۳۳۷۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۸)، وقد أخرجہ: د/النکاح ۳۰ (۲۱۰۹)، ط/النکاح۲۱ (۴۷)، حم (۳/۱۶۵،۱۹۰،۲۰۵)، دي/الأطعمۃ ۲۸ (۲۱۰۸)، النکاح ۲۲ (۲۲۵۰) (صحیح)

۱۹۰۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ (کے جسم) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: '' یہ کیا ہے''؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: واضح رہے کہ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حیثیت کو دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال صحیح نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا، ولیمہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو شوہر کی طرف سے شب زفاف کے بعد ہوتا ہے اور یہ کھانا مسنون ہے۔

1908- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مَارَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَوْلَمَ عَلَى شَيْئٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً۔
* تخريج: خ/النکاح ۶۸ (۵۱۶۸)، م/النکاح ۱۳ (۱۴۲۸)، د/الأطعمۃ ۲ (۳۷۴۳)، (تحفۃ الأشراف: ۲۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۲۷) (صحیح)

۱۹۰۸- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا کیا، آپ ﷺ نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔

1909- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، وَغِيَاثُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّحَبِيُّ قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ أَبِيْهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ۔
* تخريج: د/الأطعمۃ ۲ (۳۷۴۴)، ت/النکاح ۱۰ (۱۰۹۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۸۲)، وقد أخرجہ: م/النکاح ۱۴ (۱۳۶۵)، الجہاد ۴۳ (۱۳۶۵)، ن/النکاح ۷۹ (۳۳۸۴) (صحیح)

۱۹۰۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ام المومنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا ولیمہ ستو اور کھجور سے کیا۔

1910- حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: شَهِدْتُ لِلنَّبِيِّ ﷺ وَلِيمَةً، مَا فِيهَا لَحْمٌ وَلا خُبْزٌ، قَالَ ابْن مَاجَةَ: لَمْ يُحَدِّثْ بِهِ إِلا ابْنُ عُيَيْنَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۵)، وقد أخرجہ: خ/النکاح ۶۱ (۵۱۵۹)، م/النکاح ۱۴ (۱۳۶۵)، حم (۳/۹۹) (صحیح)
(اس کی سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن اصل حدیث صحیح ہے، کما فی التخریج)
۱۹۱۰- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔
ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔


1911- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ،حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتَا: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ نُجَهِّزَ فَاطِمَةَ حَتَّى نُدْخِلَهَا عَلَى عَلِيٍّ فَعَمَدْنَا إِلَى الْبَيْتِ، فَفَرَشْنَاهُ تُرَابًا لَيِّنًا مِنْ أَعْرَاضِ الْبَطْحَاءِ، ثُمَّ حَشَوْنَا مِرْفَقَتَيْنِ لِيفًا، فَنَفَشْنَاهُ بِأَيْدِينَا، ثُمَّ أَطْعَمْنَا تَمْرًا وَزَبِيبًا وَسَقَيْنَا مَائً عَذْبًا وَعَمَدْنَا إِلَى عُودٍ، فَعَرَضْنَاهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ لِيُلْقَى عَلَيْهِ الثَّوْبُ وَيُعَلَّقَ عَلَيْهِ السِّقَاءُ، فَمَا رَأَيْنَا عُرْسًا أَحْسَنَ مِنْ عُرْسِ فَاطِمَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۳۱، ۱۸۲۱۲، ومصباح الزجاجۃ: ۶۸۰) (ضعیف)
(سند میں مفضل بن عبد اللہ اور جابر جعفی ضعیف راوی ہیں)
۱۹۱۱- ام المومنین عائشہ اور ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کریں اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، چنانچہ ہم گھر میں گئے، اور میدان بطحاء کے کناروں سے نرم مٹی لے کر اس گھر میں بطور فرش ہم نے بچھا دی، پھر دو تکیوں میں کھجور کی چھال بھری، اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے دُھنا، پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلایا، اور میٹھا پانی پلایا، اور ہم نے ایک لکڑی گھر کے ایک گوشہ میں لگا دی تاکہ اس پر کپڑا ڈالا جا سکے، اور مشکیزے لٹکائے جا سکیں چنانچہ ہم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔

1912- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ إِلَى عُرْسِهِ، فَكَانَتْ خَادِمَهُمُ الْعَرُوسُ قَالَتْ: تَدْرِي مَا سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَتْ: أَنْقَعْتُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ صَفَّيْتُهُنَّ فَأَسْقَيْتُهُنَّ إِيَّاهُ۔
* تخريج: خ/النکاح ۷۱ (۵۱۷۶،۵۱۷۷)، م/الاشربۃ ۲۷ (۲۰۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۰۹) (صحیح)

۱۹۱۲- سہل بن سعد ساعد یرضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ کو ﷺ کو ان کا شربت پلایا۔
 
Top