- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
35- بَاب لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلا الْمَصَّتَانِ
۳۵- باب: ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
۳۵- باب: ایک بار یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
1940- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلا الرَّضْعَتَانِ أَوِ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ >۔
* تخريج: م/الرضاع ۵ (۱۴۵۱)، ن/النکاح ۵۱ (۳۳۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۰۵۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۳۹،۳۴۰)، دي/النکاح ۴۹ (۲۲۹۸) (صحیح)
۱۹۴۰- ام الفضل رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ایک یا دو بار دودھ پینے یا چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی ''۱؎۔
وضاحت۱؎: جب بچہ ماں کی چھاتی کو منہ میں لے کر چوستا ہے پھر بغیر کسی عارضہ کے اپنی مرضی و خوشی سے چھاتی کوچھوڑ دیتا ہے تو اسے رَضْعَۃٌ کہتے ہیں، اور مصّۃ: مصّ سے ماخوذ ہے جس کے معنی چوسنے کے ہیں، مصۃ اور رَضْعَۃٌ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔
رضاعت کا حکم کتنا دودھ پینے سے ثابت ہوتا ہے اس میں اختلاف ہے، جمہور کا قول ہے کہ یہ حکم تھوڑا دودھ پیا ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں ثابت ہو جاتا ہے، داود ظاہری اور ایک قول کے مطابق احمد، اسحاق راہویہ، ابوعبید وغیرہم نے اس حدیث کے مفہوم مخالف (یعنی دو بار پینے یا چوسنے سے حرمت نہیں ثابت ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تین بار ایسا کرنے سے حرمت ثابت ہو جائیگی) سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ رضاعت کا حکم تین مرتبہ پینے سے ثابت ہوتا ہے دو دفعہ پینے سے نہیں، اور امام شافعی کہتے ہیں کہ پانچ مرتبہ پینے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت ہوتی ہے ان کی دلیل ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے جو آگے آرہی ہے، جمہور کی دلیل آیت کریمہ: {امهاتكم اللآتى ارضعنكم} ہے۔
1941- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < لا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ >۔
* تخريج: م/الرضاع ۵ (۱۴۵۰)، د/النکاح ۱۱ (۲۰۶۳)، ت/الرضاع ۳ (۱۱۵۰)، ن/النکاح ۵۱ (۳۳۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۸۹)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۱، ۹۶، ۲۱۶، ۲۴۷)، دي/النکاح ۴۹ (۲۲۹۷) (صحیح)
۱۹۴۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''ایک یا دو بار دودھ چوسنے سے حرمت کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت نہیں ہوتی''۔
1942- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ عَبْدِالصَّمَدِ بْنِ عَبْدِالْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ، ثُمَّ سَقَطَ: لا يُحَرِّمُ إِلا عَشْرُ رَضَعَاتٍ أَوْ خَمْسٌ مَعْلُومَاتٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۱۱)، وقد أخرجہ: م/الرضاع ۶ (۱۴۵۲)، ولفظہ أصح، د/النکاح ۱۱ (۲۰۶۲)، ت/الرضاع ۳ (۱۱۵۰)، ن/النکاح ۵۱ (۳۳۰۹)، ط/الرضاع ۳ (۱۷)، حم (۶/۲۶۹)، دي/النکاح ۴۹ (۲۲۹۹) (صحیح)
۱۹۴۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پہلے قرآن میں یہ آیت تھی ، پھر وہ ساقط و منسوخ ہو گئی، وہ آیت یہ ہے''لا يُحَرِّمُ إِلا عَشْرُ رَضَعَاتٍ أَوْ خَمْسٌ مَعْلُومَاتٌ'' دس یا پانچ مقرر رضاعتوں کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت ہوتی ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ قرآن مجید میں یہ حکم نازل کیا گیا تھا کہ دس بار دودھ پینا حتی کہ اس کے پینے کا یقین ہو جائے، نکاح کو حرام قرار دیتا ہے، پھر پانچ بار دودھ پینے کے حکم سے یہ حکم منسوخ کر دیا گیا، اور جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو خمس معلومات (یعنی پانچ بار دودھ پینے) والی آیت قرآن میں پڑھی جا رہی تھی، امام نووی کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ پانچ کی تعداد کا نسخ اتنی تاخیر سے ہوا کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات کا واقعہ پیش آگیا اور بعض لوگ پھر بھی ان پانچ کی تعداد کو قرآن سمجھ کر اس کی تلاوت کرتے رہے کیونکہ آپ کی وفات کے بالکل ساتھ ہی ان کا منسوخ ہونا نازل ہوا تھا۔
مزید فرمایا کہ نسخ کی تین قسمیں ہیں، ایک جس کا حکم اور تلاوت دونوں منسوخ ہو جیسے دس مرتبہ دودھ پینے والی آیت، دوسری جس کی تلاوت تو منسوخ ہو مگر اس کا حکم باقی ہو جیسے پانچ مرتبہ دودھ پینے کی آیت، اور آیت رجم، اور تیسری یہ کہ جس کا حکم تو منسوخ ہو مگر اس کی تلاوت باقی ہو جیسے آیت وصیت وغیرہ۔