• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب الْمُخْتَلِعَةِ تَأْخُذُ مَا أَعْطَاهَا
۲۲- باب: شوہرنے عورت کو جو مال دیا ہے خلع کے بدلے وہ لے سکتا ہے​

2056- حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى بْنُ عَبْدِالأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ سَلُولِ أَتَتِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَتْ: وَاللَّهِ! مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلا خُلُقٍ، وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلامِ، لاأُطِيقُهُ بُغْضًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ﷺ: < أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟ > قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا حَدِيقَتَهُ وَلا يَزْدَادَ۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۰۵، ومصباح الزجاجۃ: ۶۲۰۵)، وقد أخرجہ: خ/الطلاق ۱۲ (۵۲۷۳، ۵۲۷۴)، د/الطلاق ۱۸ (۲۲۲۸۹)، ت/الطلاق ۱۰ (۱۱۸۵)، ن/الطلاق ۳۴ (۳۴۹۲) (صحیح)

۲۰۵۶- عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر عرض کیا: اللہ کی قسم میں (اپنے شوہر) ثابت پر کسی دینی و اخلاقی خرابی سے غصہ نہیں کر رہی ہوں، لیکن میں مسلمان ہو کر کفر (شوہر کی ناشکری) کو ناپسند کرتی ہوں، میں ان کے ساتھ نہیں رہ پاؤں گی کیونکہ شکل و صورت سے وہ مجھے ناپسند ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: ''کیا ان کا دیا ہوا باغ واپس لوٹا دو گی''؟ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے ثابت کو حکم دیا کہ اپنی بیوی جمیلہ سے اپنا باغ لے لیں، اور زیادہ نہ لیں۱؎۔
وضاحت۱؎: صحیح سند سے دار قطنی کی روایت میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ثابت نے مہر میں اس کو ایک باغ دیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: تم اس کا باغ واپس کر دیتی ہو جو اس نے تم کو دیا ہے؟ تو انہوں کہا: ہاں، باغ بھی دیتی ہوں اور کچھ زیادہ بھی دیتی ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: زیادہ نہیں، صرف باغ لوٹا دو، اس نے کہا: بہت اچھا، معلوم ہوا کہ شوہر نے جو بیوی کو دیا خلع کے بدلے اس سے زیادہ لینا جائز نہیں، علی، طاؤس، عطاء، زہری، ابو حنیفہ، احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ اور جمہور کہتے ہیں کہ اس سے زیادہ بھی لینا جائز ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فلا جناح عليهما فيما افتدت به}، اور یہ عام ہے، قلیل اور کثیر دونوں کو شامل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں سے اس کی تخصیص ہو جاتی ہے۔

2057- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ. حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، وَكَانَ رَجُلا دَمِيمًا، فَقَالَتْ: يَارَسُولَ اللَّهِ! وَاللَّهِ لَوْلا مَخَافَةُ اللَّهِ، إِذَا دَخَلَ عَلَيَّ لَبَصَقْتُ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ > قَالَتْ: نَعَمْ، فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ، قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۷۷، ومصباح الزجاجۃ: ۷۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳) (ضعیف)
(سند میں حجاج بن أرطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن صحیح احادیث اس سے مستغنی کر دیتی ہے)
۲۰۵۷- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں، وہ ناٹے اور بد صورت آدمی تھے، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم، اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی''؟ کہا: ہاں، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب عِدَّةِ الْمُخْتَلِعَةِ
۲۳-باب: خلع کرانے والی عورت کی عدت کا بیان​

2058- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي عُبَادَةُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَاءَ قَالَ: قُلْتُ لَهَا: حَدِّثِينِي حَدِيثَكِ، قَالَتِ: اخْتَلَعْتُ مِنْ زَوْجِي، ثُمَّ جِئْتُ عُثْمَانَ، فَسَأَلْتُ مَاذَا عَلَيَّ مِنَ الْعِدَّةِ؟ فَقَالَ: لا عِدَّةَ عَلَيْكِ، إِلا أَنْ يَكُونَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِكِ، فَتَمْكُثِينَ عِنْدَهُ حَتَّى تَحِيضِينَ حَيْضَةً، قَالَتْ: وَإِنَّمَا تَبِعَ فِي ذَلِكَ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي مَرْيَمَ الْمَغَالِيَّةِ، وَكَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، فَاخْتَلَعَتْ مِنْهُ۔
* تخريج: ن/الطلاق ۵۳ (۳۵۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸۳۶) (حسن صحیح)

۲۰۵۸- عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے کہا: تم مجھ سے اپنا واقعہ بیان کرو، انہوں نے کہا: میں نے اپنے شوہر سے خلع کرا لیا، پھر میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آکر پو چھا: مجھ پر کتنی عدت ہے؟ انہوں نے کہا: تم پر کوئی عدت نہیں مگر یہ کہ تمہارے شوہر نے حال ہی میں تم سے صحبت کی ہو، تو تم اس کے پاس رکی رہو یہاں تک کہ تمہیں ایک حیض آجا ئے، ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا: عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کی پیروی کی، جو آپ نے بنی مغالہ کی خاتون مریم رضی اللہ عنہا کے سلسلے میں کیا تھا، جو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور ان سے خلع کرلیا تھا ۱؎۔
وضاحت۱؎: نسائی میں ربیع بنت معوذ سے روایت ہے کہ ثابت کی عورت کے قصے میں نبی کریم ﷺ نے اس سے فرمایا: ''جو تمہارا اس کے پاس ہے وہ لے لو اور اس کو چھوڑدو'' ثابت نے کہا: اچھا، پھر نبی کریم ﷺ نے اس کو ایک حیض کی عدت گزارنے کا حکم دیا۔ اور یہ کئی طریق سے مروی ہے، ان حدیثوں سے یہ نکلتا ہے کہ خلع کرانے والی کی عدت ایک حیض ہے اور خلع نکاح کا فسخ ہے، اہل حدیث کا یہی مذہب ہے، اگر خلع طلاق ہوتا تو اس کی عدت تین حیض ہوتی، ابو جعفر النحاس نے الناسخ والمنسوخ میں اس پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے، اور یہی دلائل کی روشنی میں زیادہ صحیح ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب الإِيلاءِ
۲۴- باب: ایلاء کا بیان
وضاحت۱؎: ایلاء کہتے ہیں کہ شوہر قسم کھائے: میں اپنی عورت سے صحبت نہ کروں گا، اگر چار مہینے سے کم کے لئے یہ قسم ہو تو اپنی قسم پوری کرے یا کفارہ ادا کرے، اور اگر چار مہینے سے کم کے لئے ہو تو ایلاء جائز ہے اور نبی کریم ﷺ نے ایک مہینہ کے لئے اپنی بیویوں سے ایلاء کیا تھا۔

2059- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَقْسَمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ لا يَدْخُلَ عَلَى نِسَائِهِ شَهْرًا، فَمَكَثَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا، حَتَّى إِذَا كَانَ مِسَاءَ ثَلاثِينَ، دَخَلَ عَلَيَّ، فَقُلْتُ إِنَّكَ أَقْسَمْتَ أَنْ لا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا، فَقَالَ: < الشَّهْرُ هَكَذَا > يُرْسِلُ أَصَابِعَهُ فِيهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ <وَالشَّهْرُ كَذَا > وَأَرْسَلَ أَصَابِعَهُ كُلَّهَا، وَأَمْسَكَ إِصْبَعًا وَاحِدًا فِي الثَّالِثَةِ.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۱۹، ومصباح الزجاجۃ: ۷۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۳، ۱۰۵) (حسن صحیح)

۲۰۵۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قسم کھائی کہ ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ ۲۹ دن تک رکے رہے، جب تیسویں دن کی شام ہوئی تو آپ ﷺ میر ے پاس آئے، میں نے کہا: آپ نے تو ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی؟ آپ ﷺ نے فر مایا: ''مہینہ اس طرح ہوتا ہے آپ نے دونوں ہاتھوں کی ساری انگلیوں کو کھلا رکھ کر تین بار فرمایا، اس طرح کل تیس دن ہوئے، پھرفرمایا: ''اور مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے'' اس بار دو دفعہ ساری انگلیوں کو کھلا رکھا، تیسری بار میں ایک انگلی بند کر لی۔

2060- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ إِنَّمَا آلَى، لأَنَّ زَيْنَبَ رَدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتَهُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَقَدْ أَقْمَأَتْكَ، فَغَضِبَ ﷺ، فَآلَى مِنْهُنَّـ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۷۲۸) (ضعیف)
(سند میں حارثہ بن محمد بن ابی الرجال ضعیف ہیں)
۲۰۶۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایلا ء کیا، اس لیے کہ ام المومنین زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کا بھیجا ہوا ہدیہ واپس کر دیا تھا، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: زینب نے آپ کی بے قدری کی ہے، یہ سن کر آپ غصہ ہوئے اور ان سب سے ایلاء کر لیا۱؎۔
وضاحت۱؎: نبی اکرم ﷺ کو رنج و ملال ہوا، ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کے پاس کہیں سے ہدیہ آیا، آپ نے سب بیویوں کو اس میں سے حصے بھیجے، زینب رضی اللہ عنہا نے وہ حصہ واپس کر دیا، آپ نے اور زیادہ کرکے بھیجا جب بھی پھیر دیا، تب آپ غصہ ہوئے، اور قسم کھائی کہ میں تم سب کے پاس ایک مہینہ تک نہ آؤں گا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے جانور ذبح کیا تھا، اس کا گوشت سب بیویوں کو بھیجا جب انہوں نے نہ لیا تو اس وقت آپ کو غصہ آیا۔ اور بعضوں نے کہا: ایلاء کا سبب یہ نہ تھا بلکہ آپ ﷺ کی بیویاں آپ سے خرچ مانگتی تھیں، اور تقاضا کرتی تھیں، چنانچہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما آئے، انہوں نے اپنی اپنی بیٹیوں کو ڈانٹا، اس وقت آپ ﷺ نے ایلاء کیا، پھر یہ آیت تخییر اتری۔ واللہ اعلم۔

2061- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ آلَى مِنْ بَعْضِ نِسَائِهِ شَهْرًا، فَلَمَّا كَانَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ رَاحَ أَوْ غَدَا، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّمَا مَضَى تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَقَالَ: < الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ >۔
* تخريج: خ/الصوم ۱۱ (۱۹۱۰)، م/الصیام ۴ (۱۰۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۲۰۱)، وقد أخرجہ: حم (۶/۳۱۵) (صحیح)

۲۰۶۱- ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بعض بیویوں سے ایک ماہ کا ایلاء کیا، جب ۲۹ دن ہو گئے تو آپ صبح کو یا شام کو بیویوں کے پاس تشریف لے گئے، عرض کیا گیا: اللہ کے رسو ل! ابھی تو ۲۹ ہی دن ہوئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''مہینہ۲۹ کا بھی ہوتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب الظِّهَارِ
۲۵- باب: ظہار کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: ظہار یہ ہے کہ مرد اپنی عورت سے کہے کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ، یا یوں کہے: میں نے تجھ سے ظہار کیا، اس صورت میں جماع سے پہلے کفارہ دینا چاہئے، ایک غلام آزاد کرے، اگر نہ ہو سکے تو دو مہینے پے در پے صیام رکھے، اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے جیسے قرآن شریف میں وارد ہے۔

2062- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ؛ قَالَ: كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ، لا أَرَى رَجُلا كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَا أُصِيبُ،فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ، فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَيْئٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَوَاقَعْتُهَا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي، فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي، وَقُلْتُ لَهُمْ: سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَقَالُوا: مَا كُنَّا نَفْعَلُ، إِذًا يُنْزِلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِينَا كِتَابًا، أَوْ يَكُونَ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَوْلٌ، فَيَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهُ وَلَكِنْ سَوْفَ نُسَلِّمُكَ لِجَرِيرَتِكَ، اذْهَبْ أَنْتَ فَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُهُ، فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <أَنْتَ بِذَاكَ؟> فَقُلْتُ: أَنَا بِذَاكَ، وَهَا أَنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَابِرٌ لِحُكْمِ اللَّهِ عَلَيَّ، قَالَ: <فَأَعْتِقْ رَقَبَةً>، قَالَ: قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلَّا رَقَبَتِي هَذِهِ ، قَالَ: < فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ > قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَهَلْ دَخَلَ عَلَيَّ مَا دَخَلَ مِنَ الْبَلاءِ إِلا بِالصَّوْمِ؟ قَالَ: < فَتَصَدَّقْ أَوْ أَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا > قَالَ، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَا لَنَا عَشَائٌ، قَالَ: <فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ، فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ، وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا>۔
* تخريج: د/الطلاق ۱۷(۲۲۱۳)، ت/الطلاق ۲۰ (۱۱۹۸،۱۲۰۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۷،۵/۴۳۶)، دي/الطلاق ۹ (۲۳۱۹) (ملاحظہ ہو: الإرواء : ۲۰۹۱، وصحیح ابی داود : ۱۹۴۲ - ۱۹۴۹) (صحیح)

۲۰۶۲- سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا آدمی تھا جسے عورتوں کی بڑی چاہت رہتی تھی، میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورت سے اتنی صحبت کرتا ہو جتنی میں کرتا تھا، جب رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے رمضان گزرنے تک ظہار کر لیا، ایک رات وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کا کچھ بدن کھل گیا، میں اس پہ چڑھ بیٹھا، اور اس سے مباشرت کر لی، جب صبح ہوئی تو میں اپنے لوگوں کے پاس گیا، اور ان سے اپنا قصہ بیان کیا، میں نے ان سے کہا: تم لوگ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھو، تو انہوں نے کہا: ہم نہیں پوچھیں گے، ایسا نہ ہو کہ ہماری شان میں وحی اترے، یا رسول اللہ ﷺ ہم لوگوں کے سلسلے میں کچھ فرما دیں، اور اس کا عار ہمیشہ کے لیے باقی رہے لیکن اب یہ کام ہم تمہارے ہی سپرد کرتے ہیں، اب تم خود ہی جاؤ اور رسول اللہ ﷺ سے اپنا حال بیان کرو۔
سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود ہی چلا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر آپ سے واقعہ بیان کیا، آپ نے فرمایا: ''تم نے یہ کام کیا ہے''؟ میں نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں اور اپنے بارے میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم ایک غلام آزاد کرو''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں تو صرف اپنی جان کا مالک ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم لگاتار دو ماہ کے صیام رکھو، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول یہ بلا جو میرے اوپر آئی ہے صیام ہی کہ وجہ سے تو آئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو صدقہ دو، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ''، میں نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے یہ رات اس حالت میں گزاری ہے کہ ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''بنی زریق کا صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ، اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں کچھ مال دے دے، اور اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور جو بچے اپنے کام میں لے لو' ۱ ۔

وضاحت۱؎: سبحان اللہ، کفارہ ادا ہو گیا، اور مال بھی ہاتھ آگیا، یہی حال ہوتا ہے اس کا جو سچائی اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالی کی درگاہ میں حاضر ہو، اور اس پر اجماع ہے کہ ظہار کا کفارہ اس وقت واجب ہوتا ہے جب مرد اپنی بیوی سے جماع کا ارادہ کرے، اور اگر کفارے سے پہلے جماع کر لیا تو گنہگار ہو گا، لیکن ایک ہی کفارہ واجب ہو گا اور یہی حق ہے۔

2063- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ؛ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: تَبَارَكَ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ كُلَّ شَيْئٍ، إِنِّي لأَسْمَعُ كَلامَ خَوْلَةَ بِنْتِ ثَعْلَبَةَ، وَيَخْفَى عَلَيَّ بَعْضُهُ، وَهِيَ تَشْتَكِي زَوْجَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَهِيَ تَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَكَلَ شَبَابِي، وَنَثَرْتُ لَهُ بَطْنِي، حَتَّى إِذَا كَبِرَتْ سِنِّي وَانْقَطَعَ وَلَدِي، ظَاهَرَ مِنِّي، اللَّهُمَّ إِنِّي أَشْكُو إِلَيْكَ فَمَا بَرِحَتْ حَتَّى نَزَلَ جِبْرَائِيلُ بِهَؤُلاءِ الآيَاتِ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ.
* تخريج: خ/التوحید ۹ (۷۳۸۵ تعلیقاً)، ن/الطلاق ۳۳ (۳۴۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۳۲)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۶) (دیکھئے : حدیث نمبر : ۱۸۸) (صحیح)

۲۰۶۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: بابرکت ہے وہ ذات جو ہر چیز کو سنتی ہے، میں خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی بات سن رہی تھی، کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آرہی تھیں، وہ رسول اللہ ﷺ سے اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھیں کہ میرا شوہر میری جوانی کھا گیا، میں اس کی اولاد جنتی رہی، جب میں بوڑھی ہو گئی اور ولادت کا سلسلہ منقطع ہو گیا، تو اس نے مجھ سے ظہارکر لیا، اے اللہ! میں تجھ ہی سے شکوہ کرتی ہوں، وہ ابھی وہاں سے ہٹی بھی نہیں تھیں کہ جبرئیل علیہ السلام یہ آیتیں لے کر اترے: {قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ} [سورة المجادلة:1] (اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی)۱؎۔
وضاحت۱؎: اپنی مصیبت اور دکھ کا شکوہ کررہی تھی، تب اللہ تعالی نے یہ حکم اتارا، اور ظہار کا کفارہ بیان فرمایا، اور عورت کی داد رسی کی شوہر نے کفارہ دے کر پھر اس کو بیوی کی طرح سمجھا، اور اس سے صحبت کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب الْمُظَاهِرِ يُجَامِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ
۲۶- باب: ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے جماع کرلے تو اس کے حکم کا بیان​

2064- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَائٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، عنِ النَّبِيِّ ﷺ، فِي الْمُظَاهِرِ يُوَاقِعُ قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، قَالَ : < كَفَّارَةٌ وَاحِدَةٌ >۔
* تخريج: انظرحدیث ( رقم: ۲۰۶۲) (صحیح)

۲۰۶۴- سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ظہار کرنے والے شخص کے متعلق جو کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جماع کرلے فرمایا: ''اس پر ایک ہی کفارہ ہے''۔

2065- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلا ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: < مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ > قَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ! رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ، فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَأَمَرَهُ أَلايَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ۔
* تخريج: د/الطلاق ۱۷ (۲۲۲۳)، ت/الطلاق ۱۹ (۱۱۹۹)، ن/الطلاق ۳۳ (۳۴۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۳۶) (حسن)
(سند میں حکم بن ابان ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے)
۲۰۶۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کر لیا، چنانچہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: ''تم نے ایسا کیوں کیا''؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی، میں بے اختیار ہو گیا، اور اس سے جماع کر بیٹھا، رسول اللہ ﷺ مسکرائے، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب اللِّعَانِ
۲۷- باب: لعان کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: لعان: جب مرد اپنی عورت کو زنا کی تہمت لگائے اور عورت زنا کا اقرار نہ کرے، نہ مرد گواہ لائے اور نہ اپنی تہمت سے پھرے، تو لعان واجب ہوتا ہے، اس کی صورت قرآن مجید میں مذکور ہے کہ پہلے مرد چار بار گواہی دے اللہ کا نام لے کر کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار یوں کہے کہ اس پر اللہ کی لعنت ہو، اگر وہ جھوٹا ہو، پھر عورت چار بار گواہی دے اللہ کا نام لے کر کہ اس کا مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار یوں کہے کہ اللہ کا غضب اس پر اترے اگر اس کا مرد سچا ہو، جب دونوں اس طرح گواہی دے چکیں تو حاکم میاں بیوی میں جدائی کر دے، پھر یہ دونوں کبھی نہیں مل سکتے، اور اگر بچہ ہو تو وہ ماں کو دیا جائے، اب اگر اس بچہ کو کوئی ولد الزنا کہے تو اس پر حد قذف واجب ہو گی۔

2066- حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ ﷺ: أَرَأَيْتَ رَجُلا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا فَقَتَلَهُ، أَيُقْتَلُ بِهِ؟ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ، فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْسَّائِلَ، ثُمَّ لَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ فَقَالَ: صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَعَابَ الْسَّائِلَ، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ! لآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَلأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَوَجَدَهُ وَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِمَا، فَلاعَنَ بَيْنَهُمَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللَّهِ لَئِنِ انْطَلَقْتُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، قَالَ، فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَصَارَتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلاعِنَيْنِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ، أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ، عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ، فَلا أُرَاهُ إِلا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلا أُرَاهُ إِلا كَاذِبًا > قَالَ، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ۔
* تخريج: خ/الصلاۃ ۴۴ (۴۲۳)، تفسیرسورۃ النور ۱ (۴۷۴۵)، ۲ (۴۷۴۶)، الطلاق ۴ (۵۳۵۹)، ۲۹ (۵۳۰۸)، ۳۰ (۵۳۰۹)، الحدود ۴۳ (۶۸۵۴)، الأحکام ۱۸ (۷۱۶۵)، الاعتصام ۵ (۷۳۰۴)، م/اللعان ۱ (۱۴۹۲)، د/الطلاق ۲۷ (۲۲۴۵)، ن/الطلاق ۳۵ (۳۴۹۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۰۵)، وقد أخرجہ: ط/الطلاق ۱۳ (۳۴)، حم (۵/۳۳۰، ۳۳۴، ۳۳۶، ۳۳۷)، دي/النکاح ۳۹ (۲۲۷۵) (صحیح)

۲۰۶۶- سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ سے میرے لیے یہ مسئلہ پوچھو کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو (زنا) کرتے ہوئے پائے پھر اس کو قتل کر دے تو کیا اس کے بدلے اسے بھی قتل کر دیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا، آپ ﷺ کو ایسے سوالات برے لگے۱؎، پھر عویمر رضی اللہ عنہ عاصم رضی اللہ عنہ سے ملے اور پوچھا: تم نے کیا کیا؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کیا جو کیا یعنی پوچھا لیکن تم سے مجھے کوئی بھلائی نہیں پہنچی، میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے اس طرح کے سوالوں کو برا جانا، عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم میں رسول اللہ ﷺ کے پاس خود جاؤں گا اور آپ سے پوچھوں گا، چنانچہ وہ خود آپ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان دونوں کے بارے میں وحی اتر چکی ہے، آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کرا دیا، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کے رسول! اب اگر اس عورت کو میں ساتھ لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر تہمت لگائی چنانچہ انہوں نے اس کو نبی اکرم ﷺ کے حکم سے پہلے ہی چھوڑ دیا، پھر لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ دستور ہو گیا۔
پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''دیکھو اگر عویمر کی عورت کالے رنگ کا، کالی آنکھوں والا، بڑی سرین والا بچہ جنے تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر سچے ہیں، اور اگر سرخ رنگ کا بچہ جنے جیسے وحرہ (سرخ کیڑا ہوتا ہے) تو میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹے ہیں''۔
راوی کہتے ہیں کہ پھر اس عورت کا بچہ بری شکل پہ پیدا ہوا۔

وضاحت۱؎: اس لئے کہ بلا ضرورت سوال کرنے سے اللہ تعالی نے منع کیا ہے، اور شاید اس وقت تک آپ کو یہ معلوم نہ ہوا ہو کہ ایسا واقعہ کہیں پیش آیا ہے۔

2067- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ هِلالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ بِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ؛ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ>، فَقَالَ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ! إِنِّي لَصَادِقٌ، وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّءُ ظَهْرِي، قَالَ: فَنَزَلَتْ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ حَتَّى بَلَغَ: وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ ﷺ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَجَاءَا، فَقَامَ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ، وَالنَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْ تَائِبٍ؟ > ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ: أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ قَالُوا لَهَا: إِنَّهَا لَمُوجِبَةٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ! لا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: <انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ، سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ، خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَهُوَ لِشَرِيكِ ابْنِ سَحْمَاءَ> فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < لَوْلا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ >۔
* تخريج: خ/ تفسیر سورۃ النور ۲ (۴۷۴۶)، الطلاق ۲۹ (۵۳۰۸)، د/الطلاق ۲۷ (۲۲۵۴)، ت/تفسیر سورۃ النور ۲۵ (۳۱۷۹) (تحفۃ الأشراف: ۶۲۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۲۷۳) (صحیح)

۲۰۶۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم ﷺ کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ (بدکاری کا) الزام لگایا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں، اور اللہ تعالی میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی، راوی نے کہا: پھر یہ آیت اتری: {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ......} (جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتے...یہاں تک کہ اخیر آیت: {الْخَامِسَةِ: أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} [سورة النور: ۶-۹] تک پہنچے تونبی اکرم ﷺ لوٹے اور ہلال اور ان کی بیوی دونوں کو بلوایا، وہ دونوں آئے، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم ﷺ فرما رہے تھے: ''اللہ تعالی جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کوئی ہے توبہ کرنے والا''، اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی، جب پانچویں گواہی کا وقت آیا یعنی یہ کہنے کا کہ عورت پہ اللہ کا غضب نازل ہو اگر مرد سچا ہو تو لوگوں نے عورت سے کہا: یہ گواہی ضرور واجب کر دے گی۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر وہ عورت جھجکی اور واپس مڑی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ اب وہ اپنی گواہی سے پھر جائے گی، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنے گھر والوں کو زندگی بھر کے لیے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گی۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''دیکھو اگر اس عورت کو کالی آنکھوں والا، بھری سرین والا، موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو، تو وہ شریک بن سحماء کا ہے،'' بالآخر اسی شکل کا لڑکا پیدا ہوا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ جو ہو چکا نہ ہوا ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ ضرور کچھ سزا کا معاملہ کرتا''۱؎۔

وضاحت۱؎: لیکن اللہ تعالی کا حکم یہ اترا کہ لعان کرنے والوں پر حد قذف قائم نہ کی جائے، لہذا میں اس عورت پر حد نہیں جاری کرتا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حاکم کو رائے اور قیاس اور گمان پر عمل نہیں کرنا چاہئے، بلکہ جو فیصلہ گواہی اور دلیل سے ثابت ہو وہی دینا چاہئے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ قیافہ شرعی حجت نہیں ہے، اور قیافہ کے سبب سے کسی کو حد نہیں پڑ سکتی۔

2068- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ رَجُلا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ، وَاللَّهِ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ ﷺ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ آيَاتِ اللِّعَانِ، ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ، فَلاعَنَ النَّبِيُّ ﷺ بَيْنَهُمَا، وَقَالَ عَسَى: <أَنْ تَجِيئَ بِهِ أَسْوَدَ>، فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ، جَعْدًا۔
* تخريج: م/اللعان ۱۰ (۱۴۹۵)، د/الطلاق ۲۷ (۲۲۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۴۲۱، ۴۴۸) (صحیح)

۲۰۶۸- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کی رات کو مسجد میں تھے کہ ایک شخص آکر کہنے لگا اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے، پھر اس کو مار ڈالے، تو تم لوگ اس کو مار ڈالو گے، اور اگر زبان سے کچھ کہے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے، اللہ کی قسم میں تو نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر ضرورکروں گا، آخر اس نے نبی اکرم ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تب اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیتیں نازل فرمائیں، پھر وہ آیا اور اس نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا اور فرمایا: ''میرا گمان ہے کہ شاید اس عورت کا بچہ کالا ہی پیدا ہو'' چنانچہ ایسا ہی ہوا، اس کے یہاں کالا گھونگھریالے بال والا بچہ پیدا ہوا۔

2069- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلا لاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ۔
* تخريج: خ/الطلاق ۳۲ (۵۳۱۱)، ۳۵ (۵۳۱۵)، ۵۲ (۵۳۵۰)، الفرائض ۱۷ (۶۷۴۸)، م/اللعان ۱ (۱۴۹۴)، د/الطلاق ۲۷ (۲۲۵۹)، ت/الطلاق ۲۲ (۱۲۰۳)، ن/الطلاق ۴۵ (۳۵۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۸۳۲۲)، وقد أخرجہ: ط/الطلاق ۱۳ (۳۵)، حم (۲/ ۱۲، ۳۸، ۶۴، ۷۱)، دي/االنکاح ۳۹ (۲۲۷۸) (صحیح)

۲۰۶۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرد نے اپنی بیوی سے لعان کیا، اور اس کے بچے کا انکار کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور بچہ کو ماں کو دے دیا۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی بچہ ماں کے حوالے کر دیا، اور اس کا نسب بھی ماں سے متعلق کر دیا، اب وہ اپنی ماں کا وارث ہو گا لیکن اس کے مرد کا وارث نہ ہو گا جس نے یہ کہہ دیا کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے۔

2070- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيِّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ امْرَأَةً مِنْ بَنِيْ عِجْلانَ، فَدَخَلَ بِهَا، فَبَاتَ عِنْدَهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ: مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ، فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: بَلَى قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ فَأَمَرَ بِهِمَا فَتَلاعَنَا، وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۵۵۲۶، ومصباح الزجاجۃ: ۷۲۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۶۱) (ضعیف)
(محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت قال کہہ کر کی ہے)
۲۰۷۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ انصار کے ایک شخص نے قبیلہ بنی عجلان کی ایک عورت سے شادی کی، اور اس کے پاس رات گزاری، جب صبح ہوئی تو کہنے لگا: میں نے اسے کنواری نہیں پایا، آخر دونوں کا مقدمہ نبی اکرم ﷺ تک لے جایا گیا، آپ ﷺ نے لڑکی کو بلایا، اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا: میں تو کنواری تھی، پھر آپ نے حکم دیا تو دونوں نے لعان کیا، اور آپ ﷺ نے اس عورت کو مہر دلوا دیا۔

2071- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ، لا مُلاعَنَةَ بَيْنَهُنَّ: النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ، وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ، وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۸۷۶۳، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۰) (ضعیف)
(سند میں عثمان بن عطاء ضعیف راوی ہیں)
۲۰۷۱- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''چار قسم کی عورتوں میں لعان نہیں ہے، ایک تو نصرانیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو، دوسری یہودیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو، تیسری آزاد عورت جو کسی غلام کے نکاح میں ہو، چوتھی لونڈی جو کسی آزاد مرد کے نکاح میں ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: لیکن تیسری صورت میں غلام کو حد قذف پڑے گی اور باقی صورتوں میں نہ لعان ہے نہ شوہر کو حد پڑے گی، غرض یہ ہے کہ لعان مومنہ اور آزاد عورت کی تہمت سے لازم آتا ہے، اگر عورت کافرہ ہو، یا لونڈی ہو، یا اس کو حد پڑ چکی ہو تو لعان نہ ہو گا۔ (شرح وقایہ)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب الْحَرَامِ
۲۸- باب: عورت کو اپنے اوپر حرام کر لینے کے حکم کا بیان​

2072- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: آلَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مِنْ نِسَائِهِ، وَحَرَّمَ فَجَعَلَ الْحَلالَ حَرَامًا، وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً ۔
* تخريج: ت/الطلاق ۲۱ (۱۲۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۲۱) (صحیح)

۲۰۷۲- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے ایلاء کیا، اور اپنے اوپر حلال کو حرام ٹھہرا لیا ۱؎ اور قسم کا کفارہ ادا کیا ۲؎۔
وضاحت۱؎: یعنی ماریہ قبطیہ کو یا شہد کو۔
وضاحت۲؎: مطلب یہ ہے کہ کوئی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلے تو طلاق نہ پڑے گی، بلکہ قسم کا کفارہ دینا ہو گا، قسم کا کفارہ قرآن مجید میں مذکور ہے، دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، یا ان کو کپڑا پہنانا، یا ایک مومن غلام آزاد کرنا، اور اگر ان تینوں میں سے کوئی چیز بھی میسر نہ ہو تو تین دن کا روزہ رکھنا۔

2073- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ؛ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔
* تخريج: خ/تفسیر سورۃ الطلاق (۴۹۱۱)، م/الطلاق ۳ (۱۴۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۴۸)، وقد أخرجہ: ن/الطلاق ۱۶ (۳۴۴۹)، حم (۱/۲۲۵) (صحیح)

۲۰۷۳- سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: حلال کو حرام کرنے میں قسم کا کفارہ ہے، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے: {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ}[ سورةالأحزاب: ۲۱] (تمہارے لیے رسول اکرم ﷺ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- بَاب خِيَارِ الأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ
۲۹ - باب: آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے​

2074- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَعْتَقَتْ بَرِيرَةَ، فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ حُرٌّ۔
* تخريج: ت /الرضاع ۷ (۱۱۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۵۹)، وقد أخرجہ: خ/العتق ۱۰ (۲۵۳۶)، د/الطلاق ۲۰ (۲۲۳۵)، ن/الزکاۃ ۹۹ (۲۶۱۵)، الطلاق ۳۰ (۳۴۸۰)، ط/الطلاق ۱۰ (۲۵)، حم (۶/۴۶، ۱۱۵، ۱۲۳، ۱۷۲، ۱۷۵، ۱۷۸، ۱۹۱، ۲۰۷)، دي/الطلاق ۱۵ (۲۳۳۷) (صحیح)

۲۰۷۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو اختیار دے دیا، (کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہیں یا اس سے جدا ہو جائیں) اور ان کے شوہر آزاد تھے ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: آزا دی کے بعد پہلا نکاح باقی رکھے یا نہ رکھے، لیکن یہ جب ہے کہ اس کا شوہر غلام ہو، اگر شوہر آزاد ہو تو اختیار نہ ہو گا، امام مالک، شافعی اور جمہور علماء کا یہی قول ہے اور ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ ہر حال میں اختیار ہو گا، اور اس باب میں مختلف احادیث وارد ہیں۔

2075- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا وَيَبْكِي، وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ لِلْعَبَّاسِ: < يَا عَبَّاسُ! أَلا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا؟ > فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ﷺ: < لَوْ رَاجَعْتِيهِ، فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ > قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تَأْمُرُنِي؟ قَالَ: "إِنَّمَا أَشْفَعُ > قَالَتْ: لا حَاجَةَ لِي فِيهِ۔
* تخريج: خ/الطلاق ۱۵ (۵۲۸۲)، ۱۶ (۵۲۸۳)، د/الطلاق ۱۹ (۲۲۳۱)، ت/الرضاع ۷ (۱۱۵۴)، ن/آداب القضاء ۲۷ (۵۴۱۹)، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۴۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۱۵)، دي/الطلاق ۱۵ (۲۳۳۸) (صحیح)

۲۰۷۵- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا اس کو مغیث کہا جاتا تھا، گویا کہ میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پھر رہا ہے، اور رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کے گالوں پہ بہہ رہے ہیں، اور نبی اکرم ﷺ عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے ہیں: ''عباس! کیا تمہیں بریرہ رضی اللہ عنہا سے مغیث کی محبت اور مغیث سے بریرہ کی نفرت پہ تعجب نہیں ہے''؟ چنانچہ نبی اکرم ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ''کاش تو مغیث کے پاس لوٹ جاتی، وہ تیرے بچے کا باپ ہے'' اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے کہا: ''نہیں، میں صرف سفارش کر رہا ہوں'' تو وہ بولی: مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں۔

2076- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلاثُ سُنَنٍ: خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ، وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا، وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فَيَقُولُ: < هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ > وَقَالَ: الْوَلاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۳۲)، وقد أخرجہ: خ/العتق ۱۰ (۲۵۳۶)، الأطعمۃ ۳۱ (۵۴۳۰)، الفرائض ۲۰ (۶۷۶۰)، ۲۲ (۶۷۵۴)، ۲۳ (۶۷۵۹)، د/الفرائض ۱۲ (۲۹۱۶)، ت/البیوع ۳۳ (۲۱۲۶)، الولاء ۱ (۲۱۲۵)، ن/الطلاق ۳۰ (۳۴۷۹)، ط/الطلاق۱۰ (۲۵)، حم (۶/۴۲، ۱۷۰، ۱۸۰، ۱۸۶، ۲۰۹)، دي/الطلاق ۱۵ (۲۳۳۶) (صحیح)

۲۰۷۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں۱؎ ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا، اور ان کے شوہر غلام تھے، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم ﷺ کو ہدیہ کر دیتیں، تو آپ ﷺ فرماتے: ''وہ اس کے لیے صدقہ ہے، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے، ''تیسرے یہ کہ آپ ﷺ نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا: ''حق ولاء (غلام یا لونڈی کی میراث) اس کا ہے جو آزاد کرے'' ۲؎۔
وضاحت۱؎: یعنی دین کے تین حکم بریرہ رضی اللہ عنہا سے معلوم ہوے۔
وضاحت۲؎: جب بریرہ رضی اللہ عنہا کے مالکوں نے ولاء (حق وراثت) لینا چاہا تو ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے ذکر کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کو خرید کرکے آزاد کر دو، ولاء (حق وراثت) اسی کو ملے گا جو آزاد کرے''۔

2077- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: أُمِرَتْ بَرِيرَةُ أَنْ تَعْتَدَّ بِثَلاثِ حِيَضٍ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۰۲، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۱) (صحیح)

۲۰۷۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزاریں۔

2078- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ،حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ أُذَيْنَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَيَّرَ بَرِيرَةَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۵۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۲) (صحیح)

۲۰۷۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو اختیار دیا (کہ وہ اپنے شوہر مغیث کی زوجیت میں رہیں یا نہ رہیں)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب فِي طَلاقِ الأَمَةِ وَعِدَّتِهَا
۳۰- باب: لونڈی کی طلاق اورعدت کا بیان​

2079- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَرِيفٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَبِيبٍ الْمُسْلِيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < طَلاقُ الأَمَةِ اثْنَتَانِ وَعِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۷۳۳۸ ، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۳) (ضعیف)
(سند میں ضعف کا سبب عطیہ العوفی ہیں، جو ضعیف ہیں)
۲۰۷۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اہلحدیث کے نزدیک لونڈی طلاق اور عدت کے احکام میں آزاد عورت کی طرح ہے، کیونکہ قرآن کی آیت مطلق ہے جو دونوں کو شامل ہے، نیز واضح رہے کہ اس ضعیف حدیث سے قرآن کریم کی تخصیص درست نہیں۔

2080- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ،حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < طَلاقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ >۔
قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: فَذَكَرْتُهُ لِمُظَاهِرٍ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي كَمَا حَدَّثْتَ ابْنَ جُرَيْجٍ، فَأَخْبَرَنِي عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < طَلاقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ، وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ >۔
* تخريج: د/الطلاق ۶ (۲۱۸۹)، ت/الطلاق ۷ (۱۱۸۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۵۵)، وقد أخرجہ: دي/الطلاق ۱۷ (۲۳۴۰) (ضعیف)
(سند میں مظاہر بن أسلم ضعیف راوی ہیں)
۲۰۸۰- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''لونڈی کی دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے''۔
ابو عاصم کہتے ہیں کہ میں نے مظاہر بن اسلم سے اس حدیث کا ذکر کیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ حدیث آپ مجھ سے ویسے ہی بیان کریں جیسے کہ آپ نے ابن جریج سے بیان کی ہے، تو انہوں نے مجھے قاسم عن عائشہ کے طریق سے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- بَاب طَلاقِ الْعَبْدِ
۳۱- باب: غلام کی طلاق کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: مالک اگر چاہے تو غلام نکاح کر سکتا ہے، اب جب نکاح کر لیا تو طلاق غلام کے اختیار میں ہو گی، نہ کہ مالک کے۔

2081- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ ﷺ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَارَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ سَيِّدِي زَوَّجَنِي أَمَتَهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا، قَالَ، فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: < يَا أَيُّهَا النَّاسُ! مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُزَوِّجُ عَبْدَهُ أَمَتَهُ ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا؟ إِنَّمَا الطَّلاقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفۃ الأشراف: ۶۲۱۹ ، ومصباح الزجاجۃ: ۷۳۴) (حسن)
(سند میں ابن لہیعہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد ومتابعات کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے)
۲۰۸۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے مالک نے اپنی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا تھا، اب وہ چاہتا ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں جدائی کرا دے، یہ سن کر آپ ﷺ منبر پر چڑھے اور فرمایا: ''لوگو! تمہارا کیا حال ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کر دیتا ہے، پھر وہ چاہتا ہے کہ ان دونوں میں جدائی کرا دے، طلاق تو اسی کا حق ہے جو عورت کی پنڈلی پکڑے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی جو اس سے صحبت کرتا ہو یعنی شوہر کے اختیار میں ہے۔
 
Top