• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ وَخَاصَمَ فِيهِ
۶- باب: جس نے دوسرے کے مال پر دعویٰ کرکے اس میں جھگڑا کیا اس پر وارد وعید کا بیان​

2319- حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ عَبْدِالصَّمَدِ بْنِ عَبْدِالْوَارِثِ بْنِ سَعِيدٍ، أَبُو عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ أَنَّ أَبَا الأَسْوَدِ الدِّيلِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < مَنِ ادَّعَى مَا لَيْسَ لَهُ فَلَيْسَ مِنَّا، وَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۳۳)، وقد أخرجہ:خ/المناقب ۵ (۳۵۰۸)، م/الإیمان ۲۷ (۶۱)، حم (۵/۱۶۶) (صحیح)

۲۳۱۹- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے، تو وہ ہم میں سے نہی، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہئے''۔

2320- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَائٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَائٍ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <مَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِظُلْمٍ (أَوْ يُعِينُ عَلَى ظُلْمٍ ) لَمْ يَزَلْ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَنْزِعَ >۔
* تخريج: د/الأقضیۃ ۱۴(۳۵۹۸)، (تحفۃ الأشراف: ۸۴۴۵) (صحیح)
(سند میں مطر الوارق ضعیف راوی ہیں، لیکن حدیث متابعات کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۷/ ۳۵۰ و الصحیحہ: ۴۳۷، ۱۰۲۱)
۲۳۲۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ (اس سے ) باز آجائے'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اس کام سے توبہ کرلے اور اس کو چھوڑ دے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب الْبَيِّنَةِ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ
۷- باب: مدعی اپنے دعوے کے حق میں گواہی پیش کرے اور مدعیٰ علیہ (یعنی جس کے خلاف دعویٰ ہے) اس پر قسم کھائے​

2321- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُم، ادَّعَى نَاسٌ دِمَاءَ رِجَالٍ وَأَمْوَالَهُمْ، وَلَكِنِ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ >۔
* تخريج: خ/الرہن ۶ (۲۵۱۴)، الشہادات ۲۰ (۲۶۶۸)، تفسیر سورۃ آل عمران ۳ (۴۵۵۲)، م/الاقضیۃ ۱ (۱۷۱۱)، د/الاقضیۃ ۲۳ (۳۶۱۹)، ت/الاحکام ۱۲ (۱۳۴۲)، ن/آداب القضاۃ ۳۵ (۵۴۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵۳، ۲۸۸، ۳۴۳، ۳۵۱، ۳۵۶، ۳۶۳) (صحیح)

۲۳۲۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا (ناحق) دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعیٰ علیہ کو قسم کھانا چاہئے۱؎۔
وضاحت۱ ؎: جب مدعی کے پاس گواہ نہ ہو اورمدعی علیہ قسم کھا لے تو وہ دعویٰ سے بری ہو گیا، اگر مدعی علیہ قسم اٹھانے پر تیار نہ ہو تو وہ دعویٰ کے مطابق مدعی کا حق ادا کرے۔

2322- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَأَبُومُعَاوِيَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ، فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ>، قُلْتُ: لا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ: <احْلِفْ> قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفُ فِيهِ فَيَذْهَبُ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا} إِلَخِ الآيَةِ۔
* تخريج:خ/المسافات ۴ (۲۳۵۶،۲۳۵۷)، الرہن ۶ (۲۵۱۵، ۲۵۱۶)، الخصومات ۴ (۲۴۱۶، ۲۴۱۷)، الأحکام ۳۰ (۷۱۸۳، ۷۱۸۴)، م/الایمان ۶۱ (۱۳۸)، د/الأقضیۃ ۲۵ (۳۶۲۱)، ت/البیوع ۴۲ (۱۲۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸، ۹۲۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۱۱) (صحیح)

۲۳۲۲- اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصہ کا انکار کر دیا، تو میں اس کو نبی اکرم ﷺ کے پاس لے کرآیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تمہارے پاس گواہ ہیں''؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے یہودی سے کہا: ''تم قسم کھاؤ''، میں نے عرض کیا: تب تو وہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا}[سورة آل عمران: ۷۷] (جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا، اور ان کو نہایت دردناک عذاب ہوتا رہے گا)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَاجِرَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالا
۸- باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی کا مال ہڑپ کر لینے کی شناعت کا بیان​

2323- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ >۔
* تخريج: خ/الشرب والمساقات ۴ (۲۳۵۶)، م/الإیمان ۶۱ (۱۳۸)، د/الأقضیۃ ۲۵ (۳۶۲۱)، ت/البیوع ۴۲ (۱۲۶۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷۷) (صحیح)

۲۳۲۳- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص کسی چیز کے لئے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کرلے، تو اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالی اس سے ناراض ہو گا''۔

2324- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَاللَّهِ بْنَ كَعْبٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < لا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، إِلا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَأَوْجَبَ لَهُ النَّارَ >. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ سِوَاكًا مِنْ أَرَاكٍ >۔
* تخريج: م/الإیمان ۶۱ (۱۳۷)، ن/آداب القضاۃ ۲۹ (۵۴۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۶۰) (صحیح)

۲۳۲۴- ابو امامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا، تو اللہ تعالی اس پر جنت کو حرام کر دے گا، اور جہنم کو اس کے لئے واجب کر دے گا، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: بلکہ ذرا سی چیز کے لئے جھوٹی قسم کھانا اور زیادہ سخت ہے، مسلمانو! اللہ سے ڈرو اور اپنے پیارے نبی کے اس فرمان مبارک کو پلے باندھ لو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب الْيَمِينِ عِنْدَ مَقَاطِعِ الْحُقُوقِ
۹- باب: حقوق دلانے کی جگہوں پر قسم کھانے کا بیان​

2325- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ (ح) وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ،حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ آثِمَةٍ، عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ >۔
* تخريج: د/الأیمان ۳ (۲۳۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۷۶)، وقد أخرجہ: ط/الأقضیۃ ۸ (۱۰)، حم (۳/۳۴۴) (صحیح)

۲۳۲۵- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے لئے ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹی قسم متبرک مقام میں کھانا اور زیادہ سخت گناہ ہے، اگرچہ ہر جگہ جھوٹی قسم کھانا خود ایک سخت گناہ ہے، بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مدعی کو اختیار ہے جہاں پر چاہے اور جن الفاظ سے چاہے مدعی علیہ سے قسم لے سکتا ہے، اور بعضوں نے کہا: صرف عدالتمیں قسم ہے وہ بھی اللہ تعالی کے نام کی قسم کھانا کافی ہے، اس سے زیادہ کے لئے مدعی جبر نہیں کر سکتا۔

2326- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَزَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، قَالا: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ فَرُّوخَ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَهُوَ أَبُو يُونُسَ الْقَوِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَاسَلَمَةَ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَبْدٌ، وَلا أَمَةٌ، عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ، وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ، إِلا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ >۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۴۹، ومصباح الزجاجۃ: ۸۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۲/۵۱۸) (صحیح)

۲۳۲۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لئے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10-بَاب بِمَا يُسْتَحْلَفُ أَهْلُ الْكِتَابِ
۱۰- باب: اہل کتاب کو کن الفاظ میں قسم دلائی جائے گی اس کا بیان​

2327- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مُرَّةَ،عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَعَا رَجُلا مِنْ عُلَمَاءِ الْيَهُودِ، فَقَالَ: <أَنْشُدُكَ بِالَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى >۔
* تخريج: م/الحدود ۶ (۱۷۰۰)، د/الحدود ۲۶ (۴۴۴۷، ۴۴۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۸۶، ۲۹۰، ۳۰۰) (صحیح)

۲۳۲۷- براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک یہودی عالم کو بلایا، اور فرمایا: ''میں تم کو اس ذات کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری''۱؎۔
وضاحت۱؎: ایسا کہنے سے یہودی کے دل پر زیادہ اثر ہوتا ہے، اور نصرانی سے یوں کہیں گے قسم کھا اس اللہ کی جس نے عیسی علیہ السلام پر انجیل اتاری۔

2328- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، أَنْبَأَنَا عَامِرٌ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لِيَهُودِيَّيْنِ: < أَنْشَدْتُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلام >۔
* تخريج: د/الحدود ۲۶ (۴۴۵۲، ۴۴۵۳، ۴۴۵۴ مختصراً)، (تحفۃ الأشراف: ۲۳۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۸۷) (صحیح)

۲۳۲۸- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو یہودیوں سے فرمایا: ''میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب الرَّجُلانِ يَدَّعِيَانِ السِّلْعَةَ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ
۱۱- باب: ایک چیزکے دو دعو ے دار ہوں اور کسی کے پاس گواہ نہ ہو ں تو اس کی حکم کا بیان​

2329- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا النَّبِيُّ ﷺ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ۔
* تخريج: د/الأقضیۃ ۲۲ (۳۶۱۶، ۳۶۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۶۲)، وقد أخرجہ: خ/الشہادات ۲۴ (۲۶۷۴)، حم (۲/۴۸۹، ۵۲۴) (صحیح)

۲۳۲۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا کہ ایک جانور پر دو آدمیوں نے دعویٰ کیا، اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا۱؎۔
وضاحت۱؎: اس کی صورت یہ ہے کہ جانور ایک تیسرے شخص کے پاس ہو اور دو شخص اس کا دعوی کریں، اور تیسرا شخص کہے کہ میں اصل مالک کو نہیں پہچانتا، علی رضی اللہ عنہ کا یہی قول ہے، اور شافعی کے نزدیک وہ جانور تیسرے کے پاس رہے گا، اور ابو حنیفہ کے نزدیک دونوں دعوے داروں کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے، اسی طرح اگر دو شخص ایک چیز کا دعوی کریں، اور دونوں گواہ پیش کریں اور کوئی ترجیح کی وجہ نہ ہو تو اس چیز کو آدھا آدھا بانٹ دیں گے۔ (ابو داود، حاکم ، بیہقی)

2330- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا رَوْحُ بنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ اخْتَصَمَ إِلَيْهِ رَجُلانِ، بَيْنَهُمَا دَابَّةٌ، وَلَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَجَعَلَهَا بَيْنَهُمَا نِصْفَيْنِ۔
* تخريج: د/الأقضیۃ ۲۲ (۳۶۱۳، ۳۶۱۴، ۳۶۱۵)، ن/آداب القضاۃ ۳۴ (۵۴۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۸۸)، حم (۴/۴۰۳) (ضعیف)
(قتا دہ سے مروی ان احادیث میں روایت ابو موسیٰ اشعری سے ہے، اور بعض رواۃ نے اسے سعید بن ابی بردہ عن أبیہ مرسلاً روایت کیا ہے، اور بعض حفاظ نے اسے سماک بن حرب سے مرسلاً صحیح مانا ہے، ملاحظہ ہو: تحفۃ الأشراف: ۹۰۸۸ و الإرواء: ۲۶۵۶)
۲۳۳۰- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا (جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب مَنْ سُرِقَ لَهُ شَيْئٌ فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ اشْتَرَاهُ
۱۲- باب: کسی آدمی کے یہاں چوری ہو گئی اور چوری کا مال کسی نے خرید لیا تو اس کا مال کا حق دار کون ہے؟​

2331- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا ضَاعَ لِلرَّجُلِ مَتَاعٌ أَوْ سُرِقَ لَهُ مَتَاعٌ، فَوَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ يَبِيعُهُ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ، وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِالثَّمَنِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجۃ، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۲۹، ومصباح الزجاجۃ: ۸۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۳، ۱۸) (ضعیف)
(حجاج بن أرطاہ مدلس ہیں ،اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
۲۳۳۱- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب آدمی کا کوئی سامان کھو جائے یا چوری ہو جائے، پھر وہ کسی آدمی کو اسے بیچتے ہوئے پائے تو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے، اور جس نے خریدا وہ اس کے بیچنے والے سے قیمت واپس لے لے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اصل مالک جس کا مال چوری ہو گیا تھا، وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب الْحُكْمِ فِيمَا أَفْسَدَتِ الْمَوَاشِي
۱۳- باب: مویشیوں نے اگر کسی کے کھیت اور باغ کو نقصان پہنچا دیا ہو تو اس کے حکم کا بیان​

2332- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ ابْنَ مُحَيِّصَةَ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَاقَةً لِلْبَرَاءِ كَانَتْ ضَارِيَةً دَخَلَتْ فِي حَائِطِ قَوْمٍ فَأَفْسَدَتْ فِيهِ فَكُلِّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِيهَا، فَقَضَى أَنَّ حِفْظَ الأَمْوَالِ عَلَى أَهْلِهَا بِالنَّهَارِ، وَعَلَى أَهْلِ الْمَوَاشِي مَا أَصَابَتْ مَوَاشِيهِمْ بِاللَّيْلِ.
* تخريج: د/البیوع ۹۲ (۳۵۷۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۵۳)، وقد أخرجہ: ط/الاقضیۃ ۲۸ ((۳۷)، حم (۴/۲۹۵، ۵/۴۳۶) (صحیح)

۲۳۳۲- ابن محیّصہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ براء رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی کو لوگوں کا کھیت چرنے کی عادی تھی، وہ لوگوں کے باغ میں چلی گئی، اور اسے نقصان پہنچا دیا، رسول اللہ ﷺ سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ دن کو اپنے مال کی حفاظت کی ذمہ داری مال والوں کی ہے، اور رات کو جانور جو نقصان پہنچ جائیں اسے جانوروں کے مالکوں کو دینا ہو گا۱؎۔
وضاحت۱؎: اس لئے کہ رات کو جانور والوں کو چاہئے کہ اپنے جانور باندھ کر رکھیں، جب انہوں نے چھوڑ دیا اور کسی کا نقصان کیا تو نقصان ان کو بھرنا پڑے گا۔

2332/أ- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةَ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ نَاقَةً لآلِ الْبَرَاءِ أَفْسَدَتْ شَيْئًا، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ بِمِثْلِهِ۔
* تخريج: انظرماقبلہ (صحیح)

۲۳۳۲/أ- براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ براء کے گھر والوں کی ایک اونٹنی نے کسی کا نقصان کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ اسی کے برابر واپس لوٹانے کا فرمایا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14-بَاب الْحُكْمِ فِيمَن كَسَرَ شَيئاً
۱۴- باب: اگرکسی نے کوئی چیز توڑ دی تو اس کے حکم کا بیان​

2333- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُوئَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَخْبِرِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَتْ: أَوَ مَا تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ { وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ؟ } قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مَعَ أَصْحَابِهِ، فَصَنَعْتُ لَهُ طَعَامًا، وَصَنَعَتْ لَهُ حَفْصَةُ طَعَامًا، قَالَتْ، فَسَبَقَتْنِي حَفْصَةُ، فَقُلْتُ لِلْجَارِيَةِ: " انْطَلِقِي فَأَكْفِئِي قَصْعَتَهَا فَلَحِقَتْهَا وَقَدْ هَمَّتْ أَنْ تَضَعَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَأَكْفَأَتْهَا فَانْكَسَرَتِ الْقَصْعَةُ، وَانْتَشَرَ الطَّعَامُ، قَالَتْ: فَجَمَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ وَمَا فِيهَا مِنَ الطَّعَامِ عَلَى النِّطَعِ، فَأَكَلُوا ثُمَّ بَعَثَ بِقَصْعَتِي، فَدَفَعَهَا إِلَى حَفْصَةَ، فَقَالَ: < خُذُوا ظَرْفًا مَكَانَ ظَرْفِكُمْ وَكُلُوا مَا فِيهَا >، قَالَتْ: فَمَا رَأَيْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجۃ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۸۱۳، ومصباح الزجاجۃ: ۸۱۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۱۱) (ضعیف الإسناد)
(سند میں ''رجل من بنی سوءۃ'' مبہم ہے، لیکن ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوسری روایت نبوی میں اخلاق والا ٹکڑا ثابت ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ۱۲۱۳)
۲۳۳۳- قبیلہ بنی سوءۃ کے ایک شخص کا بیان ہے کہ میں نے ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کا حال بیان کیجیے، تو وہ بولیں: کیا تم قرآن (کی آیت): {وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ} (یقینا آپ بڑے اخلاق والے ہیں) نہیں پڑھتے؟ ایک بار رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، میں نے آپ کے لئے کھانا تیار کیا، اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کے لئے کھانا تیار کیا، حفصہ رضی اللہ عنہا مجھ سے پہلے کھانا لے آئیں، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: جاؤ ان کے کھانے کا پیالہ الٹ دو، وہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اور جب انہوں نے اپنا پیالہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھنا چاہا، تو اس نے اسے الٹ دیا جس سے پیالہ ٹوٹ گیا، اور کھانا بکھر گیا، رسول اللہ ﷺ نے اس گرے ہوئے کھانے کو اور پیالہ میں جو بچا تھا سب کو دستر خوان پر اکٹھا کیا، اور سب نے اسے کھایا، پھر آپ ﷺ نے میرا پیالہ اٹھایا، اور اسے حفصہ کو دے دیا، اور فرمایا: ''اپنے برتن کے بدلے میں برتن لے لو''، اور جو کھانا اس میں ہے وہ کھا لو، ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔

2334- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ، فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى، فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ: < غَارَتْ أُمُّكُمْ، كُلُوا > فَأَكَلُوا، حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا، فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ، وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا۔
* تخريج: د/البیوع ۹۱ (۳۵۶۷)، ت/الأحکام ۲۳ (۱۳۵۹)، ن/عشرۃ النکاح ۴ (۳۴۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۳، وقد أخرجہ: خ/المظالم ۳۴ (۲۴۸۱)، النکاح ۱۰۷ (۵۲۲۵)، حم (۳/۱۰۵،۲۶۳)، دي/البیوع ۵۸ (۲۶۴۰) (صحیح)

۲۳۳۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ امہات المومنین رضی اللہ عنہن میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک کھانے کا پیالہ بھیجا، پہلی بیوی نے (غصہ سے کھانا لانے والے) کے ہاتھ پر مارا، اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، رسول اللہ ﷺ نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آگئی ہے (کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا)، تم کھانا کھاؤ، لوگوں نے کھایا، پھر جن کے گھر میں آپ ﷺ تھے اپنا پیالہ لائیں، تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا، اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب الرَّجُلِ يَضَعُ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِ جَارِهِ
۱۵- باب: پڑوسی کی دیوار پر دھرن (شہتیر) رکھنے کا بیان​

2335- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ﷺ، قَالَ: < إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلا يَمْنَعْهُ > فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُئُوسَهُمْ، فَلَمَّا رَآهُمْ قَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ، وَاللَّهِ لأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ۔
* تخريج: خ/المظالم ۲۰ (۲۴۶۳)، م/المساقاۃ ۲۹ (۱۶۰۹)، د/الأقضیۃ ۳۱ (۳۶۳۴)، ت/الأحکام ۱۸ (۱۳۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۹۵۴)، وقد أخرجہ: ط/الأقضیۃ ۲۶ (۳۲)، حم (۲/۳۹۶، ۲۴۰، ۲۷۴، ۳۹۶، ۴۶۳) (صحیح)

۲۳۳۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کسی سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر شہ تیر (دھرن یا کڑی) رکھنے کی اجازت مانگے، تو اس کو منع نہ کرے''، جب ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث لوگوں سے بیان کی تو لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا، یہ دیکھ کر ابو ہریرہ رضی اللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیوں، کیا ہوا؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم اس حدیث سے منہ پھیر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں تو اس کو تمہارے شانوں کے درمیان مار کر رہوں گا۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی ہر وقت تم کو سناؤں گا، یا تمہارے مونڈھوں کے بیچ میں اس حدیث کو لکھ کر لگا دوں گا، تاکہ ہر وقت ہر شخص دیکھے، یا تم اس کو چھپا نہ سکو، یا یہ مطلب ہے کہ تم تو دیوار پرکڑی رکھنے اور لکڑی گاڑ لینے کو گوارہ نہیں کرتے، میں تمہارے کندھوں پر بھی رکھوں گا، بعض روایتوں میں ''اکنافکم نون'' سے ہے یعنی تمہارے ہر طرف اس حدیث کو پھیلا دوں گا۔

2336- حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ هِشَامَ بْنَ يَحْيَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عِكْرِمَةَ بْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنْ بَلْمُغِيرَةَ ۱؎ أَعْتَقَ أَحَدَهُمَا أَنْ لا يَغْرِزَ خَشَبًا فِي جِدَارِهِ، فَأَقْبَلَ مُجَمِّعُ بْنُ يَزِيدَ وَرِجَالٌ كَثِيرٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ > فَقَالَ: يَا أَخِي ! إِنَّكَ مَقْضِيٌّ لَكَ عَلَيَّ، وَقَدْ حَلَفْتُ فَاجْعَلْ أُسْطُوَانًا دُونَ حَائِطِي أَوْ جِدَارِي فَاجْعَلْ عَلَيْهِ خَشَبَكَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۲۱۷، ومصباح الزجاجۃ: ۸۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۷۹، ۴۸۰) (حسن)
(سند میں ابن جریج مد لس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور ھشام بن یحییٰ مستور لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور عکرمہ بن سلمہ مجہول ہیں)
وضاحت۱؎: بلمغیرۃ یعنی ''بني المغیرۃ'' اس میں ایک لغت یہ بھی ہے)۔
۲۳۳۶- عکرمہ بن سلمہ کہتے ہیں بلمغیرہ (بنی مغیرہ) کے دو بھائیوں میں سے ایک نے یہ شرط لگائی کہ اگر میری دیوار میں تم دھرن لگاؤ تو میرا غلام آزاد ہے، پھر مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ اور بہت سے انصار آئے اور کہنے لگے: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (دھرن) گاڑنے سے منع نہ کرے، یہ سن کر وہ کہنے لگا: میرے بھائی! شریعت کا فیصلہ تمہارے موافق نکلا لیکن چونکہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لئے تم میری دیوار کے ساتھ ایک ستون کھڑا کرکے اس پر لکڑی رکھ لو۱؎۔
وضاحت۱؎: تاکہ تمہارا کام نکل جائے اور میرا نقصان نہ ہو، ورنہ میرا غلام آزاد ہو جائے گا۔

2337- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الأَسْوَدِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: < لا يَمْنَعْ أَحَدُكُمْ جَارَهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً عَلَى جِدَارِهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۸۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵۵) (صحیح)
(سند میں ابن لھیعہ ہیں، اور عبد اللہ بن وہب کی ان سے روایت صحیح ہے، نیز ابن وہب کی متابعت بھی موجود ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۹۴۷)
۲۳۳۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی (دھرن) گاڑنے سے منع نہ کرے''۔
 
Top