• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب إِذَا تَشَاجَرُوا فِي قَدْرِ الطَّرِيقِ
۱۶- باب: راستے کی لمبائی چوڑائی کے بارے میں لوگوں میں جھگڑا ہو تو فیصلہ کیسے ہو گا؟​

2338- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا مُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الضُّبَعِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ >۔
* تخريج: دالأقضیۃ ۳۱ (۳۶۳۳)، ت/الأحکام ۲۰ (۱۳۵۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۲۳)، وقد أخرجہ: خ/المظالم ۲۹ (۲۴۷۳)، م/المساقاۃ ۳۱ (۱۶۱۳)، حم (۲/۴۶۶، ۴۷۴) (صحیح)

۲۳۳۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''راستہ کو سات ہاتھ رکھو''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ وہاں ہے جہاں ایک جگہ پر کئی لوگ رہتے ہوں اور راستہ کی لمبائی چوڑائی پہلے سے معلوم نہ ہو۔ اب اس میں جھگڑا کریں تو سات ہاتھ کے برابر راستہ چھوڑ دینا چاہئے، لیکن جو راستے پہلے سے بنے ہوئے ہیں اور ان کی لمبائی چوڑائی معلوم ہے، ان میں کسی کو تصرف کرنے مثلاً عمارت بنانے اور راستہ کی زمین تنگ کر دینے کا اختیار نہیں ہے، اور سات ہاتھ کا راستہ ضرورت کے لئے کافی ہے، نبی کریم ﷺ کے عہد میں صرف آدمی، گھوڑے اور اونٹ راستوں پر چلتے تھے، ان کے لئے اتنا لمبا چوڑا راستہ کافی تھا، لیکن عام راستے جہاں آمد و رفت عام ہو اور گاڑیاں اور بگھیاں بہت چلتی ہوں وہاں اگر یہ لمبائی اور چوڑائی تنگ ہو تو حاکم کو اختیار ہے جتنا راستہ ضروری معلوم ہو اس کی تحدید کر دے۔

2339- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ هَيَّاجٍ، قَالا: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: <إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي الطَّرِيقِ فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۲۸، ومصباح الزجاجۃ: ۸۲۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۵، ۳۰۳، ۳۱۷) (صحیح)

۳۹ ۲۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم راستے کے سلسلہ میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ کا کر دو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب مَنْ بَنَى فِي حَقِّهِ مَا يَضُرُّ بِجَارِهِ
۱۷- باب: جس نے اپنی جگہ میں کوئی ایسی عمارت بنائی جس سے پڑوسی کو نقصان ہے تو اس کے حکم کا بیان​

2340- حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ خَالِدٍ النُّمَيْرِيُّ أَبُو الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَضَى < أَنْ لا ضَرَرَ وَلا ضِرَارَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۵۰۶۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۲۶، ۳۲۷) (صحیح)
(سند میں اسحاق مجہول الحال راوی ہے، اور اسحاق اور عبادہ رضی اللہ عنہ کے مابین انقطاع ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۵۰ والإرواء: ۸۹۶، وغایۃ المرام ۶۸ )
۲۳۴۰- عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ''کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداءً نہ مقابلۃً'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: مثلاً پڑوسی کے مکان کی طرف ایک نئی کھڑکی یا روشندان کھولے، یا پرنالہ یا نالی نکالے یا ایک پاخانہ گھر بنائے، ان امور میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر پڑوسی کو اس سے نقصان ہوتا ہو تو یہ تصرف صحیح نہ ہو گا، ورنہ صحیح ہے۔

2341- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لا ضَرَرَ وَلا ضِرَارَ >۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۰۱۶، ومصباح الزجاجۃ: ۸۲۲)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۱۳) (صحیح)
(اس سند میں جابر جعفی ضعیف روای ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
۴۱ ۲۳- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداءً نہ مقابلۃ''۔

2342- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ لُؤْلُؤَةَ، عَنْ أَبِي صِرْمَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ ضَارَّ أَضَرَّ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ شَاقَّ شَقَّ اللَّهُ عَلَيْهِ >۔
* تخريج: د/الأقضیۃ ۳۱ (۳۶۳۵)، ت/البروالصلۃ ۲۷ (۱۹۴۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۵۳) (حسن)

۲۳۴۲ - ابو صرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالی اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالی اس پر سختی کرے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب الرَّجُلانِ يُدْعَيَانِ فِي خُصٍّ
۱۸- باب: جھونپڑی کے دو دعوے دار ہوں تو فیصلہ کیسے ہو گا؟​

2343- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، وَعَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ دَهْثَمِ بْنِ قُرَّانٍ، عَنْ نِمْرَانَ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ فِي خُصٍّ كَانَ بَيْنَهُمْ، فَبَعَثَ حُذَيْفَةَ يَقْضِي بَيْنَهُمْ: فَقَضَى لِلَّذِينَ يَلِيهِمُ الْقِمْطُ، فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ أَخْبَرَهُ فَقَالَ: < أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجۃ، (تحفۃ الأشراف: ۳۱۸۱، ومصباح الزجاجۃ: ۸۲۳) (ضعیف جدا)
(سند میں نمران بن جاریہ مجہول الحال، اور دھشم بن قران متروک راوی ہیں)
۲۳۴۳- جاریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، تو آپ ﷺ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے بھیجا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے، پھر جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس واپس آئے، اور انہیں بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19-بَاب مَنِ اشْتَرَطَ الْخَلاصَ
۱۹- باب: (خرید و فروخت میں) خلاصی کی شرط لگانے کا بیان​

2344- حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: < إِذَا بِيعَ الْبَيْعُ مِنْ رَجُلَيْنِ، فَالْبَيْعُ لِلأَوَّلِ >.
قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِبْطَالُ الْخَلاصِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۵۸۲، ۹۹۱۸)، وقد أخرجہ: ت/النکاح ۲۰ (۱۱۱۰)، ن/البیوع ۹۴ (۴۶۸۶)، حم (۵/۸، ۱۱، ۱۲، ۱۸، ۲۲)، دي/النکاح ۱۵ (۲۲۳۹) (ضعیف)
(سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، اور عقیقہ کی حدیث کے علاوہ سمرہ رضی اللہ عنہ سے ان کا سماع ثابت نہیں ہے)
۲۳۴۴- سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب مال دو آدمیوں کے ہاتھ بیچا جائے تو وہ مال اس شخص کا ہو گا جس نے پہلے خریدا''۱؎۔
ابو الولید کہتے ہیں کہ اس حدیث سے خلاصی کی شرط باطل ہوتی ہے۔

وضاحت۱؎: یعنی اگر دوسرے خریدار نے اپنے بائع سے یہ شرط لگائی تھی کہ جس طرح تم سے ہو سکے یہ مال چھڑا کر مجھ کو دینا تو یہ شرط مفید نہ ہو گی اور بائع پہلے خریدار سے اس کے چھڑانے پر مجبور نہ کیا جائے گا، مسئلہ کی صورت یہ ہے کہ مثلاً زید کے پاس ایک گھوڑا تھا، زید نے اس کو عمرو کے ہاتھ بیچ دیا، اس کے بعد زید کے وکیل (ایجنٹ) نے اس کو بکر کے ہاتھ بیچ دیا اور بکر نے وکیل سے شرط لگائی کہ اس گھوڑے کو چھڑا کر میرے حوالہ کرنا تمہارے ذمہ ہے، اس نے قبول کیا جب بھی وہ گھوڑا عمرو ہی کو ملے گا کیونکہ اس کی بیع پہلی تھی اور بکر کی بیع دوبارہ صحیح نہیں ہوئی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب الْقَضَاءِ بِالْقُرْعَةِ
۲۰- باب: قرعہ اندازی کے ذریعہ فیصلہ کرنے کا بیان​

2345- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ عَنْ أَبِي قِلابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلا كَانَ لَهُ سِتَّةُ مَمْلُوكِينَ، لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَأَعْتَقَهُمْ عِنْدَ مَوْتِهِ، فَجَزَّأَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً۔
* تخريج: م/الحدود ۵ (۱۶۶۸)، د/الحدود ۲۵ (۳۹۵۸، ۳۹۵۹)، ت/الأحکام ۲۷ (۱۳۶۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۸۸۰)، وقد أخرجہ: ن/الجنائز۶۵ (۱۹۶۰)، حم (۴/۴۲۰، ۴۳۵، ۴۳۷، ۴۴۰) (صحیح)

۲۳۴۵- عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا، رسول اللہ ﷺ نے ان کے حصے کئے (دو دو کے تین حصے) (اور قرعہ اندازی کرکے) دو کو (جن کے نام قرعہ نکلا) آزاد کر دیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۱؎۔
وضاحت۱؎: جب آدمی بیمار ہو تو اس کو چاہئے کہ وارثوں کا خیال رکھے، اور اپنی ساری دولت تقسیم نہ کر دے، اگر ایسا ہی ضروری ہو تو تہائی مال تک اللہ کی راہ میں دے دے، اور دو تہائی دولت وارثوں کے لئے چھوڑ دے، اگر ساری دولت کے صدقہ کی وہ وصیت کرے تو یہ وصیت تہائی مال ہی میں نافذ ہو گی۔ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا، دو غلاموں کو قرعہ ڈال کر آزاد کرایا، اور قرعہ اس واسطے ڈالا کہ وہ جھگڑا نہ کریں، اور وہ وارثوں کی ملکیت میں بدستور غلام رہے، دوسری روایت میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے حق میں سخت کلمہ کہا کیونکہ اس نے وارثوں کا خیال نہیں رکھا تھا۔

2346- حَدَّثَنَا جَمِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلاسٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَارَئَا فِي بَيْعٍ، لَيْسَ لِوَاحِدٍ مِنْهُمَا بَيِّنَةٌ، فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَسْتَهِمَا عَلَى الْيَمِينِ، أَحَبَّا ذَلِكَ أَمْ كَرِهَا.
* تخريج: د/الأقضیۃ ۲۲ (۳۶۱۶) وأنظر حدیث رقم : (۲۳۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۶۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۸۹، ۵۲۴) (صحیح)

۲۳۴۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، آپ ﷺ نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لئے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند۔

2347- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ إِذَا سَافَرَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ۔
* تخريج: خ/الھبۃ ۱۵ (۲۵۹۳)، المغازي ۳۴ (۴۱۴۱)، النکاح ۹۷ (۵۰۹۲)، م/فضائل الصحابۃ ۱۳ (۲۴۴۵)، التوبۃ ۱۰ (۲۴۴۵)، د/النکاح ۳۹ (۲۱۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۵۱، ۱۹۷، ۲۶۹)، دي/النکاح ۲۶ (۲۲۴۵) ،الجہاد ۳۱ (۲۴۶۷)، (یہ حدیث مکرر ہے ،ملاحظہ ہو: ۱۹۷۰) (صحیح)

۲۳۴۷- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی جس کے نام قرعہ نکلتا اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔

2348- حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ، فِي ثَلاثَةٍ قَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلَ اثْنَيْنِ، فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالا: لا، ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ فَقَالَ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ فَقَالا: لا، فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ: أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ؟ قَالا: لا، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ، وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيِ الدِّيَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ۔
* تخريج: د/الطلاق ۳۲ (۲۲۷۰)، ن/الطلاق ۵۰ (۳۵۱۸)، (تحفۃ الأشراف:۳۶۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۷۳، ۴۷۴) (صحیح)

۲۳۴۸ - زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جب یمن میں تھے، تو ان کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ تین آدمیوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی، تو انہوں نے پہلے دو آدمیوں سے پوچھا: کیا تم دونوں اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ ان دونوں نے کہا: نہیں، پھر دو کو الگ کیا، اور ان سے پوچھا: کیا تم دونوں اقرار کرتے ہوکہ یہ لڑکا اس تیسرے شخص کا ہے؟ اس طرح جب وہ دو دو سے پوچھتے کہ تم اس لڑکے کو تیسرے کا کہتے ہو؟ تو وہ انکار کرتے، آخر انہوں نے قرعہ اندازی کی، اور جس کے نام قرعہ نکلا وہ لڑکا اس کو دلایا، اور دو تہائی کی دیت اس پر لازم کر دی، اس کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا تو آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے۱؎۔
وضاحت۱؎: ہنسی کی وجہ یہ تھی کہ یہ فیصلہ عجیب طور کا تھا، اور دو تہائی دیت کی اس سے اس لئے دلوائی کہ دعوی کے مطابق اس لڑکے میں تینوں شریک تھے، اب قرعہ جھگڑا ختم کرنے کے لئے کیا، نہ نسب ثابت کرنے کے لئے، تو اس شخص کو بچہ کا دو تہائی کا بدلہ دوسرے دعویداروں کو دینا پڑا اور یہ علی رضی اللہ عنہ کی اپنی رائے تھی، لیکن ابو داود نے عمرو بن شعیب سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایسی صورت میں یہ حکم فرمایا: وہ بچہ اپنی ماں کے پاس رہے گا، اور کسی سے اس کا نسب ثابت نہ ہو گا، نہ وہ ان دعویداروں میں سے کسی مرد کا وارث ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21-بَاب الْقَافَةِ
۲۱- باب: قیافہ شنا سوں کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: قیافہ یہ ہے کہ اعضاء کی مناسبت کا علم جو باپ اور اس کی اولاد میں ہوتی ہے، اور قیافہ کی ضرورت وہاں پڑتی ہے جہاں اور کوئی ثبوت نہ ہو جیسے ایک لونڈی دو شخصوں میں مشترک ہو، پھر اس سے بچہ پیدا ہو، اور دونوں شریک اس بچہ کا دعوی پیش کریں تو قیافہ کی رو سے بچہ ایک کو دلا دیں گے، اور وہ دوسرے کو لونڈی کی آدھی قیمت دے کر کل لونڈی کا مالک ہو جائے گا، نیز قیافہ کوئی شرعی دلیل نہیں، اور نہ ہی اس سے نسب ثابت ہو سکتا ہے۔

2349- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ذَاتَ يَوْمٍ مَسْرُورًا، وَهُوَ يَقُولُ: يَا عَائِشَةُ! أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ دَخَلَ عَلَيَّ فَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا، عَلَيْهِمَا قَطِيفَةٌ، قَدْ غَطَّيَا رُئُوسَهُمَا وَقَدْ بَدَتْ أَقْدَامُهُمَا، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ، بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ >۔
* تخريج: خ/المناقب ۲۳ (۳۳۵۵)، فضائل الصحابہ ۱۷ (۳۷۳۱)، الفرائض ۳۱ (۶۷۷۱)، م/الرضاع ۱۱ (۱۴۵۹)، د/الطلاق ۳۱ (۲۲۶۷)، ت/الولاء ۵ (۲۱۲۹)، ن/الطلاق ۵۱ (۳۴۲۳، ۳۵۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۴۳۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۸۲، ۲۲۶) (صحیح)

۲۳۴۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس خوش خوش تشریف لائے، آپ فرما رہے تھے: ''عائشہ! کیا تم نے دیکھا نہیں کہ مجزِّز مدلجی میرے پاس آیا، اس نے اسامہ اور زید بن حارثہ کو ایک چادر میں سویا ہوا دیکھا، وہ دونوں اپنے سر چھپائے ہوئے تھے، اور دونوں کے پیر کھلے تھے، تو کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں''۱؎۔
وضاحت۱؎: نبی کریم ﷺ کے متبنی زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ گورے رنگ کے تھے، اور ان کے بیٹے اسامہ سانولے رنگ کے تھے، منافقوں نے یہ طوفان اٹھایا کہ اسامہ زید کے بیٹے نہیں ہیں، اس سے نبی کریم ﷺ کو بڑا رنج ہوا، جب قیافہ شناس نے دونوں کے پاؤں دیکھ کر ایک طرح کے بتلائے تو مزید اطمینان ہوا کہ اسامہ زید ہی کے بیٹے ہیں، ہر چند پہلے بھی اس کا یقین تھا مگر قیافہ شناس کے کہنے پر اور زیادہ یقین ہوا، منافقوں کا منہ بند ہوا اور نبی کریم ﷺ کو خوشی حاصل ہوئی۔

2350- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ قُرَيْشًا أَتَوُا امْرَأَةً كَاهِنَةً، فَقَالُوا لَهَا: أَخْبِرِينَا أَشْبَهَنَا أَثَرًا بِصَاحِبِ الْمَقَامِ، فَقَالَتْ: إِنْ أَنْتُمْ جَرَرْتُمْ كِسَائً عَلَى هَذِهِ السِّهْلَةِ، ثُمَّ مَشَيْتُمْ عَلَيْهَا أَنْبَأْتُكُمْ، قَالَ، فَجَرُّوا كِسَائً، ثُمَّ مَشَى النَّاسُ عَلَيْهَا، فَأَبْصَرَتْ أَثَرَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَتْ: هَذَا أَقْرَبُكُمْ إِلَيْهِ شَبَهًا، ثُمَّ مَكَثُوا بَعْدَ ذَلِكَ عِشْرِينَ سَنَةً، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماحہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۳۰، ومصباح الزجاجۃ: ۸۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۳۲) (منکر ضعیف)
(سماک بن حرب کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے)
۲۳۵۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کے لوگوں نے ایک کاہنہ کے پاس آکر کہا: ہمیں بتاؤ کہ ہم میں سے کون مقام ابراہیم کے صاحب (ابراہیم علیہ السلام) سے زیادہ مشابہ ہے؟ وہ بولی: اگر تم ایک کمبل لے کر اسے اس نرم اور ہموار زمین پر گھسیٹو پھر اس پر چلو تو میں بتاؤں، ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے کمبل کو زمین پر پھیرا (تاکہ زمین کے نشانات مٹ جائیں) پھر لوگ اس پر چلے، اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاؤں کے نشانات دیکھے، تو بولی: یہ شخص تم میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ ہے، پھر اس واقعہ پر بیس سال یا جتنا اللہ تعالی نے چاہا گزرے، اس کے بعد اللہ تعالی نے محمد ﷺ کو نبوت عطا کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22-بَاب تَخْيِيرِ الصَّبِيِّ بَيْنَ أَبَوَيْهِ
۲۲- باب: بچے کو اختیار دینا کہ ماں باپ میں سے جس کے پاس رہنا چاہے رہے​

2351- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ خَيَّرَ غُلامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ، وَقَالَ: < يَا غُلامُ! هَذِهِ أُمُّكَ وَهَذَا أَبُوكَ >۔
* تخريج: د/الطلاق ۳۵ (۲۲۷۷)، ت/الأحکام ۲۱ (۱۳۵۷)، ن/الطلاق ۵ (۳۵۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۴۷)، دي/الطلاق ۱۵ (۲۳۳۹) (صحیح)

۲۳۵۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لڑکے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ کے پاس رہے یا ماں کے پاس اور فرمایا: ''بچے! یہ تیری ماں ہے اور یہ تیرا باپ ہے ''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی تو جس کے ساتھ چاہے جا سکتا ہے۔

2352- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، عَنْ عَبْدِالْحَمِيدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَبَوَيْهِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ ﷺ أَحَدُهُمَا كَافِرٌ وَالآخَرُ مُسْلِمٌ، فَخَيَّرَهُ فَتَوَجَّهَ إِلَى الْكَافِرِ، فَقَالَ: < اللَّهُمَّ اهْدِهِ > فَتَوَجَّهَ إِلَى الْمُسْلِمِ، فَقَضَى لَهُ بِهِ۔
* تخريج: حدیث عبد الحمید بن سلمۃ عن أبیہ عن جدہ، علی أن إسم أبویہ لایعرفان تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفۃ الأشرا ف: ۱۵۵۸۶، مصباح الزجاجۃ: ۸۵۲)، وحدیث عبد الحمید بن سملۃ عن جدہ رافع بن سنان أخرجہ: د/الطلاق ۲۶ (۲۲۴۴)، ن/الطلاق ۵۲ (۳۵۲۵)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۹۴) (صحیح)
(سند میں عبد الحمید بن سلمہ عن أبیہ عن جدہ تینوں مجہول ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: صحیح أبی داود: ۴۱ ۱۹)
۲۳۵۲- رافع بن سنان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، ان کے ماں اور باپ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک کافر تھے اور ایک مسلمان، تو نبی اکرم ﷺ نے ان (رافع) کو اختیار دیا (کہ جس کے ساتھ جانا چاہیں جا سکتے ہیں) وہ کافر کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے دعا فرمائی: ''اے اللہ! اس کو ہدایت دے''، پھر وہ مسلمان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے اسی (مسلمان) کے پاس ان کے رہنے کا فیصلہ فرما دیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23-بَاب الصُّلْحِ
۲۳- باب: صلح کا بیان​

2353- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ؛ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: <الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلا صُلْحًا حَرَّمَ حَلالا، أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا >۔
* تخريج: ت/الأحکام ۱۷ (۱۳۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۷۵) (صحیح)

۲۳۵۳- عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''مسلمانوں کے مابین صلح جائز ہے، سوائے ایسی صلح کے جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال'' ۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی خلاف شرع صلح جائز نہیں، باقی جس میں شرع کی مخالفت نہ ہو وہ صلح ہر طرح سے جائز ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب الْحَجْرِ عَلَى مَنْ يُفْسِدُ مَالَهُ
۲۴- باب: جو شخص اپنا مال برباد کرتا ہو تو اس پر حجر (پابندی لگانا) درست ہے​

2354- حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، وَكَانَ يُبَايِعُ، وَأَنَّ أَهْلَهُ أَتَوُا النَّبِيَّ ﷺ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! احْجُرْ عَلَيْهِ، فَدَعَاهُ النَّبِيُّ ﷺ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَال: < إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ: هَا، وَلا خِلابَةَ >۔
* تخريج: د/البیوع ۶۸ (۳۵۰۱)، ت/البیوع ۲۸ (۱۲۵۰)، ن/البیوع ۱۰ (۴۴۹۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۱۷) (صحیح)

۲۳۵۴- انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کچھ کم عقل تھا، اور وہ خرید و فروخت کرتا تھا تو اس کے گھر والے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کو اپنے مال میں تصرف سے روک دیجئے، نبی اکرم ﷺ نے اس کو بلایا، اور اس کو خرید و فروخت کرنے سے منع کیا، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ خرید و فروخت نہ کروں، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اچھا جب خرید و فروخت کرو تو یہ کہہ لیا کرو کہ دھوکا دھڑی کی بات نہیں چلے گی''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی مجھ کو دھوکہ مت دو، اگر فریب ثابت ہو گا تو معاملہ فسخ کرنے کا مجھ کو اختیار ہو گا، دوسری روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ مجھ کو تین دن تک اختیار ہے۔ (طبرانی او ر بیہقی)

2355- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانٍ، قَالَ: هُوَ جَدِّي مُنْقِذُ بْنُ عَمْرٍو، وَكَانَ رَجُلا قَدْ أَصَابَتْهُ آمَّةٌ فِي رَأْسِهِ فَكَسَرَتْ لِسَانَهُ، وَكَانَ لا يَدَعُ، عَلَى ذَلِكَ التِّجَارَةَ، وَكَانَ لايَزَالُ يُغْبَنُ، فَأَتَى النَّبِيَّ ﷺ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: <إِذَا أَنْتَ بَايَعْتَ فَقُلْ: لاخِلابَةَ، ثُمَّ أَنْتَ فِي كُلِّ سِلْعَةٍ ابْتَعْتَهَا بِالْخِيَارِ ثَلاثَ لَيَالٍ، فَإِنْ رَضِيتَ فَأَمْسِكْ، وَإِنْ سَخِطْتَ فَارْدُدْهَا عَلَى صَاحِبِهَا >۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۹۴۲۸، ومصباح الزجاجۃ: ۸۲۶) (حسن)
(سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور راویت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شاہد سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، کما تقدم، تراجع الألبانی: رقم: ۱۰۲)
۲۳۵۵- محمد بن یحییٰ بن حبان کہتے ہیں کہ میرے دادا منقذ بن عمرو ہیں، ان کے سر میں ایک زخم لگا تھا جس سے ان کی زبان بگڑ گئی تھی، اس پر بھی وہ تجارت کرنا نہیں چھوڑتے تھے، اور ہمیشہ ٹھگے جاتے تھے، بالآخر وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ''جب تم کوئی چیز بیچو تو یوں کہہ دیا کرو: دھوکا دھڑی نہیں چلے گی، پھر تمہیں ہر اس سامان میں جسے تم خریدتے ہو تین دن کا اختیار ہو گا، اگر تمہیں پسندہو تو رکھ لو اور اگر پسند نہ آئے تو اسے اس کے مالک کو واپس کر دو''۱؎۔
وضاحت۱؎: پس یہ اختیار خاص کرکے آپ ﷺ نے منقذ کو دیا تھا، اگر کسی کے عقل میں فتور ہو تو حاکم ایسا اختیار دے سکتا ہے، نیز مسرف اور بے وقوف پر حجر کرنا جائز ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب تَفْلِيسِ الْمُعْدَمِ وَالْبَيْعِ عَلَيْهِ لِغُرَمَائِهِ
۲۵- باب: مفلس اور دیوالیہ کا مال قرض خواہوں کا قرض اتارنے کے لئے بیچ دیا جائے گا​

2356- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا، فَكَثُرَ دَيْنُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ >، فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ، وَلَيْسَ لَكُمْ إِلا ذَلِكَ > يَعْنِي الْغُرَمَاءَ۔
* تخريج: م/المساقاۃ ۴ (۱۵۵۶)، د/البیوع ۶۰ (۳۴۶۹)، ت/الزکاۃ ۲۴ (۶۵۵)، ن/البیوع ۲۸ (۴۵۳۴)، ۹۳ (۴۶۸۲)، (تحفۃ الأشراف:۴۲۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۶، ۵۶، ۵۸) (صحیح)

۲۳۵۶- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں ایک شخص کواس کے خریدے ہوئے پھلوں میں گھاٹا ہوا، اور وہ بہت زیادہ مقروض ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: ''تم لوگ اسے صدقہ دو'' چنانچہ لوگوں نے اسے صدقہ دیا، لیکن اس سے اس کا قرض پورا ادا نہ ہو سکا، بالآخر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو مل گیا وہ لے لو، اس کے علاوہ تمہارے لئے کچھ نہیں ہے'' یعنی قرض خواہوں کے لئے۔
وضاحت۱؎: کیونکہ اب وہ مفلس ہو گیا تو قرض خواہوں کو اس سے زیادہ کچھ نہیں پہنچتا کہ اس کے پاس جو مال ہو وہ لے لیں، مگر مکان رہنے کا اور ضروری کپڑا اور سردی کا کپڑا، اور سد رمق کے موافق خوراک اس کی اور اس کے گھر والوں کی یہ چیزیں قرض میں نہیں لی جائیں گی۔ (الروضۃ الندیۃ)

2357- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزٍ، عَنْ سَلَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ خَلَعَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ مِنْ غُرَمَائِهِ، ثُمَّ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ اسْتَخْلَصَنِي بِمَالِي ثُمَّ اسْتَعْمَلَنِي۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۶۸، ومصباح الزجاجۃ: ۸۲۷) (ضعیف)
(سند میں عبد اللہ بن مسلم بن ہرمز ضعیف اور سلمہ المکی مجہول الحال ہیں)
۲۳۵۷- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ان کے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، اورپھر آپ ﷺ نے انہیں یمن کا عامل بنا دیا، معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: دیکھو! رسول اللہ ﷺ نے میرے مال کے ذریعہ مجھے میرے قرض خواہوں سے چھٹکارا دلوایا، پھر مجھے آپ ﷺ نے عامل بھی بنا دیا۔
 
Top