• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب إِجَارَةِ الأَجِيرِ عَلَى طَعَامِ بَطْنِهِ
۵- باب: صرف خوراکی پر مزدور رکھنے کا بیان​

2444- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ مَسْلَمَةَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ النُّدَّرِ يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَرَأَ {طسم} حَتَّى إِذَا بَلَغَ قِصَّةَ مُوسَى قَالَ: " إِنَّ مُوسَى ﷺ آجَرَ نَفْسَهُ ثَمَانِيَ سِنِينَ أَوْ عَشْرًا عَلَى عِفَّةِ فَرْجِهِ وَطَعَامِ بَطْنِهِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۵۹، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶۱) (ضعیف جدا)
(بقیہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، اور مسلمہ بن علی منکر الحدیث ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۴۸۸)
۲۴۴۴- عتبہ بن ندر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے تو آپ نے سورۃ طسٓمٓ پڑھی، جب موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ پر پہنچے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''موسیٰ علیہ السلام نے اپنے آپ کو عفت و پاک دامنی اور خوراک کے عوض آٹھ یا دس سال تک مزدور بنایا''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ حدیث ضعیف ہے، اور یہ معلوم ہے کہ جب موسی علیہ السلام مصر سے بھاگ کر مدین میں پہنچے تو وہاں شعیب علیہ السلام کے نوکر ہوئے، اقرار یہ تھا کہ آٹھ یا دس برس تک عفت کے ساتھ ان کی خدمت کریں اور کھانا پیٹ بھر کھائیں، مدت کے بعد ایک بیٹی کا نکاح ان سے کر دیا جائے یہ قصہ قرآن شریف میں تفصیل سے مذکور ہے۔

2445- حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: نَشَأْتُ يَتِيمًا وَهَاجَرْتُ مِسْكِينًا، وَكُنْتُ أَجِيرًا لابْنَةِ غَزْوَانَ بِطَعَامِ بَطْنِي وَعُقْبَةِ رِجْلِي، أَحْطِبُ لَهُمْ إِذَا نَزَلُوا، وَأَحْدُو لَهُمْ إِذَا رَكِبُوا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ الدِّينَ قِوَامًا، وَجَعَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ إِمَامًا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۹۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶۲) (ضعیف)
(حیان بن بسطام ضعیف راوی ہیں)۔
۲۴۴۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری پرورش یتیمی کی حالت میں ہوئی، اور ہجرت کرنے کے وقت میں مسکین تھا، اور غزوان کی بیٹی کا صرف خوراک کی اور باری باری اونٹ پر چڑھنے کے عوض مزدور تھا، جب وہ لوگ ٹھہرتے تو میں ان کے لئے لکڑیاں چنتا، اور جب وہ سوار ہوتے تو میں ان کے اونٹوں کی حدی خوانی کرتا، تو شکر ہے اللہ کا جس نے دین کو مضبوط کیا، اور ابو ہریرہ کو امام بنایا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب الرَّجُلِ يَسْتَقِي كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ وَيَشْتَرِطُ جَلْدَةً
۶- باب: ایک ڈول پانی کھینچنے پر ایک عمدہ کھجور لینے کی شرط لگانے کا بیان​

2446- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: أَصَابَ نَبِيَّ اللَّهِ ﷺ خَصَاصَةٌ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا، فَخَرَجَ يَلْتَمِسُ عَمَلا يُصِيبُ فِيهِ شَيْئًا لِيُقِيتَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَأَتَى بُسْتَانًا لِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، فَاسْتَقَى لَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ دَلْوًا، كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، فَخَيَّرَهُ الْيَهُودِيُّ مِنْ تَمْرِهِ، سَبْعَ عَشَرَةَ عَجْوَةً، فَجَاءَ بِهَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۶۰۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶۳) (ضعیف جدا)
(سند میں حنش حسین بن قیس الرحبی) متروک الحدیث ہے، ملا حظہ ہو: الإرواء: ۵ /۳۱۴)
۲۴۴۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو ایک بار بھوک لگی یہ خبرعلی رضی اللہ عنہ کو پہنچی، تو وہ کام کی تلاش میں نکلے جسے کرکے کچھ پائیں تولے کر آئیں تاکہ اسے رسول اللہ ﷺ کو کھلا سکیں، چنانچہ وہ ایک یہودی کے باغ میں آئے، اور اس کے لئے سترہ ڈول پانی کھینچا، ہر ڈول ایک کھجور کے بدلے، یہودی نے ان کو اختیار دیا کہ وہ اس کی کھجوروں میں سے سترہ عجوہ ۱؎ کھجوریں چن لیں، وہ انہیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے۔

2447- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ؛ قَالَ: كُنْتُ أَدْلُو الدَّلْوَ بِتَمْرَةٍ، وَأَشْتَرِطُ أَنَّهَا جَلْدَةٌ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۳۲۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶۴) (حسن)
(سند میں ابو اسحاق مدلس و مختلط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء : ۵/ ۳۱۴- ۳۱۵ تحت رقم : ۹۱ ۱۴)
۲۴۴۷- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک کھجور کے بدلے ایک ڈول پانی نکالتا تھا، اور یہ شرط لگا لیتا تھا کہ وہ کھجور خشک اور عمدہ ہو۔

2448- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا لِي أَرَى لَوْنَكَ مُنْكَفِئًا ؟ قَالَ: <الْخَمْصُ > فَانْطَلَقَ الأَنْصَارِيُّ إِلَى رَحْلِهِ، فَلَمْ يَجِدْ فِي رَحْلِهِ شَيْئًا، فَخَرَجَ يَطْلُبُ، فَإِذَا هُوَ بِيَهُودِيٍّ يَسْقِي نَخْل، فَقَالَ الأَنْصَارِيُّ لِلْيَهُودِيِّ: أَسْقِي نَخْلَكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: كُلُّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ وَاشْتَرَطَ الأَنْصَارِيُّ أَنْ لا يَأْخُذَ خَدِرَةً وَلا تَارِزَةً وَلا حَشَفَةً، وَلا يَأْخُذَ إِلا جَلْدَةً، فَاسْتَقَى بِنَحْوٍ مِنْ صَاعَيْنِ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۳۵، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶۵) (ضعیف جدا)
(سند میں عبد اللہ بن سعید بن کیسان متہم بالکذب ہے)۔
۲۴۴۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں آپ کا رنگ بدلا ہوا پاتا ہوں؟! آپ ﷺ نے فرمایا: ’’بھوک سے‘‘، یہ سن کر انصاری اپنے گھر گئے، وہاں انہیں کچھ نہ ملا، پھر کوئی کام ڈھونڈنے نکلے، تو دیکھا کہ ایک یہودی اپنے کھجور کے درختوں کو پانی دے رہا ہے، انصاری نے یہودی سے کہا: میں تمہارے درختوں کو سینچ دوں؟ اس نے کہا: ہاں، سینچ دو، کہا: ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور لوں گا، اور انصاری نے یہ شرط بھی لگالی کہ کالی، سوکھی اور خراب کھجوریں نہیں لوں گا، صرف اچھی ہی لوں گا، اس طرح انہوں نے دو صاع کے قریب کھجوریں حاصل کیں، اور انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
۷- باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کھیت کو بٹائی پر دینے کا بیان۱؎
وضاحت ۱؎ : مزارعت (بٹائی) کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنی زمین کسی کے حوالہ اس شرط پر کرے کہ وہ اس میں غلہ اُ گائے، اور جو پیدا وار ہو گی، اس میں ایک حصہ اس کا ہو گا، اور ایک حصہ کھیت کو بٹائی پر لینے والے کا۔

2449- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ، وَقَالَ: < إِنَّمَا يَزْرَعُ ثَلاثَةٌ: رَجُلٌ لَهُ أَرْضٌ، فَهُوَ يَزْرَعُهَا، وَرَجُلٌ مُنِحَ أَرْضًا فَهُوَ يَزْرَعُ مَا مُنِحَ، وَرَجُلٌ اسْتَكْرَى أَرْضًا بِذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ >۔
* تخريج: د/البیوع ۳۲ (۳۴۰۰)، ن/المزراعۃ ۲ (۳۹۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۵۷)، وقد أخرجہ: خ/الحرث ۱۸ (۲۳۴۰)، الھبۃ ۳۵ (۲۶۳۲)، م/البیوع ۱۷(۱۵۴۷)، ط/کراء الارض ۱ (۱)، حم (۳/۳۰۲، ۳۰۴، ۳۵۴، ۳۶۳، ۴۶۴، ۴۶۵، ۴۶۶) (صحیح)

۲۴۴۹- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ ۲؎ بیع و مزابنہ سے منع کیا، اور فرمایا: ''کھیتی تین آدمی کریں: ایک وہ جس کی خود زمین ہو، وہ اپنی زمین میں کھیتی کرے، دوسرے وہ جس کو زمین (ہبہ یا مستعار) دی گئی ہو، تو وہ اس دی گئی زمین میں کھیتی کرے، تیسرے وہ جو سونا یا چاندی (نقد) دے کر زمین ٹھیکے پر لے لے''۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں محاقلہ سے مراد مزارعت (بٹائی) ہی ہے، اور اس کی ممانعت کا معاملہ اخلاقاً ہے نہ کہ بطور حرمت، یہ حکم ابتدائے اسلام میں تھا بعد میں نبی اکرم ﷺ نے نہ یہ کہ اس کی اجازت دی، بلکہ خود اہل خیبر سے بٹائی پر معاملہ کیا جیسا کہ ''باب النخيل والكرم'' میں آئے گا۔

2450- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ دِينَارٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: كُنَّا نُخَابِرُ وَلا نَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا، حَتَّى سَمِعْنَا رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْهُ، فَتَرَكْنَاهُ لِقَوْلِهِ۔
* تخريج: م/البیوع ۲۱ (۱۵۴۷)، د/البیوع ۳۱ (۳۳۸۹)، ن/المزراعۃ ۲ (۳۹۲۷، ۳۹۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۴، ۲/۱۱، ۳/۴۶۳)، ۴۶۵، ۴/۱۴۲) (صحیح)

۲۴۵۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم مزارعت (بٹائی کھیتی) کیا کرتے تھے، اور اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے تو پھر ہم نے ان کے کہنے سے اسے چھوڑ دیا۱؎۔
وضاحت۱؎: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی، یعنی خلاف اولیٰ تھی، تحریمی نہیں کیونکہ آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اپنے مسلمان بھائی کو کھیتی کے لئے مفت زمین دینی چاہئے، اسے بٹائی پر دینا کیا ضرور ی ہے، چونکہ عرب میں زمین کی کمی نہیں، پس جس قدر اپنے سے ہو سکے اس میں خود زراعت کرے، اور جو بچ رہے وہ اپنے مسلمان بھائی کو عاریت کے طور پر دے دے تاکہ ثواب حاصل ہو۔


2451- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حدَّثَنِي عَطَائٌ؛ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ يَقُولُ: كَانَتْ لِرِجَالٍ مِنَّا فُضُولُ أَرَضِينَ يُؤَاجِرُونَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ فُضُولُ أَرْضِينَ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ >۔
* تخريج: خ/الحرث ۱۸ (۲۳۴۰)، الہبۃ ۳۵ (۲۶۳۲)، م/البیوع ۱۷ (۱۵۳۶)، ن/المزارعۃ ۲ (۳۹۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۲، ۳۰۴، ۳۱۲، ۳۵۴، ۳۶۳)، دي/البیوع ۷۲ (۲۶۵۷) (صحیح)

۲۴۵۱- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم میں سے کچھ لوگوں کے پاس زائد زمینیں تھیں، جنہیں وہ تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی پر دیا کرتے تھے، پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جس کے پاس زائد زمینیں ہوں تو ان میں وہ یا تو خود کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو کھیتی کے لئے دے دے، اگر یہ دونوں نہ کرے تو اپنی زمین اپنے پاس ہی روکے رہے''۔

2452- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلامٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، فَإِنْ أَبَى، فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ >۔
* تخريج: خ/الحرث ۱۸ (۲۳۴۱)، م/البیوع ۱۷ (۱۵۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۴۱۵) (صحیح)

۲۴۵۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس کے پاس زمین ہو وہ خود کھیتی کرے یا اپنے بھائی کو (مفت) دے دے، ورنہ اپنی زمین اپنے پاس ہی روکے رہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس مفہوم کی احادیث کو ابتدائے اسلام کے احکام پر محمول کیا جائے، کیونکہ سونے اور چاندی کے عوض تو کرایہ پر زمین دینا بالا تفاق جائز ہے جبکہ ان میں اس کی بھی ممانعت ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب كِرَاءِ الأَرْضِ
۸- باب: زمین کرایہ پر دینے کا بیان​

2453- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَأَبُو أُسَامَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ (أَوْ قَالَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ) عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُكْرِي أَرْضًا لَهُ، مَزَارِعًا فَأَتَاهُ إِنْسَانٌ فَأَخْبَرَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَذَهَبَ ابْنُ عُمَرَ وَذَهَبْتُ مَعَهُ حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلاطِ، فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَتَرَكَ عَبْدُاللَّهِ كِرَائَهَا۔
* تخريج:خ/الإجارۃ ۲۲ (۲۲۸۵)، الحرث ۱۸ (۲۳۴۵)، م/البیوع ۱۷ (۱۵۴۷)، د/البیوع ۳۱ (۳۳۹۴)، ن/المزارعۃ ۲ (۳۹۲۱)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۸۶)، وقد أخرجہ: ط/کراء الأرض ۱ (۳)، حم (۱/۲۳۴، ۴/۱۴۲) (صحیح)

۲۴۵۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنی زمین کرایہ پر کھیتی کے لئے دیا کرتے تھے، ان کے پاس ایک شخص آیا اور انہیں رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ والی حدیث کی خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرایے پر دینے سے منع کیا ہے، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا یہاں تک کہ بلاط ۱؎ میں رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرایے پر دینے سے منع کیا ہے، اس پر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان زمینوں کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا ۲؎۔
وضاحت۱؎: بلاط: مسجد نبوی کے پاس ایک مقام کا نام ہے۔
وضاحت۲؎: یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اگلی حدیث کے خلاف ہے، اس میں بٹائی سے منع کیا ہے، لیکن سونے چاندی کے بدلے زمین کا کرایہ پر دینا درست بیان ہوا ہے، اور اس روایت میں مطلقاً کرایہ پر دینے سے ممانعت ہے اسی واسطے اہل حدیث نے رافع رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ترک کیا کیونکہ وہ مضطرب ہے۔

2454- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ شَوْذَبٍ، عَنْ مَطَرٍ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا، وَلا يُؤَاجِرْهَا >۔
* تخريج: م/البیوع ۱۷ (۱۵۳۶)، ن/المزارعۃ ۲ (۳۹۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۲۴۸۶)، وقد أخرجہ: خ/الحرث ۱۸ (۲۳۴۰)، الھبۃ ۳۵ (۲۶۳۲)، حم (۳/۳۰۲، ۳۰۴، ۳۱۲، ۳۵۴، ۳۶۳)، دي/البیوع ۷۲ (۲۶۵۷) (صحیح)

۲۴۵۴- جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ دیا تو فرمایا: ''جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں خود کھیتی کرے، یا کسی کو کھیتی کے لئے دے دے، لیکن کرائے پر نہ دے''۔

2455- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، مَوْلَى ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُحَاقَلَةُ اسْتِكْرَاءُ الأَرْضِ۔
* تخريج: خ/البیوع ۸۱ (۲۱۸۶)، م/البیوع ۱۷ (۱۵۴۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۱۸)، وقد أخرجہ: ط/البیوع ۱۳ (۲۴)، حم (۳/۶، ۸، ۶۰)، دي/البیوع ۲۳ (۲۵۹۹) (صحیح)

۲۴۵۵- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محاقلہ سے منع کیا ہے، اور محاقلہ زمین کو کرایہ پر دینا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب الرُّخْصَةِ فِي كِرَاءِ الأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ
۹- باب: خالی زمین کو سونے چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کی رخصت کا بیان​

2456- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ لَمَّا سَمِعَ إِكْثَارَ النَّاسِ فِي كِرَاءِ الأَرْضِ - قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < أَلا مَنَحَهَا أَحَدُكُمْ أَخَاهُ >، وَلَمْ يَنْهَ عَنْ كِرَائِهَا۔
* تخريج: خ/الحرث والمزارعۃ ۱۰ (۲۳۳۰)، الھبۃ ۳۵ (۲۶۳۴)، م/البیوع ۲۱ (۱۵۵۰)، د/البیوع ۳۱ (۳۳۸۹)، ت/الأحکام ۴۲ (۱۳۸۵)، ن/المزراعۃ ۲ (۳۹۰۴)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۳۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۴،۲۸۱، ۳۴۹)، (۲۳۴۲) (صحیح)

۲۴۵۶- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب انہوں نے سنا کہ لوگ زمین کو کرایے پر دینے کے سلسلے میں کثرت سے گفتگو کر رہے ہیں، تو ''سبحان اللہ'' کہہ کر تعجب کا اظہار کیا، اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے تو یوں فرمایا تھا: ''تم میں سے کسی نے اپنے بھائی کو زمین مفت کیوں نہیں دے دی'' آپ ﷺ نے اسے کرایے پر دینے سے منع نہیں کیا۱؎۔
وضاحت۱؎: اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رافع رضی اللہ عنہ کو حدیث کا مطلب سمجھنے میں دھوکہ ہوا۔

2457- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِالْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ أَرْضَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا كَذَا وَكَذَا > لِشَيْئٍ مَعْلُومٍ.
فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ الْحَقْلُ، وَهُوَ بِلِسَانِ الأَنْصَارِ: الْمُحَاقَلَةُ۔
* تخريج: م/البیوع ۲۱ ۱۵۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۵۷۱۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۱۳) (صحیح)

۲۴۵۷- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو مفت دے تو یہ اس کے لئے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ اس سے اتنی اور اتنی'' یعنی کوئی متعین رقم لے۔
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہی حقل ہے، اور انصار کی زبان میں اس کو محاقلہ کہتے ہیں۔


2458- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ؛ قَالَ: كُنَّا نُكْرِي الأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَكَ مَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلِي مَاأَخْرَجَتْ هَذِهِ، فَنُهِينَا أَنْ نُكْرِيَهَا بِمَا أَخْرَجَتْ، وَلَمْ نُنْهَ أَنْ نُكْرِيَ الأَرْضَ بِالْوَرِقِ۔
* تخريج: خ/الحرث ۷ (۲۳۲۷)، ۱۲ (۲۳۳۲)، ۱۹ (۲۳۴۶)، الشروط ۷، (۲۷۲۲)، م/البیوع ۱۹ (۱۵۴۷)، د/البیوع ۳۱ (۳۳۹۲، ۳۳۹۳)، ن/المزارعۃ ۲ (۳۹۳۰، ۳۹۳۱، ۳۹۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۵۳)، وقد أخرجہ: ط/کراء الارض ۱ (۱)، حم (۴/۱۴۲) (صحیح)

۲۴۵۸- حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہم زمین کو اس شرط پر کرایہ پر دیتے تھے کہ فلاں جگہ کی پیداوار میری ہو گی، اور فلاں جگہ کی تمہاری تو ہم کو پیداوار پر زمین کرایے پر دینے سے منع کر دیا گیا، البتہ چاندی کے بدلے یعنی نقد کرایے پر دینے سے ہمیں منع نہیں کیا گیا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: اس قسم کی شرط بٹائی کی زمین میں درست نہیں ہے، کیونکہ اس میں اس بات کا خطرہ ہے کہ کسی قطعہ زمین کی پیداوار خوب ہوا، اور دوسرے قطعہ میں کچھ پیدا نہ ہو، دراصل اسی قسم کی بٹائی سے رسول اکرم ﷺ نے منع فرمایا تھا، صحابی رسول رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے اس سے مطلق بٹائی کی ممانعت سمجھ لی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب مَا يُكْرَهُ مِنَ الْمُزَارَعَةِ
۱۰- باب: مکروہ مزارعت (بٹائی) کا بیان​

2459- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ؛ قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا رَافِقًا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَهُوَ حَقٌّ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَا تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ؟ قُلْنَا نُؤَاجِرُهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالأَوْسُقِ مِنَ الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ، فَقَالَ: < فَلا تَفْعَلُوا، ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا >۔
* تخريج: خ/الحرث ۱۸ (۲۳۳۹)، م/البیوع ۱۸ (۵۴۸)، ن/الأیمان المزراعۃ ۲ (۳۹۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۲۹)، وقد أخرجہ: ط/کراء الأرض ۱ (۳) (صحیح)

۲۴۵۹- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایسے کام سے جو ہمارے لیے مفید تھا منع فرمایا، رافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو میں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جو فرمایا ہے وہی حق ہے، کہا: رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ''تم اپنے کھیتوں کو کیا کرتے ہو''؟ تو ہم نے عرض کیا: ہم اسے تہائی اور چوتھائی پیداوار پر اور گیہوں یا جو کے چند وسق پر کرائے پر دیتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ایسا نہ کرو، تم یا تو خود اس میں کھیتی کرو یا دوسرے کو کھیتی کرنے دو''۔

2460- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرٍ، ابْن أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ؛ قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَاهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ، وَاشْتَرَطَ ثَلاثَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَةَ وَمَا يَسْقِي الرَّبِيعُ، وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا، وَكَانَ يَعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ، وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ، وَيُصِيبُ مِنْهَا مَنْفَعَةً، فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا، وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ أَنْفَعُ لَكُمْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَنْهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ، وَيَقُولُ: < مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ، أَوْ لِيَدَعْ >۔
* تخريج: د/البیوع ۳۲ (۳۳۹۸)، ن/المزارعۃ ۲ (۳۸۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۴۹)، وقد أخرجہ: ط/کراء الأرض ۱ (۱) (صحیح)

۲۴۶۰- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کسی کو زمین کی حاجت نہیں ہوتی تھی تو اسے تہائی یا چوتھائی یا آدھے کی بٹائی پر دے دیتا، اور تین شرطیں لگا تاکہ نالیوں کے قریب والی زمین کی پیداوار، صفائی کے بعد بالیوں میں بچ جانے والا غلہ اور فصل ربیع کے پانی سے جو پیداوار ہو گی وہ میں لوں گا، اس وقت لوگوں کی گزر بسر مشکل سے ہوتی تھی، وہ ان میں پھاؤڑے سے اور ان طریقوں سے جن سے اللہ چاہتا محنت کرتا اور اس سے فائدہ حاصل کرتا، آخر رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے: رسو ل اللہ ﷺ نے تمہیں ایک کام سے جو تمھارے لئے مفید تھا منع فرما دیا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تمہارے لئے زیادہ سود مند ہے، رسول اللہ ﷺ تمہیں زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کرتے ہیں، اور فرماتے ہیں: ''جس کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو وہ اسے اپنے بھائی کو مفت (بطور عطیہ) دے دے، یا اسے خالی پڑی رہنے دے''۔

2461- حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ؛ قَالَ: قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَا ، وَاللَّهِ أَعْلَمُ! بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، إِنَّمَا أَتَى رَجُلانِ النَّبِيَّ ﷺ، وَقَدِ اقْتَتَلا، فَقَالَ: < إِنْ كَانَ هَذَا شَأْنُكُمْ فَلا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ > فَسَمِعَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَوْلَهُ <فَلا تُكْرُوا الْمَزَارِعَ >۔
* تخريج: د/البیوع ۳۱ (۳۳۹۰)، ن/الأیمان المزارعۃ ۲ (۳۹۵۹)، (تحفۃ الأشراف:۳۷۳۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۸۲،۱۸۷) (صحیح)
(غایۃ المرام: ۳۶۶- الإرواء: ۱۴۷۸-۱۴۷۹)
۲۴۶۱- عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو بخشے، اللہ کی قسم! یہ حدیث میں ان سے زیادہ جانتا ہوں، رسول اللہ ﷺ کے پاس دو شخص آئے، ان دونوں میں لڑائی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ''اگر تمہارا یہی حال ہے تو کھیتوں کو کرایے پہ نہ دیا کرو''، رافع رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا ہی سنا کہ کھیتوں کو کرایے پر نہ دیا کرو''۱؎۔
وضاحت۱؎: معلوم ہوا کہ ممانعت اس وقت ہو گی جب لڑائی اور جھگڑے کا سبب بنے، ورنہ ملطلقاً کھیت بٹائی پر دینے سے آپ ﷺ نے نہیں روکا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب الرُّخْصَةِ فِي الْمُزَارَعَةِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
۱۱- باب: تہائی یا چوتھائی پیداوار پر بٹائی کی رخصت کا بیان​

2462- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍقَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ، يَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ! لَوْ تَرَكْتَ هَذِهِ الْمُخَابَرَةَ، فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ نَهَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْ عَمْرُو! إِنِّي أُعِينُهُمْ وَأُعْطِيهِمْ، وَإِنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَخَذَ النَّاسَ عَلَيْهَا عِنْدَنَا، وَإِنَّ أَعْلَمَهُمْ (يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ) أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ لَمْ يَنْهَ عَنْهَا وَلَكِنْ قَالَ: < لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا أَجْرًا مَعْلُومًا >۔
ٍ * تخريج: انظر حدیث رقم: ( ۲۴۵۶) (صحیح)

۲۴۶۲- عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے طاؤس سے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کاش آپ اس بٹائی کو چھوڑ دیتے، اس لئے کہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، تو وہ بو لے: عمرو! میں ان کی مدد کرتا ہوں، اور ان کو (زمین بٹائی پر) دیتا ہوں، اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہماری موجودگی میں لوگوں سے ایسا معاملہ کیا ہے، اور ان کے سب سے بڑے عالم یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع نہیں کیا، بلکہ یوں فرمایا: ''اگر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو یوں ہی بغیر کرایہ کے دے دے، تو وہ اس سے بہتر ہے کہ زمین کا ایک معین کرایہ لے''۔

2463- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أَكْرَى الأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَهُوَ يُعْمَلُ بِهِ إِلَى يَوْمِكَ هَذَا۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۱۷، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۳۰، ۲۳۶) (صحیح)

۲۴۶۳- طاؤس سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ، ابو بکر و عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے عہد میں زمین کو تہائی اور چوتھائی کرایے پر دیا، اور آج تک اسی پر عمل کیا جا رہا ہے''۔

2464- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسمَاعِيلَ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ؛ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < لأَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ الأَرْضَ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ خَرَاجًا مَعْلُومًا >۔
* تخريج: انظرحدیث (رقم : ۲۴۵۶) (صحیح)

۲۴۶۴- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے تو صرف یہ فرمایا تھا: ''کوئی اپنے بھائی کو اپنی زمین یوں ہی مفت کھیتی کے لئے دے دے، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اس سے کوئی معین محصول لے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب اسْتِكْرَاءِ الأَرْضِ بِالطَّعَامِ
۱۲- باب: غلہ کے بدلے زمین کرایہ پر دینے کا بیان​

2465- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُمْ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ، فَلا يُكْرِيهَا بِطَعَامٍ مُسَمَّى >۔
* تخريج: م/البیوع ۱۸ (۱۵۴۸)، د/البیوع ۳۲ (۳۳۹۵، ۳۳۹۶)، ن/المزارعۃ ۲ (۳۹۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۵۹)، وقد أخرجہ: ط/کراء الأرض ۱ (۱)، حم (۳/۴۶۴، ۴۶۵، ۴۶۶) (صحیح)

۲۴۶۵- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد میں محاقلہ کیا کرتے تھے، پھر ان کا خیال ہے کہ ان کے چچاؤں میں سے کوئی آیا اور کہنے لگا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ''جس کے پاس زمین ہو وہ اس کو متعین غلے کے بدلے کرایے پر نہ دے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ
۱۳- باب: بلااجازت دوسرے کی زمین میں کھیتی کرنے کا بیان​

2466- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَائٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: < مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْئٌ، وَتُرَدُّ عَلَيْهِ نَفَقَتُهُ >۔
* تخريج: د/البیوع ۳۳ (۳۴۰۳)، ت/الأحکام ۲۹ (۱۳۶۶)، (تحفۃ الأشراف:۳۵۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۶۵، ۴/۱۴۱) (صحیح)

۲۴۶۶- رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص کسی کی زمین میں بغیر اس کی اجازت کے کھیتی کرے تو اس میں سے اس کو کچھ نہیں ملے گا، البتہ اس کا خرچ دلا دیا جائے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب مُعَامَلَةِ النَّخِيلِ وَالْكَرْمِ
۱۴- باب: کھجور اور انگور کی کھیتی کو بٹائی پر دینے کا معاملہ​

2467- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَسَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِالشَّطْرِ مِمَّا يَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٍ أَوْ زَرْعٍ۔
* تخريج: خ/الحرث ۸ (۲۳۲۹)، م/المساقاۃ ۱ (۱۵۵۱)، د/البیوع ۳۵ (۳۴۰۸)، ت/الأحکام ۴۱ (۱۳۸۳)، ن/الأیمان والنذور ۴۵ (۳۹۳۱)، (تحفۃ الأشراف: ۸۱۳۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷، ۲۲، ۳۷)، دي/البیوع ۷۱ (۲۶۵۶) (صحیح)

۲۴۶۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے پھل اور غلہ کی نصف پیداوار پر (بٹائی کا) معاملہ کیا۔

2468- حَدَّثَنَا إِسمَاعِيلُ بْنُ تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ أَعْطَى خَيْبَرَ أَهْلَهَا عَلَى النِّصْفِ، نَخْلِهَا وَأَرْضِهَا.
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۸۳، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶۷)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۵۰) (صحیح)
(حکم بن عتیبہ نے مقسم سے صرف چار احایث سنی ہیں، اور محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، کما تقدم)
۲۴۶۸- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والو ں کو خیبر کی زمین اور درختوں کو نصف پیداوار کی بٹائی پر دیا۔

2469- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَعْوَرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ خَيْبَرَ أَعْطَاهَا عَلَى النِّصْفِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۹۰، ومصباح الزجاجۃ: ۸۶۸)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۳۸) (صحیح)
(سند میں مسلم بن کیسان کوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ شواہد سے حدیث صحیح ہے)۔
۲۴۶۹- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر کو فتح کیا، تو اسے نصف پیداوار کی بٹائی پر دے دیا۔
 
Top