• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب مَنْ لا وَارِثَ لَهُ
۱۱- باب: لا وارث میت کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: نہ ذوی الفروض، نہ عصبات، نہ ذوی الارحام میں سے نہ معتق (یعنی آزاد کردہ) نہ اور کوئی تو اس کا مال بیت المال میں داخل ہونا چاہئے، نیز امام کو تصرف کا اختیار ہے کہ بیت المال کا مال جس مستحق کو مناسب سمجھے دے۔

2741- حَدَّثَنَا إِسْماعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: وَلَمْ يَدَعْ لَهُ وَارِثًا، إِلا عَبْدًا، هُوَ أَعْتَقَهُ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ مِيرَاثَهُ إِلَيْهِ۔
* تخريج: د/الفرائض ۸ (۲۹۰۵)، ت/الفرائض ۱۴ (۲۱۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۱، ۳۵۸) (ضعیف)
(سند میں عوسجہ کی وجہ سے ضعف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۶۶۹)
۲۷۴۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص مر گیا، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے، جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب تُحرِزُ الْمَرْأَةُ ثَلاثَ مَوَارِيثَ
۱۲- باب: عورت تین آدمیوں کا ترکہ پاتی ہے​

2742- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ، عَنْ عَبْدِالْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ،عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلاثَ مَوَارِيثَ، عَتِيقِهَا، وَلَقِيطِهَا، وَوَلَدِهَا الَّذِي لاعَنَتْ عَلَيْهِ " قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ: مَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ هِشَامٍ۔
* تخريج: د/الفرائض ۹ (۲۹۰۶)، ت/الفرائض ۲۳ (۲۱۱۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۴۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۹۰، ۴/۱۰۶،۱۰۷) (ضعیف)
(سند میں عمر بن رؤبہ التغلبی کی وجہ سے ضعف ہے)
۲۷۴۲- واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''عورت تین میراث حاصل کرتی ہے، ایک تو اپنے اس غلام یا لونڈی کی میراث جس کو وہ آزاد کرے، دوسرے اس بچے کی میراث جس کو راستہ میں لا وارث پا کر پرورش کرے، تیسرے اس بچے کی میراث جس پر اپنے شوہر سے لعان کرے''۔
محمد بن یزید کہتے ہیں کہ یہ حدیث ہشام کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب مَنْ أَنْكَرَ وَلَدَهُ
۱۳- باب: جو اپنے بچے کے بارے میں یہ کہہ دے کہ یہ میرا نہیں ہے اس پر وارد وعید کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: شوہر اس بچہ کا وارث نہ ہو گا جس کو اس نے غیر کا بچہ ظاہر کیا، اور اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی۔

2743- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَلْحَقَتْ بِقَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ، فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْئٍ . وَلَنْ يُدْخِلَهَا جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ أَنْكَرَ وَلَدَهُ، وَقَدْ عَرَفَهُ، احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُئُوسِ الأَشْهَادِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۷۵، ومصباح الزجاجۃ: ۹۶۹)، وقد أخرجہ: د/الطلاق ۲۹ (۲۲۶۳)، ن/الطلاق ۴۷ (۳۵۱۱)، دي/النکاح ۴۲ (۲۲۸۴) (ضعیف)
(سند میں یحییٰ بن حرب مجہول، اور موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہیں)
۲۷۴۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب لعان کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس عورت نے کسی قوم میں ایسے (بچہ) کو ملا دیا جو ان میں سے نہیں تھا، تو اس کا اللہ تعالی سے کوئی تعلق نہیں، اور وہ اس کی جنت میں ہرگز داخل نہ ہو گی، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کو پہچان لینے کے باوجود انکار کر دیا، قیامت کے دن اللہ تعالی اس سے پردہ کرے گا، اور سب کے سامنے اس کو ذلیل و رسوا کرے گا''۔

2744- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ،عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " كُفْرٌ بِامْرِءٍ ادِّعَاءُ نَسَبٍ لا يَعْرِفُهُ، أَوْجَحْدُهُ وَإِنْ دَقَّ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأ شراف: ۸۸۱۷ ألف، ومصباح الزجاجۃ: ۹۷۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۱۵) (حسن صحیح)

۲۷۴۴- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''کسی شخص کا ایسے نسب کا دعوی کرنا جس کو وہ پہچانتا نہیں کفر ہے۱؎ یا اپنے نسب کا انکار کر دینا گرچہ اس کا سبب باریک (دقیق) ہو یہ بھی کفر ہے''۔
وضاحت۱؎: یہاں پر کفر سے مراد نسب کی ناشکری ہے، کیونکہ وہ اپنے باپ کو چھوڑ کر جو کہ اس کے وجود کا سبب ہے، دوسرے کا بیٹا بنا چاہتا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب فِي ادِّعَاءِ الْوَلَدِ
۱۴- باب: بچے کا دعوی کرنا اس کے حکم کا بیان​

2745- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ عَنِ الْمُثَنَّى بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ عَاهَرَ أَمَةً أَوْ حُرَّةً، فَوَلَدُهُ وَلَدُ زِنًا، لا يَرِثُ وَلا يُورَثُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۷۸)، وقد أخرجہ: ت/الفرائض ۲۱ (۲۱۱۳) (حسن)
(سند میں مثنی بن الصباح ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد سے تقو یت پاکر یہ حسن ہے)
۲۷۴۵- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولد الزنا ہے، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا، نہ وہ بچہ اس مرد کا۔

2746- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلالٍ الدِّمَشْقِيُّ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " كُلُّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ، ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدِهِ، فَقَضَى أَنَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا، فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ، وَلَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْئٌ، وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ، فَلَهُ نَصِيبُهُ، وَلا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لا يَمْلِكُهَا، أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا، فَإِنَّهُ لا يَلْحَقُ وَلا يُورَثُ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ، فَهُوَ وَلَدُ زِنًا، لأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً ".
قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ: يَعْنِي بِذَلِكَ مَا قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَبْلَ الإِسْلامِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۷۱۲ألف، ومصباح الزجاجۃ: ۹۷۱)، وقد أخرجہ: د/الطلاق ۳۰ (۲۲۶۵)، حم (۲/۱۸۱، ۲۱۹)، دي/الفرائض ۴۵ (۳۱۵۴) (حسن)
(بوصیری نے کہا کہ ابو داود اور ترمذی نے بعض حدیث ذکر کی ہے)۔
۲۷۴۶- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعوی کریں (کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے) تو آپ ﷺ نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا: ''اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو لیکن وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس نے اس سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقینا اپنے والد سے مل جائے گا، لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کر لی ہو، البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا، لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہو گا، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں، اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہو گا، (اس لئے کہ وہ ولد الزنا ہے) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے، جب بھی وہ ولد الزنا ہی ہو گا، اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی''۔
محمد بن راشد کہتے ہیں: اس سے مراد وہ میراث ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں تقسیم کر دی گئی ہو۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ
۱۵- باب: حق ولاء (میراث) کو بیچنا اور ہبہ کرنا ممنوع ہے​

2747- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ۔
* تخريج: خ/العتق ۱۰ (۲۵۳۵)، الفرائض ۲۱ (۶۷۵۶)، م/العتق ۳ (۱۵۰۶)، د/الفرائض ۱۴ (۲۹۱۹)، ت/البیوع ۲۰، (۱۲۳۶)، ن/البیوع ۸۵ (۴۶۶۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۱۵، ۷۱۸۹)، وقد أخرجہ: ط/العتق والولاء ۱۰ (۲۰)، حم (۳/۹، ۷۹، ۱۰۷)، دي/البیوع ۳۶ (۲۶۱۴) (صحیح)

۲۷۴۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حق ولاء (میراث) کو بیچنے اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۱؎۔
وضاحت۱؎: کیونکہ ولاء (میراث) ایک طرح کی رشتہ داری ہے اس کا بیچنا اور ہبہ کرنا کیونکر جائز ہو گا، جمہور علماء اور اہل حدیث کا یہی مذہب ہے۔

2748- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ بَيْعِ الْوَلاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ: (تحفۃ الأ شراف: ۸۲۲۲)،وقد أخرجہ: ت/البیوع ۲۰ (۱۲۳۶)، ۵۴ (۱۲۸۷)، (صحیح)
(سند میں محمد بن عبد الملک صدوق ہیں، اس لئے یہ اسناد حسن ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
۲۷۴۸- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حق ولاء (میراث) کو بیچنے اور اس کو ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب قِسْمَةِ الْمَوَارِيثِ
۱۶- باب: میراث (ترکہ) کی تقسیم کا بیان​

2749- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ؛ أَنَّهُ سَمِعَ نَافِعًا يُخْبِرُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ : " مَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ قُسِمَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَا كَانَ مِنْ مِيرَاثٍ أَدْرَكَهُ الإِسْلامُ، فَهُوَ عَلَى قِسْمَةِ الإِسْلامِ " ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۲۳۲ ، ومصباح الزجاجۃ: ۹۷۲) (صحیح)
(سند میں ابن لہیعہ ضعیف الحفظ راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۷۱۷، تراجع الألبانی: رقم: ۴۸۶)
۲۷۴۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہو چکی، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے کیسا عمدہ مسئلہ حل ہوا کہ ہر قانون کا عمل اس کے نفاذ کے بعد سے جو مقدمات پیدا ہوں ان پر ہوتا ہے اور جن مقدمات کے فیصلے قانون کے نفاذ سے پہلے ہو چکے ہوں ان میں اس قانون کے نفاذ سے کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ وَرِثَ
۱۷- باب: پیدا ہوتے ہی رونے والے بچہ کے وارث ہونے کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: پیدا ہوتے ہی رونے والے بچے کی میراث اس کے وارث پائیں گے لیکن اگر بچہ مردہ پیدا ہو، اور روئے نہیں تو وہ وارث نہ ہو گا، نہ اس کا کوئی وارث ہو گا گویا کہ وہ پیدا ہی نہیں ہوا۔

2750- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِذَا اسْتَهَلَّ الصَّبِيُّ صُلِّيَ عَلَيْهِ، وَوَرِثَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۰۸)، وقد أخرجہ: ت/الجنائز ۴۳ (۱۰۳۲)، دي/الفرائض ۴۷ (۳۱۶۸)، وقد مضی برقم: (۱۵۰۸) (صحیح)

۲۷۵۰- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بچہ پیدائش کے وقت رو دے تو اس پر صلاۃ جنا زہ پڑھی جائے گی، اور وہ وارث بھی ہو گا''۔

2751- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ،حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ وَالْمِسْوَرِبْنِ مَخْرَمَةَ؛ قَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا يَرِثُ الصَّبِيُّ حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا "، قَالَ: وَاسْتِهْلالُهُ، أَنْ يَبْكِيَ وَيَصِيحَ أَوْ يَعْطِسَ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۲۵۷، (الف) ۱۲۶۶ (الف) (صحیح)
(تراجع الألبانی: رقم: ۵۸۴)
۲۷۵۱- جابر بن عبد اللہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''(ولادت کے وقت) بچہ وارث نہیں ہو گا جب تک کہ وہ زور سے استہلا ل نہ کرے''۱؎۔
روای کہتے ہیں: بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روے یا چیخے یا چھینکے۔
وضاحت۱؎: غرض کوئی کام ایسا کرے جس سے اس کی زندگی ثابت ہو تو وہ وارث ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب الرَّجُل يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ
۱۸- باب: نو مسلم کا وارث وہ ہے جس کے ہاتھ پر اس نے اسلام قبول کیا ہے​

2752- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ؛ قَالَ: سَمِعْتُ تَمِيمًا الدَّارِيَّ يَقُولُ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ؟ قَالَ: " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ "۔
* تخريج: د/الفرائض ۱۳ (۲۹۱۸)، ت/الفرائض۲۰ (۲۱۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۵۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۰۴، ۱۰۳)، دي/الفرائض ۳۴ (۳۰۷۶) (حسن صحیح)

۲۷۵۲- عبد اللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا: ''زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر نو مسلم کا کوئی وارث نہ تو اس کی میراث کا حق دار وہ شخص ہے جس نے اس کو مسلمان کیا۔


* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{24- كِتَاب الْجِهَادِ}
۲۴- کتاب: جہاد کے فضائل و احکام​


1- بَاب فَضْلِ الْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
۱- باب: اللہ کی راہ میں جہاد کی فضیلت​

2753- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفُضَيْلِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ،عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ " أَعَدَّ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ، لايُخْرِجُهُ إِلا جِهَادٌ فِي سَبِيلِي، وَإِيمَانٌ بِي، وَتَصْدِيقٌ بِرُسُلِي، فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ أَرْجِعَهُ إِلَى مَسْكَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ، نَائِلا مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ " ثُمَّ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لَوْلا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، مَا قَعَدْتُ خِلافَ سَرِيَّةٍ تَخْرُجُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَبَدًا، وَلَكِنْ لا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ، وَلا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي، وَلا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ فَيَتَخَلَّفُونَ بَعْدِي، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَوَدِدْتُ أَنْ أَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلَ، ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ ثُمَّ أَغْزُوَ فَأُقْتَلَ "۔
* تخريج: خ/الإیمان ۲۶ (۳۶ مطولاً)، الجہاد ۲ ۲۷۸۷)، فرض الخمس ۸ (۳۱۲۳)، التوحید ۲۸ (۷۴۵۷)، م/الإمارۃ ۲۸ (۱۸۷۶)، ن/الجہاد ۱۴ (۳۱۲۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۹۰۱)، وقد أخرجہ: ط/الجہاد ۱ (۲)، حم (۲/۲۳۱، ۳۸۴، ۳۹۹، ۴۲۴، ۴۹۴)، دي/الجہاد ۲ (۲۴۳۶) (صحیح)

۲۷۵۳- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے اس شخص کے لئے جو اس کی راہ میں نکلے، اور اسے اس کی راہ میں صرف جہاد اور اللہ تعالی پر ایمان اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہی نے نکالا ہو، (تو اللہ تعالی فرماتا ہے) میں اس کے لئے ضمانت لیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں، یا اجر و ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اس منزل تک لوٹا دوں جہاں سے وہ گیا تھا''، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ''قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر مجھے مسلمانوں کے مشقت میں پڑ جانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں کسی بھی سریہ (لشکر) کا جو اللہ کے راستے میں نکلتا ہے ساتھ نہ چھوڑتا، لیکن میرے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ سب کی سواری کا انتظام کر سکوں، نہ لوگوں کے پاس اتنی فراخی ہے کہ وہ ہر جہاد میں میرے ساتھ رہیں، اور نہ ہی انہیں یہ پسند ہے کہ میں چلا جاؤں، اور وہ نہ جا سکیں، پیچھے رہ جائیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں، اور قتل کر دیا جاؤں''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے دین کے لیے اسلام کے دشمنوں کے خلاف جہاد کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور جہاد اسلام کا ایک رکن ہے جس کی فرضیت میں کسی کا اختلاف نہیں ہے، لیکن وہ فرض کفایہ ہے، اور اگر نیت خالص ہو تو اس سے سوائے فرائض اور حقوق العباد کے سب گناہ معاف ہو جاتے ہیں، اور جہاد کی فضیلت میں بے شمار حدیثیں وارد ہیں، علمائے کرام نے اس باب میں مستقل رسالے لکھے ہیں، اور جہاد ہر نیک و صالح یا فاسق و فاجر مسلم حکمراں کے جھنڈے تلے صحیح ہے، جہاد میں یہ شرط و قید نہیں ہے کہ حاکم و امام یا بادشاہ جس کی قیادت میں دشمنوں کے خلاف جنگ لڑی جاری ہو وہ نیک اور صالح ہو، کیونکہ سلف صالحین نے خلفاء بنی امیہ اور ظالم حکمرانوں کی قیادت میں جہاد کیا، اور کسی نے ان پر انکار نہیں کیا، ابو داود میں حدیث ہے کہ جب سے اللہ تعالی نے مجھ کو نبی بنا کر بھیجا جہاد قائم ہے اور قیامت تک قائم رہے گا یہاں تک کہ میری آخری امت دجال سے لڑے گی اور جہاد کسی ظالم کے ظلم سے یا کسی عادل کے عدل سے باطل نہیں ہو گا، اور صحیح بخاری میں مرفوعاً ہے کہ جس کے پاؤں پر اللہ کے راستہ کی گرد پڑے تو اللہ تعالی اس کو جہنم پر حرام کر دے گا اور ایک حدیث میں ہے کہ ایک دن دشمن کے مقابلہ میں مورچہ پر رہنا ساری دنیا و مافیہا سے بہتر ہے، اور دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے فروں سے جنگ کی اونٹنی کے دودھ دوہنے میں جو ٹھہر جاتے ہیں اتنی دیر بھی تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی، غرض مومن کے لئے جہاد سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں کہ جس کے ساتھ جنت میں جانے کی توقع زیادہ ہو، اور جب سے مسلمانوں نے حقیقی اور شرعی جہاد کو جس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں موجود ہے، چھوڑ دیا ذلیل اور خوار ہوئے، اے اللہ! مسلمانوں کو ہدایت دے کہ وہ قرآن اور حدیث میں غور کریں اور اس پر عمل کریں، آمین یا رب العالمین۔

2754- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: "الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَضْمُونٌ عَلَى اللَّهِ! إِمَّا أَنْ يَكْفِتَهُ إِلَى مَغْفِرَتِهِ وَرَحْمَتِهِ، وَإِمَّا أَنْ يَرْجِعَهُ بِأَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ، وَمَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الَّذِي لا يَفْتُرُ، حَتَّى يَرْجِعَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۲۴ ، ومصباح الزجاجۃ: ۹۷۳) (صحیح)
(سند میں عطیہ العوفی ضعیف ہے، لیکن اصل حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے متفق علیہ وارد ہے، ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب: ۱۳۰۴ و ۱۳۲۰)
۲۷۵۴- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے شخص کا اللہ تعالی ضامن ہے، یا تو اسے اپنی رحمت و مغفرت میں ڈھانپ لے، یا ثواب اور مال غنیمت کے ساتھ اسے (گھر) واپس کرے، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی مثال نہ تھکنے والے صائم تہجد گزار کی ہے یہاں تک کہ وہ مجاہد گھر لوٹ آئے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب فَضْلِ الْغَدْوَةِ وَالرَّوْحَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۲- باب: اللہ کی راہ میں صبح شام چلنے کی فضیلت​

2755- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "۔
* تخريج: ت/فضائل الجہاد ۱۷ (۱۶۴۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۲۸)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۵ (۲۷۹۲)، حم (۲/۵۳۲، ۵۳۳) (صحیح)

۲۷۵۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے''۔

2756- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ مَنْظُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "۔
* تخريج:تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۷۳)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۵ (۲۷۹۴)، ۷۳ (۲۸۹۲)، الرقاق ۲ (۶۴۱۵)، م/الإمارۃ ۳۰ (۱۸۸۱)، ت/فضائل الجہاد ۱۷ (۱۶۴۸)، ۲۶ (۱۶۶۴)، ن/الجہاد ۱۱ (۳۱۲۰)، حم (۳/۴۳۳، ۵/۳۳۵، ۳۳۷، ۳۳۹)، دي/الجہاد ۹ (۲۴۴۳) (صحیح)

۲۷۵۶- سہل بن سعد سا عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے''۔

2757- حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالا: حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ الثَّقَفِيّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا "۔
* تخريج: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف:۷۲۶)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۵ (۲۷۹۲)،م/الإمارۃ ۳۰ (۱۸۸۰)، ت/فضائل الجہاد ۱۷ (۱۶۵۱) (صحیح)

۲۷۵۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ کے راستے میں ایک صبح یا ایک شام (کا وقت گزارنا) دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے''۔
 
Top