- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
11- بَاب مَنْ لا وَارِثَ لَهُ
۱۱- باب: لا وارث میت کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: نہ ذوی الفروض، نہ عصبات، نہ ذوی الارحام میں سے نہ معتق (یعنی آزاد کردہ) نہ اور کوئی تو اس کا مال بیت المال میں داخل ہونا چاہئے، نیز امام کو تصرف کا اختیار ہے کہ بیت المال کا مال جس مستحق کو مناسب سمجھے دے۔۱۱- باب: لا وارث میت کا بیان ۱؎
2741- حَدَّثَنَا إِسْماعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؛ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ: وَلَمْ يَدَعْ لَهُ وَارِثًا، إِلا عَبْدًا، هُوَ أَعْتَقَهُ، فَدَفَعَ النَّبِيُّ ﷺ مِيرَاثَهُ إِلَيْهِ۔
* تخريج: د/الفرائض ۸ (۲۹۰۵)، ت/الفرائض ۱۴ (۲۱۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۲۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۲۱، ۳۵۸) (ضعیف) (سند میں عوسجہ کی وجہ سے ضعف ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإرواء: ۱۶۶۹)
۲۷۴۱- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک شخص مر گیا، اور اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے، جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ نے اس کی میراث اسی غلام کو دلا دی۔