26- بَاب الأَكْلِ فِي قُدُورِالْمُشْرِكِينَ
۲۶- باب: کفار و مشرکین کی ہانڈیوں (برتنوں) میں کھانے کا بیان
2830- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ ؛ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنْ طَعَامِ النَّصَارَى؟ فَقَالَ: " لايَخْتَلِجَنَّ فِي صَدْرِكَ طَعَامٌ ضَارَعْتَ فِيهِ نَصْرَانِيَّةً "۔
* تخريج: د/الأطعمۃ ۲۴ (۳۷۸۴)، ت/السیر ۱۶ (۱۵۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۷۳۴)، وقد حم (۵/۲۲۶) (حسن) (سند میں قبیصہ بن ہلب مجہول العین ہیں، ان سے صرف سماک نے روایت کی ہے، لیکن حدیث کے شواہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: جلباب المرأۃ المسلۃ: ۱۸۲)
۲۸۳۰- ہلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ سے نصاری کے کھانے کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''کسی کھانے سے متعلق تمہارے دل میں وسوسہ نہ آنا چاہیے، ورنہ یہ نصاری کی مشابہت ہو جائے گی''۔
وضاحت۱؎: وہ اپنے مذہب والوں کے سوا دوسرے لوگوں کا کھانا نہیں کھاتے، یہ حال نصاری کا شاید نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں ہو گا اب تو نصاری ہر مذہب والے کا کھانا یہاں تک کہ مشرکین کا بھی کھا لیتے ہیں، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب کا پکایا ہوا کھانا مسلمان کو کھانا جائز ہے اور اللہ تعالی قرآن پاک میں فرماتا ہے:
{وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُواْ الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ} [سورة المائدة: ۵] (اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے) اور نبی کریم ﷺ نے یہود کا کھانا خیبر میں کھایا، لیکن یہ شرط ہے کہ اس کھانے میں شراب اور سور نہ ہو، اور نہ وہ جانور ہو جو مردار ہو مثلاً گلا گھونٹا ہوا یا اللہ کے سوا اور کسی کے نام پر ذبح کیا ہوا، ورنہ وہ کھانا بالاجماع حرام ہو گا۔
2831- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو فَرْوَةَ يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيُّ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ (قَالَ وَلَقِيَهُ وَكَلَّمَهُ) قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَسَأَلْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قُدُورُ الْمُشْرِكِينَ نَطْبُخُ فِيهَا؟ قَالَ: " لا تَطْبُخُوا فِيهَا " قُلْتُ: فَإِنِ احْتَجْنَا إِلَيْهَا، فَلَمْ نَجِدْ مِنْهَا بُدًّا ؟ قَالَ: "فَارْحَضُوهَا رَحْضًا حَسَنًا، ثُمَّ اطْبُخُوا وَكُلُوا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۶۹ ، ومصباح الزجاجۃ: ۱۰۰۳) (صحیح) (سند میں ابو فروہ یزید بن سنان ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد و متابعات کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: ۳۷-۳۲۰۷، نیز یہ حدیث آگے آرہی ہے)
۲۸۳۱- ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا تو میں نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کیا ہم مشرکین کی ہانڈیوں میں کھانا پکا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ان میں نہ پکاؤ'' میں نے کہا: اگر اس کی ضرورت پیش آجائے اور ہمارے لیے کوئی چارہ کار ہی نہ ہو؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تب تم انہیں اچھی طرح دھو لو، پھر پکاؤ اور کھاؤ'' ۱؎ ۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو لوگ اپنے برتنوں میں نجاستوں کا استعمال کرتے ہیں جیسے مردار کھانے والے اور شراب پینے والے، اگرچہ مسلمان ہی ہوں تو ان کے برتنوں کا استعمال بغیر دھوئے جائز نہیں، اور جو کھانا ان کے برتنوں میں پکا ہو اس کا بھی کھانا درست نہیں ہے۔