- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
33- بَاب مَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ ثُمَّ ظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ
۳۳- باب: دشمن نے مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیا پھر مسلمان ان پر غالب آگئے اور وہی مال ان کے ہاتھ لگ گیا تو اس کے حکم کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: وہ مال اس کے اصلی مالک کو دے دیا جائے گا۔۳۳- باب: دشمن نے مسلمانوں کے مال پر قبضہ کر لیا پھر مسلمان ان پر غالب آگئے اور وہی مال ان کے ہاتھ لگ گیا تو اس کے حکم کا بیان۱؎
2847- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ: ذَهَبَتْ فَرَسٌ لَهُ، فَأَخَذَهَا الْعَدُوّ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ، فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ، فَلَحِقَ بِالرُّومِ، فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ۔
* تخريج: خ/الجہاد ۱۸۷ (۳۰۶۷ تعلیقاً)، د/الجہاد ۱۳۵ (۲۶۹۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۹۴۳) (صحیح)
۲۸۴۷- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کا ایک گھوڑا چلا گیا، اور اسے د شمن نے پکڑ لیا، پھر مسلمان ان پر غالب آگئے، تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں وہ انہیں لوٹایا گیا، ان کا ایک غلام بھی بھاگ گیا، اور روم (کے نصاریٰ) سے جا ملا، پھر مسلمان ان پر غالب آگئے، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ان کو واپس کر دیا۱؎۔
وضاحت۱؎: صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی اونٹنی عضباء کو کافر لے گئے، پھر ایک عورت اس پر چڑھ کر مسلمانوں کے پاس آگئی، تو اس کے نحر کرنے کی اس نے نذر کی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ''جو نذر گناہ کی ہو، یا اپنی ملکیت میں نہ ہو وہ پوری نہ کی جائے''، علماء کا یہی قول ہے کہ کافر غلبہ سے مسلمانوں کے کسی چیز کے مالک نہ ہوں گے اور جب وہ چیز پھر ہاتھ آئے تو اس کا مالک لے لے گا۔