26- بَاب دُخُولِ مَكَّةَ
۲۶- باب: مکہ میں داخل ہونے کا بیان
2940- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ كَانَ يَدْخُلُ مَكَّةَ مِنَ الثَّنِيَّةِ الْعُلْيَا .وَإِذَا خَرَجَ خَرَجَ مِنَ الثَّنِيَّةِ السُّفْلَى۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۱۱۴)، وقد أخرجہ: خ/الحج ۴۰ (۱۵۷۶)، ۴۱ (۱۵۷۷)، م/الحج ۳۷ (۱۲۵۷)، د/الحج ۴۵ (۱۸۶۶)، ن/الحج ۱۰۵ (۲۸۶۸)، حم (۲/۱۴، ۱۹)، دي/المناسک ۸۱ (۱۹۶۹) (صحیح)
۲۹۴۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ثنیہ علیا (بلند گھاٹی) سے داخل ہوتے، اور جب نکلتے تو ثنیہ سفلیٰ (نشیبی گھاٹی) سے نکلتے۱؎۔
وضاحت۱؎: علیا اور ثنیہ سفلیٰ یہ دونوں مکہ کی دو گھاٹیاں ہیں۔
2941- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْعُمَرِيُّ عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ دَخَلَ مَكَّةَ نَهَارًا۔
* تخريج: ت/الحج ۳۱ (۸۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۷۷۲۳)، وقد أخرجہ: خ/الصلاۃ ۸۹ (۴۸۴)، الحج ۱۴۸ (۱۵۷۳)، ۱۴۹ (۱۵۷۴)، م/الحج ۳۸ (۱۲۵۹)، ن/الحج ۱۰۳ (۲۸۶۵)، حم (۲/۵۹، ۷۸)، دي/المناسک ۸۰ (۱۹۶۸) (صحیح)
۲۹۴۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دن میں داخل ہوئے۔
2942- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ؛ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا ؟ وَذَلِكَ فِي حَجَّتِهِ، قَالَ: " وَهَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلا ؟ " ثُمَّ قَالَ: " نَحْنُ نَازِلُونَ غَدًا بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ ( يَعْنِي الْمُحَصَّبَ ) حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ "، وَذَلِكَ أَنَّ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لايُنَاكِحُوهُمْ وَلايُبَايِعُوهُمْ، قَالَ مَعْمَرٌ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْخَيْفُ الْوَادِي۔
* تخريج: خ/الحج ۴۴(۱۵۸۸)،الجہاد۱۸۰(۳۰۵۸)، مناقب الأنصار ۳۹ (۴۲۸۲)، المغازي ۴۸ (۴۲۸۲)، التوحید ۳۱ (۷۴۷۹)، م/الحج ۸۰ (۱۳۵۱)، د/الفرائض ۱۰(۲۹۰۹، ۱۰ ۲۹)، (تحفۃ الأشراف:۱۱۴)، وقد أخرجہ: ت/الفرائض ۱۵ (۲۱۰۷)، ط/الفرائض ۱۳ (۱۰)، حم (۲/۲۳۷، دي/الفرائض ۲۹ (۳۰۲۶) (صحیح)
۲۹۴۲- اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول! آپ کل (مکہ میں) کہاں اتریں گے؟ یہ بات آپ کے حج کے دوران کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر باقی چھوڑا ہے۱؎''؟ پھر فرمایا: ''ہم کل خیفِ بنی کنانہ یعنی محصب میں اتریں گے، جہاں قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی، اور وہ یہ تھی کہ بنی کنانہ نے قریش سے عہد کیا تھا کہ وہ بنی ہاشم سے نہ تو شادی بیاہ کریں گے اور نہ ان سے تجارتی لین دین''۲؎۔
زہری کہتے ہیں کہ خیف وادی کو کہتے ہیں۔
وضاحت۱؎: یعنی ابو طالب کی ساری جائداد اور مکان عقیل نے بیچ کھائی، ایک مکان بھی باقی نہ رکھا کہ ہم اس میں اتریں جب علی اور جعفر رضی اللہ عنہما اور ابو طالب کے بیٹے مسلمان ہو گئے اور انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کو ہجرت کی تو عقیل اور طالب دو بھائی جو ابھی تک کافر تھے مکہ میں رہ گئے، اور ابو طالب کی کل جائداد انہوں نے لے لی، اور جعفر رضی اللہ عنہ کو اس میں سے کچھ حصہ نہ ملا کیونکہ وہ دونوں مسلمان ہو گئے اور مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔
وضاحت۲؎: یہ جگہ سیرت کی کتابوں میں شعب أبی طالب سے مشہور ہے، جہاں پر ابو طالب بنی ہاشم اور بنی مطلب کو لے کر چھپ گئے تھے، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پناہ میں لے لیا تھا، اور قریش کے کافروں نے عہد نامہ لکھا تھا کہ ہم بنی ہاشم اور بنی مطلب سے نہ شادی بیاہ کریں گے نہ اور کوئی معاملہ، اور اس کا قصہ طویل ہے او رسیرت کی کتابوں میں بالتفصیل مذکور ہے۔