• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
56- بَاب إِذَا رَأَى الضَّيْفُ مُنْكَرًا رَجَعَ
۵۶- باب: (دعوت میں) خلا ف شرع بات دیکھ کر مہمان کے لوٹ جانے کا بیان​

3359- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: صَنَعْتُ طَعَامًا، فَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَ فَرَأَى فِي الْبَيْتِ تَصَاوِيرَ، فَرَجَعَ۔
* تخريج: ن/الزینۃ من المجتبیٰ ۵۷ (۵۳۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۱۷) (صحیح)

۳۳۵۹- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا، اور رسول اللہ ﷺ کو مدعو کیا، آپ تشریف لائے تو آپ کی نظر گھر میں تصویروں پر پڑی، تو آپ واپس لوٹ گئے۱؎۔
وضاحت۱؎: اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ جس دعوت میں خلاف شرع باتیں ہوں جیسے ناچ گانا، اور بے حیائی بے پردگی وغیرہ وغیرہ یا شراب نوشی، یا دوسری نشہ آور چیزوں کا استعمال تو اس میں شریک ہونا ضروری نہیں، اور جب وہاں جا کر یہ باتیں دیکھے تو لوٹ آئے اور کھانا نہ کھائے، اور اگر عالم دین اور پیشوا ہو اور اس بات کو دور نہ کر سکے تو لوٹ آئے کیونکہ وہاں بیٹھنے میں دین کی بے حرمتی اوراہانت ہے، اور دوسرے لوگوں کو گناہ کرنے کی جرأت بڑھے گی، یہ جب کہ دعوت میں جانے سے پہلیان باتوں کی خبر نہ ہو، اگر پہلے سے یہ معلوم ہو کہ وہاں خلاف شرع کوئی بات ہے تو دعوت قبول کرنا اس پر ضروری نہیں۔

3360- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، حَدَّثَنَا سَفِينَةُ، أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ: أَنَّ رَجُلا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا النَّبِيَّ ﷺ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعَوْهُ فَجَاءَ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ،فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْ،فَقُلْ لَهُ: مَارَجَعَكَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا "۔
* تخريج:د/الأطعمۃ ۸ (۳۷۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۲۰، ۲۲۱، ۲۲۲) (حسن)

۳۳۶۰- سفینہ ابو عبد الرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ضیافت کی اور آپ کے لئے کھانا تیار کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چنانچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا، آپ ﷺ تشریف لائے، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی، آپ لوٹ آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور پوچھئے: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس آگئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ میرے لئے مناسب نہیں کہ میں ایسے گھر میں قدم رکھوں جس میں آرائش و تزیین کی گئی ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث میں مزوق کا لفظ آیا ہے یعنی آرائش و تزیین، بعضوں نے کہا کہ مزوق کے معنی یہ ہیں کہ سونا چڑھا ہوا، یعنی جس گھر کی چھت یا دیوار پر طلائی نقرئی کام ہو یا قیمتی پردے لٹکے ہوں، مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے لائق اتنی بھی دنیا کی زیب و زینت نہیں ہے، گرچہ عوام کے لئے یہ امر منع نہ ہو، عوام کو صرف حرام سے بچنا کافی ہے، اور خواص مکروہ اور مباح سے بھی پچتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ حدود سے غفلت ہو جائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
57- بَاب الْجَمْعِ بَيْنَ اللَّحْمِ وَالسَّمْنِ
۵۷- باب: گھی اور گوشت ملا کر کھانے کا بیان​

3361- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ،حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَرْحَبِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي الْيَعْفُورِ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ قَالَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى مَائِدَتِهِ فَأَوْسَعَ لَهُ عَنْ صَدْرِ الْمَجْلِسِ، فَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ، ثُمَّ ضَرَبَ بِيَدِهِ فَلَقِمَ لُقْمَةً، ثُمَّ ثَنَّى بِأُخْرَى، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لأَجِدُ طَعْمَ دَسَمٍ مَا هُوَ بِدَسَمِ اللَّحْمِ، فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنِّي خَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ أَطْلُبُ السَّمِينَ لأَشْتَرِيَهُ، فَوَجَدْتُهُ غَالِيًا، فَاشْتَرَيْتُ بِدِرْهَمٍ مِنَ الْمَهْزُولِ، وَحَمَلْتُ عَلَيْهِ بِدِرْهَمٍ سَمْنًا، فَأَرَدْتُ أَنْ يَتَرَدَّدَ عِيَالِي عَظْمًا عَظْمًا، فَقَالَ عُمَرُ: مَا اجْتَمَعَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَطُّ، إِلا أَكَلَ أَحَدَهُمَا وَتَصَدَّقَ بِالآخَرِ، قَالَ عَبْدُاللَّهِ: خُذْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! فَلَنْ يَجْتَمِعَا عِنْدِي إِلا فَعَلْتُ ذَلِكَ، قَالَ: مَا كُنْتُ لأَفْعَلَ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۷۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۲۰، ۲۲۱، ۲۲۲) (ضعیف)
(یونس بن أبی یعفور ضعیف راوی ہے)
۳۳۶۱- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور وہ اس وقت دستر خوان پر تھے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کے لیے مجلس کے درمیان میں جگہ بنائی، عمر رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ کہا، پھر کھانے کی طرف ہاتھ بڑھایا، اور ایک لقمہ لیا، پھر دوسرا لقمہ لیا، پھر کہا: مجھے اس میں چکنائی کا ذائقہ مل رہا ہے، اور یہ چکنائی گوشت کی چربی نہیں ہے، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اے امیرالمومنین! میں فربہ گوشت کی تلاش میں بازار نکلا تاکہ اسے خریدوں، لیکن میں نے اسے مہنگا پایا تو ایک درہم میں دبلا گوشت خرید لیا، اور ایک درہم کا گھی خرید کر اس میں ملا دیا، اس سے میرا مقصد یہ تھا کہ ایک ایک ہڈی میرے تمام گھر والوں کے حصے میں آجائے، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ دونوں چیزیں بیک وقت اکٹھا ہوئیں تو آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کھا لی، اور دوسری صدقہ کر دی۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیرالمومنین! اب تو اسے کھا لیجیے پھر جب کبھی میرے پاس یہ دونوں چیزیں اکٹھی ہوں گی میں بھی ایسا ہی کروں گا، عمر رضی اللہ عنہ بولے: میں اسے کھانے والا نہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
58- بَاب مَنْ طَبَخَ فَلْيُكْثِرْ مَائَهُ
۵۸- باب: سالن پکاتے وقت شوربا میں پانی زیادہ کر دینے کا بیان​

3362- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: "إِذَا عَمِلْتَ مَرَقَةً، فَأَكْثِرْ مَائَهَا،وَاغْتَرِفْ لِجِيرَانِكَ مِنْهَا "۔
* تخريج: م/البر ۴۲ (۲۶۲۵)، ت/الأطعمۃ ۳۰ (۱۸۳۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۵۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۶۱، ۱۷۱)، دي/الأطعمۃ ۳۷ (۲۱۲۴) (صحیح)

۳۳۶۲- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جب تم سالن پکاؤ، تو اس میں شوربا بڑھا لو، اور اس میں سے ایک ایک چمچہ پڑوسیوں کو بھجوا دو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
59- بَاب أَكْلِ الثُّومِ وَالْبَصَلِ وَالْكُرَّاثِ
۵۹- باب: لہسن، پیاز اور گندنا کھانے کا بیان​

3363- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ،عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَامَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ خَطِيبًا، فَحَمِدَاللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ، لاأُرَاهُمَا إِلا خَبِيثَتَيْنِ: هَذَا الثُّومُ وَهَذَا الْبَصَلُ، وَلَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرَّجُلَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يُوجَدُ رِيحُهُ مِنْهُ، فَيُؤْخَذُ بِيَدِهِ حَتَّى يُخْرَجَ بِهِ إِلَى الْبَقِيعِ، فَمَنْ كَانَ آكِلَهُمَا، لا بُدَّ، فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا۔
* تخريج: م/المساجد ۱۷ (۵۶۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۶۴۶)، وقد أخرجہ: حم (۱/۱۵، ۴۹، ۲۶، ۲۷، ۴۸، ۴/۱۹، ۲۶، ۲۷، ۴۸) (صحیح)

۳۳۶۳- معدان بن أبی طلحہ یعمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبے کے لئے کھڑے ہوئے، اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: لوگو! تم دو ایسے پودے کھاتے ہو جو میرے نزدیک خبیث ہیں: ایک لہسن، دوسرا پیاز، میں نے رسول اللہ ﷺ کے عہد میں دیکھا کہ جس شخص کے منہ سے ان کی بو آتی اس کا ہاتھ پکڑ کر بقیع تک لے جا کر چھوڑا جاتا، تو جس کو لہسن، پیاز کھانا ہی ہو وہ انہیں پکا کر ان کی بو ما ردے۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی کچا نہ کھائے چونکہ کچے میں بو ہوتی ہے، پکانے سے بو کم ہو جاتی ہے، یا بالکل ختم ہو جاتی ہے، گرچہ پیاز اور لہسن حرام نہیں ہے مگر رسول اکرم ﷺ ان کو برا جانتے تھے، اور نہیں کھاتے تھے اس وجہ سے کہ آپ ﷺ پر وحی آتی، اور فرشتوں کو اس کی بو ناگوار ہوتی، اور دوسرے لوگوں کے لئے بھی یہ حکم ہے کہ کچا نہ کھائیں اگر کچا کھائیں تو ان کو کھا کر مسجد میں نہ جائیں تاکہ دوسرے مسلمانوں کو تکلیف نہ ہو۔

3364- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ أَيُّوبَ؛ قَالَتْ: صَنَعْتُ لِلنَّبِيِّ ﷺ طَعَامًا فِيهِ مِنْ بَعْضِ الْبُقُولِ، فَلَمْ يَأْكُلْ، وَقَالَ: " إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُوذِيَ صَاحِبِي "۔
* تخريج: ت/الأطعمۃ ۱۴ (۱۸۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۳۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۶/۴۳۳،۴۶۲)، دي/الأطعمۃ ۲۱ (۲۰۹۸) (حسن)
(تراجع الألبانی: رقم: ۵۰۴).
۳۳۶۴- ام ایوب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے کھانا تیار کیا، اس میں کچھ سبزیاں (پیاز اور لہسن) پڑی تھیں، آپ نے اسے نہیں کھایا، اور فرمایا: ''مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں (اس کی بو سے) اپنے ساتھی (جبریل علیہ السلام) کو تکلیف پہنچاؤں''۱؎۔
وضاحت۱؎: فتح الباری میں ہے کہ پیاز اور لہسن اور گندنا حلال ہیں، لیکن جو کوئی ان کو کھائے اس کو مسجد میں جانا مکروہ ہے، اور فقہاء نے مُولی کو بھی ان کی مثل سمجھا ہے، اور جس ترکاری میں بری بو ہو وہ اس کی مثل ہے، اور جمہور اسی کے قائل ہیں کہ کراہت تنزیہی ہے۔
اور بیڑی سگریٹ، سگار وغیرہ کے پینے والوں یا تمباکو کھانے والوں کے منہ بھی عموماً بدبو کرتے ہیں، جس سے لوگوں کو مسجد اور مسجد سے باہر اذیت اور تکلیف ہوتی ہے، اس لیے اس سے بھی احتیاط ضروری ہے۔

3365- حدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أَبُوشُرَيْحٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ نِمْرَانَ الْحَجْرِيِّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ نَفَرًا أَتَوُا النَّبِيَّ ﷺ، فَوَجَدَ مِنْهُمْ رِيحِ الْكُرَّاثِ، فَقَالَ: " أَلَمْ أَكُنْ نَهَيْتُكُمْ عَنْ أَكْلِ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ؟! إِنَّ الْمَلائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ الإِنْسَانُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۸۷)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۱۶۰ (۸۵۴، ۸۵۵)، الأطعمۃ ۴۹ (۵۴۵۲)، الاعتصام ۲۴ (۷۳۵۹)، م/المساجد ۱۷ (۵۶۴)، د/الأطعمۃ ۴۱ (۳۸۲۲)، ت/الأطعمۃ ۱۳ (۱۸۰۶)، ن/المساجد ۱۶ (۷۰۸)، حم (۳/۳۷۴، ۳۸۷) (صحیح)

۳۳۶۵- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو ان کی جانب سے گندنے کی بو محسوس ہوئی تو فرمایاـ: ''کیا میں نے تمہیں اس پودے کو کھانے سے نہیں روکا تھا؟ یقینا فرشتوں کے لئے وہ چیزیں باعث اذیت ہوتی ہیں، جو انسان کے لئے باعث اذیت ہیں''۔

3366- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يُحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ دُخَيْنٍ الْحَجْرِيِّ؛ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لأَصْحَابِهِ: " لا تَأْكُلُوا الْبَصَلَ " ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً: " النِّيئَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۲۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۵) (صحیح)
(سند میں عثمان اور مغیرہ دونوں مجہول ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث صحیح ہے، آخری جملہ ثُمَّ قَالَ كَلِمَةً خَفِيَّةً: "النِّيئَ" ضعیف ہے، ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۲۳۸۹)
۳۳۶۶- دخین حجری سے روایت ہے کہانہوں نے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ''پیاز مت کھاؤ'' پھر ایک لفظ آہستہ سے کہا: ''کچی''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
60- بَاب أَكْلِ الْجُبْنِ وَالسَّمْنِ
۶۰- باب: پنیر اور گھی کھانے کا بیان​

3367- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى السُّدِّيُّ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ هَارُونَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ؛ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ السَّمْنِ وَالْجُبْنِ، وَالْفِرَاءِ، قَالَ: الْحَلالُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَالْحَرَامُ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ مِمَّا عَفَا عَنْهُ ۔
* تخريج: ت/اللباس ۶ (۱۷۲۶)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۹۶) (حسن)
(سند میں ہارون ضعیف ہے، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حدیث حسن ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۴۲۸)
۳۳۶۷- سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے گھی، پنیر اور جنگلی گدھے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''حلال وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حلال قرار دیا ہے، اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے، اور جس کے بارے میں چپ رہے وہ معاف (مباح) ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی حلال ہے اس کے کھانے میں کچھ مواخذہ نہیں ، کیونکہ حلال سیکڑوں چیزیں ہیں، ان سب کا بیان کرنا دشوار تھا، اس لئے جو چیزیں حرام تھیں ان کو قرآن اور حدیث میں بیان کر دیا گیا، اسی طرح وہ چیزیں جو حلال تھیں لیکن مشرکین جہالت سے ان کو حرام سمجھتے تھے، انہیں بھی بیان کر دیا گیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
61- بَاب أَكلِ الثِّمَارِ
۶۱- باب: پھل اور میوہ کھانے کا بیان​

3368- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ؛ قَالَ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ ﷺ عِنَبٌ مِنَ الطَّائِفِ، فَدَعَانِي فَقَالَ: " خُذْ هَذَا الْعُنْقُودَ فَأَبْلِغْهُ أُمَّكَ " فَأَكَلْتُهُ قَبْلَ أَنْ أُبْلِغَهُ إِيَّاهَا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ لَيَالٍ قَالَ لِي: " مَافَعَلَ الْعُنْقُودُ؟ هَلْ أَبْلَغْتَهُ أُمَّكَ ؟ " قُلْتُ: لا،قال: فَسَمَّانِي غُدَرَ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۳۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۶) (ضعیف)
(اس کی سند میں عبد الرحمن بن عرق مقبول راوی ہیں، جن کا کوئی متابع نہیں اس لئے وہ لین الحدیث ہیں، اور اس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے)
۳۳۶۸- نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس طائف سے انگور ہدیہ میں آئے، آپ نے مجھے بلایا اور فرمایا: ''یہ خوشہ لو اور اپنی ماں کو پہنچا دو'' میں نے وہ خوشہ ماں تک پہنچانے سے پہلے ہی کھا لیا، جب چند روز ہو گئے تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ''خوشے کا کیا ہوا؟ کیا تم نے اسے اپنی ماں کو دیا''؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے میرا نام (محبت و مزاح سے) ''دغا باز'' رکھ دیا۔

3369- حَدَّثَنَا إِسْمَاعيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّلْحِيُّ، حَدَّثَنَا نُقَيْبُ بْنُ حَاجِبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ الزُّبَيْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ؛ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ، وَبِيَدِهِ سَفَرْجَلَةٌ، فَقَالَ " دُونَكَهَا، يَاطَلْحَةُ؛ فَإِنَّهَا تُجِمُّ الْفُؤَادَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۰۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۷) (ضعیف الإسناد)
(سند میں نقیب بن حاجب، ابو سعید اور عبد الملک سب مجہول ہیں)
۳۳۶۹- طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کے ہاتھ میں بہی (سفرجل)۱؎ تھا، آپ نے مجھ سے فرمایا: ''طلحہ! اسے لے لو، یہ دل کے لئے راحت بخش ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: بہی اور سیب دونوں دل کے لئے مقوی اور دل کی دھڑکن دور کرنے میں مفید ہیں، اگرچہ حدیث ضعیف ہے، مگر یہ دونوں گرم مزاج والوں کے لئے مفید ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
62- بَاب النَّهْيِ عَنِ الأَكْلِ مُنْبَطِحًا
۶۲- باب: اوندھے منہ لیٹ کر کھانا منع ہے​

3370- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ؛ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ وَهُوَ مُنْبَطِحٌ عَلَى وَجْهِهِ ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۱۰)، وقد أخرجہ: د/الأطعمۃ ۱۹ (۳۷۷۴)، حم (۳/۴۳۰، ۵/۴۲۶) (حسن)
(حدیث شواہد کی بنا پر حسن ہے، سند میں جعفر بن برقان ہیں جو زہری کی احادیث میں خاص کر وہم کا شکار تھے۔ ملاحظہ ہو الصحیحہ: ۳۳۹۴)۔
۳۳۷۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اوندھے منہ لیٹ کر کھائے۱؎۔
وضاحت۱؎: اوندھے ہو کر سونا بھی منع ہے کیونکہ جہنمیوں کی مشابہت ہے وہ اوندھے منہ جہنم میں گھسیٹ کر ڈالے جائیں گے جیسے قرآن میں ہے۔

* * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
{30- كِتَاب الأَشْرِبَةِ}
۳۰- کتاب: مشروبات کے احکام و مسائل


1- بَاب الْخَمْرُ مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ
۱- باب: شراب ہر برائی کی کنجی ہے​

3371- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، (ح) وحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، .حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، جَمِيعًا عَنْ رَاشِدٍ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيِّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي ﷺ : " لا تَشْرَبِ الْخَمْرَ، فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، ( تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۸۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۸) (صحیح)

۳۳۷۱- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے خلیل (جگری دوست) رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی: ''شراب مت پیو، اس لیے کہ یہ تمام برائیوں کی کنجی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: آدمی ہر ایک برائی سے عقل کی وجہ سے بچتا ہے جب عقل ہوتی ہے تو اللہ کا خوف ہوتا ہے، شراب پینے سے عقل ہی میں فتور آجاتا ہے، پھر خوف کہاں رہا شرابی سے سینکڑوں گناہ سرزد ہوتے ہیں، اس لئے اس کو ام الخبائث کہتے ہیں، یعنی سب برائیوں کی جڑ۔

3372- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا مُنِيرُ بْنُ الزُّبَيْرِ؛ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ يَقُولُ: سَمِعْتُ خَبَّابَ بْنَ الأَرَتِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: " إِيَّاكَ وَالْخَمْرَ فَإِنَّ خَطِيئَتَهَا تَفْرَعُ الْخَطَايَا، كَمَا أَنَّ شَجَرَتَهَا تَفْرَعُ الشَّجَرَ"۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۵۱۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۶۹) (ضعیف)
(منیر بن زبیر الشامی ضعیف ہے)
۳۳۷۲- خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شراب سے بچو، اس لئے کہ اس کے گناہ سے دوسرے بہت سے گناہ پھوٹتے ہیں جس طرح ایک درخت ہوتا ہے اور اس سے بہت سی شاخیں پھوٹتی ہیں''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ
۲- باب: جس نے دنیا میں شراب پی اسے آخرت میں جنت کی (پاک) شراب نہ ملے گی​

3373- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ،عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ، إِلا أَنْ يَتُوبَ "۔
* تخريج: م/الأشربۃ ۸ (۲۰۰۳)، (تحفۃ الأشراف: ۷۹۵۱)، وقد أخرجہ: خ/الأشربۃ ۱ (۵۵۷۵)، ت/الأشربۃ ۱ (۱۸۶۱)، ط/الأشربۃ ۴ (۱۱)، حم (۲/۱۹، ۲۲، ۲۸، ۵/۹۸، ۱۰۶، ۱۳۳، ۱۴۲)، دي/الأشربۃ ۳ (۲۱۳۵) (صحیح)

۳۳۷۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں نہیں پی سکے گا مگر یہ کہ وہ تو بہ کر لے''۔

3374- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ؛ أَنَّ خَالِدَ ابْنَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا، لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الآخِرَةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۳۰۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۷۰) (صحیح)

۳۳۷۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو دنیا میں شراب پئے گا، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب مُدْمِنُ الْخَمْرِ
۳- باب: عادی شرابی کا بیان​

3375- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : "مُدْمِنُ الْخَمْرِ كَعَابِدِ وَثَنٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۷۴۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۷۱) (حسن)
(سند میں محمد بن سلیمان ضعیف ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۶۷۷)
۳۳۷۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''شراب کا عادی ایسے ہی ہے جیسے بتوں کا پجاری''۱؎۔
وضاحت۱؎: حالانکہ بت پوجنا شرک ہے اور شرک گناہوں میں سب سے بڑا ہے، مگر شراب بھی ایسا گناہ ہے کہ ہمیشہ کرنے سے وہ شرک کے مثل ہو جاتا ہے جیسے صغیرہ گناہ ہمیشہ کرنے سے کبیرہ ہو جاتا ہے، اس میں ڈر ہے شرابیوں کے لئے ایسا نہ ہو ان کا خاتمہ برا ہو۔

3376- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عُتْبَةَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ؛ قَالَ: " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مُدْمِنُ خَمْرٍ"۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۴۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۱۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۸۹، ۶/۴۴۱) (صحیح)
(ملاحظہ ہو: الصحیحہ : ۶۷۵ و ۶۷۸)
۳۳۷۶- ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''عادی شرابی جنت میں داخل نہیں ہو گا''۔
 
Top