- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
56- بَاب إِذَا رَأَى الضَّيْفُ مُنْكَرًا رَجَعَ
۵۶- باب: (دعوت میں) خلا ف شرع بات دیکھ کر مہمان کے لوٹ جانے کا بیان
۵۶- باب: (دعوت میں) خلا ف شرع بات دیکھ کر مہمان کے لوٹ جانے کا بیان
3359- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ،حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: صَنَعْتُ طَعَامًا، فَدَعَوْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، فَجَاءَ فَرَأَى فِي الْبَيْتِ تَصَاوِيرَ، فَرَجَعَ۔
* تخريج: ن/الزینۃ من المجتبیٰ ۵۷ (۵۳۵۳)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۱۱۷) (صحیح)
۳۳۵۹- علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کھانا تیار کیا، اور رسول اللہ ﷺ کو مدعو کیا، آپ تشریف لائے تو آپ کی نظر گھر میں تصویروں پر پڑی، تو آپ واپس لوٹ گئے۱؎۔
وضاحت۱؎: اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ جس دعوت میں خلاف شرع باتیں ہوں جیسے ناچ گانا، اور بے حیائی بے پردگی وغیرہ وغیرہ یا شراب نوشی، یا دوسری نشہ آور چیزوں کا استعمال تو اس میں شریک ہونا ضروری نہیں، اور جب وہاں جا کر یہ باتیں دیکھے تو لوٹ آئے اور کھانا نہ کھائے، اور اگر عالم دین اور پیشوا ہو اور اس بات کو دور نہ کر سکے تو لوٹ آئے کیونکہ وہاں بیٹھنے میں دین کی بے حرمتی اوراہانت ہے، اور دوسرے لوگوں کو گناہ کرنے کی جرأت بڑھے گی، یہ جب کہ دعوت میں جانے سے پہلیان باتوں کی خبر نہ ہو، اگر پہلے سے یہ معلوم ہو کہ وہاں خلاف شرع کوئی بات ہے تو دعوت قبول کرنا اس پر ضروری نہیں۔
3360- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الْجَزَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، حَدَّثَنَا سَفِينَةُ، أَبُو عَبْدِالرَّحْمَنِ: أَنَّ رَجُلا أَضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا النَّبِيَّ ﷺ فَأَكَلَ مَعَنَا، فَدَعَوْهُ فَجَاءَ، فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ،فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَرَجَعَ فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْ،فَقُلْ لَهُ: مَارَجَعَكَ؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا "۔
* تخريج:د/الأطعمۃ ۸ (۳۷۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۴۴۸۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۲۰، ۲۲۱، ۲۲۲) (حسن)
۳۳۶۰- سفینہ ابو عبد الرحمن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی ضیافت کی اور آپ کے لئے کھانا تیار کیا، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کو بلا لیتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھانا تناول فرماتے، چنانچہ لوگوں نے آپ کو بھی مدعو کیا، آپ ﷺ تشریف لائے، آپ نے اپنے ہاتھ دروازے کے دونوں بازو پر رکھے، تو آپ کی نظر گھر کے ایک گوشے میں ایک باریک منقش پردے پر پڑی، آپ لوٹ آئے، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: جائیے اور پوچھئے: اللہ کے رسول! آپ کیوں واپس آگئے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''یہ میرے لئے مناسب نہیں کہ میں ایسے گھر میں قدم رکھوں جس میں آرائش و تزیین کی گئی ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: حدیث میں مزوق کا لفظ آیا ہے یعنی آرائش و تزیین، بعضوں نے کہا کہ مزوق کے معنی یہ ہیں کہ سونا چڑھا ہوا، یعنی جس گھر کی چھت یا دیوار پر طلائی نقرئی کام ہو یا قیمتی پردے لٹکے ہوں، مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے لائق اتنی بھی دنیا کی زیب و زینت نہیں ہے، گرچہ عوام کے لئے یہ امر منع نہ ہو، عوام کو صرف حرام سے بچنا کافی ہے، اور خواص مکروہ اور مباح سے بھی پچتے ہیں، ایسا نہ ہو کہ حدود سے غفلت ہو جائے۔