- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
27- بَاب النَّهْيِ أَنْ يُتَدَاوَى بِالْخَمْرِ
۲۷- باب: شراب سے علاج منع ہے
۲۷- باب: شراب سے علاج منع ہے
3500- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ،عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ سُوَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ؛ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّه! إِنَّ بِأَرْضِنَا أَعْنَابًا نَعْتَصِرُهَا، فَنَشْرَبُ مِنْهَ ؟ قَالَ: " لا، فَرَاجَعْتُهُ، قُلْتُ: إِنَّا نَسْتَشْفِي بِهِ لِلْمَرِيضِ، قَالَ: " إِنَّ ذَلِكَ لَيْسَ بِشِفَائٍ، وَلَكِنَّهُ دَاءٌ "۔
* تخريج: د/الطب ۱۱ (۳۸۷۳)، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۱۱، ۵/۲۹۳) (صحیح)
۳۵۰۰- طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں انگور ہیں، کیا ہم انہیں نچوڑ کر پی لیا کریں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں''، میں نے دوبارہ عرض کیا کہ ہم اس سے مریض کا علاج کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:'' یہ دوا نہیں بلکہ خود بیماری ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: بیماری کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ ہے کہ ہر گناہ بیماری ہے، دوسرے یہ کہ شراب سے بیماری پیدا ہوتی ہے شفا نہیں ہوتی، دونوں سچ ہیں، شراب سے مسلمان کو سوائے ضرر کے کبھی فائدہ حاصل نہ ہو گا، اور بادی النظر میں جو کسی کو شراب پینے سے پہلے پہل کچھ فائدہ نظر آتا ہے، یہ فائدہ نہیں بلکہ مقدمہ ہے اس بڑے نقصان کا جو آگے چل کر پیدا ہو گا، اب تمام اطباء اتفاق کرتے جاتے ہیں کہ شراب میں نقصان ہی نقصان ہے، فائدہ موہوم ہے، اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اوپر گذری کہ رسول اکرم ﷺ نے خبیث دوا سے منع کیا۔