3- بَاب بِرِّ الْوَالِدِ وَالإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ
۳- باب: باپ کو اپنے بچوں خاص کر بیٹیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا چاہئے
3665- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَدِمَ نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فَقَالُوا: أَتُقَبِّلُونَ صِبْيَانَكُمْ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالُوا: لَكِنَّا، وَاللَّهِ! مَا نُقَبِّلُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " وَأَمْلِكُ أَنْ كَانَ اللَّهُ قَدْ نَزَعَ مِنْكُمُ الرَّحْمَةَ؟ " ۔
* تخريج: م/الفضائل ۱۵ (۲۳۱۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۲۲)، وقد أخرجہ: خ/الأدب ۱۷ (۵۹۹۳)، حم (۶/۷۰) (صحیح)
۳۶۶۵- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کچھ اعرابی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور کہا: کیا آپ لوگ اپنے بچوں کا بوسہ لیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو ان اعرابیوں (خانہ بدوشوں) نے کہا: لیکن ہم تو اللہ کی قسم! (اپنے بچوں کا) بوسہ نہیں لیتے، (یہ سن کر) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مجھے کیا اختیار ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں سے رحمت اور شفقت نکال دی ہے''۔
3666- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى الْعَامِرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: جَائَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ يَسْعَيَانِ إِلَى النَّبِيِّ ﷺ، فَضَمَّهُمَا إِلَيْهِ، وَقَالَ: " إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۸۵۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۷۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۷۲) (صحیح)
۳۶۶۶- یعلیٰ عامری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) دونوں دوڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے ان دونوں کو اپنے سینے سے چمٹا لیا، اور فرمایا: ''یقینا اولاد بزدلی اور بخیلی کا سبب ہوتی ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی آدمی اولاد کی محبت میں مال خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے، اور اولاد کے لئے مال چھوڑ جانا چاہتا ہے، اور جہاد سے سستی کرتا ہے۔
3667- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُلَيٍّ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " أَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَفْضَلِ الصَّدَقَةِ؟ ابْنَتُكَ مَرْدُودَةً إِلَيْكَ؟ لَيْسَ لَهَا كَاسِبٌ غَيْرُكَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۷۵)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۷۵) (ضعیف) (علی بن رباح کا سماع سراقہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے اس لئے سند میں انقطاع ہے)
۳۶۶۷- سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''کیا میں تم کو افضل صدقہ نہ بتا دوں؟ اپنی بیٹی کو صدقہ دو، جو تمہارے پاس۱؎ آگئی ہو، اور تمہارے علاوہ اس کا کوئی کمانے والا بھی نہ ہو''۔
وضاحت۱؎: یعنی شوہر کی موت یا طلاق کی وجہ سے۔
3668- حدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ عَمِّ الأَحْنَفِ؛ قَالَ: دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ امْرَأَةٌ، مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا، فَأَعْطَتْهَا ثَلاثَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً، ثُمَّ صَدَعَتِ الْبَاقِيَةَ بَيْنَهُمَا، قَالَتْ: فَأَتَى النَّبِيُّ ﷺ فَحَدَّثَتْهُ، فَقَالَ: " مَا عَجَبُكِ؟ لَقَدْ دَخَلَتْ بِهِ الْجَنَّةَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۱۵۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۷۶)، وقد أخرجہ: خ/الزکاۃ ۱۰ (۱۴۱۸)، الأدب ۱۸ (۵۹۹۵)، م/البر والصلۃ ۴۶ (۲۶۲۹)، ت/البر والصلۃ ۱۳ (۱۹۱۵)، حم (۶/۳۳، ۱۶۶) (صحیح)
۳۶۶۸- احنف کے چچا صعصعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئی، تو انہوں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں کو دی، اور تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کرکے دونوں کے درمیان تقسیم کر دی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تمہیں تعجب کیوں ہے؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اپنی بیٹیوں کو پالنے، ان کو کھلانے پلانے اور اپنے کو بھوکے رہنے سے، وہ جنت کی حقدار ہو گئی، اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب شوہر مر جاتا ہے، اور عورت صاحب اولاد ہوتی ہے تو بیچاری عمر بھر محنت مزدوری کرتی ہے، اور جو ملتا ہے وہ اپنی اولاد کو کھلاتی ہے، اور وہ خود اکثر بھوکی رہتی ہے۔
3669- حدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُشَانَةَ الْمُعَافِرِيَّ؛ قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ لَهُ ثَلاثُ بَنَاتٍ، فَصَبَرَ عَلَيْهِنَّ وَأَطْعَمَهُنَّ وَسَقَاهُنَّ وَكَسَاهُنَّ مِنْ جِدَتِهِ، كُنَّ لَهُ حِجَابًا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۲۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۷۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۵۴) (صحیح)
۳۶۶۹- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''جس کے پاس تین لڑکیاں ہوں، اور وہ ان کے ہونے پر صبر کرے، ان کو اپنی کمائی سے کھلائے پلائے اور پہنائے، تو وہ اس شخص کے لیے قیامت کے دن جہنم سے آڑ ہوں گی''۱؎۔
وضاحت۱؎: بڑے نادان ہیں وہ جو بیٹیاں زیادہ ہونے سے روتے اور شکوہ شکایت کرتے ہیں حالانکہ تجربہ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ بیٹے جب بڑے ہو جاتے ہیں تو اپنی بیوی اور اولاد کی محبت میں غرق ہو کر ماں باپ کو پوچھتے بھی نہیں، شاذ و نادر بیٹے ایسے ہوتے ہیں، جو صاحب اولاد ہو کر بھی اپنے ماں باپ سے محبت اور الفت رکھتے ہیں، برخلاف اس کے بیٹیاں زندگی تک اپنے ماں باپ کی محبت نہیں چھوڑتیں اور ہمیشہ ان کی خدمت کرتی رہتی ہیں، مبارک ہے بیٹا یا بیٹی جو ہمارا رب اور ہمارا مالک ہم کو عنایت فرمائے، اللہ تعالی سے یہ دعا مانگنی چاہئے کہ بیٹا ہو یا بیٹی صالح اور نیک بخت ہو۔ اور اگر بیٹا ہوا لیکن نکما اور نافرمان تو اس سے سو درجہ بیٹی بہتر ہے۔
3670- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ فِطْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا مِنْ رَجُلٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا، مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا، إِلا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ "۔
* تخريج: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۶۸۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۷۸)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۳۵، ۳۶۳) (حسن) (سند میں ابو سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے یہ حسن ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ۳۸۲)
۳۶۷۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص کے پاس دو لڑکیاں ہوں اور وہ اُن کے ساتھ حسن سلوک (اچھا برتاؤ) کرے جب تک کہ وہ دونوں اس کے ساتھ رہیں، یا وہ ان دونوں کے ساتھ رہے تو وہ دونوں لڑکیاں اسے جنت میں پہنچائیں گی''۔
3671- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُمَارَةَ أَخْبَرَنِي الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " أَكْرِمُوا أَوْلادَكُمْ، وَأَحْسِنُوا أَدَبَهُمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۷۹) (ضعیف جداً) (سند میں حارث بن نعمان منکر الحدیث اور سعید بن عمارہ ضعیف ہے)
۳۶۷۱- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ اپنی اولاد کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور انہیں بہترین ادب سکھاؤ''۔