• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب حَقِّ الْجِوَارِ
۴- باب: جوار (پڑوس) کے حق کا بیان​

3672- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ يُخْبِرُ عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُحْسِنْ إِلَى جَارِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ "۔
* تخريج: خ/الأدب ۳۱ (۶۰۱۹)، الرقاق ۲۳ (۶۴۷۶)، م/الإیمان ۱۹ (۴۸)، د/الأطعمۃ ۵ (۳۷۴۸)، ت/البر الصلۃ ۴۳ (۱۹۶۷، ۱۹۶۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۵۶)، وقد أخرجہ: ط/صفۃ النبیﷺ ۱۰ (۲۲)، حم (۴/۳۱، ۶/۳۸۴، ۳۸۵)، دي/الأطعمۃ ۱۱ (۲۰۷۸) (صحیح)

۳۶۷۲- ابو شریح خُزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ نیک سلوک کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے مہمان کا احترام اور اس کی خاطر داری کرے، اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اُسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے''۔
وضاحت۱؎: صرف اچھی بات کہنے یا خاموش رہنے کی اس عمدہ نصیحت نبوی پر عمل کے سلسلے میں اکثر لوگ کوتاہی کا شکار ہیں، لوگوں کے جو جی میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہیں، پھر پچھتاتے ہیں، آدمی کو چاہئے کہ اگر اچھی بات ہو تو منہ سے نکالے، اور بری بات جیسے جھوٹ، غیبت، بہتان، فضول اور بیکار باتوں سے ہمیشہ بچتا رہے، عقلاء کے نزدیک کثرت کلام بہت معیوب ہے، تمام حکیموں اور داناوں کا اس پر اتقاق ہے کہ آدمی کی عقل مندی اس کے بات کرنے سے معلوم ہو جاتی ہے، لہذا ضروری ہے کہ خوب سوچ سمجھ کر بولے کہ اس کی بات سے کوئی نقصان تو پیدا نہ ہو گا، پھر یہ سوچے کہ اس بات میں کوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں، اس کے بعد اگر اس بات میں فائدہ ہو تو منہ سے نکالے ورنہ خاموش رہے، اگر خاموشی سے تھک جائے تو ذکر الہی یا تلاوت قرآن کرے، یا دینی علوم کو حاصل کرے۔

3673- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَعَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ "۔
* تخريج: خ/الأدب ۲۸ (۶۰۱۴)، م/البر والصلۃ ۴۲ (۲۶۲۴)، د/الأدب ۱۳۲ (۵۱۵۱)، ت/البروالصلۃ ۲۸ (۱۹۴۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۹۴۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۹۱، ۱۲۵، ۲۳۸) (صحیح)

۳۶۷۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مجھے جبرئیل علیہ السلام برابر پڑوس کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنا دیں گے''۱؎۔
وضاحت۱؎: پڑوس کا حق بہت ہے، اگرچہ کافر ہو لیکن اس کے ساتھ اچھا سلوک ضروری ہے، اگر وہ کوئی چیز عاریتاً مانگے تو اس کو دے، اگر بھوکا ہو تو اپنے کھانے میں سے اس کو کھلائے، اگر اس کو قرض کی ضرورت ہو تو دے، بہرحال خوشی اور مصیبت دونوں میں اس کا شریک رہے، اور اس کی ہمدردی کرتا رہے اس میں دین اور دنیا دونوں کے فائدے ہیں۔

3674- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ،حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " ما زَالَ جِبْرَائِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۳۵۲، ومصباح الزجاجۃ:۱۲۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۵۹، ۳۰۵،۴۴۵، ۵۱۴) (صحیح)

۳۶۷۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جبرئیل برابر پڑوسی کے بارے میں وصیت و تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ ہمسایہ کو وارث بنا دیں گے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب حَقِّ الضَّيْفِ
۵- باب: مہمان کے حق کا بیان​

3675- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ؛ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ، وَلا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَ صَاحِبِهِ حَتَّى يُحْرِجَهُ، الضِّيَافَةُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، وَمَا أَنْفَقَ عَلَيْهِ بَعْدَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ فَهُوَ صَدَقَةٌ "۔
* تخريج: أنظر حدیث رقم: (۳۶۷۲) (صحیح)

۳۶۷۵- ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت و تکریم کرے، اور یہ واجبی مہمان نوازی ایک دن اور ایک رات کی ہے، مہمان کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے میزبان کے یہاں اتنا ٹھہرے کہ اسے حرج میں ڈال دے، مہمان داری (ضیافت) تین دن تک ہے اور تین دن کے بعد میزبان جو اس پر خرچ کرے گا وہ صدقہ ہو گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اوائل اسلام میں مہمانی (ضیافت) واجب تھی، پھر جمہور کے نزدیک اس کا وجوب منسوخ ہو گیا، لیکن اب بھی وہ اخلاق حسنہ میں داخل ہے، اور مہمانی نہ کرنا بدخلقی اور بے مروتی اور باعث شقاوت ہے، اور مہمان سے مراد ہر ایک مسلمان مسافر ہے جو اس کے پاس آ کر اترے خواہ اس سے پہچان ہو یا نہ ہو۔

3676- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ: قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ فَلايَقْرُونَا، فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ؟ قَالَ: لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ، فَاقْبَلُوا، وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا، فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ "۔
* تخريج: خ/المظالم ۱۸ (۲۴۶۱)، الأدب ۸۵ (۶۱۳۷)، م/اللقطۃ ۳ (۱۷۲۷)، ت/السیر ۳۲ (۱۵۸۹)، د/الأطعمۃ ۵ (۳۷۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۴۹) (صحیح)

۳۶۷۶- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: آپ ہم کو لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں، اور ہم ان کے پاس اترتے ہیں تو وہ ہماری مہمان نوازی نہیں کرتے، ایسی صورت میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ نے ہم سے فرمایا: ''جب تم کسی قوم کے پاس اترو اور وہ تمہارے لئے اُن چیزوں کے لینے کا حکم دیں جو مہمان کو درکار ہوتی ہیں، تو انہیں لے لو، اور اگر نہ دیں تو اپنی مہمان نوازی کا حق جو ان کے لئے مناسب ہو ان سے وصول کر لو''۱؎۔
وضاحت۱؎: جب میزبان مہمان کی مہمانی نہ کرے تو اس کے عوض میں بقدر مہمانی کے میزبان سے نقد وصول کر سکتا ہے، اور یہ واجب مہمانی پہلی رات میں ہے کیونکہ رات میں مسافر کو نہ کھانا مل سکتا ہے نہ بازار معلوم ہوتا ہے، تو صاحب خانہ پر اس کے کھانے پینے کا انتظام کر دینا واجب ہے، بعض علماء کے نزدیک یہ وجوب اب بھی باقی ہے، جمہور کہتے ہیں کہ وجوب منسوخ ہو گیا، لیکن سنت ہونا اب بھی باقی ہے، تو ایک دن رات مہمانی کرنا سنت مؤکدہ ہے، یعنی ضروری ہے اور تین دن مستحب ہے، اور تین دن بعد پھر مہمانی نہیں، اب مہمان کو چاہئے کہ وہاں سے چلا جائے یا اپنے کھانے پینے کا انتظام خود کرے، اور میزبان پر بوجھ نہ بنے۔

3677- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ أَبِي كَرِيمَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ، فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ فَهُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ، فَإِنْ شَائَ اقْتَضَى، وَإِنْ شَائَ تَرَكَ "۔
* تخريج: د/الأطعمۃ ۵ (۳۷۵۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۶۸) (صحیح)

۳۶۷۷- مقدام ابو کریمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اگر کسی کے یہاں رات کو کوئی مہمان آئے تو اس رات اس مہمان کی ضیافت کرنی واجب ہے، اور اگر وہ صبح تک میزبان کے مکان پر رہے تو یہ مہمان نوازی میزبان کے اوپر مہمان کا ایک قرض ہے، اب مہمان کی مرضی ہے چاہے اپنا قرض وصول کرے، چاہے چھوڑ دے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب حَقِّ الْيَتِيمِ
۶- باب: یتیم کے حق کا بیان ۱؎
وضاحت۱؎: یتیم وہ لڑکا یا لڑکی ہے جس کا باپ وفات پا گیا ہو، اور وہ نابالغ ہو۔

3678- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِيفَيْنِ: الْيَتِيمِ وَالْمَرْأَةِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۰۴۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۸۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۳۹) (حسن)

۳۶۷۸ - ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اے اللہ! میں دو کمزوروں ایک یتیم اور ایک عورت کا حق مارنے کو حرام قرار دیتا ہوں''۱؎۔
وضاحت۱؎: بیوہ اور یتیم دونوں کا مال کھا جانا اور اس میں الٹ پھیر کرنا سخت گناہ ہے، اگرچہ اور کسی کا مال کھا جانا حرام اور گناہ ہے، مگر ان دونوں کا مال ناجائز طور پر کھانا نہایت سخت گناہ ہے، اس لئے کہ یہ دونوں ناتواں اور کمزور ہیں، روزی کمانے کی ان میں قدرت نہیں ہے، تو ان کو اور دینا چاہیے نہ کہ انہی کا مال لے لینا، بہت بدبخت ہیں وہ لوگ جو یتیم اور بیوہ کا مال ناحق کھا لیں۔

3679- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي عَتَّابٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " خَيْرُ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُحْسَنُ إِلَيْهِ، وَشَرُّ بَيْتٍ فِي الْمُسْلِمِينَ بَيْتٌ فِيهِ يَتِيمٌ يُسَاءُ إِلَيْهِ ".
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۰۹، ومصباح الزجاجۃ: ۲۸۲) (ضعیف)
(سند میں یحییٰ بن سلیمان لین الحدیث ہیں)
۳۶۷۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''مسلمانوں میں سب سے بہتر گھر وہ ہے جس میں کوئی یتیم (پرورش پاتا) ہو، اور اس کے ساتھ نیک سلوک کیا جاتا ہو، اور سب سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم کے ساتھ برا سلوک کیا جاتا ہو''۔

3680- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ عَالَ ثَلاثَةً مِنَ الأَيْتَامِ، كَانَ كَمَنْ قَامَ لَيْلَهُ وَصَامَ نَهَارَهُ، وَغَدَا وَرَاحَ شَاهِرًا سَيْفَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ أَخَوَيْنِ كَهَاتَيْنِ، أُخْتَانِ "، وَأَلْصَقَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۵۸۸۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۸۳) (ضعیف)
(سند میں اسماعیل بن ابراہیم مجہول اور حماد کلبی ضعیف راوی ہے)
۳۶۸۰- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا، دن میں صیام رکھتا رہا، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں، اور آپ ﷺ نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا (اور دکھایا)۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ
۷- باب: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا بیان​

3681- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَمْعَةَ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ الرَّاسِبِيِّ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ؛ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ أَنْتَفِعُ بِهِ، قَالَ: " اعْزِلِ الأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۵۹۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۸۴)، وقد أخرجہ: م/البر والصلۃ ۳۶ (۲۶۱۸)، حم (۴/۴۲۰، ۴۲۲، ۴۲۳) (صحیح)

۳۶۸۱- ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دیا کرو''۱؎۔
وضاحت۱؎: جیسے کانٹا اور کوڑا کرکٹ وغیرہ، اگر راستہ میں گڑھا ہو تو اس کو برابر کر دے یا اس پر روک لگا دے تاکہ کوئی آدمی اندھیرے میں اس میں گر نہ جائے، مفید عام کاموں کے ثواب میں یہ حدیث اصل ہے جیسے سڑک کا بنانا، سڑک پر روشنی کرنا، سرائے بنانا، کنواں بنانا، یہ سب اعمال اس قسم کے ہیں۔

3682- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ، قَالَ: " كَانَ عَلَى الطَّرِيقِ غُصْنُ شَجَرَةٍ يُؤْذِي النَّاسَ، فَأَمَاطَهَا رَجُلٌ فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ "۔
* تخريج:تفردبہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۳۲)، وقد أخرجہ: خ/الأذان ۳۲ (۶۵۲)، المظالم ۲۸ (۲۴۷۲)، م/البر الصلۃ ۳۶ (۱۹۱۴)، الإمارۃ ۵۱ (۱۹۱۴)، د/الأدب ۱۷۲ (۵۲۴۵)، ت/البر والصلۃ ۳۸ (۱۹۵۸)، ط/صلاۃ الجماعۃ ۲ (۶)، حم (۲/۴۹۵) (صحیح)

۳۶۸۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''راستے میں ایک درخت کی شاخ (ٹہنی) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا (تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان مرتے ہی جنت میں جاتے ہیں اور کافر جہنم میں اور قیامت تک وہیں رہیں گے، لیکن حشر و نشر اور حساب کتاب کے بعد اپنے خاص خاص مقام میں جو ان کے لئے تیار ہوئے ہیں جائیں گے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے زیر تحقیق قیدی سب طرح کی تحقیق سے پہلے حوالات کے ایک ہی مقام میں رکھے جاتے ہیں، پھر فیصلہ ہونے کے بعد کوئی قید بامشقت میں رہتا ہے، کوئی ہلکی قید میں، کوئی مشقت میں۔ اہل حدیث اور علمائے محققین کے نزدیک یہی راجح مذہب ہے، اوپر ایک حدیث میں گزرا کہ ایک بلی کو قید کرنے کی وجہ سے ایک عورت جہنم میں چلی گئی، اور نبی کریم ﷺ نے معراج کی رات جہنم میں بہت سے گنہگاروں اور کافروں کو دیکھا۔ أعاذنا اللہ من نار جہنم۔

3683- حدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ وَاصِلٍ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ؛ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا، حَسَنِهَا وَسَيِّئِهَا، فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الأَذَى يُنَحَّى عَنِ الطَّرِيقِ، وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لا تُدْفَنُ "۔
* تخريج: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۹۲)، وقد أخرجہ: م/المساجد ۱۳ (۵۵۳)، حم (۵/۱۷۸) (صحیح)

۳۶۸۳- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
8- بَاب فَضْلِ صَدَقَةِ الْمَاءِ
۸- باب: پانی صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان​

3684- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ؛ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " سَقْيُ الْمَاءِ "۔
* تخريج: د/الزکاۃ ۴۱ (۱۶۷۹، ۱۶۸۰)، ن/الوصایا ۸ (۳۶۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۳۴)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۸۵، ۶/۷) (حسن) (تراجع الألبانی: رقم: ۴۱۳)

۳۶۸۴- سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ''اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''پانی پلانا''۱؎۔
وضاحت۱؎: جہاں پر لوگوں کو پانی کی حاجت ہو، وہاں سبیل لگانا، یا کنواں یا حوض بنا دینا، اسی طرح جہاں جس چیز کی ضرورت ہو، وہاں اسی کا صدقہ افضل ہو گا، حاصل یہ کہ اللہ تعالی کی مخلوق کو راحت پہنچانے سے زیادہ ثواب کسی چیز میں نہیں، یہاں تک کہ جانوروں کو راحت پہنچانے میں بڑا اجر ہے۔

3685- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍوَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "يَصُفُّ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوفًا (وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: أَهْلُ الْجَنَّةِ) فَيَمُرُّ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عَلَى الرَّجُلِ " فَيَقُولُ: يَا فُلانُ! أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ اسْتَسْقَيْتَ فَسَقَيْتُكَ شَرْبَةً؟ قَالَ: فَيَشْفَعُ لَهُ، وَيَمُرُّ الرَّجُلُ فَيَقُولُ: أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ نَاوَلْتُكَ طَهُورًا؟، فَيَشْفَعُ لَهُ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: " وَيَقُولُ: يَا فُلانُ! أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ بَعَثْتَنِي فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا، فَذَهَبْتُ لَكَ؟ فَيَشْفَعُ لَهُ " ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۸۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۸۶) (ضعیف)
(سند میں یزید بن أبان الرقاشی، ضعیف راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ۹۳-۵۱۸۶)
۳۶۸۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قیامت کے دن لوگوں کی صف بندی ہو گی (ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ اہل جنت کی صف بندی ہو گی) پھر ایک جہنمی ایک جنتی کے پاس گزرے گا اوراس سے کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے پانی مانگا تھا اور میں نے تم کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا؟ (وہ کہے گا: ہاں، یاد ہے) وہ جنتی اس بات پر اس کی سفارش کرے گا، پھر دوسرا جہنمی ادھر سے گزرے گا، اور اہل جنت میں سے ایک شخص سے کہے گا: تمہیں یاد نہیں کہ میں نے ایک دن تمہیں طہارت و وضو کے لیے پانی دیا تھا؟ تو وہ بھی اس کی سفارش کرے گا۔
ابن نمیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ وہ شخص کہے گا: اے فلاں! تمہیں یاد نہیں کہ تم نے مجھے فلاں اور فلاں کام کے لئے بھیجا تھا، اور میں نے اسے پورا کیا تھا؟ تو وہ اس بات پر اس کی سفارش کرے گا۔


3686- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحاقَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ تَغْشَى حِيَاضِي قَدْ لُطْتُهَا لإِبِلِي، فَهَلْ لِي مِنْ أَجْرٍ إِنْ سَقَيْتُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۸۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۸۷)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۷۵) (صحیح)
(سند میں محمد بن اسحاق مد لس راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ حدیث صحیح ہے، نیز ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۲۱۵۲)
۳۶۸۶- سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے گم شدہ اونٹوں کے متعلق پوچھا کہ وہ میرے حوض پر آتے ہیں جس کو میں نے اپنے اونٹوں کے لئے تیار کیا ہے، اگر میں ان اونٹوں کو پانی پینے دوں تو کیا اس کا بھی اجر مجھے ملے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں! ہر کلیجہ والے جانور کے جس کو پیاس لگتی ہے، پانی پلانے میں ثواب ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
9- بَاب الرِّفْقِ
۹- باب: نرمی اور ملائمیت کا بیان​

3687- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ هِلالٍ الْعَبْسِيِّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْبَجَلِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ "۔
* تخريج: م/البر والصلۃ ۲۳ (۱۵۹۲)، د/الأدب ۱۱ (۴۸۰۹)، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۱۹)،وقد أخرجہ: حم (۴/۳۶۲، ۳۶۶) (صحیح)

۳۶۸۷- جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص نرمی (کی خصلت) سے محروم کر دیا جاتا ہے، وہ ہر بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے''۔

3688- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ حَفْصٍ الأُبُلِّيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِي عَلَيْهِ مَا لا يُعْطِي عَلَى الْعُنْفِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۹۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۸۸) (صحیح)

۳۶۸۸- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''بیشک اللہ تعالیٰ مہربان ہے، اور مہربانی اور نرمی کرنے کو پسند فرماتا ہے، اور نرمی پر وہ ثواب دیتا ہے جو سختی پر نہیں دیتا''۱؎۔
وضاحت۱؎: نرمی یہ ہے کہ اپنے نوکروں، خادموں، بال بچوں اور دوستوں سے آہستگی اور لطف و مہربانی کے ساتھ گفتگو کرے، ان پر غصہ نہ ہو جیسے نبی اکرم ﷺ کا حال تھا کہ انس رضی اللہ عنہ نے آپ کی دس برس خدمت کی لیکن آپ ﷺ نے کبھی نہ ان کو سخت لفظ کہا، نہ گھورا، نہ جھڑکا۔

3689- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، (ح) وحَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ؛ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ فِي الأَمْرِ كُلِّهِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۵۲۷)، وقد أخرجہ: خ/الأدب ۳۵ (۶۰۲۴)، الاستئذان ۲۰ (۶۲۵۴)، الدعوات ۵۷ (۶۳۹۱)، م/السلام ۴ (۲۱۶۵)، البر والصلۃ ۲۳ (۲۵۹۳)، ت/الاستئذان ۱۲ (۲۷۰۱)، حم (۶/۸۵)، دي/الرقاق ۷۵ (۲۸۳۶) (صحیح)

۳۶۸۹- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''بے شک اللہ نرمی کرنے والا ہے اور سارے کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
10- بَاب الإِحْسَانِ إِلَى الْمَمَالِيكِ
۱۰- باب: غلاموں کے ساتھ احسان (اچھے برتاؤ) کرنے کا بیان​

3690- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَلا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ، فَأَعِينُوهُمْ "۔
* تخريج: خ/الإیمان ۲۲ (۳۰)، م/الأیمان ۱۰ (۱۶۶۱)، د/الأدب ۱۳۳ (۵۱۵۸)، ت/البر والصلۃ ۲۹ (۱۹۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۸۰)، وقد أخرجہ: حم (۵/۱۵۸، ۱۶۱، ۱۷۳) (صحیح)

۳۶۹۰- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''(حقیقت میں لونڈی اور غلام) تمہارے بھائی ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمہارے ماتحت کیا ہے، اس لئے جو تم کھاتے ہو وہ انہیں بھی کھلاؤ، اور جو تم پہنتے ہو وہ انہیں بھی پہناؤ، اور انہیں ایسے کام کی تکلیف نہ دو جو ان کی قوت و طاقت سے باہر ہو، اور اگر کبھی ایسا کام ان پر ڈالو تو تم بھی اس میں شریک رہ کر ان کی مدد کرو''۔

3691- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ أَكْثَرُ الأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى؟ قَالَ: " نَعَمْ، فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلادِكُمْ،وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ "، قَالُوا: فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: " فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، مَمْلُوكُكَ يَكْفِيكَ، فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۱۸)، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۸۹)، وقد أخرجہ: ت/البر والصلۃ ۲۹ (۱۹۴۶ مختصراً)، حم (۱/۱۲) (ضعیف)
(سند میں ''فرقد السبخي'' ضعیف ہے)
۳۶۹۱- ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بد خلق شخص جو اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ بد خلقی سے پیش آتا ہو، جنت میں داخل نہ ہو گا ''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت کے اکثر افراد غلام اور یتیم ہوں گے؟ ۱؎ آپ ﷺ نے فرمایا: ''کیوں نہیں؟ لیکن تم ان کی ایسی ہی عزت و تکریم کرو جیسی اپنی اولاد کی کرتے ہو، اور ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو''، پھر لوگوں نے عرض کیا: ہمارے لئے دنیا میں کون سی چیز نفع بخش ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''گھوڑا جسے تم جہاد کے لئے باندھ کر رکھتے ہو، پھر اس پر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہو (اس کی جگہ) تمہارا غلام تمہارے لیے کافی ہے، اور جب صلاۃ پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
11- بَاب إِفْشَاءِ السَّلامِ
۱۱- باب: سلام کو عام کرنے اور پھیلانے کا بیان​

3692- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ! لاتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا، وَلا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا، أَوَلا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ؟ أَفْشُوا السَّلامَ بَيْنَكُمْ "۔
* تخريج: حدیث أبي معاویۃ تقد م تخریجہ في السنۃ برقم: (۶۸)،حدیث عبداللہ بن نمیر تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۴۳۱)، وقد أخرجہ: حم ۲/۳۹۱، ۴۹۵) (صحیح)

۳۶۹۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم مومن نہ بن جاؤ، اور اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے ہو جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں کہ اگر تم اسے کرنے لگو تو تم میں باہمی محبت پیدا ہو جائے (وہ یہ کہ) آپس میں سلام کو عام کرو اور پھیلاؤ''۔

3693- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ؛ قَالَ: أَمَرَنَا نَبِيُّنَا ﷺ، أَنْ نُفْشِيَ السَّلامَ ۔
* تخريج: تفردبہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۲۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۹۰) (صحیح)

۳۶۹۳- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم سلام کو عام کریں اور پھیلائیں۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی آپس میں جب ایک دوسرے سے ملو تو السلام علیکم کہو خواہ اس سے تعارف ہو یا نہ ہو، تعارف کا سب سے پہلا ذریعہ سلام ہے، اور محبت کی کنجی ہے، اور ہر مسلمان کو ضروری ہے کہ جب دوسرے مسلمان سے ملے تو اس کے سلام کا منتظر نہ رہے بلکہ خود پہلے سلام کرے خواہ وہ ادنی ہو یا اعلی یا ہمسر، کمال ایمان کا یہی تعارف ہے۔

3694- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرٍو؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " اعْبُدُوا الرَّحْمَنَ، وَأَفْشُوا السَّلامَ "۔
* تخريج: ت/الأطعمۃ ۴۵ (۱۸۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۸۶۴۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۷۰، ۱۹۶)، دي/الأطعمۃ ۳۹ (۲۱۲۶) (صحیح)

۳۶۹۴- عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''رحمن کی عبادت کرو، اور سلام کو عام کرو''۱؎۔
وضاحت۱؎: عمار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جس نے تین باتیں کیں اس نے ایمان اکٹھا کر لیا: ایک تو اپنے نفس سے انصاف، دوسرے ہر شخص کو سلام کرنا، تیسرے تنگی کے وقت خرچ کرنا۔ (صحیح بخاری تعلیقا)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
12- بَاب رَدِّ السَّلامِ
۱۲- باب: سلام کے جواب کا بیان​

3695- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍالْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ أَنَّ رَجُلا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَرَسُولُ اللَّهِ ﷺ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَصَلَّى، ثُمَّ جَائَ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: " وَعَلَيْكَ السَّلامُ "۔
* تخريج: أنظرحدیث رقم:( ۱۰۶۰)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۹۸۳) (صحیح)

۳۶۹۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، رسول اکرم ﷺ اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے صلاۃ پڑھی، پھر آپ کے پاس آکر سلام کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''وعلیک السلام (اور تم پر بھی سلامتی ہو)''۔

3696- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ لَهَا: "إِنَّ جِبْرَائِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلامَ " قَالَتْ: وَعَلَيْهِ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ۔
* تخريج: خ/بدء الخلق ۶ (۳۲۱۷)، فضائل الصحابۃ ۳۰ (۳۷۶۸)، الأدب ۱۱۱ (۶۲۰۱)، الإستئذان ۱۶ (۶۲۴۹)، ۱۹ (۶۲۵۳)، م/فضائل ۱۳ (۲۴۴۷)، ت/الإستئذان ۵ (۲۶۹۳)، د/الآدب ۱۶۶ (۵۲۳۲)، ن/عشرۃ النساء ۳ (۳۴۰۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۷۲۷)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۴۶، ۱۵۰، ۲۰۸، ۲۲۴)، دي/الاستئذان ۱۰ (۲۶۸۰) (صحیح)

۳۶۹۶- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ''جبرئیل علیہ السلام تمہیں سلام کہتے ہیں'' (یہ سن کر) انہوں نے جواب میں کہا: ''وَعَلَيْهِ السَّلامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ''۱؎ (اور ان پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمت ہو)۔
وضاحت۱؎: اس حدیث میں غائبانہ سلام کے جواب دینے کے طریقے کا بیان ہے کہ جواب میں ''وعلیکم'' کے بجائے ''علیہ السلام'' ضمیر غائب کے ساتھ کہا جائے، یہاں اس حدیث سے ام المومنین عائشہ بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما کی عظمتِ شان بھی معلوم ہوئی کہ سید الملائکہ جبریل علیہ السلام نے ان کو سلام پیش کیا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب رَدِّ السَّلامِ عَلَى أَهْلِ الذِّمَّةِ
۱۳- باب: ذمیوں کے سلام کے جواب کا بیان​

3697- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۷)، وقد أخرجہ: خ/الإستئذان ۲۲ (۶۲۵۸)، استتابۃ المرتدین ۴ (۶۹۲۶)، م/السلام ۴ (۲۱۶۳)، د/الأدب ۱۴۹ (۵۲۰۷)، ت/تفسیر القرآن ۵۸ (۳۳۰۱)، حم (۳/۱۴۰، ۱۴۴، ۱۹۲، ۲۱۴،۲۴۳، ۲۶۲، ۲۸۹) (صحیح)

۳۶۹۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم (جواب میں صرف) ''وعلیکم'' کہو''۔ (یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق)۔

3698- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ؛ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ ﷺ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ، يَا أَبَاالْقَاسِمِ! فَقَالَ: " وَعَلَيْكُمْ "۔
* تخريج: م/السلام ۴ (۲۱۶۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۴۱)، وقد أخرجہ: خ/الجہاد ۹۸ (۲۹۳۵)، والأدب ۳۵ (۶۰۲۴)، الاستئذان ۲۲ (۶۲۵۶)، الدعوات ۵۷ (۶۳۹۱)، الاستتابۃ المرتدین ۴ (۶۹۲۷)، ت/الاستئذان ۱۲ (۲۷۱)، حم (۶/۲۲۹) (صحیح)

۳۶۹۸- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ یہودی آئے، اور کہا: ''السَّامُ عَلَيْكَ، يَا أَبَا الْقَاسِمِ'' (اے ابو القاسم۱؎ تم پر موت ہو)، تو آپ نے (جواب میں صرف) فرمایا: وَعَلَيْكُمْْ اور تم پر بھی ہو۲؎۔
وضاحت۱؎: ابو القاسم، رسول اللہ ﷺ کی کنیت ہے۔
وضاحت۲؎: یہ ان یہودیوں کی شرارت تھی کہ سلام کے بدلے سام کا لفظ استعمال کیا، سام کہتے ہیں موت کو تو''السام علیک'' کے معنی یہ ہوئے کہ تم مرو، اور ہلاک ہو، جو بدعا ہے، آپ ﷺ نے جواب میں صرف ''وعلیک'' فرمایا، یعنی تم ہی مرو، جب کوئی کافر سلام کرے، تو جواب میں صرف ''وعلیک'' کہے۔

3699- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ الْيَزَنِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِالرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ؛ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى الْيَهُودِ،فَلا تَبْدَئُوهُمْ بِالسَّلامِ، فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ، فَقُولُوا: وَعَلَيْكُمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۰۶۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۲۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۳۳) (صحیح)
(سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے)
۳۶۹۹- ابوعبد الرحمن جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں کل سوار ہو کر یہودیوں کے پاس جاؤں گا، تو تم خود انہیں پہلے سلام نہ کرنا، اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم جواب میں ۱؎ ''وعَلَيْكُمْ'' کہو''، (یعنی تم پر بھی تمہاری نیت کے مطابق)۔
وضاحت۱؎: کیونکہ اگر انہوں نے سلام کا لفظ ادا کیا تو ''وعلیکم'' کا مطلب یہ ہو گا کہ تم پر بھی سلام اور اگر شرارت سے ''سام'' کا لفظ کہا تو سام یعنی موت ہی ان پر لوٹے گی۔
 
Top