• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابن ماجه

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
13- بَاب الْعُزْلَةِ
۱۳- باب: (فتنہ کے زمانہ میں) سب سے الگ تھلگ رہنے کا بیان​

3977- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ بَعَجَةَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ بَدْرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: " خَيْرُ مَعَايِشِ النَّاسِ لَهُمْ، رَجُلٌ مُمْسِكٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَيَطِيرُ عَلَى مَتْنِهِ، كُلَّمَا سَمِعَ هَيْعَةً أَوْ فَزْعَةً طَارَ عَلَيْهِ إِلَيْهَا، يَبْتَغِي الْمَوْتَ أَوِ الْقَتْلَ، مَظَانَّهُ، وَرَجُلٌ فِي غُنَيْمَةٍ، فِي رَأْسِ شَعَفَةٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَافِ، أَوْ بَطْنِ وَادٍ مِنْ هَذِهِ الأَوْدِيَةِ، يُقِيمُ الصَّلاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ، لَيْسَ مِنَ النَّاسِ إِلا فِي خَيْرٍ "۔
* تخريج: م/الإمارۃ ۳۴ (۱۸۸۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۲۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۲/۴۴۳) (صحیح)

۳۹۷۷- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں میں سب سے اچھی زندگی والا وہ ہے جو اللہ تعالی کے راستے میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے اس کی پشت پر اڑ رہا ہو، اور جہاں دشمن کی آواز سنے یا مقابلے کا وقت آئے تو فورا مقابلہ کے لئے اس جانب رخ کرتا ہو، اور موت یا قتل کی جگہیں تلاش کرتا پھرتا ہو اور وہ آدمی ہے جو اپنی بکریوں کو لے کر تنہا کسی پہاڑ کی چوٹی پر رہتا ہو، یا کسی وادی میں جا بسے، صلاۃ قائم کرتا ہو، زکاۃ دیتا ہو، اور اپنے رب کی عبادت کرتا ہو حتی کہ اس حالت میں اسے موت آجائے کہ وہ لوگوں کا خیر خواہ ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: اس حدیث سے عزلت اور گوشہ نشینی یعنی جنگل وغیرہ میں تنہا رہنے کی اور آبادی سے الگ رہنے کی، اور لوگوں سے نہ ملنے جلنے کی فضیلت ثابت ہوئی کہ وہ جہاد کے برابر ہے، بعض لوگوں نے کہا کہ اگر گناہوں اور فتنوں سے بچ سکے تو لوگوں سے میل جول بہتر ہے، اور دوسروں نے کہا کہ عزلت اور گوشہ نشینی افضل اور صحیح ہے، صحیح مذہب یہ ہے کہ فتنہ و فساد کی حالت میں لوگوں سے دور رہنا زیادہ بہترہے ، اور صلاح اور تقویٰ کے زمانے میں میل جول کے ساتھ رہنا زیادہ بہتر ہے اس لئے کہ بہت سی عبادتیں لوگوں کے ساتھ میں رہ کر ادا ہو سکتی ہیں، جو عزلت اور گوشہ نشینی میں نہیں ہوتیں مثلا جمعہ اور عید ین، جنازہ، بیماری پرسی، پڑوسی سے حسن سلوک، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، یتیموں، بیواوں اور مسکینوں کی خدمت وغیرہ وغیرہ۔

3978- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الزَّبِيدِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: " رَجُلٌ مُجَاهِدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ "، قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ امْرُؤٌ فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، يَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، وَيَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ "۔
* تخريج: خ/الجہاد ۲ (۲۷۸۶)، الرقاق ۳۴ (۶۴۹۴)، م/الإمارۃ ۳۴ (۱۸۸۸)، د/الجہاد ۵ (۲۴۸۵)، ت/فضائل الجہاد ۲۴ (۱۶۶۰)، ن/الجہاد ۷ (۳۱۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۵۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۶، ۳۷، ۵۶، ۸۸) (صحیح)

۳۹۷۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آکر عرض کیا: لوگوں میں سب سے بہتر اور اچھا کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ آدمی جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہو''، اس نے پوچھا: پھر کون؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''پھر وہ آدمی جو کسی گھاٹی میں تنہا اللہ کی عبادت کرتا ہو، اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھتا ہو''۔

3979- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَكُونُ دُعَاةٌ عَلَى أَبْوَابِ جَهَنَّمَ، مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صِفْهُمْ لَنَا،قَالَ: " هُمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا، يَتَكَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا "، قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: " فَالْزَمْ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلا إِمَامٌ، فَاعْتَزِلْ تِلْكَ الْفِرَقَ كُلَّهَا، وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ بِأَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّى يُدْرِكَكَ الْمَوْتُ، وَأَنْتَ كَذَلِكَ "۔
* تخريج: خ/المناقب ۲۵ (۳۶۰۶)، م/الإمارۃ ۱۳ (۱۸۲۷)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۶۲) (صحیح)

۳۹۷۹- حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کے بلاوے پر ادھر جائے گا وہ انہیں جہنم میں ڈال دیں گے''، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے ان کے کچھ او صاف بتائیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ لوگ ہم ہی میں سے ہوں گے، ہماری زبان بولیں گے''، میں نے عرض کیا: اگر یہ وقت آئے تو آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا:'' تم مسلمانوں کی جماعت اور امام کو لازم پکڑو، اور اگر اس وقت کوئی جماعت اور امام نہ ہو تو ان تمام فرقوں سے علیحدگی اختیار کرو، اگرچہ تمہیں کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے حتی کہ تمہیں اسی حالت میں موت آجائے''ا؎۔
وضاحت۱؎: تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے یعنی جنگل میں جا کر عزلت اور گوشہ نشینی اختیار کرنا اور مرنے تک ایک درخت کی جڑ چوسنے پر قناعت کرنا، اور ان سب فرقوں سے الگ رہنا ایسے فتنہ کے زمانے میں جب نہ تو کوئی مسلمانوں کا امام ہو نہ جماعت ہو بہتر اور باعث نجات ہے۔

3980- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ خَيْرَ مَالِ الْمُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الْجِبَالِ، وَمَوَاقِعَ الْقَطْرِ، يَفِرُّ بِدِينِهِ مِنَ الْفِتَنِ "۔
* تخريج: خ/الإیمان ۱۲ (۱۹)، بدء الخلق ۱۵ (۳۳۰۰)، المناقب ۲۵ (۳۶۰۰)، الرقاق ۳۴ (۴۶۹۵)، د/الفتن ۱۴ (۴۲۶۷)، ن/الإیمان ۳۰ (۵۰۳۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۰۳)، وقد أخرجہ: ط/الاستئذان ۶ (۱۶) حم (۳/۶، ۳۰، ۴۳، ۵۷) (صحیح)

۳۹۸۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں وہ لے کر پہاڑ کی چوٹیوں یا بارش کے مقامات میں چلا جائے گا، وہ اپنا دین فتنوں سے بچاتا پھر رہا ہو گا''۔

3981- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدِّمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ قُرْطٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " تَكُونُ فِتَنٌ عَلَى أَبْوَابِهَا دُعَاةٌ إِلَى النَّارِ، فَأَنْ تَمُوتَ وَأَنْتَ عَاضٌّ عَلَى جِذْلِ شَجَرَةٍ، خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ تَتْبَعَ أَحَدًا مِنْهُمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ (تحفۃ الأشراف: ۳۳۷۲) (صحیح)

۳۹۸۱- حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کچھ ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ ان کے دروازوں پر جہنم کی طرف بلانے والے ہوں گے، لہٰذا اس وقت تمہارے لئے کسی درخت کی جڑ چبا کر جان دے دینا بہتر ہے، بہ نسبت اس کے کہ تم ان بلانے والوں میں سے کسی کی پیروی کرو''۔

3982- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: " لا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ "۔
* تخريج: خ/الأدب ۸۳ (۶۱۳۳)، م/الزہد ۱۲ (۲۹۹۸)، د/الأدب ۳۴ (۴۸۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۲۰۵)، وقد أخرجہ: حم۲/(۳۷۹) دي/الرقاق ۶۵ (۲۸۲۳) (صحیح)

۳۹۸۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا''۔

3983- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لايُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ مَرَّتَيْنِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۸۱۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۳۹۶)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۱۵) (صحیح)

۳۹۸۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مومن ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا''۱؎۔
وضاحت۱؎: ابو عزہ حجمی نامی شاعرمسلمانوں کی ہجو کرتا تھا، بدرکے موقع پر قیدی ہوا اور آئندہ ہجو نہ کرنے کا عہد کرکے اس نے آزادی حاصل کر لی، مکہ مکرمہ جا کر اس نے دوبارہ مسلمانوں کے خلاف شاعری شروع کر دی پھر وہ غزوہ احد میں دوبارہ قید ہوا، اور اپنی تنگدستی کا بہانہ بنا کر دوبارہ آزادی طلب کی تو اس موقع پر آپ نے یہ حدیث بیان فرمائی۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
14- بَاب الْوُقُوفِ عِنْدَ الشُّبُهَاتِ
۱۴- باب: شکوک و شبہات سے دور رہنے کا بیان​

3984- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " الْحَلالُ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ، اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ، وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلا، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمَى، أَلا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلا، وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً، إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، ألا، وَهِيَ الْقَلْبُ "۔
* تخريج: خ/الإیمان ۳۹ (۵۲)، البیوع ۲ (۲۰۵۱)، م/المساقاۃ ۲۰ (۱۵۹۹)، د/البیوع ۳ (۳۳۲۹، ۳۳۳۰)، ت/البیوع ۱ (۱۲۰۵)، ن/البیوع ۲ (۴۴۵۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۷۵)، دي/البیوع ۱ (۲۵۷۳) (صحیح)

۳۹۸۴- شعبی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کو منبر پر یہ کہتے سنا، اور انہوں نے اپنی دو انگلیوں سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ''حلال واضح ہے، اور حرام بھی، ان کے درمیان بعض چیزیں مشتبہ ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جان پاتے (کہ حلال ہے یا حرام) جو ان مشتبہ چیزوں سے بچے، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لیا، اور جو شبہات میں پڑ گیا، وہ ایک دن حرام میں بھی پڑ جائے گا، جیسا کہ چراگاہ کے قریب جانور چرانے والا اس بات کے قریب ہوتا ہے کہ اس کا جانور اس چراگاہ میں بھی چرنے لگ جائے، خبردار!، ہر بادشاہ کی ایک مخصوص چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، آگاہ رہو! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے، جب تک وہ صحیح رہتا ہے تو پورا جسم صحیح رہتا ہے، اور جب وہ بگڑ جاتا ہے، توسارا جسم بگڑ جاتا ہے، آگا ہ رہو!، وہ دل ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ بڑی اہم بات ہے جس پر اسلام کے اکثر احکام کا دار و مدار ہے، مشتبہ کاموں سے ہمیشہ بچے رہنا ہی تقویٰ اور صلاح کا طریقہ ہے، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ نے سود کا بیان کھول کر نہیں کیا تو سود سے بچو اور جس چیز میں سود کا شک ہو اس سے بچو اور دوسری حدیث میں ہے کہ جس کام میں تم کو شک ہو اس کو چھوڑ دو تاکہ تم شک میں نہ پڑو، اور آپ نے سودہ رضی اللہ عنہا کو عبد بن زمعہ سے پردہ کا حکم دیا حالانکہ اس کا نسب زمعہ سے ثابت کیا کیونکہ اس میں عتبہ کے نطفہ ہو نے کا شبہ تھا اور عقبہ بن حارث نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے دولہا اور دلہن دونوں کو دودھ پلایا ہے حالانکہ وہ دونوں اس کو نہیں جانتے تھے نہ ان کے گھر والے پھر اس کا ذکر آپ ﷺ سے کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس کا کیا علاج ہے'' کہ ایسا کہا گیا یعنی گو کامل شہادت سے دودھ پلانا ثابت نہیں ہوا مگر کہا تو گیا تو شبہ ہوا غرض عقبہ رضی اللہ عنہ کو عورت چھوڑ دینے کا اشارہ کیا۔

3985- حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ابْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ، كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ "۔
* تخريج: م/الفتن ۲۶ (۲۹۴۸)، ت/الفتن ۳۱ (۲۲۰۱)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۴۷۶)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۵، ۲۷،۳۷) (صحیح)

۳۹۸۵- معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''فتنوں (کے ایام) میں عبادت کرنا ایسے ہی ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
15- بَاب بَدَأَ الإِسْلامُ غَرِيبًا
۱۵- باب: اسلام کی شروعات اجنبی حالت میں ہوئی​

3986- حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " بَدَأَ الإِسْلامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "۔
* تخريج: م/الإیمان ۶۵ (۱۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۴۴۷) (صحیح)

۳۹۸۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا اور عنقریب پھر اجنبی ہو جائے گا، تو ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لئے خوش خبری ہے''۔

3987- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " إِنَّ الإِسْلامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰۱) (حسن صحیح)
(یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
۳۹۸۷- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، اور عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لئے خوشخبری ہے''۔

3988- حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ الإِسْلامَ بَدَأَ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "، قَالَ: قِيلَ: وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ ۔
* تخريج: ت/الإیمان ۱۳ (۲۶۲۹)، (تحفۃ الأشراف:۹۵۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۹۸)، دي/الرقاق ۴۲ (۲۷۹۷) (صحیح) "قَالَ: قِيلَ: وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: النُّزَّاعُ مِنَ الْقَبَائِلِ"
کا ٹکڑا یعنی غرباء کی تعریف ضعیف ہے، تراجع الألبانی: رقم: ۱۷۵)
۳۹۸۸- عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لئے خوشخبری ہے، آپ سے سوال کیا گیا: غرباء کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''وہ لوگ ہیں جو اپنے قبیلے سے نکال دیئے گئے ہوں''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی مسافر پر دیسی جن کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہو، شروع میں اسلام ایسے ہی لوگوں نے اختیار کیا تھا جیسے بلال، صہیب، سلمان، مقداد، ابو ذر وغیرہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور قریشی مہاجر بھی اجنبی ہو گئے تھے اس لئے کہ قریش نے ان کو مکہ سے نکال دیا تھا، تووہ مدینہ میں اجنبی تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
16- بَاب مَنْ تُرْجَى لَهُ السَّلامَةُ مِنَ الْفِتَنِ
۱۶- باب: جن کے بارے میں امید ہے کہ وہ فتنوں سے محفوظ ہوں گے ان کا بیان​

3989- حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ خَرَجَ يَوْمًا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَوَجَدَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَاعِدًا عِنْدَ قَبْرِ النَّبِيِّ ﷺ يَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: يُبْكِينِي شَيْئٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، يَقُولُ: " إِنَّ يَسِيرَ الرِّيَاءِ شِرْكٌ، وَإِنَّ مَنْ عَادَى لِلَّهِ وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَ اللَّهَ بِالْمُحَارَبَةِ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الأَبْرَارَ الأَتْقِيَائَ الأَخْفِيَاءَ الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا،وَإِنْ حَضَرُوا لَمْ يُدْعَوْا وَلَمْ يُعْرَفُوا، قُلُوبُهُمْ مَصَابِيحُ الْهُدَى،يَخْرُجُونَ مِنْ كُلِّ غَبْرَاءَ مُظْلِمَةٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۳۰۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰۲) (ضعیف)
(سند میں عیسیٰ بن عبد الرحمن ضعیف و متروک راوی ہیں)
۳۹۸۹- عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن وہ مسجد نبوی کی جانب گئے، تو وہاں معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ کی قبر کے پاس بیٹھے رو رہے ہیں، انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا، تو معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ایک ایسی بات رلا رہی ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی، میں نے آپ ﷺ کو فرماتے سنا: ''معمولی ریاکاری بھی شرک ہے، بیشک جس نے اللہ کے کسی دوست سے دشمنی کی، تو اس نے اللہ سے اعلان جنگ کیا، اللہ تعالی ان نیک، گم نام متقی لوگوں کو محبوب رکھتا ہے جو اگر غائب ہو جائیں تو کوئی انہیں تلاش نہیں کرتا، اوراگر وہ حاضر ہو جائیں تو لوگ انہیں کھانے کے لئے نہیں بلاتے، اور نہ انہیں پہچانتے ہیں، ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ایسے لوگ ہر گرد آلود تاریک فتنے سے نکل جائیں گے''۔

3990- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " النَّاسُ كَإِبِلِ مِائَةٍ لاتَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۴۰)، وقد أخرجہ: خ/الرقاق ۳۵ (۶۴۹۸)، م/فضائل الصحابۃ ۶۰ (۲۵۴۷)، ت/الأمثال ۷ (۲۸۷۲)، حم (۲/۷۰، ۱۲۳، ۱۳۹) (صحیح)

۳۹۹۰- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کے مانند ہے، جن میں سے ایک بھی سواری کے لائق نہیں پائو گے''۱؎۔
وضاحت۱؎: سواری میں استعمال ہونے والا جانور نرم مزاج اور سیدھا ہوتا ہے، لیکن عملاً کمیاب، ایسے سیکڑوں آدمیوں میں سے کوئی کوئی ہوتا ہے، جو دوستی اور تعلقات کو استوار کرنے کے لائق ہوتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اکثر لوگوں میں مختلف انداز کی کمیاں پائی جاتی ہیں، کامل و مکمل اور بھرپور شخصیت والے کم ہی لوگ ہوتے ہیں، امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب الرقاق کے باب رفع الامانہ میں اسی لئے ذکر کیا ہے کہ اخیر امت میں لوگ اس باب میں بھی کمیاب ہوں گے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
17- بَاب افْتِرَاقِ الأُمَمِ
۱۷- باب: امتوں کا انتشار اور ان کا فرقوں میں بٹ جانا​

3991- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحْمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۰۹۹)، وقد أخرجہ: د/السنۃ ۱ (۴۵۹۶)، ت/الإیمان ۱۸ (۲۶۴۰)، حم (۲/۳۳۲) (حسن صحیح)
(یہ سند حسن ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے)
۳۹۹۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہود اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی''۔

3992- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " افْتَرَقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً،فَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، وَافْتَرَقَتِ النَّصَارَى عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، فَإِحْدَى وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! لَتَفْتَرِقَنَّ أُمَّتِي عَلَى ثَلاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، وَثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ فِي النَّارِ، قِيلَ: يَارَسُولَ اللَّهِ! مَنْ هُمْ؟ قَالَ: " الْجَمَاعَةُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۹۰۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰۳) (صحیح)
(عباد بن یوسف کندی مقبول راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے)
۳۹۹۲- عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''یہود اکہتر(۷۱) فرقوں میں بٹ گئے جن میں سے ایک جنت میں جائے گا اور ستر(۷۰) جہنم میں، نصاری کے بہتر فرقے ہوئے جن میں سے اکہتر (۷۱) جہنم میں اور ایک جنت میں جائے گا، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میری امت تہتر (۷۳) فرقوں میں بٹ جائے گی جن میں سے ایک فرقہ جنت میں جائے گا، اور بہتر (۷۲) فرقے جہنم میں''، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کون ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:''الْجَمَاعَةُ''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اہل سنت و جماعت جنہوں نے حدیث اور قرآن کو نہیں چھوڑا اس وجہ سے اہل سنت ہوئے، اور جماعت المسلمین کے ساتھ رہے تھے۔

3993- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ افْتَرَقَتْ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، وَإِنَّ أُمَّتِي سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ، إِلا وَاحِدَةً، وَهِيَ الْجَمَاعَةُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۱۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰۴)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۲۰) (صحیح)

۳۹۹۳- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے، اور میری امت بہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سوائے ایک کے سب جہنمی ہوں گے، اور وہ ''الْجَمَاعَةُ'' ہے، (وہ جماعت جو میری اور میرے صحابہ کی روش اور طریقے پر ہو)۱؎۔
وضاحت۱؎: جس نے مسلمانوں کی جماعت اور امام وقت کا ساتھ نہیں چھوڑا اور ہر زمانہ میں امام اور خلیفہ وقت کے ساتھ رہے، یہ مضمون اہل سنت اور جماعت کے علاوہ کسی اور فرقہ اور جماعت پر صادق نہیں آتا، اس لیے معلوم ہوا کہ اہل سنت والجماعت ہی ناجی جماعت ہے۔

3994- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَتَتَّبِعُنَّ سُنَّةَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، بَاعًا بِبَاعٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، وَشِبْرًا بِشِبْرٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا فِي جُحْرِ ضَبٍّ، لَدَخَلْتُمْ فِيهِ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى؟ قَالَ: " فَمَنْ؟ إِذًا "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۱۲۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰۵)، وقد أخرجہ: خ/الاعتصام ۱۴ (۷۳۱۹)، حم (۲/۴۵۰، ۵۲۷) (حسن صحیح)

۳۹۹۴- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''تم پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے اگر وہ ہاتھ پھیلانے کے مقدار چلے ہوں گے۱؎، تو تم بھی وہی مقدار چلو گے، اور اگر وہ ایک ہاتھ چلے ہوں گے تو تم بھی ایک ہاتھ چلو گے، اور اگر وہ ایک بالشت چلے ہوں گے تو تم بھی ایک بالشت چلو گے، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا وہ یہود اور نصاری ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تب اور کون ہو سکتے ہیں؟''۲؎ ۔
وضاحت۱؎: یعنی قدم بہ قدم، باع: کہتے ہیں دونوں ہاتھ کی لمبائی کو، ذراع: ایک ہاتھ اور شبر ایک بالشت۔
وضاحت۲؎: یہود اور نصاریٰ نے یہ کیا تھا کہ تورات اور انجیل کو چھوڑ کر اپنے مولویوں اور درویشوں کی پیروی میں غرق ہو گئے تھے، اور اسی کو دین و ایمان جانتے تھے، مسلمانوں نے بھی ایسا ہی کیا کہ قرآن و حدیث کا پڑھنا پڑھانا اور ان پر عمل کرنا اور کرانا بالکل چھوڑ دیا، اور قرآن و حدیث کی جگہ دوسرے ملاؤں کی کتابیں ایسی رائج اور مشہور ہو گئیں کہ بکثرت مسلمان انہی کتابوں پر چلنے لگے الا ماشاء اللہ، ایک طائفہ قلیلہ اہل حدیث کا (شکر اللہ سعیم) کہ ہر زمانہ میں وہ قرآن و حدیث پر قائم رہا۔، فاسد آراء اور باطل قیاس کی طرف انہوں نے کبھی التفات نہیں کیا، جاہل و بے دین اور بدعت و شرک میں مبتلا سادہ لوح مسلمانوں نے اس گروہ سے دشمنی کی، اعداء اسلام نے بھی دشمنی میں کوئی کسر نہیں باقی رکھی، لیکن ان سب کی دشمنی اور عداوت سے ان اہل حق کو کبھی نقصان نہ ہو سکا، اور یہ فرقہ حقہ قیامت تک اپنے دلائل حقہ کے ساتھ غالب اور قائم رہے گا، اس کے دلائل و براہین کا کسی کے پاس جواب نہیں ہو گا۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
18- بَاب فِتْنَةِ الْمَالِ
۱- باب: مال دولت کا فتنہ​

3995- حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَخَطَبَ النَّاسَ، فَقَالَ: " لا، وَاللَّهِ! مَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ، أَيُّهَا النَّاسُ! إِلا مَا يُخْرِجُ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: " كَيْفَ قُلْتَ؟ " قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ يَأْتِي الْخَيْرُ بِالشَّرِّ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ الْخَيْرَ لايَأْتِي إِلا بِخَيْرٍ، أَوَ خَيْرٌ هُوَ؟ إِنَّ كُلَّ مَايُنْبِتُ الرَّبِيعُ يَقْتُلُ حَبَطًا أَوْ يُلِمُّ، إِلا آكِلَةَ الْخَضِرِ، أَكَلَتْ، حَتَّى إِذَا امْتَلأَتِ (امْتَدَّتْ)خَاصِرَتَاهَا، اسْتَقْبَلَتِ الشَّمْسَ، فَثَلَطَتْ وَبَالَتْ ثُمَّ اجْتَرَّتْ، فَعَادَتْ، فَأَكَلَتْ، فَمَنْ يَأْخُذُ مَالا بِحَقِّهِ، يُبَارَكُ لَهُ، وَمَنْ يَأْخُذُ مَالا بِغَيْرِ حَقِّهِ، فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الَّذِي يَأْكُلُ وَلا يَشْبَعُ "۔
* تخريج: م/الزکاۃ ۴۱ (۱۰۵۲)، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۷۳)، وقد أخرجہ: خ/الجمعۃ ۲۸ (۹۲۱)، الزکاۃ ۴۷ (۱۴۶۵)، الجہاد ۳۷ (۲۸۴۲)، الرقاق ۷ (۶۴۲۷)، ن/الزکاۃ ۸۱ (۲۵۸۲)، حم (۳/۷، ۹۱) (صحیح)

۳۹۹۵- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا: ''اللہ کی قسم، لوگو! مجھے تمہارے متعلق کسی بات کا خوف نہیں، ہاں صرف اس بات کا ڈر ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دنیاوی مال و دولت سے نوازے گا''، ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا خیر (مال و دولت) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ یہ سن کر آپ ﷺ خاموش ہو گئے، پھر قدرے سکوت کے بعد فرمایا: ''تم نے کیسے کہا تھا؟'' میں نے عرض کیا: کیا خیر (یعنی مال و دولت کی زیادتی) سے شر پیدا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''خیر سے تو خیر ہی پیدا ہوتا ہے، اور کیا وہ مال خیر ہے؟ ہر وہ سبزہ جسے موسمِ بہار اگاتا ہے، جانور کا پیٹ پھلا کر بدہضمی سے مار ڈالتا ہے، یا مرنے کے قریب کر دیتا ہے، مگر اس جانور کو جو گھاس کھائے یہاں تک کہ جب پیٹ پھول کر اس کے دونوں پہلو تن جائیں تو دھوپ میں چل پھر کر، پاخانہ پیشاب کرے، اور جگالی کر کے ہضم کر لے، اور واپس آکر پھر کھائے، تو اسی طرح جو شخص مال کو جائز طریقے سے حاصل کرے گا، تو اس کے مال میں برکت ہو گی، اور جو اسے ناجائز طور پر حاصل کرے گا، تو اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کھاتا رہے اور آسودہ نہ ہو''۱؎۔
وضاحت۱؎: بلکہ اس کو جوع البقر کی طرح عارضہ ہو جائے کہ جتنا مال زیادہ ہو جائے اتنی ہی حرص بڑھتی جائے گی، حلال اور حرام کی تمیز جاتی رہے گی، یہ ایک مصیبت ہے، اس طرح مال جمع کرنے والا ضرور تباہ ہو گا، اور یہ تباہی مال کی وجہ سے نہیں ہے جو خیر ہے، بلکہ اس کی حرص اور طمع اور ناجائز کاروائی کی وجہ سے ہے، جیسے موسم ربیع کا چارہ جانور کے لئے بہت عمدہ ہوتا ہے، لیکن جو جانور حرص سے اس کو زیادہ کھا لیتا ہے وہ پیٹ پھول کر مر جاتا ہے، یا مرنے کے قریب ہو جاتا ہے، پس چارے کا اس میں کوئی قصور نہیں، یہ آفت اس کے زیادہ کھانے کی وجہ سے ہے، اور خیانت اور بدیانتی سے تو ان کو برکت نہیں ہوتی بلکہ وہ سارا مال برباد ہو جاتا ہے، اور جہاں سے آیا تھا وہیں چلا جاتا ہے۔

3996- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ رَبَاحٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا فُتِحَتْ عَلَيْكُمْ خَزَائِنُ فَارِسَ وَالرُّومِ،أَيُّ قَوْمٍ أَنْتُمْ؟ " قَالَ عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: نَقُولُ كَمَا أَمَرَنَا اللَّهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ،تَتَنَافَسُونَ، ثُمَّ تَتَحَاسَدُونَ، ثُمَّ تَتَدَابَرُونَ، ثُمَّ تَتَبَاغَضُونَ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، ثُمَّ تَنْطَلِقُونَ فِي مَسَاكِينِ الْمُهَاجِرِينَ، فَتَجْعَلُونَ بَعْضَهُمْ عَلَى رِقَابِ بَعْضٍ "۔
* تخريج: م/الزہد ۱ (۲۹۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۸۹۴۸) (صحیح)

۳۹۹۶- عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم پر فارس اور روم کے خزانے کھول دئیے جائیں گے، تو اس وقت تم کون لوگ ہو گے'' (تم کیا کہو گے)؟ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ہم وہی کہیں گے (اور کریں گے) جو اللہ نے ہمیں حکم دیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا اس کے علاوہ کچھ اور نہیں کہو گے؟ تم مال میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی خواہش کرو گے، اور ایک دوسرے سے حسد کرو گے، پھر ایک دوسرے سے منہ موڑو گے، اور ایک دوسرے سے بغض و نفرت رکھو گے'' یا ایسا ہی کچھ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ''اس کے بعد مسکین مہاجرین کے پاس جاؤ گے، پھر ان کا بوجھ ان ہی پر رکھو گے''۔

3997- حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِالأَعْلَى الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ؛ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ ﷺ، هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمُ الْعَلائَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتِ الأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَوَافَوْا صَلاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوا لَهُ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ حِينَ رَآهُمْ، ثُمَّ قَالَ: " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْئٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ؟ "، قَالُوا: أَجَلْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " أَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ! مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا، فَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ "۔
* تخريج: خ/الجزیۃ ۱ (۳۱۵۸)، م/الزہد ۱ (۲۹۶۱)، ت/صفۃ القیامۃ ۲۸ (۲۴۶۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۸۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۳۷، ۳۲۷) (صحیح)

۳۹۹۷- عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنو عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک تھے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کا جزیہ وصول کرنے کے لئے بھیجا، آپ ﷺ نے بحرین والوں سے صلح کر لی تھی، اور ان پر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا، ابو عبیدہ (بن جراح رضی اللہ عنہ) بحرین سے مال لے کر آئے، اور جب انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب صلاۃ فجر میں آئے، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صلاۃ ادا کی، پھر جب آپ صلاۃ پڑھ کر لو ٹے، تو راستے میں یہ لوگ آپ کے سامنے آگئے، آپ انہیں دیکھ کر مسکرائے، پھر فرمایا: ''میں سمجھتا ہوں کہ تم لوگوں نے یہ سنا کہ ابو عبیدہ بحرین سے کچھ مال لائے ہیں''، انہوں نے عرض کیا: ہاں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ''تو تم لوگ خوش ہو جاؤ، اور امید رکھو اس چیز کی جو تم کو خوش کر دے گی، اللہ کی قسم! میں تم پر فقر اور مفلسی سے نہیں ڈرتا، لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا تم پر اسی طرح کشادہ نہ کر دی جائے جیسے تم سے پہلے کے لوگوں پر کر دی گئی تھی، تو تم بھی اسی طرح سبقت کرنے لگو جیسے ان لوگوں نے کی تھی، پھر تم بھی اسی طرح ہلاک ہو جاؤ جس طرح وہ ہلاک ہو گئے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
19-بَاب فِتْنَةِ النِّسَاءِ
۱۹- باب: عورتوں کا فتنہ​

3998- حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ،(ح) وحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا أَدَعُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ ".
* تخريج: خ/النکاح ۱۶ (۵۰۹۶)، م/الذکر والدعاء ۲۶ (۲۷۴۱)، ت/الأدب ۳۱ (۲۷۸۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹)، وقد أخرجہ: حم (۵/ ۲۰۰، ۲۱۰ ) (صحیح)

۳۹۹۸- اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں اپنے بعد مردوں کے لئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور مضر کوئی فتنہ نہیں پاتا''۱؎۔
وضاحت۱؎: عورتوں کی وجہ سے اکثر خرابی پیدا ہو گی یعنی لوگ ان کی وجہ سے بہت سارے کام خلاف شرع کریں گے۔

3999- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ مُصْعَبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا مِنْ صَبَاحٍ إِلا وَمَلَكَانِ يُنَادِيَانِ: وَيْلٌ لِلرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ، وَوَيْلٌ لِلنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۸۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰۶) (ضعیف جدا)
(سند میں خارجہ بن مصعب متروک و کذاب راوی ہے)
۳۹۹۹- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہر صبح دو فر شتے یہ پکارتے ہیں: مردوں کے لئے عورتوں کی وجہ سے بربادی ہے، اور عورتوں کے لئے مردوں کی وجہ سے''۔

4000- حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى اللَّيْثِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَامَ خَطِيبًا، فَكَانَ فِيمَا قَالَ: "إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا، فَنَاظِرٌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ،أَلا! فَاتَّقُوا الدُّنْيَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ "۔
* تخريج: ت/الفتن ۲۶ (۲۱۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۶۶)، وقد أخرجہ: م/الذکر والدعاء ۲۶ (۲۷۴۲) دون قیامہ خطیباً (صحیح)
(سند میں علی بن زید ضعیف ہے لیکن شواہد و متابعات کی بناء پر یہ صحیح ہے)
۴۰۰۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کھڑے ہوئے، تو اس خطبہ میں یہ بھی فرمایا: ''دنیا ہری بھری اور میٹھی ہے، اللہ تعالی تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے، تو وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟ سنو! تم دنیا سے بھی بچاؤ کرو، اور عورتوں سے بھی''۱؎۔
وضاحت۱؎: ان دونوں چیزوں سے بقدر ضرورت ہی دلچسپی رکھو، نیز اللہ تعالی نے اس حدیث کے موافق مسلمانوں کو بہت دنیا دی اور مشرق اور مغرب کا ان کو حکمراں بنایا، اور مدت دراز تک ان کی حکومت قائم رہی، جب انہوں نے بھی اگلے لوگوں کی طرح بے اعتدالی، ظلم اور کجروی اختیار کی تو پھر ان سے چھین لی، آج کل نصاریٰ کی بہار ہے، ان کو تمام دنیا کی حکومت اور دولت مل رہی ہے اب دیکھنا ہے کہ ان کی میعاد کب تک ہے۔

4001- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَتِ امْرَأَةٌ مِنْ مُزَيْنَةَ تَرْفُلُ فِي زِينَةٍ لَهَا فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ! انْهَوْا نِسَائَكُمْ عَنْ لُبْسِ الزِّينَةِ وَالتَّبَخْتُرِ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَمْ يُلْعَنُوا، حَتَّى لَبِسَ نِسَاؤُهُمُ الزِّينَةَ، وَتَبَخْتَرْنَ فِي الْمَسَاجِدِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۳۶، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰۷) (ضعیف)
(موسیٰ بن عبیدہ ضعیف اور داود بن مدرک مجہول الحال راوی ہے)
۴۰۰۱- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں قبیلہ مزینہ کی ایک عورت مسجد میں بنی ٹھنی اتراتی ہوئی دا خل ہوئی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''لوگو! اپنی عورتوں کو زیب و زینت کا لباس پہن کر اور ناز و ادا کے ساتھ مسجد میں آنے سے منع کرو، کیونکہ بنی اسرائیل پر اللہ تعالی کی لعنت اس وقت آئی تھی جبکہ ان کی عورتوں نے لباس فاخرہ پہننے شروع کئے، اور مسجدوں میں ناز و ادا کے سا تھ داخل ہونے لگیں''۔

4002- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مَوْلَى أَبِي رُهْمٍ (وَاسْمُهُ عُبَيْدٌ) أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ امْرَأَةً مُتَطَيِّبَةً، تُرِيدُ الْمَسْجِدَ، فَقَالَ: يَا أَمَةَ الْجَبَّارِ! أَيْنَ تُرِيدِينَ؟ قَالَتِ: الْمَسْجِدَ، قَالَ: وَلَهُ تَطَيَّبْتِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَطَيَّبَتْ، ثُمَّ خَرَجَتْ إِلَى الْمَسْجِدِ، لَمْ تُقْبَلْ لَهَا صَلاةٌ، حَتَّى تَغْتَسِلَ "۔
* تخريج: د/الترجل ۷ (۴۱۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۱۳۰)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۶، ۲۹۷، ۳۶۵، ۴۴۴، ۴۶۱) (حسن صحیح)

۴۰۰۲- ابو رہم کے عبید نامی غلام کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا سامنا ایک ایسی عورت سے ہوا جو خوشبو لگائے مسجد جا رہی تھی، تو انہوں نے کہا: اللہ کی بندی! کہاں جا رہی ہو؟ اس نے جواب دیا: مسجد، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے اسی کے لئے خوشبو لگا رکھی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہا ں، انہوں نے کہا: بیشک میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ''جو عورت خوشبو لگا کر مسجد جائے، تو اس کی صلاۃ قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ غسل کر لے''۱؎۔
وضاحت۱؎: اب تک نصاریٰ کا یہی حال ہے کہ ان کی عورتیں گرجا گھروں میں عمدہ عمدہ عطر لگا کر اور خوب بناؤ سنگار کر کے عمدہ لباس کے ساتھ بڑے ناز و انداز سے جاتی ہیں، اور ان کی قوم کے اور دوسری قوموں کے فاسق و فاجر ان عورتوں کے حسن و جمال سے اپنی آنکھیں سینکنے جاتے ہیں، نہ صلاۃ سے غرض ہے نہ دعا سے اور اکثر مسلم عورتیں پردے میں رہتی ہیں، اس وجہ سے ایسے موقع پر مسجدوں میں تو کم ملتے ہیں، مگر میلوں ٹھیلوں میں اور بزرگوں کے عرسوں اور مزارات میں مسلمان عورتوں کی ایک بڑی تعداد بناؤ سنگار کر کے جاتی ہے، اور ان کے بے غیرت مرد ان عورتوں کو ایسے برے کام سے نہیں روکتے، جب کہ رسول اکرم ﷺ نے عورتوں کو بناؤ سنگار کر کے مسجدوں میں آنے سے منع کیا ہے، جہاں اللہ تعالی کی عبادت کی جاتی ہے، تو بازار میں کیوں کر درست اور جائز ہو گا۔

4003- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَائِ! تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ مِنَ الاسْتِغْفَارِ،فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ "،فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ، جَزْلَةٌ: وَمَا لَنَا، يَارَسُولَ اللَّهِ! أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: " تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ "، قَالَتْ: يَارَسُولَ اللَّهِ! وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: " أَمَّا نُقْصَانِ الْعَقْلِ فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ، فَهَذَا مِنْ نُقْصَانِ الْعَقْلِ، وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ مَا تُصَلِّي، وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ، فَهَذَا مِنْ نُقْصَانِ الدِّينِ "۔
* تخريج: م/الإیمان ۳۴ (۷۹)، د/السنۃ ۱۶ (۴۶۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۷۲۶۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۶۶) (صحیح)

۴۰۰۳- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''عورتوں کی جماعت! تم صدقہ و خیرات کرو، کثرت سے استغفار کیا کرو، کیونکہ میں نے جہنم میں تم عورتوں کو زیادہ دیکھا ہے''، ان میں سے ایک سمجھ دار عورت نے سوال کیا: اللہ کے رسول ہمارے جہنم میں زیادہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم لعنت و ملامت زیادہ کرتی ہو، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو، میں نے باوجود اس کے کہ تم ناقص العقل اور ناقص الدین ہو، تم سے زیادہ مرد کی عقل کو مغلوب اور پسپا کر دینے والا کسی کو نہیں دیکھا''، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہماری عقل اور دین کا نقصان کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تمہاری عقل کی کمی (و نقصان) تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہے، اور دین کی کمی یہ ہے کہ تم کئی دن ایسے گزارتی ہو کہ اس میں نہ صلاۃ پڑھ سکتی ہو، اور نہ رمضان کے صوم رکھ سکتی ہو''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
20- بَاب الأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنِ الْمُنْكَرِ
۲۰- باب: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (یعنی بھلی باتوں کا حکم دینے اور بری باتوں سے روکنے) کا بیان​

4004- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ : " مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، قَبْلَ أَنْ تَدْعُوا فَلا يُسْتَجَابَ لَكُمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۳۴۹، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰۸)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۵۹) (حسن)
(سند میں عمر بن عثمان مستور، اور عاصم بن عمر مجہول راوی ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، نیز ابن حبان نے تصحیح کی ہے، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ۳۸۳)
۴۰۰۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''تم بھلی بات کا حکم دو، اور بری بات سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم دعا کرو اور تمہاری دعا قبول نہ کی جائے''۔

4005- حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّكُمْ تَقْرَئُونَ هَذِهِ الآيَةَ:{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ}، وَإِنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا الْمُنْكَرَ لايُغَيِّرُونَهُ، أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابِهِ ".
قَالَ أَبُو أُسَامَةَ مَرَّةً أُخْرَى: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ۔
* تخريج: د/الملاحم ۱۷ (۴۳۳۸)، ت/الفتن ۸ (۲۱۶۸)، تفسیر القرآن سورۃ المائدۃ ۱۸ (۳۰۵۷)، (تحفۃ الأشراف: ۶۶۱۵)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲، ۵، ۷، ۹) (صحیح)

۴۰۰۵- قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اللہ تعالی کی حمد و ثنا بیان کی، اس کے بعد فرمایا: لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [سورة المائدة: ۱۰۵] (اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، اور تمہیں دوسرے شخص کی گمراہی ضرر نہ دے گی، جب تم ہدایت پر ہو)۔
اور بیشک ہم نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ''جب لوگ کوئی بری بات دیکھیں اور اس کو دفع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ تعالی ان پر اپنا عام عذاب نازل کر دے''۱؎۔
ابو اسامہ نے دوسری بار کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔

وضاحت۱؎: اچھے برے سب اس میں گرفتار ہیں ہو جائیں، یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جنہوں نے امر بالمعروف کا فریضہ ادا کیا تھا، لیکن لوگوں پر اس کا اثر نہیں ہوا، واضح رہے کہ جب کوئی بری بات سے منع کر دے، تو اس نے اپنا حق ادا کر دیا اب بری بات کرنے والے پر وبال پڑے گا اس پر کچھ اثر نہ ہو گا۔

4006- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ،لَمَّا وَقَعَ فِيهِمُ النَّقْصُ، كَانَ الرَّجُلُ يَرَى أَخَاهُ عَلَى الذَّنْبِ، فَيَنْهَاهُ عَنْهُ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ، لَمْ يَمْنَعْهُ مَا رَأَى مِنْهُ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَخَلِيطَهُ،فَضَرَبَ اللَّهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ، وَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ، فَقَالَ: {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ} حَتَّى بَلَغَ {وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ فَاسِقُونَ}" قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُتَّكِئًا، فَجَلَسَ وَقَالَ: " لا، حَتَّى تَأْخُذُوا عَلَى يَدَيِ الظَّالِمِ، فَتَأْطِرُوهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا "۔
* تخريج: د/الملاحم ۱۷ (۴۳۳۶، ۴۳۳۷)، ت/التفسیر ۶ (۳۰۴۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۶۱۴)، وقد أخرجہ: حم (۱/ ۳۹۱) (ضعیف)
(سند میں ابو عبیدہ کثیر الغلط راوی ہیں، اور حدیث کو مرسل روایت کیا ہے، یعنی اپنے اور رسول اکرم ﷺ کے مابین کا واسطہ نہیں ذکر کیا ہے، اس لئے ارسال کی وجہ سے بھی یہ حدیث ضعیف ہے)
۴۰۰۶- ابو عبیدہ (عامر) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بنی اسرائیل میں جب خرابیاں پیدا ہوئیں، تو ان کا حال یہ تھا کہ آدمی اپنے بھائی کو گناہ کر تے دیکھتا تو اسے روکتا، لیکن دوسرے دن پھر اس کے ساتھ کھاتا پیتا اور مل جل کر رہتا۱؎، تو اللہ تعالی نے ان کے دلوں کو مردہ کر دیا، اور آپس کی محبت ختم کر دی، اور ان ہی لوگوں کے بارے میں قرآن اترا، چنانچہ آپ ﷺ نے {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ} کی تلاوت کی یہاں تک کہ آپ {وَلَوْ كَانُوا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالنَّبِيِّ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مَا اتَّخَذُوهُمْ أَوْلِيَاءَ وَلَكِنَّ كَثِيرًامِنْهُمْ فَاسِقُونَ} (سورۃ المائدۃ: ۷۸ -۸۱) تک پہنچے۔
(جن لو گوں نے کفر کیا ان پر داود اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام) کی زبانی لعنت کی گئی، کیونکہ وہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کرتے تھے، وہ جس برائی کے خود مرتکب ہوتے اس سے لوگوں کو بھی نہیں روکتے تھے، بہت ہی برا کرتے تھے، تو ان میں سے اکثر کو دیکھ رہا ہے کہ وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں یہ وطیرہ انہوں نے اپنے حق میں بہت ہی برا اختیار کیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ اللہ ان پر سخت ناراض ہے، اور آخرت میں یہ لوگ ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں رہیں گے، اور اگر یہ اللہ پر اور نبی پر اور جو اس کی طرف اترا ہے اس پر ایمان لاتے تو ان کافروں کو دوست نہ بناتے، لیکن بہت سے ان میں فاسق (بدکار اور بے راہ) ہیں۔
رسول اللہ ﷺ ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھرآپ بیٹھ گئے اور فرمایا: ''تم اس وقت تک عذاب سے محفوظ نہیں رہ سکتے جب تک کہ تم ظالم کو ظلم کرتے دیکھ کر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے انصاف کرنے پر مجبور نہ کر دو''۱؎۔

وضاحت۱؎: اور گناہ کی وجہ سے اس سے نہ نفرت اور نہ ترک تعلق۔

4006/أ- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَمْلاهُ عَلَيَّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِمِثْلِهِ۔
* تخريج: انطر ماقبلۃ، تحفۃ الأشراف: ۹۶۱۴) (ضعیف)

۴۰۰۶/أ- اس سند سے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے۔

4007- حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جَدْعَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، قَامَ خَطِيبًا، فَكَانَ فِيمَا قَالَ: " أَلا، لايَمْنَعَنَّ رَجُلا، هَيْبَةُ النَّاسِ، أَنْ يَقُولَ بِحَقٍّ، إِذَا عَلِمَهُ " قَالَ: فَبَكَى أَبُوسَعِيدٍ، وَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ ! رَأَيْنَا أَشْيَائَ فَهِبْنَا۔
* تخريج: ت/الفتن ۲۶ (۲۱۹۱)، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۶۶) ، وقد أخرجہ: حم (۳/۷، ۱۹، ۶۱، ۷۰) (صحیح)

۴۰۰۷- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے رو ایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو جو باتیں کہیں، ان میں یہ بات بھی تھی:'' آگاہ رہو! کسی شخص کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے، جب وہ حق کو جانتا ہو''، یہ حدیث بیان کر کے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رونے لگے اور فرمایا: اللہ کی قسم! ہم نے بہت سی باتیں (خلا ف شرع) دیکھیں، لیکن ہم ڈر اور ہیبت کا شکار ہو گئے۱؎۔
وضاحت۱؎: اور ان کو منع نہ کر سکے، جب جان یا مال کو خطرہ لاحق ہو تو اس وقت معروف کے حکم اور منکرسے روکنے کا کام بطور فضیلت کے ہے نہ واجب اور فرض نہیں ہے، کیونکہ بالا جماع ایسی حالت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ساقط ہو جاتا ہے، لیکن افضل یہی ہے کہ جان کی پرواہ نہ کرے، اور حق بات کہہ دے، دوسری حدیث میں ہے کہ سب سے بہتر جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنی ہے۔

4008- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا يَحْقِرْ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ "، قَالُوا: يَارَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ يَحْقِرُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ؟ قَالَ: "يَرَى أَمْرًا، لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ، ثُمَّ لا يَقُولُ فِيهِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فَيَقُولُ: خَشْيَةُ النَّاسِ، فَيَقُولُ: فَإِيَّايَ، كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ تَخْشَى "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۰۴۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۰۹)،وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰، ۴۷، ۷۳) (ضعیف)
(سند میں اعمش مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
۴۰۰۸- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر نہ جانے''، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو کیسے حقیر جانتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم میں سے کوئی شخص کوئی بات ہوتے دیکھے اور اس کے بارے میں اسے اللہ کا حکم معلوم ہو لیکن نہ کہے، تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے فرمائے گا: تجھے فلاں بات کہنے سے کس نے منع کیا تھا؟ وہ جواب دے گا: لوگوں کے خوف نے، اللہ تعالی فرمائے گا: تیرے لئے زیادہ درست بات یہ تھی کہ تو مجھ سے ڈرتا''۔

4009- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي -هُمْ أَعَزُّ مِنْهُمْ وَأَمْنَعُ- لا يُغَيِّرُونَ، إِلا عَمَّهُمُ اللَّهُ بِعِقَابٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۳۲۲۱ )، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۶۱، ۳۶۳، ۳۶۴، ۳۶۶) (حسن)

۴۰۰۹- جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جس قوم میں گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے، اور ان میں ایسے زور آور لوگ ہوں جو انہیں روک سکتے ہوں لیکن وہ نہ روکیں، تو اللہ تعالی سب کو اپنے عذاب میں گرفتار کر لیتا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی کی طاقت رکھنے والے لوگوں نے جب یہ فریضہ ترک کر دیا اور اپنی ذمہ داری نہ ادا کی تو ان کو یہ سزا ملی، لیکن اگر گناہ کرنے والوں کا غلبہ ہو اور اہل حق کمزور ہوں تو ایسی صورت میں امر بالمعروف کا فریضہ ساقط ہو جائے گا، ہاں جو اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے اہل ہوں، ان کے لئے یہ کام کرنا شرعاً صحیح اور قابل مبارکباد ہو گا۔

4010- حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا رَجَعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ مُهَاجِرَةُ الْبَحْرِ، قَالَ: " أَلا تُحَدِّثُونِي بِأَعَاجِيبِ مَا رَأَيْتُمْ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ؟ "، قَالَ فِتْيَةٌ مِنْهُمْ: بَلَى، يَارَسُولَ اللَّهِ! بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ، مَرَّتْ بِنَا عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِ رَهَابِينِهِمْ تَحْمِلُ عَلَى رَأْسِهَا قُلَّةً مِنْ مَائٍ، فَمَرَّتْ بِفَتًى مِنْهُمْ، فَجَعَلَ إِحْدَى يَدَيْهِ بَيْنَ كَتِفَيْهَا، ثُمَّ دَفَعَهَا، فَخَرَّتْ عَلَى رُكْبَتَيْهَا، فَانْكَسَرَتْ قُلَّتُهَا، فَلَمَّا ارْتَفَعَتِ، الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ: سَوْفَ تَعْلَمُ، يَاغُدَرُ! إِذَا وَضَعَ اللَّهُ الْكُرْسِيَّ، وَجَمَعَ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ، وَتَكَلَّمَتِ الأَيْدِي وَالأَرْجُلُ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ، فَسَوْفَ تَعْلَمُ كَيْفَ أَمْرِي وَأَمْرُكَ، عِنْدَهُ غَدًا، قَالَ، يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " صَدَقَتْ، صَدَقَتْ، كَيْفَ يُقَدِّسُ اللَّهُ أُمَّةً لا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهِمْ مِنْ شَدِيدِهِمْ؟ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۷۷۹، ومصباح الزجاجۃ:۱۴۱۰) (حسن)
(سند کو بوصیری نے حسن کہا ہے)
۴۰۱۰- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سمندر کے مہاجرین (یعنی مہاجرین حبشہ) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''تم لوگ مجھ سے وہ عجیب باتیں کیوں نہیں بیان کرتے جو تم نے ملک حبشہ میں دیکھی ہیں؟!''، ان میں سے ایک نوجوان نے عرض کیا: کیوں نہیں، اللہ کے رسول! اسی دوران کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے، ان راہباؤں میں سے ایک بوڑھی راہبہ ہمارے سامنے سر پر پانی کا مٹکا لئے ہوئے ایک حبشی نوجوان کے قریب سے ہو کر گزری، تو اس حبشی نوجوان نے اپنا ایک ہاتھ اس بڑھیا کے دونوں کندھوں کے درمیان رکھ کر اس کو دھکا دیا جس کے باعث وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر پڑی، اور اس کا مٹکا ٹوٹ گیا، جب وہ اٹھی تو اس حبشی نوجوان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی: غدار! (دھوکا باز) عنقریب تجھے پتہ چل جائے گا جب اللہ تعالی کرسی رکھے ہو گا، اور اگلے پچھلے سارے لوگوں کو جمع کرے گا، اور ہاتھ پائوں ہر اس کام کی گواہی دیںگے جو انہوں نے کیے ہیں، تو کل اس کے پاس تجھے اپنا اور میرا فیصلہ معلوم ہو جائے گا۔
رسول اللہ ﷺ یہ واقعہ سنتے جاتے اور فرماتے جاتے: ''اس بڑھیا نے سچ کہا، اس بڑھیا نے سچ کہا، اللہ تعالی اس امت کو گناہوں سے کیسے پاک فرمائے گا، جس میں کمزور کا بدلہ طاقتور سے نہ لیا جا سکے''۱؎۔

وضاحت۱؎: فقیر اور مسکین عورت کو ستانا بڑی بے حیائی اور بے غیرتی کی بات ہے، اور جس قوم میں ایسے ظلم رائج ہوتے ہیں، اللہ تعالی ان سے حکومت چھین لیتا ہے، اگلے زمانہ میں نصاریٰ نے ایسے ظلم شروع کئے تھے اللہ تعالی نے مسلمان کے ہاتھوں ان کو خوب پٹوایا اور ان کی سلطنت چھین لی، اور ان سے پہلے یہودیوں نے ظلم کئے تھے، اللہ تعالی نے رومیوں کے ہاتھوں خوب ان کو پٹوایا، اور ان کی سلطنت چھنوا دی، پھر رومیوں کو عربوں کے ہاتھ سے پٹوایا اس کے بعد مسلمانوں نے بھی ظلم و ستم شروع کئے، آخر ان کو بھی انگریزوں اور روسیوں کے ہاتھوں پٹوایا اور ان کی سلطنت بھی چھنوا دی، ہر ظالم کا یہی حال ہوتا ہے، اللہ تعالی ظلم سے بچائے۔ آمین۔

4011- حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مُصْعَبٍ، (ح) وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " أَفْضَلُ الْجِهَادِ، كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ "۔
* تخريج: د/الملاحم ۱۷ (۴۳۴۴)، ت/الفتن ۱۳ (۲۱۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۲۳۴) (صحیح)

۴۰۱۱- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سب سے بہتر جہاد، ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی بات کہنی ہے''۔

4012- حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ سَعِيدٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ رَجُلٌ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الأُولَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَأَى الْجَمْرَةَ الثَّانِيَةَ سَأَلَهُ، فَسَكَتَ عَنْهُ، فَلَمَّا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ لِيَرْكَبَ، قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ؟ "، قَالَ: أَنَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: " كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ ذِي سُلْطَانٍ جَائِرٍ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۹۳۸، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۱۱)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۵۱، ۲۵۶) (حسن صحیح)
(یہ اسناد حسن ہے، لیکن شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے)
۴۰۱۲- ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمرہ اولی کے پاس رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک شخص نے آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سا جہاد سب سے بہتر ہے؟ آپ ﷺ خاموش رہے، پھر جب آپ ﷺ نے دوسرے جمرہ کی رمی کی تو اس نے پھر آپ سے یہی سوال کیا، آپ ﷺ خاموش رہے، پھر جب آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کی، تو سوار ہونے کے لئے آپ نے اپنا پائوں رکاب میں رکھا اور فرمایا: ''سوال کرنے والا کہاں ہے؟'' اس نے عرض کیا: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ''(سب سے بہتر جہاد) ظالم حکمران کے سامنے حق و انصاف کی با ت کہنی ہے''۔

4013- حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَائٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا مَرْوَانُ! خَالَفْتَ السُّنَّةَ، أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي هَذَا الْيَوْمِ، وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلاةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا، فَقَالَ أَبُوسَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا، فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ، فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الإِيمَانِ "۔
* تخريج: م/الإیمان ۲۰ (۴۹)، د/الصلاۃ ۲۴۸ (۱۱۴۰)، الملاحم ۱۷ (۴۳۴۰)، ت/الفتن ۱۱ (۲۱۷۲)، ن/الإیمان وشرائعہ ۱۷ (۵۰۱۱، ۵۰۱۲)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۴۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۹، ۱۰، ۴۹، ۵۲، ۵۴، ۹۲) (صحیح)

۴۰۱۳- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور صلاۃ عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: مروان! آپ نے سنت کے خلاف کیا، ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالانکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا، پھر آپ نے صلاۃ سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ صلاۃ سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''تم میں سے جو شخص کوئی بات خلاف شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے معمولی درجہ ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی ادنیٰ اورسب سے کم درجہ کا ایمان یہ ہے کہ برے کاموں سے دل کو نفرت ہو اور برا کام کرنے والوں سے دل بیزار ہو، اگر دل میں نفرت بھی نہ باقی ہو تو سمجھنا چاہئے کہ ایمان بالکل رخصت ہو چکا ہے اور ضعیف درجہ بھی اس میں باقی نہیں رہا، اللہ رحم کرے اس زمانہ میں بہت سارے مسلمان کھلم کھلا خلاف شرع کام کرتے ہیں جیسے سود لیتے ہیں، شراب پیتے ہیں، اغلام بازی اور زنا کاری جیسے کبائر میں ملوث ہیں، اپنے اخلاق وعادات، رہن سہن میں یہود و نصاریٰ کی مشابہت کرتے ہیں، لیکن دوسرے مسلمان جو یہ کام نہیں کرتے ان سے نفرت بھی نہیں کرتے۔ نہ ان سے میل جول بند کرتے ہیں، اور نہ ان سے ترک تعلقات کرتے ہیں، بلکہ برابر ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں، اور اپنی دعوتوں میں ان کو بلاتے ہیں، اور امر بالمعروف کا دل میں ادنیٰ درجہ بھی نہیں رکھتے کہ دل ہی سے ان سے نفرت کریں، اور ایک لوگوں کا حال تھا کہ باوجود یہ کہ مروان حاکم تھا، اس کے ایک ذرا سی سنت کی مخالفت میں انہوں نے صاف کہہ دیا کہ آپ نے سنت کے خلاف کیا، معلوم نہیں کہ اس زمانہ کے مسلمانوں پر اور کیا عذاب اترنے والا ہے، یا اللہ بچا، یا اللہ بچا تو ارحم الرحمین ہے، اور اب کیا عذاب مسلمانوں پر نہیں ہے، ان کی دولت چھن گئی، حکومت خاک میں مل گی، کافروں کے دست نگر اور محتاج بن گئے ہیں، فقر اور فاقہ کشی میں مبتلا ہیں، بڑے بڑے شہزادے اور امیر زادے یہود و نصاری کی خدمت گزاری کرتے ہیں، بلکہ اس کو اپنے لئے فخر کی بات سمجھتے ہیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب قَوْلِهِ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ} [المائدة: ۱۰۵]
۲۱-باب: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ''اے ایمان والو! اپنی فکر کرو جب تم اللہ کے راستے پر چل رہے ہو تو دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کوئی نقصان نہیں''​

4014- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ،حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَنْ عَمِّهِ عَمْرِو بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ تَصْنَعُ فِي هَذِهِ الآيَةِ؟ قَالَ: أَيَّةُ آيَةٍ؟ قُلْتُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} قَالَ: سَأَلْتَ عَنْهَا خَبِيرًا، سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: " بَلِ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَهَوًى مُتَّبَعًا، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً، وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، وَرَأَيْتَ أَمْرًا لا يَدَانِ لَكَ بِهِ، فَعَلَيْكَ خُوَيْصَّةَ نَفْسِكَ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِيهِنَّ عَلَى مِثْلِ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ مِثْلُ أَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلا يَعْمَلُونَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ "۔
* تخريج: د/الملاحم ۱۷ (۴۳۴۱)، ت/التفسیر ۶ (۳۰۵۸)، (تحفۃ الأشراف:۱۱۸۸۱) (ضعیف)
(سند میں عمرو بن جاریہ، اور ابو امیہ شعبانی دونوں ضعیف ہیں، لیکن ''أَيَّامَ الصَّبْرِ......'' کا فقرہ ثابت ہے)
۴۰۱۴- ابو امیہ شعبانی کہتے ہیں کہ میں ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور میں نے ان سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے پوچھا: کون سی آیت؟ میں نے عرض کیا: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواعَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [سورة المائدة: ۱۰۵] (اے ایمان والو! اپنے آپ کی فکر کرو، جب تم ہدایت یاب ہو گے تو دوسروں کی گمراہی تمہیں ضرر نہیں پہنچائے گی) انہوں نے کہا: تم نے ایک جان کار شخص سے اس کے متعلق سوال کیا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''بلکہ تم اچھی باتوں کا حکم دو، اور بری باتوں سے روکو یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ بخیل کی اطاعت کی جاتی ہے، خواہشات کے پیچھے چلا جاتا ہے، اور دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے، ہر صاحب رائے اپنی رائے اور عقل پر نازاں ہے اور تمہیں ایسے کام ہوتے نظر آئیں جنہیں روکنے کی تم میں طاقت نہ ہو تو ایسے وقت میں تم خاص اپنے آپ سے کام رکھو۔
تمہارے پیچھے ایسے دن بھی آئیں گے کہ ان میں صبر کرنا مشکل ہو جائے گا، اور اس وقت دین پر صبر کرنا اتنا مشکل ہو جائے گا جتنا کہ انگارے کو ہاتھ میں پکڑنا، اس زمانہ میں عمل کرنے والے کو اتنا ثواب ملے گا، جتنا اس جیسا عمل کرنے والے پچاس لوگوں کو ملے گا''۔


4015- حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ الْخُزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَيْدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلانَ الرُّعَيْنِيُّ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَتَى نَتْرُكُ الأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ، قَالَ: " إِذَا ظَهَرَ فِيكُمْ مَا ظَهَرَ فِي الأُمَمِ قَبْلَكُمْ "، قُلْنَا: يَارَسُولَ اللَّهِ! وَمَا ظَهَرَ فِي الأُمَمِ قَبْلَنَا؟ قَالَ: " الْمُلْكُ فِي صِغَارِكُمْ، وَالْفَاحِشَةُ فِي كِبَارِكُمْ، وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ ".
قَالَ زَيْدٌ: تَفْسِيرُ مَعْنَى قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: " وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ "،إِذَا كَانَ الْعِلْمُ فِي الْفُسَّاقِ۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۰۴، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۱۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۸۷) (ضعیف)
(سند ضعیف ہے اس لئے کہ مکحول مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
۴۰۱۵- انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو کس وقت ترک کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''اس وقت جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہو جائیں جو گذشتہ امتوں میں ظاہر ہوئی تھیں''، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سے گذشتہ امتوں میں کون سی باتیں ظاہر ہوئی تھیں؟، آپ ﷺ نے فرمایا: ''حکومت تمہارے کم عمروں میں چلی جائے گی، اور تمہارے بڑے آدمیوں میں فحش کاری آجائے گی، اور علم تمہارے ذلیل لوگوں میں چلا جائے''۔
زید کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے اس قول: ''وَالْعِلْمُ فِي رُذَالَتِكُمْ'' کا مطلب یہ ہے کہ علم (دین) فاسقوں میں چلا جائے گا۔


4016- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدُبٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "لايَنْبَغِي لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ "، قَالُوا: وَكَيْفَ يُذِلُّ نَفْسَهُ؟ قَالَ: " يَتَعَرَّضُ مِنَ الْبَلائِ لِمَا لا يُطِيقُهُ "۔
* تخريج: ت/الفتن ۶۷ (۲۲۵۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۳۰۵)،وقد أخرجہ: حم (۵/۴۰۵) (حسن)
(سند میں علی بن زید جدعان ضعیف راوی ہیں، لیکن طبرانی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے شاہد سے تقویت پا کر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۶۱۳)
۴۰۱۶- حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''مومن کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو رسوا و ذلیل کرے''، لوگوں نے عرض کیا: اپنے آپ کو کیسے رسوا و ذلیل کر ے گا؟'' آپ ﷺ نے فرمایا: ''ایسی مصیبت کا سامنا کرے گا، جس کی اس میں طاقت نہ ہو گی''۱؎۔
وضاحت۱؎: مثلاً ایک مقام میں امر بالمعروف کرنے سے مصیبت میں پڑ جانے کا خدشہ ہے جس سے جان و مال کو صدمہ لاحق ہو، اور اس میں اتنے صبر کی طاقت نہیں ہے، تو امر بالمعروف نہ کرے، اور خاموش رہے البتہ اگر یہ اطمینان ہے کہ ابتلا پر ہم صبر کر سکیں گے تو فضیلت پر عمل کرے، اور حق بات کہہ دے پھر جو صدمہ پہنچے اس کو اٹھائے۔

4017- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَبُو طُوَالَةَ، حَدَّثَنَا نَهَارٌ الْعَبْدِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَسْأَ لُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، حَتَّى يَقُولَ: مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ الْمُنْكَرَ أَنْ تُنْكِرَهُ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللَّهُ عَبْدًا حُجَّتَهُ، قَالَ: يَا رَبِّ! رَجَوْتُكَ وَفَرِقْتُ مِنَ النَّاسِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۳۹۵، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۱۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۷، ۲۹، ۷۷) (صحیح)

۴۰۱۷- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: ''اللہ تعالی قیامت کے دن بندے سے سوال کرے گا یہاں تک کہ وہ پوچھے گا کہ تم نے جب خلاف شرع کام ہوتے دیکھا تو اسے منع کیوں نہ کیا؟ تو جب اس سے کوئی جواب نہ بن سکے گا تو اللہ تعالی خود اس کو جواب سکھائے گا اور وہ عرض کرے گا: اے میرے رب! میں نے تیرے رحم کی امید رکھی، اور لوگوں کا خوف کیا''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب الْعُقُوبَاتِ
۲۲- باب: سزاؤں کا بیان​

4018- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُومُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ اللَّهَ يُمْلِي لِلظَّالِمِ، فَإِذَا أَخَذَهُ، لَمْ يُفْلِتْهُ " ثُمَّ قَرَأَ: {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ}۔
* تخريج: خ/تفسیر القرآن ۱۲ (۴۶۸۶)، م/البر والصلۃ ۱۵ (۲۵۸۳)، ت/التفسیر ۱۲ (۳۱۱۰)، (تحفۃ الأشراف: ۹۰۳۷) (صحیح)

۴۰۱۸- ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالی ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے، لیکن اسے پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا، اس کے بعد آپ ﷺ نے آیت: {وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ} [سورة الهود: ۱۰۲] (تمہارے رب کی پکڑ ایسی ہی ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے)، کی تلاوت کی۱؎۔
وضاحت۱؎: یعنی اللہ تعالی کی پکڑ ایسی ہی ہے جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے، بیشک اس کی پکڑ دکھ کی ہے اور سخت ہے، اور وہ ظالم کو مہلت دیتا ہے یعنی جلدی سزا نہیں دیتا ہے، اس میں دو مصلحتیں ہیں: ایک یہ کہ وہ پورا ظلم کر لے اور جو سزا اس کے لئے ٹھہرائی گئی ہے اس کا مستحق ہو جائے، دوسرے یہ کہ شاید وہ اپنے ظلم سے توبہ کرے، اور آئندہ عدل و انصاف اختیار کرے، مگر یہ ہمارے علم کی نسبت ہے، اللہ رب العزت کو سب معلوم ہے کہ آئندہ وہ کیا کرے گا، اب اگر کوئی کہے کہ ظالم کو مہلت دینے میں انسانوں کے لئے خرابی ہے، وہ لوگوں کو تباہ اور برباد کرے گا، اور ان کو ایذا دے گا، پھر اللہ رب العزت جو ماں باپ سے کہیں زیادہ اپنے بندوں پر مہربان ہے وہ اس کو کیونکہ جائز رکھتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی مصلحتیں بے شمار ہیں، بندہ کو ان کا علم نہیں ہوتا، اسی وجہ سے وہ اپنے ناقص علم و فہم کے مطابق بعض کاموں کو خلاف مصلحت اور نامناسب سمجھتا ہے، لیکن اکر بندے کو وہ سب باتیں معلوم ہوں جو مالک کو معلوم ہیں، تو جو کچھ اللہ تعالی دنیا میں کرتا ہے اسی کو عین مصلحت اور نہایت مناسب جانے مثلا ظالم کا مخلوق پر مسلط کرنا برے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے اور کبھی اپنے بعض بندوں کو آخرت میں بڑے بڑے درجے اور مرتبے دینا منظور ہوتا ہے، تو ان پر ظلم کراتا ہے تاکہ وہ مظلوم ہو کر تکلفیں اٹھائیں اورصبر کریں اور آخرت میں اس کا نیک بدلہ پائیں، پس ظالم کے مسلط کرنے کی مثال بعینہ ایسی ہے جیسے ماں اپنے بچے کی فصد کھلواتی ہے، اس کا پھوڑا چیرتی ہے اس کو کڑوی دوا پلاتی ہے، ان کاموں کو بچہ اپنے علم میں ظلم سمجھتا ہے مگر وہ عین رحم و کرم اور شفقت ہے کیونکہ آئندہ اس میں بچے کے لیے بڑے فوائد ہیں، واللہ اعلم۔

4019- حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ أَبُوأَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ! خَمْسٌ إِذَا ابْتُلِيتُمْ بِهِنَّ، وَأَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ تُدْرِكُوهُنّ: لَمْ تَظْهَرِ الْفَاحِشَةُ فِي قَوْمٍ قَطُّ حَتَّى يُعْلِنُوا بِهَا، إِلا فَشَا فِيهِمُ الطَّاعُونُ وَالأَوْجَاعُ الَّتِي لَمْ تَكُنْ مَضَتْ فِي أَسْلافِهِمِ الَّذِينَ مَضَوْا، وَلَمْ يَنْقُصُوا الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ، إِلا أُخِذُوا بِالسِّنِينَ وَشِدَّةِ الْمَئُونَةِ وَجَوْرِ السُّلْطَانِ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يَمْنَعُوا زَكَاةَ أَمْوَالِهِمْ، إِلا مُنِعُوا الْقَطْرَ مِنَ السَّمَاءِ، وَلَوْلا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوا، وَلَمْ يَنْقُضُوا عَهْدَ اللَّهِ وَعَهْدَ رَسُولِهِ، إِلا سَلَّطَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، فَأَخَذُوا بَعْضَ مَا فِي أَيْدِيهِمْ، وَمَا لَمْ تَحْكُمْ أَئِمَّتُهُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَيَتَخَيَّرُوا مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ، إِلا جَعَلَ اللَّهُ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۷۳۳۲، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۱۴) (حسن)
(سند میں خالد بن یزید ابن أبی مالک الفقیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ حسن ہے، حاکم نے اسے صحیح الاسناد کہا ہے، اور یہ کہ یہ قابل عمل ہے)
۴۰۱۹- عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ''مہاجرین کی جماعت! پانچ باتیں ہیں جب تم ان میں مبتلا ہو جاؤ گے، اور میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تم اس میں مبتلا ہو، (وہ پانچ باتیں یہ ہیں) پہلی یہ کہ جب کسی قوم میں علانیہ فحش (فسق و فجور اور زنا کاری) ہونے لگ جائے، تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے کے لوگوں میں نہ تھیں، دوسری یہ کہ جب لوگ ناپ تول میں کمی کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ قحط، معاشی تنگی اور اپنے حکمرانوں کی زیادتی کا شکار ہو جاتے ہیں، تیسری یہ کہ جب لوگ اپنے مالوں کی زکاۃ ادا نہیں کرتے ہیں تو اللہ تعالی آسمان سے بارش کو روک دیتا ہے، اور اگر زمین پر چو پائے نہ ہوتے تو آسمان سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہ گرتا، چوتھی یہ کہ جب لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عہد و پیمان کو توڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالی ان پر ان کے علاوہ لوگوں میں سے کسی دشمن کو مسلط کر دیتا ہے، وہ جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے چھین لیتا ہے، پانچویں یہ کہ جب ان کے حکمراں اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق فیصلے نہیں کرتے، اور اللہ نے جو نازل کیا ہے اس کو اختیار نہیں کرتے، تو اللہ تعالی ان میں پھوٹ اور اختلا ف ڈال دیتا ہے''۔

4020- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ، يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا، يُعْزَفُ عَلَى رُئُوسِهِمْ بِالْمَعَازِفِ وَالْمُغَنِّيَاتِ، يَخْسِفُ اللَّهُ بِهِمُ الأَرْضَ، وَيَجْعَلُ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ "۔
* تخريج: د/الأشربۃ ۶ (۳۶۸۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۶۲)، وقد أخرجہ: حم (۵/۳۴۲) (صحیح)

۴۰۲۰- ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میری امت میں سے کچھ لوگ شراب پئیں گے، اور اس کا نام کچھ اور رکھیں گے، ان کے سروں پر باجے بجائے جائیں گے، اور گانے والی عورتیں گائیں گی، تو اللہ تعالی انہیں زمین میں دھنسا دے گا، اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دے گا''۱؎۔
وضاحت۱؎: ابن حزم نے اس حدیث کی صحت پر کلام کیا ہے، لیکن ان کی بات غلط ہے، حدیث بالکل صحیح ہے، جس کی تفصیل کے لیے اس موضوع کی کتابوں کی طرف مراجعت کرنی چاہئے، گانے بجانے اور مزامیر کی حرمت پر یہ حدیث دلیل ہے، بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث سے گانے بجانے اور مزامیر کی حرمت نہیں نکلتی یہ آپ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ گانا بجانا ان کے سامنے ہوا کرے گا، اور حقیقت میں ان پر یہ عذاب شراب پینے سے اترے گا، یا مراد یہ ہے کہ اجنبی فاحشہ عورتیں ان کے سامنے گائیں بجائیں گی، اور اس کی حرمت میں کسی اختلاف نہیں ہے، یہی قیاس کے قریب ہے، کیونکہ اس زمانے میں شرابیوں کے یہاں یہی رائے ہے کہ طوائف یعنی فاحشہ عورتیں ناجتی گاتی ہیں، اور وہ شراب سے بدمست ہو کر ان کا گانا بجانا سنتے اور ان کے رقص سے لطف اندوز ہوتے ہیں، بے دین اہل ثروت کے پاس تو ہر روز اس فسق و فجور کا بازار گرم رہتا ہے، غریب طبقے کے جاہل اور بے دین لوگوں کے یہاں بھی شادی بیاہ وغیرہ مناسبتوں میں طوائف کو بلایا جاتا ہے، اور یہ بات اتنی عام ہو چکی ہے، اس کو کوئی مذموم اورمعیوب نہیں سمجھتا بلکہ جو کوئی شریعت اور سنت کے مطابق نکاح کرے، اور ان فواحش اور منکرات سے دور رہے تو اس پر عیب لگاتے ہیں، فإلى الله المشتكى۔

4021- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ "، قَالَ: " دَوَابُّ الأَرْضِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۱۵) (ضعیف)
(سند میں لیث بن أبی سلیم ضعیف راوی ہیں)
۴۰۲۱- براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کریمہ: {يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللاعِنُونَ} [سورة البقرة: ۱۵۹] (یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں)، کی تفسیر میں فرمایا: ''اللاعِنُونَ'' سے زمین کے چوپائے مراد ہیں''۔

4022- حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " لا يَزِيدُ فِي الْعُمْرِ إِلا الْبِرُّ، وَلايَرُدُّ الْقَدَرَ إِلا الدُّعَائُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۲۰۹۳، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۱۶) (حسن)
(یہ حدیث حسن ہے، آخری فقرہ: وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيُحْرَمُ الرِّزْقَ بِالذَّنْبِ يُصِيبُهُ ضعیف ہے، ضعف کا سبب عبد اللہ بن أبی الجعد کا تفرد ہے، وہ مقبول عند المتابعہ ہیں، اور متابعت نہ ہونے کی وجہ سے یہ فقرہ ضعیف ہے)
۴۰۲۲- ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''نیکی ہی عمر کو بڑھاتی ہے، اور تقدیر کو دعا کے علاوہ کوئی چیز نہیں ٹال سکتی، اور کبھی آدمی اپنے گناہ کی وجہ سے ملنے والے رزق سے محروم ہو جاتا ہے''۱؎۔
وضاحت۱؎: چاہے جتنا کوشش اور محنت کرے، لیکن اس کو فراغت اور مالداری حاصل نہیں ہوتی، کبھی اس کے گناہوں کی وجہ سے اس کی اولاد پر بھی کئی پشت تک اثر رہتا ہے، اللہ بچائے، بعضوں نے کہا: عمر بڑھنے سے یہی مراد ہے کہ اچھی شہرت ہو جاتی ہے گویا وہ مرنے کے بعد بھی زندہ ہے، یا روزی بڑھنا کیونکہ عمر پیدا ہوتے ہی معین ہو جاتی ہے، گھٹ بڑھ نہیں سکتی۔
 
Top