- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
17- بَاب الْحَيَاءِ
۱۷- باب: شرم و حیا کا بیان۱؎
۱۷- باب: شرم و حیا کا بیان۱؎
وضاحت۱؎: شرم و حیا عمدہ صفت ہے جو آدمی کو برے کام اور گناہ کے کام کرنے سے روکتی ہے اور یہی محمود اور قابل تعریف حیا ہے لیکن نیک کام میں شرم و حیا کرنا ضعف نفس ہوتا ہے، اور وہ مذموم ہے، اسی طرح دین کے مسائل دریافت کرنے میں حیا کرنا بھی برا ہے، عورتیں رسول اکرم ﷺ سے حیض اور نفاس کے مسائل بلا تکلف پوچھتیں بہرحال حق اور عمدہ بات میں کوئی شرم نہ کرنی چاہئے، اس زمانہ میں عجب حال ہو گیا ہے کہ نیک کام سے تو لوگ شرم کرتے ہیں، مثلا محنت مزدوری کر کے روٹی کمانے سے شرم کرتے ہیں، جب کہ چوری، دغابازی اور رشوت خوری میں شرم نہیں کرتے، اسی طرح بعض عورتیں نکاح ثانی میں شرم کرتی ہیں، جبکہ زنا اور حرام کاری میں بے حجابی اور بے شرمی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، اور اس وقت تو خلاف شرع کاموں میں جرأت و بے باکی اتنی بڑھ گئی ہے کہ الامان والحفیظ۔
4180- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ، مَوْلًى لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ أَشَدَّ حَيَائً مِنْ عَذْرَاءَ فِي خِدْرِهَا، وَكَانَ إِذَا كَرِهَ شَيْئًا، رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ۔
* تخريج: خ/المناقب ۲۳ (۳۵۶۲، ۳۵۶۳)، م/الفضائل ۱۶ (۲۳۲۰)، (تحفۃ الأشراف: ۴۱۰۷)، وقد أخرجہ: حم (۳/۷۱، ۷۹، ۸۸، ۹۱، ۹۲) (صحیح)
۴۱۸۰- ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ باپردہ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ شرمیلے تھے، اور جب آپ کو کوئی چیز ناگوار لگتی تو آپ کے چہرے پر اس کا اثر ظاہر ہو جاتا تھا۱؎۔
وضاحت۱؎: یہ دل کی صفائی پر دلالت کرتا ہے، جس کا دل اور زبان ایک ہو یعنی ظاہر اور باطن، وہی آدمی ہے، اور ظاہر کچھ باطن کچھ یہ اسلام کا شیوہ نہیں، نفاق کی خصلت سے اللہ تعالی بچائے۔
4181- حَدَّثَنَا إِسْماعِيلُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الإِسْلامِ الْحَيَاءُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۳۷، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۸۴) (حسن) (سند میں معاویہ بن یحییٰ صدفی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو، الصحیحہ: ۹۴۰)
۴۱۸۱- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے اور اسلام کا اخلاق حیا ہے'' ۔
4182- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَإِنَّ خُلُقَ الإِسْلامِ الْحَيَاءُ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفۃ الأشراف: ۶۴۵۱، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۸۵) (حسن) (صالح بن حسان متروک اور سعید الوراق ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی وجہ سے حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ : ۹۴۰)
۴۱۸۲- عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہر دین کا ایک اخلاق ہوتا ہے، اور اسلام کا اخلاق حیا ہے''۔
4183- حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلامِ النُّبُوَّةِ الأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ "۔
* تخريج: خ/أحادیث الأنبیاء ۵۴ (۳۴۸۳)، د/الأدب ۷ (۴۷۹۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۸۲)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۲۱، ۱۲۲، ۵/۲۷۳ ) (صحیح)
۴۱۸۳- ابو مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''گذشتہ کلام نبوت میں سے جو باتیں لوگوں کو ملی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم میں حیا نہ ہو تو جو چاہے کرو''۱؎۔
وضاحت۱؎: جس کا ترجمہ یہ ہے، بے حیا باش ہرچہ خواہی کن یعنی بری باتوں سے روکنے والی چیز شرم ہے، جب اسی کو آدمی نے اٹھا دیا تو آزاد ہو گیا اب جو جی چاہئے وہ کرے۔
4184- حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: " الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ،وَالإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ "۔
* تخريج: تفرد بہ ابن ماجہ ، (تحفۃ الأشراف:۱۱۶۷۰، ومصباح الزجاجۃ: ۱۴۸۶) (صحیح) (سند میں حسن بصری ہیں، جن کا سماع ابو بکرۃ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحہ: ۴۹۵)
۴۱۸۴- ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''حیا ایمان سے ہے، اور ایمان کا بدلہ جنت ہے، اور فحش گوئی جفا (ظلم و زیادتی) ہے اور جفا (ظلم زیادتی) کا بدلہ جہنم ہے''۔
4185- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلاَّلُ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: " مَا كَانَ الْفُحْشُ فِي شَيْئٍ قَطُّ، إِلا شَانَهُ، وَلا كَانَ الْحَيَاءُ فِي شَيْئٍ قَطُّ،إِلا زَانَهُ "۔
* تخريج: ت/البروالصلۃ ۴۷ (۱۹۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۴۷۲)، وقد أخرجہ: حم (۳/۱۶۵) (صحیح)
۴۱۸۵- انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بے حیائی جس چیز میں بھی ہو اس کو عیب دار بنا دے گی، اور حیا جس چیز میں ہو اس کو خوب صورت بنا دے گی''۔