- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
63- بَاب فِي سُرْعَةِ السَّيْرِ وَالنَّهْيِ عَنِ التَّعْرِيسِ فِي الطَّرِيقِ
۶۳-باب: سفر میں تیز چلنے کا حکم اور راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کا بیان
2569- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ، فَإِذَا أَرَدْتُمُ التَّعْرِيسَ فَتَنَكَّبُوا عَنِ الطَّرِيقِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۶۲۶)، وقد أخرجہ: م/الإمارۃ ۵۴ (۱۹۲۶)، ت/الأدب ۷۵ (۲۸۵۸)، حم (۲/۳۳۷) (صحیح)
۲۵۶۹- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو ۱؎ اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ۲؎ ، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو'' ۳؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی انہیں کچھ دیر چرنے کے لئے چھوڑ دو۔
وضاحت ۲؎ : تا کہ قحط والی زمین جلدی سے طے کر لو اور سواری کو تکان لاحق ہونے سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جاؤ۔
وضاحت ۳؎ : کیونکہ رات میں راستوں پر زہریلے جانور چلتے ہیں ۔
2570- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ نَحْوَ هَذَا، قَالَ بَعْدَ قَوْلِهِ: < حَقَّهَا >: <وَلا تَعْدُوا الْمَنَازِلَ >۔
* تخريج: ق/الأدب ۴۷ (۳۷۷۲)، ن/الیوم واللیلۃ (۹۵۵) (تحفۃ الأشراف: ۲۲۱۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۳۰۵، ۳۸۱) (صحیح)
۲۵۷۰- جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی نبی اکرم ﷺ سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول ''فَأَعْطُوا الإِبِلَ حَقَّهَا '' کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو( تا کہ جانور کو تکلیف نہ ہو)۔