• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لا يُطِيقُهُ
۳۰- باب: جس نے ایسی نذر مانی جس کو پوری کر نے کی وہ طاقت نہیں رکھتا توکیا کرے؟​


3322- حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي فُدَيْكٍ قَالَ: حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى الأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا فِي مَعْصِيَةٍ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا لا يُطِيقُهُ فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ، [وَمَنْ نَذَرَ نَذْرًا أَطَاقَهُ فَلْيَفِ بِهِ] >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ سَعِيدِ [بْنِ أَبِي الْهِنْدِ] أَوْقَفُوهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ۔
* تخريج: ق/الکفارات ۱۷ (۲۱۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۶۳۴۱) (ضعیف مرفوعاً)
(اس کے راوی ''طلحہ انصاری '' حافظہ کے کمزور راوی ہیں ان کے بالمقابل وکیع ثقہ ہیں اور انہوں نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے روایت کیا ہے )
۳۳۲۲- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص غیر نامز د نذر ما نے تو اس کا کفا رہ قسم کا کفارہ ہے اور جو کسی گناہ کی نذر ما نے تو اس کا (بھی) کفا رہ وہی ہے جو قسم کا ہے، اور جو کوئی ایسی نذر ما نے جسے پوری کر نے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا کفا رہ وہی ہے جو قسم کاکفارہ ہے، اور جو کوئی ایسی نذر ما نے جسے وہ پو ری کرسکتا ہو تو وہ اسے پوری کرے ''۔
ابو داود کہتے ہیں : وکیع وغیرہ نے اس حدیث کو عبداللہ بن سعید (بن ابو ہند)سے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوفاً روایت کیا ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
31- باب مَنْ نَذَرَ نَذَراً لَمْ يُسَمِّه
۳۱- باب: غیر معین نذر ماننے کا بیان​


3323- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبَّادٍ الأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ- عَنْ مُحَمَّدٍ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ قَالَ: حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِينِ >.
[قَالَ أَبو دَاود: وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ كَعْبِ بْنِ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ عَنْ عُقْبَةَ] ۔
* تخريج: م/النذر ۵ (۱۶۴۵)، ت/النذور ۴ (۱۵۲۸)، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۶۰)، وقد أخرجہ: ن/الأیمان ۴۰ (۳۸۶۳)، ق/الکفارات ۱۷ (۲۱۲۵)، حم (۴/۱۴۴، ۱۴۶، ۱۴۷) (صحیح)
۳۳۲۳- عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' نذر کا کفا رہ قسم کا کفارہ ہے''۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے عمرو بن حا رث نے کعب بن علقمہ سے انہوں نے ابن شماسہ سے اور ابن شہاب نے عقبہ سے روایت کیا ہے۔


3324- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُمْ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى [يَعْنِي] بْنَ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِمَاسَةَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ مِثْلَهُ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۹۹۶۰) (صحیح)
۳۳۲۴- اس سند سے بھی عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
32-بَاب مَنْ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ أَدْرَكَ الإِسْلامَ
۳۲- زما نہء جا ہلیت میں نذرمانی پھرمسلمان ہوگیا توکیا کرے؟​


3325- أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِاللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ رَضِي اللَّه عَنْه أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ لَيْلَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : < أَوْفِ بِنَذْرِكَ >۔
* تخريج: خ/الاعتکاف ۵ (۲۰۳۲)، ۱۵ (۲۰۴۲)، ۱۶ (۲۰۴۳)، الخمس ۱۹ (۳۱۴۴)، المغازي ۵۴ (۴۳۲۰)، الأیمان ۲۹ (۶۶۹۷)، م/الأیمان ۶ (۱۶۵۶)، ت/الأیمان ۱۱ (۱۵۳۹)، ن/الأیمان ۳۵ (۳۸۵۱)، ق/الصیام ۶۰ (۱۷۷۲)، الکفارات ۱۸ (۲۱۲۹)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۵۵۰)، وقد أخرجہ: حم (۱/۳۷، ۲/۲۰، ۸۲، ۱۵۳)، دي/النذور ۱ (۲۳۷۸) (صحیح)
۳۳۲۵- عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہء جاہلیت میں مسجد حرام میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر ما نی تھی تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا:'' اپنی نذر پوری کرلو''۔


* * * * *​
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207

{ 17- اَوَّلُ كِتَاب الْبُيُوعِ }
۱۷-کتاب: خریدوفروخت کے احکام ومسائل


1- بَاب فِي التِّجَارَةِ يُخَالِطُهَا الْحَلْفُ وَاللَّغْوُ
۱-باب: تجا رت میں قسم اورلایعنی باتوں کی ملاوٹ ہو جا تی ہے​


3326- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ قَالَ: كُنَّا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ فَمَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ أَحْسَنُ مِنْهُ فَقَالَ: < يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ! إِنَّ الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلْفُ، فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ >.
* تخريج: ت/البیوع ۴ (۱۲۰۸)، ن/الأیمان ۲۱ (۳۸۲۸)، البیوع ۷ (۴۴۶۸)، ق/التجارات ۳ (۲۱۴۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰۳)، وقد أخرجہ: حم (۴/۶،۲۸۰) ( حسن صحیح)
۳۳۲۶- قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں سماسرہ ۱؎کہا جاتا تھا، پھر رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے تو ہمیں ایک اچھے نام سے نوازا، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اے سوداگروں کی جماعت! بیع میں لایعنی باتیں اور (جھوٹی) قسمیں ہو جاتی ہیں تو تم اسے صدقہ سے ملا دیا کرو‘‘ ۲؎ ۔
وضاحت ۱؎ : ’’سماسرہ‘‘: سمسار کی جمع ہے، عجمی لفظ ہے چونکہ عرب میں اس وقت زیادہ تر عجمی لوگ خرید وفروخت کیا کرتے تھے، اس لئے ان کے لئے یہی لفظ رائج تھا، آپ ﷺ نے ان کے لئے ’’تجار‘‘ کا لفظ پسند کیا جو عربی ہے، سمسار اصل میں اس شخص کو کہتے ہیں جو بائع اور مشتری کے درمیان دلالی کرتا ہے۔
وضاحت۲؎ : یعنی صدقہ کر کے اس کی تلافی کر لیا کرو۔


3327- حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ وَحَامِدُ بْنُ يَحْيَى وَعَبْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ وَعَبْدِالْمَلِكِ بْنِ أَعْيَنَ وَعَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ -بِمَعْنَاهُ- قَالَ: < يَحْضُرُهُ الْكَذِبُ وَالْحَلْفُ >، وَقَالَ عَبْدُاللَّهِ الزُّهْرِيُّ: < اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۱۰۳) (صحیح)
۳۳۲۷- اس سند سے بھی قیس بن ابی غرزہ سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے اس میں ’’يَحْضُرُهُ اللَّغْوُ وَالْحَلْفُ‘‘کے بجائے:’’يَحْضُرُهُ الْكَذِبُ وَالْحَلْفُ‘‘ہے عبد اللہ الزہری کی روایت میں: ’’اللَّغْوُ وَالْكَذِبُ‘‘ ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
2- بَاب فِي اسْتِخْرَاجِ الْمَعَادِنِ
۲-باب: معدنیات نکالنے کا بیان​


3328- حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ -يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ- عَنْ عَمْرٍو -يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو- عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلا لَزِمَ غَرِيمًا لَهُ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لا أُفَارِقُكَ حَتَّى تَقْضِيَنِي، أَوْ تَأْتِيَنِي بِحَمِيلٍ، فَتَحَمَّلَ بِهَا النَّبِيُّ ﷺ ، فَأَتَاهُ بِقَدْرِ مَاوَعَدَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ﷺ : < مِنْ أَيْنَ أَصَبْتَ هَذَا الذَّهَبَ؟ > قَالَ: مِنْ مَعْدِنٍ، قَالَ: < لا حَاجَةَ لَنَا فِيهَا، وَلَيْسَ فِيهَا خَيْرٌ > فَقَضَاهَا عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ۔
* تخريج: ق/الأحکام ۹ (۲۴۰۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۱۷۸) (صحیح)
۳۳۲۸- عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنے قرض دار کے ساتھ لگارہاجس کے ذمہ اس کے دس دینار تھے اس نے کہا: میں تجھ سے جدا نہ ہوںگا جب تک کہ تو قرض نہ ادا کر دے، یا ضا من نہ لے آ، یہ سن کرنبی اکرم ﷺ نے قرض دار کی ضما نت لے لی، پھر وہ اپنے وعدے کے مطابق لے کرا ٓیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے پوچھا:'' یہ سونا تجھے کہاں سے ملا؟''، اس نے کہا: میں نے کان سے نکالا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ( لے جاؤ) اس میں بھلا ئی نہیں ہے''، پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف سے(قرض کو) خو د ادا کر دیا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
3- بَاب فِي اجْتِنَابِ الشُّبُهَاتِ
۳-باب: شبہا ت سے بچنے کا بیان​


3329- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، وَلا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّ الْحَلالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ -[وَ] أَحْيَانًا يَقُولُ: مُشْتَبِهَةٌ- وَسَأَضْرِبُ [لَكُمْ] فِي ذَلِكَ مَثَلا: إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَهُ، وَإِنَّهُ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ >۔
* تخريج: خ/الإیمان ۳۹ (۵۲)، والبیوع ۲ (۲۰۵۱)، م/المساقاۃ ۲۰ (۱۵۹۹)، ت/البیوع ۱ (۱۲۰۵)، ن/البیوع ۲ (۴۴۵۸)، ق/الفتن ۱۴ (۳۹۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۲۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۲۶۷، ۲۶۹، ۲۷۰، ۲۷۱، ۲۷۵)، دي/البیوع ۱ (۲۵۷۳) (صحیح)
۳۳۲۹- نعمان بن بشیررضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرما تے ہو ئے سنا: ’’حلا ل واضح ہے، اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں( جن کی حلت و حرمت میں شک ہے ) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے ۱؎اور میں تمہیں یہ با ت ایک مثال سے سمجھا تا ہوں، اللہ نے ( اپنے لئے) محفوظ جگہ ( چرا گاہ) بنائی ہے، اور اللہ کی محفوظ جگہ اس کے محا رم ہیں( یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرا ر دیا ہے ) اور جو شخص محفوظ چراگا ہ کے گر د اپنے جا نور چرائے گا، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہو جائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ اسے حلا ل کر بیٹھنے کی جسارت کر ڈالے‘‘۔
وضاحت ۱؎ : گویا دنیاوی چیزیں تین طرح کی ہیں : حلال، حرام اور مشتبہ، پس حلال چیزیں وہ ہیں جو کتاب وسنت میں بالکل واضح ہیں جیسے دودھ، شہد، میوہ، گائے اور بکری وغیرہ، اسی طرح حرام چیزیں بھی کتاب وسنت میں واضح ہیں جیسے شراب، زنا، قتل اور جھوٹ وغیرہ، اور مشتبہ وہ ہے جو کسی حد تک حلال سے اور کسی حد تک حرام سے یعنی دونوں سے مشابہت رکھتی ہو جیسے رسول اللہ ﷺ نے راستہ میں ایک کھجور پڑا ہوا دیکھا تو فرمایا کہ اگر اس بات کا خوف نہ ہو تاکہ یہ صدقہ کا ہوسکتا ہے تو میں اسے کھالیتا، اس لئے مشتبہ امر سے اپنے آپ کو بچا لینا ضروری ہے، کیونکہ اپنانے کی صورت میں حرام میں پڑنے کا خطرہ ہے، نیز شبہ والی چیز میں پڑتے پڑتے حرام میں پڑنے اور اسے اپنانے کی جسارت کرسکتا ہے ۔


3330- حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ -بِهَذَا الْحَدِيثِ- قَالَ: < وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ لا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ عِرْضَهُ وَدِينَهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۶۲۴) (صحیح)
۳۳۳۰- نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرمارہے تھے: ’’ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جا نتے، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا ‘‘۔


3331- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ ابْنَ أَبِي خَيْرَةَ يَقُولُ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ (ح) وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ -يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ- وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي خَيْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: < لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لا يَبْقَى أَحَدٌ إِلا أَكَلَ الرِّبَا، فَإِنْ لَمْ يَأْكُلْهُ أَصَابَهُ مِنْ بُخَارِهِ >.
قَالَ ابْنُ عِيسَى: < أَصَابَهُ مِنْ غُبَارِهِ >۔
* تخريج: ن/البیوع ۲ (۴۴۶۰)، ق/التجارات ۵۸ (۲۲۷۸)، حم (۲/۴۹۴)، (تحفۃ الأشراف: ۹۲۰۳، ۱۲۲۴۱) (ضعیف)
(اس کے راوی ’’سعید ‘‘ لین الحدیث ہیں، نیز’’ حسن بصری ‘‘ کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں )
۳۳۳۱- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک زما نہ ایسا آئے گا جس میں سو د کھانے سے کوئی بچ نہ سکے گا اور اگر نہ کھائے گا تو اس کی بھا پ کچھ نہ کچھ اس پر پڑ کر ہی رہے گی‘‘ ۱؎ ۔
ابن عیسیٰ کی روایت میں’’أَصَاْبَهُ مِنْ بُخَارِهِ‘‘ کی جگہ ’’أَصَاْبَهُ مِنْ غُبَارِهِ ‘‘ہے، یعنی اس کی گر د کچھ نہ کچھ اس پر پڑکر ہی رہے گی۔
وضاحت ۱؎ : یعنی اس کا کچھ نہ کچھ اثر اس پر ظا ہر ہوکر رہے گا۔


3332- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فِي جَنَازَةٍ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ وَهُوَعَلَى الْقَبْرِ يُوصِي الْحَافِرَ: < أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ > فَلَمَّا رَجَعَ اسْتَقْبَلَهُ دَاعِي امْرَأَةٍ، فَجَاءَ، وَجِيئَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ يَدَهُ، ثُمَّ وَضَعَ الْقَوْمُ فَأَكَلُوا، فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَلُوكُ لُقْمَةً فِي فَمِهِ، ثُمَّ قَالَ: < أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا > فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ [قَالَتْ]: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ يَشْتَرِي [لِي] شَاةً فَلَمْ أَجِدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى جَارٍ لِي قَدِ اشْتَرَى شَاةً أَنْ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِهَا بِثَمَنِهَا فَلَمْ يُوجَدْ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : <أَطْعِمِيهِ الأُسَارَى >۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۵۶۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۵/۲۹۳، ۴۰۸) (صحیح)
۳۳۳۲- ایک انصاری کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک جنا زہ میں گئے تو میں نے آپ کو دیکھاکہ آپ ﷺ قبرپر تھے قبرکھودنے والے کو بتا رہے تھے: ’’پیروں کی جا نب سے (قبر) کشادہ کرو اور سر کی جانب سے چوڑی کرو‘‘، پھر جب آپ ﷺ (وہاں سے فراغت پا کر) لو ٹے تو ایک عورت کی جانب سے کھانے کی دعوت دینے والا آپ کے سامنے آیا تو آپ ﷺ ( اس کے یہاں) آئے اور کھانا لایاگیا، آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ رکھا(کھانا شروع کیا ) پھر دوسرے لوگوں نے رکھا اور سب نے کھانا شروع کردیا تو ہمارے بز رگوں نے رسول ﷺکو دیکھا، آپ ایک ہی لقمہ منہ میں لئے گھما پھرا رہے ہیں پھرآپ ﷺ نے فرمایا:’’مجھے لگتا ہے یہ ایسی بکری کا گوشت ہے جسے اس کے مالک کی اجا زت کے بغیر ذبح کر کے پکا لیا گیا ہے‘‘، پھر عورت نے کہلا بھیجا:اللہ کے رسول! میں نے اپنا ایک آدمی بقیع کی طرف بکری خرید کر لا نے کے لئے بھیجاتواسے بکری نہیں ملی پھر میں نے اپنے ہم سایہ کو، جس نے ایک بکری خرید رکھی تھی کہلا بھیجا کہ تم نے جس قیمت میں بکری خرید رکھی ہے اسی قیمت میں مجھے دے دو (اتفاق سے) وہ ہم سایہ ( گھر پر) نہ ملاتو میں نے اس کی بیوی سے کہلا بھیجا تو اس نے بکری میرے پاس بھیج دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ یہ گوشت قیدیوں کو کھلا دو‘‘ ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : چونکہ بکری صاحب بکری کی اجازت کے بغیر ذبح کرڈالی گئی اس لئے یہ مشتبہ گوشت ٹھہرا اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے اپنے آپ کو اس مشتبہ چیز کے کھانے سے بچایا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
4- بَاب فِي آكِلِ الرِّبَا وَمُوكِلِهِ
۴-باب: سو د کھانے اور کھلا نے والے پر وارد وعید کا بیان​


3333- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، حَدَّثَنِي عَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِاللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ وَشَاهِدَهُ وَكَاتِبَه۔
* تخريج: م/المساقات ۱۹ (۱۵۹۷)، ت/البیوع ۲ (۱۲۰۶)، ق/التجارات ۵۸ (۲۲۷۷)، (تحفۃ الأشراف: ۹۳۵۶)، وقد أخرجہ: ن/الطلاق ۱۳ (۳۴۴۵)، حم (۱/۳۹۲، ۳۹۴، ۴۰۲، ۴۵۳) (صحیح)
۳۳۳۳- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، سو د کے لئے گواہ بننے والے اور اس کے کاتب(لکھنے والے) پر لعنت فرمائی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
5- بَاب فِي وَضْعِ الرِّبَا
۵-باب: سو د معاف کر دینے کا بیان​


3334- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَقُولُ: < أَلا إِنَّ كُلَّ رِبًا مِنْ رِبَاالْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، لَكُمْ رُئُوسُ أَمْوَالِكُمْ لا تَظْلِمُونَ وَلا تُظْلَمُونَ، أَلا وَإِنَّ كُلَّ دَمٍ مِنْ دَمِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُ مِنْهَا دَمُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ > كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي لَيْثٍ، فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، قَالَ : < [اللَّهُمَّ] هَلْ بَلَّغْتُ >، قَالُوا: نَعَمْ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: < اللَّهُمَّ اشْهَدْ > ثَلاثَ مَرَّاتٍ۔
* تخريج: ت/الفتن ۱ (۱۲۵۹)، تفسیرالقرآن ۱۰ (۳۰۸۷)، ق/المناسک ۷۶ (۳۰۵۵)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۱)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۲۶، ۴۹۸) (صحیح)
۳۳۳۴- عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حجۃ الوداع میں سنا:آپ فرمارہے تھے: ''سنو! زمانۂ جاہلیت کے سارے سو د کا لعدم قرار دے دیئے گئے ہیں تمہارے لئے بس تمہارا اصل مال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو نہ کوئی تم پر ظلم کرے (نہ تم کسی سے سو د لو نہ تم سے کوئی سو دلے ) سن لو! زمانۂ جاہلیت کے خو ن کالعدم کر دئیے گئے ہیں، اور زمانۂ جاہلیت کے سارے خونوں میں سے میں سب سے پہلے جسے معاف کرتا ہوں وہ حا رث بن عبدالمطلب ۱؎ کا خون ہے''، وہ ایک شیر خواربچہ تھے جو بنی لیث میں پرورش پا رہے تھے کہ ان کو ہذیل کے لوگوں نے مارڈالا تھا ۔
راوی کہتے ہیں :آپ ﷺ نے فرمایا: ''اے اللہ !کیا میں نے پہنچا دیا ؟'' لوگوں نے تین بار کہا: ہاں( آپ نے پہنچا دیا)، آپ ﷺ نے تین بار فرمایا : ''اے اللہ !تو گواہ رہ ''۔
وضاحت ۱؎ : حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے چچا تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
6- بَاب فِي كَرَاهِيَةِ الْيَمِينِ فِي الْبَيْعِ
۶-باب: خریدوفروخت میں (جھوٹی) قسم کھانے کی ممانعت​


3335- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ (ح) وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: قَالَ [لِي] ابْنُ الْمُسَيَّبِ: إِنَّ أَبَاهُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < الْحَلِفُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مَمْحَقَةٌ لِلْبَرَكَةِ>، قَالَ ابْنُ السَّرْحِ < لِلْكَسْبِ >، وقَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ۔
* تخريج: خ/البیوع ۲۶ (۲۰۸۷)، م/المساقاۃ ۲۷ (۱۶۰۶)، ن/البیوع ۵ (۴۴۶۶)، (تحفۃ الأشراف: ۱۳۳۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۳۵،۲۴۲، ۴۱۳) (صحیح)
۳۳۳۵- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوے سنا:'' (جھوٹی ) قسم(قسم کھانے والے کے خیال میں) سامان کورائج کردیتی ہے، لیکن بر کت کوختم کر دیتی ہے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
7- بَاب فِي الرُّجْحَانِ فِي الْوَزْنِ وَالْوَزْنِ بِالأَجْرِ
۷-باب: تو ل میں جھکتا ہوا (زیادہ) دینے اور اجرت لے کر تو لنے کا بیان​


3336- حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَفَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ هَجَرَ، فَأَتَيْنَا بِهِ مَكَّةَ، فَجَائَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَمْشِي، فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ فَبِعْنَاهُ، وَثَمَّ رَجُلٌ يَزِنُ بِالأَجْرِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < زِنْ وَارْجِحْ > ۔
* تخريج: ت/البیوع ۶۶ (۱۳۰۵)، ن/البیوع ۵۲ (۴۵۹۶)، ق/التجارات ۳۴ (۲۲۲۰)، اللباس ۱۲ (۳۵۷۹)، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۱۰)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۵۲)، دي/البیوع ۴۷ (۲۶۲۷) (صحیح)
۳۳۳۶- سوید بن قیس کہتے ہیں: میں نے اور مخرمہ عبدی نے ہجر ۱؎ سے کپڑا لیا اوراسے( بیچنے کے لئے) مکہ لے کر آئے تو رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس پیدل آئے، اور ہم سے پا ئجا مہ کے کپڑے کے لئے بھا ئو تا ئو کیا تو ہم نے اسے بیچ دیااور وہاں ایک شخص تھا جومعا وضہ لے کر وزن کیا کر تاتھا تورسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا:'' تولو اور جھکا ہوا تولو''۔
وضاحت ۱؎ : مدینہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔


3337- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ -الْمَعْنَى قَرِيبٌ- قَالا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي صَفْوَانَ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِمَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُهَاجِرَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: < يَزِنُ بِأَجْرٍ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ قَيْسٌ كَمَا قَالَ سُفْيَانُ، وَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ ۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۴۸۱۰) (صحیح)
۳۳۳۷- ابوصفوان بن عمیرۃ(یعنی سوید) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کی ہجرت سے پہلے مکہ آیا، پھرانہوں نے یہی حدیث بیان کی لیکن اجرت لے کر وزن کرنے کا ذکر نہیں کیاہے ۔
ابو داود کہتے ہیں: اسے قیس نے بھی سفیان کی طرح بیان کیاہے اورلائق اعتمادبا ت تو سفیان کی بات ہے۔


3338- حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: قَالَ رَجُلٌ لِشُعْبَةَ: خَالَفَكَ سُفْيَانَ قَالَ: دَمَغْتَنِي، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، قَالَ: كُلُّ مَنْ خَالَفَ سُفْيَانَ فَالْقَوْلُ قَوْلُ سُفْيَانَ ۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود (صحیح)
۳۳۳۸- ابو رزمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے شعبہ سے کہا : سفیان نے روایت میں آپ کی مخالفت کی ہے،آپ نے کہا: تم نے تو میرا دماغ چا ٹ لیا ۔
ابو داود کہتے ہیں: مجھے یحییٰ بن معین کی یہ بات پہنچی ہے کہ جس شخص نے بھی سفیان کی مخالفت کی تو لائق اعتماد بات سفیان کی بات ہوگی ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی صحابی کا نام ''سوید بن قیس'' (جیسا کہ سفیان نے کہا ہے ) زیادہ قابل اعتماد ہے بنسبت'' ابو صفوان بن عمیرۃ'' کے، لیکن اصحاب التراجم کا فیصلہ ہے کہ دونوں نام ایک ہی آدمی کے ہیں )


3339- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: كَانَ سُفْيَانُ أَحْفَظَ مِنِّي۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۸۰۸) (صحیح)
۳۳۳۹- شعبہ کہتے ہیں: سفیان کا حا فظہ مجھ سے زیادہ قوی تھا ۔
 
Top