• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

سنن ابو داود

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
21- بَاب فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
۲۱-باب: لال رنگ کااستعمال جائز ہے​


4072- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَائِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ لَهُ شَعْرٌ يَبْلُغُ شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ، وَرَأَيْتُهُ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ، لَمْ أَرَ شَيْئًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ۔
* تخريج: خ/المناقب ۲۳ (۳۵۵۱)، اللباس ۳۵ (۵۸۴۸)، ۶۸ (۵۹۰۱)، م/الفضائل ۲۵ (۲۳۳۷)، ت/اللباس ۴ (۱۷۲۴)، الأدب ۴۷ (۲۸۱۱)، المناقب ۸ (۳۶۳۵)، الشمائل ۱ (۶۲)، ۳ (۶۴)، ن/الزینۃ من المجتبی ۵ (۵۲۳۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۸۶۹)، وقد أخرجہ: ق/اللباس ۲۰ (۳۵۹۹)، حم (۴/۲۸۱، ۲۹۵)، وأعاد المؤلف بعضہ فی الترجل (۴۲۸۴) (صحیح)
۴۰۷۲- براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بال آپ کے دونوں کانوں کی لو تک پہنچتے تھے، میں نے آپ کو ایک سرخ جوڑے میں دیکھا اس سے زیادہ خوبصورت میں نے کوئی چیز کبھی نہیں دیکھی ۔


4073- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِلالِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بِمِنًى يَخْطُبُ عَلَى بَغْلَةٍ، وَعَلَيْهِ بُرْدٌ أَحْمَرُ، وَعَلِيٌّ رَضِي اللَّه عَنْه أَمَامَهُ يُعَبِّرُ عَنْهُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۵۰۵۵)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۷۷) (صحیح)
۴۰۷۳- عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منیٰ میں ایک خچر پر خطبہ دیتے دیکھا، آپ پر لال چادر تھی اور علی رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آپ کی آواز دوسروں تک پہنچا رہے تھے ۱؎ ۔
وضاحت ۱؎ : یعنی آپ جو کہتے ہیں اسے بلند آواز سے پکار کر کہہ دیتے تاکہ آپ کی باتیں لوگوں کو پہنچ جائیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
22- بَاب فِي السَّوَادِ
۲۲-باب: کالے رنگ کا بیان​


4074- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِي اللَّه عَنْهَا، قَالَتْ: صَنَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ بُرْدَةً سَوْدَاءَ فَلَبِسَهَا، فَلَمَّا عَرَقَ فِيهَا وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا، قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَكَانَ تُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۷۶۶۵)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۳۲، ۱۴۴، ۲۱۹، ۲۴۹) (صحیح)
۴۰۷۴- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے لئے ایک سیاہ چادر رنگی تو آپ نے اس کو پہنا پھر جب اس میں پسینہ لگا اور اون کی بو محسوس کی تو اس کو اتار دیا، آپ کو خوشبو پسند تھی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
23- بَاب فِي الْهُدْبِ
۲۳-باب: کپڑے کے جھالر کا بیان​


4075- حَدَّثَنَا عُبَيْدُاللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عُبَيْدَةَ أَبِي خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ جَابِرٍ [يَعْنِي] ابْنَ سُلَيْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِشَمْلَةٍ وَقَدْ وَقَعَ هُدْبُهَا عَلَى قَدَمَيْهِ۔
* تخريج:تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۲۵)، وقد أخرجہ: حم (۵/۶۳) (ضعیف)
۴۰۷۵- جابر بن سُلَیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا توآپ بحالت احتباء ایک چادر میں لپٹے بیٹھے تھے اور اس کی جھالر آپ کے دونوں پیروں پر تھی ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
24- بَاب فِي الْعَمَائِمِ
۲۴-باب: عما مہ (پگڑی) کا بیان​


4076- حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ وَمُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ دَخَلَ عَامَ الْفَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ۔
* تخريج: ت/اللباس ۱۱ (۱۷۳۵)، ن/الحج ۱۰۷ (۲۸۷۲)، الزینۃ ۵۵ (۵۳۴۶، ۵۳۴۷)، ق/الجھاد ۲۲ (۲۸۲۲)، اللباس ۱۴ (۳۵۸۵)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۸۹)، وقد أخرجہ: م/الحج ۸۴ (۱۳۵۸)، حم (۳/۳۶۳، ۳۸۷) (صحیح)
۴۰۷۶- جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ ایک کالی پگڑی باندھے ہوئے تھے ۔


4077- حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُسَاور الْوَرَّاقِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو ابْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ عَلَى الْمِنْبَرِ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ قَدْ أَرْخَى طَرَفَهَا بَيْنَ كَتِفَيْهِ۔
* تخريج: م/الحج ۸۴ (۱۳۵۹)، ت/الشمائل ۱۶ (۱۰۸)، ن/الزینۃ من المجتبی ۵۶ (۵۳۴۸)، ق/الجھاد ۲۲ (۲۸۲۱)، اللباس ۱۵ (۳۵۸۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۰۷۱۶)، وقد أخرجہ: حم (۴/۳۰۷)، دي/المناسک ۸۸ (۱۹۸۲) (صحیح)
۴۰۷۷- حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر دیکھا،آپ کالی پگڑی با ندھے ہوئے تھے جس کا کنا رہ آپ نے اپنے کندھوں پر لٹکا رکھا تھا۔


4078- حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَسْقَلانِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ ﷺ ، فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ ﷺ ، قَالَ رُكَانَةُ: وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقُولُ: < فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلانِسِ >۔
* تخريج: ت/اللباس ۴۲ (۱۷۸۴)، (تحفۃ الأشراف: ۳۶۱۴) (ضعیف)
(سند میں ابوجعفر مجہول راوی ہیں ، اور محمدعلی اور ان کے دادا یعنی رکانہ کے درمیان انقطاع ہے )
۴۰۷۸- محمد بن علی بن رکا نہ روایت کرتے ہیں کہ رکا نہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے کشتی لڑی تو آپ نے رکانہ کوپچھاڑ دیا۔ رکا نہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا: ''ہمارے اور مشرکین کے درمیان فر ق ٹو پیوں پرپگڑی باندھنے کا ہے'' ۔


4079- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ [بْنُ عُثْمَانَ] الْغَطَفَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ خَرَّبُوذَ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَالرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ يَقُولُ: عَمَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَسَدَلَهَا بَيْنَ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۹۷۳۱) (ضعیف)
(شیخ مدینہ مبہم ہے)
۴۰۷۹- اہل مدینہ کے ایک شیخ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوے سناکہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے عمامہ با ندھا تو اس کا شملہ میرے آگے اور پیچھے دونوں جا نب لٹکا یا ۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
25- بَاب فِي لِبْسَةِ الصَّمَّائِ
۲۵-باب: جسم پراس طرح کپڑا لپیٹنا کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں منع ہے​


4080- حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنْ لِبْسَتَيْنِ أَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ مُفْضِيًا بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَائِ، وَيَلْبَسُ ثَوْبَهُ وَأَحَدُ جَانِبَيْهِ خَارِجٌ وَيُلْقِي ثَوْبَهُ عَلَى عَاتِقِهِ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۳۵۸)، وقد أخرجہ: حم (۲/۳۱۹، ۳۸۰، ۳۹۱)
(صحیح الإسناد)
۴۰۸۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دوقسم کے لباس سے منع فرمایا ہے ایک یہ کہ آدمی اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شر مگاہ آسمان کی طرف کھلی ہو اس پر کوئی کپڑا نہ ہو، دوسرے یہ کہ اپنا کپڑا سا رے بدن پر اس طرح لپیٹ لے کہ ایک طرف کا حصہ کھلا ہو،اور کپڑا اٹھا کر کندھے پرڈال لیا ہو۔


4081- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ﷺ عَنِ الصَّمَّائِ وَ[عَنِ] الاحْتِبَائِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ۔
* تخريج: م/اللباس ۲۱ (۲۹۹)، ت/الأدب ۲۰ (۲۷۶۷)، ن/الزینۃ ۵۳ (۵۳۴۴)، (تحفۃ الأشراف: ۲۶۹۳)، وقد أخرجہ: حم (۳/۲۹۳، ۲۹۷، ۳۲۲، ۳۳۱، ۳۴۴، ۳۴۹) (صحیح)
۴۰۸۱- جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کپڑے میں صماء ۱؎ اور احتباء ۲؎ سے منع فرمایا ہے۔
وضاحت ۱؎ : صمّاء یہ ہے کہ کپڑا اس طرح جسم پر لپیٹے کہ دونوں ہاتھ اندر ہوں۔
وضاحت ۲؎ : احتباء : یہ ہے کہ آدمی سرین اور پنڈلیاں کھڑی رکھے اور اوپر سے ایک کپڑا ڈال لے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
26- بَاب فِي حَلِّ الأَزْرَارِ
۲۶-باب: بٹن کھلا رکھنے کا بیان​


4082- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عُرْوَةُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، قَالَ ابْنُ نُفَيْلٍ: ابْنُ قُشَيْرٍ أَبُو مَهَلٍ الْجُعْفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ فِي رَهْطٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَبَايَعْنَاهُ، وَإِنَّ قَمِيصَهُ لَمُطْلَقُ الأَزْرَارِ، قَالَ: فَبَايَعْتُهُ ثُمَّ أَدْخَلْتُ يَدَيَّ فِي جَيْبِ قَمِيصِهِ فَمَسِسْتُ الْخَاتَمَ، قَالَ عُرْوَةُ: فَمَا رَأَيْتُ مُعَاوِيَةَ وَلا ابْنَهُ قَطُّ إِلا مُطْلِقَيْ أَزْرَارِهِمَا فِي شِتَائٍ وَلا حَرٍّ وَلا يُزَرِّرَانِ أَزْرَارَهُمَا أَبَدًا۔
* تخريج: ت/ الشمائل (۵۸)، ق/اللباس ۱۱ (۳۵۷۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۰۷۹)، وقد أخرجہ: حم (۳/۴۳۴، ۴/۱۹، ۵/۳۵) (صحیح)
۴۰۸۲- قرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ مزینہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا پھر ہم نے آپ سے بیعت کی، آپ کچھ قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے،میں نے آپ سے بیعت کی پھر اپنا ہاتھ آپ کی قمیص کے گریبا ن میں داخل کیا اور مہر نبو ت کو چھوا۔
عروہ کہتے ہیں: میں نے معاویہ اور ان کے بیٹے کی قمیص کے بٹن جا ڑا ہو یا گر می ہمیشہ کھلے دیکھے، یہ دونوں کبھی بٹن لگاتے ہی نہیں تھے اپنے گریبان ہمیشہ کھلے رکھتے تھے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
27- بَاب فِي التَّقَنُّعِ
۲۷-باب: سر ڈھانپنے کا بیان​


4083- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِي اللَّه عَنْهَا: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ فِي بَيْتِنَا فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ قَالَ قَائِلٌ لأَبِي بَكْرٍ رَضِي اللَّه عَنْه: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ مُقْبِلا مُتَقَنِّعًا فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَأْتِينَا فِيهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَاسْتَأْذَنَ، فَأُذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ۔
* تخريج: خ/اللباس ۱۶ (۵۸۰۷)، (تحفۃ الأشراف: ۱۶۶۵۳، ۱۶۶۶۳)، وقد أخرجہ: حم (۶/۱۹۸) (صحیح)
۴۰۸۳- ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم اپنے گھر میں گر می میں عین دوپہر کے وقت بیٹھے تھے کہ اسی دوران ایک کہنے والے نے ابو بکر رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ رسول اللہ ﷺ سر ڈھانپے ایک ایسے وقت میں تشریف لا رہے ہیں جس میں آپ نہیں آ یا کرتے ہیں چنانچہ آپ آئے اور اندر آنے کی اجا زت ما نگی ابوبکرنے آپ کو اجا زت دی تو آپ اندر تشریف لائے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
28- بَاب مَا جَاءَ فِي إِسْبَالِ الإِزَارِ
۲۸-باب: تہ بند (لنگی) کو ٹخنوں سے نیچے لٹکا نا منع ہے​


4084- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ، [وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ] عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ، لا يَقُولُ شَيْئًا إِلا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: [هَذَا] رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلامُ يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَرَّتَيْنِ، قَالَ: < لا تَقُلْ عَلَيْكَ السَّلامُ؛ فَإِنَّ عَلَيْكَ السَّلامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ: السَّلامُ عَلَيْكَ >، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ؟ قَالَ: < أَنَا رَسُولُ اللَّهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرَاءَ أَوْ فَلاةٍ فَضَلَّتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ >، قَالَ: قُلْتُ: اعْهَدْ إِلَيَّ، قَالَ: < لا تَسُبَّنَّ أَحَدًا >، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلا عَبْدًا وَلا بَعِيرًا وَلا شَاةً، قَالَ: < وَلا تَحْقِرَنَّ شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ؛ إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۲۱۲۴)، وقد أخرجہ: ت/الاستئذان ۲۸ (۲۷۲۲)، ن/ الکبری (۹۶۹۱)، حم (۳/۴۸۲، ۵/۶۳) (صحیح)
۴۰۸۴- ابو جری جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ لوگ اس کی رائے کو قبول کرتے ہیں جب بھی وہ کوئی با ت کہتا ہے لوگ اسی کوتسلیم کرتے ہیں، میں نے پوچھا: یہ کو ن ہیں ؟ لوگوں نے بتا یا کہ یہ رسول اللہ ﷺ ہیں، میں نے دومرتبہ کہا: ''عليك السلام يا رسول الله!'' (آپ پر سلام ہو اللہ کے رسول ) آپ ﷺ نے فرمایا: ''عليك السلام'' نہ کہو،یہ مُردوں کا سلام ہے اس کے بجائے ''السلام عليك'' کہو۔
'' میں اس اللہ کا بھیجا رسول ہوں، جس کو تمہیں کوئی ضر ر لا حق ہوتو پکارو وہ تم سے اس ضررکو دور فرما دے گا، جب تم پر کوئی قحط سالی آئے اور تم اسے پکا رو تو وہ تمہارے لئے غلہ اگا دے گا، اور جب تم کسی چٹیل زمین میں ہویا میدان پھر تمہاری اونٹنی گم ہو جائے تو اگر تم اس اللہ سے دعا کرو تو وہ اسے لے آئے گا''، میں نے کہا :مجھے نصیحت کیجئے آپ نے فرمایا: ''کسی کو بھی گالی نہ دو''۔
اس کے بعد سے میں نے کسی کو گالی نہیں دی، نہ آزاد کو، نہ غلام کو، نہ اونٹ کو، نہ بکری کو، اور آپ ﷺ نے فرمایا:'' کسی بھی بھلائی کے کام کو معمولی نہ سمجھو، اور اگر تم اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے با ت کروگے تو یہ بھی بھلے کام میں داخل ہے، اور اپنا تہ بندنصف ساق ( پنڈلی) تک اونچی رکھو، اور اگر اتنا نہ ہو سکے تو ٹخنوں تک رکھو، اور تہ بند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچو کیونکہ یہ غرورو تکبر کی با ت ہے، اور اللہ غرور پسندنہیں کرتا، اور اگرتمہیں کوئی گا لی دے اور تمہارے اس عیب سے تمہیں عار دلائے جسے وہ جانتا ہے تو تم اسے اس کے اس عیب سے عا رنہ دلاؤ جسے تم جا نتے ہو کیونکہ اس کا وبال اسی پر ہو گا''۔


4085- حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ أَحَدَ جَانِبَيْ إِزَارِي يَسْتَرْخِي، إِنِّي لأَتَعَاهَدُ ذَلِكَ مِنْهُ، قَالَ: < لَسْتَ مِمَّنْ يَفْعَلُهُ خُيَلاءَ >۔
* تخريج: خ/فضائل الصحابۃ ۵ (۳۶۶۵)، اللباس ۱ (۵۷۸۳)، ۲ (۵۷۸۴)، ۵ (۵۷۹۱)، ن/الزینۃ من المجتبی ۵۰ (۵۳۳۷)، (تحفۃ الأشراف: ۷۰۲۶)، وقد أخرجہ: م/اللباس ۹ (۲۰۸۵)، ت/اللباس ۸ (۱۷۳۰)، ۹ (۱۷۳۱)، ق/اللباس ۶ (۳۵۷۱)، ۹ (۳۵۷۶)، ط/اللباس ۵ (۹)، حم (۲/۵، ۱۰، ۳۲، ۴۲، ۴۴، ۴۶، ۵۵، ۵۶، ۶۰، ۶۵، ۶۷، ۶۹، ۷۴، ۷۶، ۸۱) (صحیح)
۴۰۸۵- عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو کوئی غروراور تکبرسے اپنا کپڑا گھسیٹے گا تو اللہ اسے قیامت کے دن نہیں دیکھے گا'' یہ سنا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے تہبند کا ایک کنا رہ لٹکتا رہتا ہے جب کہ میں اس کابہت خیال رکھتاہوں۔
آپ نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو جو غرور سے یہ کام کیا کرتے ہیں۔


4086- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ ابْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلا إِزَارَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ > فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: < اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ > فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ، قَالَ: < إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، وَإِنَّ اللَّهَ لا يَقْبَلُ صَلاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، انظر حدیث رقم (۶۳۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۲۴۱) (ضعیف)
۴۰۸۶- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے صلاۃ پڑھ رہاتھا کہ اسی دوران رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا :''جا وضو کر کے آؤ''، وہ گیا اور وضو کر کے دوبارہ آیا، پھر آپ نے فرمایا: ''جا ؤ اور وضو کرکے آؤ''،تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول!آپ اس کو وضو کا حکم دیتے ہیں پھر چپ ہو رہتے ہیں آخر کیا بات ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ ''تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکا کر صلاۃ پڑھ رہاتھا، اور اللہ ایسے شخص کی صلاۃ قبول نہیں فرماتا جو اپنا تہ بند ٹخنے کے نیچے لٹکائے ہو''۔


4087- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو ابْنِ جَرِيرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ: <ثَلاثَةٌ لا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ، وَلا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ>، قُلْتُ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَدْ خَابُوا وَخَسِرُوا؟ فَأَعَادَهَا ثَلاثًا، قُلْتُ: مَنْ هُمْ [يَا رَسُولَ اللَّهِ] خَابُوا وَخَسِرُوا؟ فَقَالَ: < الْمُسْبِلُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ -أَوِ الْفَاجِرِ - >۔
* تخريج: م/الإیمان ۴۶ (۱۰۶)، ت/البیوع ۵ (۱۲۱۱)، ن/الزکاۃ ۶۹ (۲۵۶۴)، البیوع ۵ (۴۴۶۳)، الزینۃ من المجتبی ۵۰ (۵۳۳۵)، ق/التجارات ۳۰ (۲۲۰۸)، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۰۹)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۴۸، ۱۵۸، ۱۶۲، ۱۶۸، ۱۷۸)، دی/ البیوع ۶۳ (۲۶۴۷) (صحیح)
۴۰۸۷- ابو ذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''تین شخص ایسے ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن نہ بات کرے گا، نہ انہیں رحمت کی نظر سے دیکھے گا، اور نہ ان کو پا ک کرے گا اور ان کے لئے در د ناک عذاب ہو گا''، میں نے پوچھا : وہ کو ن لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول!جو نامراد ہوے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، پھر آپ نے یہی با ت تین با ر دہرائی، میں نے عرض کیا: وہ کو ن لوگ ہیں؟ اللہ کے رسول! جو نا مراد ہوے اور گھاٹے اور خسارے میں رہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ''ٹخنہ سے نیچے تہ بند لٹکا نے والا، اور احسان جتا نے والا، اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان بیچنے والا''۔


4088- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُسْهِرٍ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ بِهَذَا، وَالأَوَّلُ أَتَمُّ، قَالَ: <الْمَنَّانُ الَّذِي لا يُعْطِي شَيْئًا إِلا مَنَّهُ >۔
* تخريج: انظر ما قبلہ، (تحفۃ الأشراف: ۱۱۹۰۹) (صحیح)
۴۰۸۸- اس سند سے بھی ابو ذر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے اور پہلی روایت زیادہ کا مل ہے راوی کہتے ہیں:'' منان وہ ہے جو بغیر احسان جتائے کچھ نہ دے''۔


4089- حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ -يَعْنِي عَبْدَالْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو- حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ بِشْرٍ التَّغْلِبِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، وَكَانَ جَلِيسًا لأَبِي الدَّرْدَائِ، قَالَ: كَانَ بِدِمَشْقَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ، وَكَانَ رَجُلا مُتَوَحِّدًا قَلَّمَا يُجَالِسُ النَّاسَ، إِنَّمَا هُوَ صَلاةٌ، فَإِذَا فَرَغَ فَإِنَّمَا هُوَ تَسْبِيحٌ وَتَكْبِيرٌ حَتَّى يَأْتِيَ أَهْلَهُ، فَمَرَّ بِنَا وَنَحْنُ عِنْدَ أَبِي الدَّرْدَائِ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَائِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلا تَضُرُّكَ، قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ سَرِيَّةً، فَقَدِمَتْ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَجَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ الَّذِي يَجْلِسُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ لِرَجُلٍ إِلَى جَنْبِهِ: لَوْ رَأَيْتَنَا حِينَ الْتَقَيْنَا نَحْنُ وَالْعَدُوُّ فَحَمَلَ فُلانٌ فَطَعَنَ فَقَالَ: خُذْهَا مِنِّي وَأَنَا الْغُلامُ الْغِفَارِيُّ، كَيْفَ تَرَى فِي قَوْلِهِ؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ إِلا قَدْ بَطَلَ أَجْرُهُ، فَسَمِعَ بِذَلِكَ آخَرُ، فَقَالَ: مَا أَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا، فَتَنَازَعَا، حَتَّى سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ ، فَقَالَ: < سُبْحَانَ اللَّهِ! لا بَأْسَ أَنْ يُؤْجَرَ وَيُحْمَدَ > فَرَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ سُرَّ بِذَلِكَ، وَجَعَلَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَيْهِ وَيَقُولُ: أَنْتَ سَمِعْتَ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ، فَمَا زَالَ يُعِيدُ عَلَيْهِ حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ: لَيَبْرُكَنَّ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، قَالَ: فَمَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَائِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < الْمُنْفِقُ عَلَى الْخَيْلِ كَالْبَاسِطِ يَدَهُ بِالصَّدَقَةِ لا يَقْبِضُهَا > ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَائِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلا تَضُرُّكَ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < نِعْمَ الرَّجُلُ خُرَيْمٌ الأَسَدِيُّ لَوْلا طُولُ جُمَّتِهِ وَإِسْبَالُ إِزَارِهِ > فَبَلَغَ ذَلِكَ خُرَيْمًا فَعَجِلَ فَأَخَذَ شَفْرَةً فَقَطَعَ بِهَا جُمَّتَهُ إِلَى أُذُنَيْهِ وَرَفَعَ إِزَارَهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، ثُمَّ مَرَّ بِنَا يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو الدَّرْدَائِ: كَلِمَةً تَنْفَعُنَا وَلا تَضُرُّكَ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ: < إِنَّكُمْ قَادِمُونَ عَلَى إِخْوَانِكُمْ، فَأَصْلِحُوا رِحَالَكُمْ، وَأَصْلِحُوا لِبَاسَكُمْ حَتَّى تَكُونُوا كَأَنَّكُمْ شَامَةٌ فِي النَّاسِ؛ فَإِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلا التَّفَحُّشَ >.
قَالَ أَبو دَاود: وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ هِشَامٍ، قَالَ: حَتَّى تَكُونُوا كَالشَّامَةِ فِي النَّاسِ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۴۶۵۴)، وقد أخرجہ: حم (۴/۱۷۹، ۱۸۰) (ضعیف)
۴۰۸۹- قیس بن بشر تغلبی کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور وہ ابو الدردا ء رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک شخص دمشق میں تھے جنہیں ابن حنظلیہ کہا جاتا تھا، وہ خلوت پسند آدمی تھے، لوگوں میں کم بیٹھتے تھے، اکثر اوقات صلاۃ ہی میں رہتے تھے جب صلاۃ سے فارغ ہو تے تو جب تک گھر نہ چلے جاتے تسبیح و تکبیر ہی میں لگے رہتے ۔
ایک روز وہ ہمارے پاس سے گز رے اور ہم ابو الدرداء کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو ان سے ابو الدردا ء نے کہا : کوئی ایسی با ت کہئے جس سے ہمیں فا ئدہ ہو، اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو تو وہ کہنے لگے: رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ جہاد کے لئے بھیجا، جب وہ سر یہ لو ٹ کر وا پس آیا تو اس میں کا ایک شخص آیا اور جہاں رسول اللہ ﷺ بیٹھا کرتے تھے وہا ں آکر بیٹھ گیا، پھر وہ اپنے بغل کے ایک شخص سے کہنے لگا: کاش تم نے ہمیں دیکھا ہو تا جب ہماری دشمن سے مڈبھیڑ ہوئی تھی، فلاں نے نیزہ اٹھا کر دشمن پر وار کیا اور وار کرتے ہوئے یوں گویا ہوا''لے میرا یہ وار اور میں قبیلہ غفار کافرزند ہوںـــ'' بتائو تم اس کے اس کہنے کو کیسا سمجھتے ہو؟ وہ بولا: میں توسمجھتا ہوں کہ اس کاثو اب جاتا رہا، ایک اور شخص نے اسے سنا تو بو لا: اس میں کوئی مضا ئقہ نہیں، چنا نچہ وہ دونوں جھگڑنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ نے سنا توفرمایا: ''سبحان اللہ! کیا قبا حت ہے اگر اس کو ثو اب بھی ملے اور لوگ اس کی تعریف بھی کر یں''۔
بشرتغلبی کہتے ہیں: میں نے ابوالدرداء کو دیکھا وہ اسے سن کر خوش ہوئے اور اپنا سر ان کی طرف اٹھا کر پو چھنے لگے کہ آپ نے اسے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ؟ فرمایا: ہاں، پھر وہ با ر بار یہی سوا ل دہرانے لگے یہاں تک کہ میں سمجھا کہ وہ ان کے گھٹنوں پر بیٹھ جائیں گے ۔
پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے تو ان سے ابو الدرداء نے کہا: مجھے کوئی ایسی بات بتا ئیے جس سے ہمیں فائدہ ہو اور آپ کو اس سے کوئی نقصان نہ ہو، تو انہوں نے کہا: ہم سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''( جہا د کی نیت سے) گھوڑوں کی پر ورش پر صرف کر نے والا اس شخص کے مانند ہے جو اپنا ہاتھ پھیلا کے صدقہ کر رہا ہو کبھی انہیں سمیٹتا نہ ہو''۔
پھر ایک دن وہ ہمارے پاس سے گزرے پھر ابوالدرداء نے ان سے کہا :ہمیں کوئی ایسی با ت بتا ئیے جو ہمیں فائدہ پہنچائے، تو انہوں نے کہا ہم سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :'' خریم اسدی کیا ہی اچھے آدمی ہیں اگر ان کے سر کے بال بڑھے ہوے نہ ہوتے، اور تہ بند ٹخنے سے نیچے نہ لٹکتا''، یہ بات خریم کو معلوم ہوئی توانہوں نے چھری لے کر اپنے با لوں کو کا ٹ کر کا نوں کے برابر کرلیا، اور تہ بند کو نصف سا ق (پنڈلی ) تک اونچا کر لیا۔
پھردوبارہ ایک اور دن ہمارے پاس سے ان کا گزر ہوا تو ابوا لدرداء نے ان سے کہا: ہمیں کوئی ایسی با ت بتا ئیے جو ہمیں فا ئدہ پہنچائے اور جس سے آپ کو کوئی نقصان نہ ہو، تو وہ بو لے :میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ''اب تم اپنے بھائیوں سے ملنے والے ہو ( یعنی سفر سے واپس گھر پہنچنے والے ہو) تو اپنی سواریاں اور اپنے لباس درست کر لو تا کہ تم اس طرح ہو جائو گو یا تم تل ہو لوگوں میں یعنی ہر شخص تمہیں دیکھ کر پہچان لے، کیو نکہ اللہ فحش گو ئی کو، اور قدرت کے با وجود خستہ حالت (پھٹے پر انے کپڑے ) میں رہنے کو پسند نہیں کر تا''۔
ابو داود کہتے ہیں :اور اسی طرح ابو نعیم نے ہشام سے روایت کیا ہے اس میں ''حتى تكونوا كأنكم شامة في الناس'' کے بجائے ''حتى تكونوا كالشامة في الناس''ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
29- باب مَا جَاءَ فِي الْكِبْرِ
۲۹-باب: تکبر اور گھمنڈ کی برائی کا بیان​


4090- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ (ح) وَحَدَّثَنَا هَنَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ السَّرِيِّ- عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ -الْمَعْنَى- عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ مُوسَى: عَنْ سَلْمَانَ الأَغَرِّ، وَقَالَ هَنَّادٌ: عَنِ الأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ هَنَّادٌ: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي، وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا قَذَفْتُهُ فِي النَّارِ >۔
* تخريج: م/البر والصلۃ ۳۸ (۲۶۲۰)، ق/الزھد ۱۶ (۴۱۷۴)، (تحفۃ الأشراف: ۱۲۱۹۲)، وقد أخرجہ: حم (۲/۲۴۸، ۳۷۶، ۴۱۴، ۴۲۷، ۴۴۲) (صحیح)
۴۰۹۰- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''اللہ عزّوجل کا فرمان ہے: بڑائی (کبریائی) میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند، تو جوکوئی ان دونوں چیزوں میں کسی کو مجھ سے چھیننے کی کوشش کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا''۔


4091- حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ -يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ- عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِاللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < لا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ >.
قَالَ أَبو دَاود: رَوَاهُ الْقَسْمَلِيُّ عَنِ الأَعْمَشِ مِثْلَهُ۔
* تخريج: م/الإیمان ۳۹ (۹۱)، ت/البر والصلۃ ۶۱ (۱۹۹۸)، ق/المقدمۃ ۹ (۵۹)، (تحفۃ الأشراف: ۹۴۲۱)، وقد أخرجہ: حم (۱/۲۸۷، ۴۱۲، ۴۱۶، ۲/۱۶۴، ۳/۱۲،۱۷) (صحیح)
۴۰۹۱- عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں را ئی کے بر ابر کبر وغرورہو اور وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو سکتا جس کے دل میں را ئی کے برا بر ایمان ہو ''۔


4092- حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُالْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ ﷺ ، وَكَانَ رَجُلا جَمِيلاً، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي رَجُلٌ حُبِّبَ إِلَيَّ الْجَمَالُ، وَأُعْطِيتُ مِنْهُ مَا تَرَى، حَتَّى مَا أُحِبُّ أَنْ يَفُوقَنِي أَحَدٌ، إِمَّا قَالَ: بِشِرَاكِ نَعْلِي وَإِمَّا قَالَ: بِشِسْعِ نَعْلِي، أَفَمِنَ الْكِبْرِ ذَلِكَ؟ قَالَ: < لا، وَلَكِنَّ الْكِبْرَ مَنْ بَطِرَ الْحَقَّ وَغَمَطَ النَّاسَ >۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۱۴۵۴۰) (صحیح الإسناد)
۴۰۹۲- ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، وہ ایک خو بصورت آدمی تھا اس نے آکر عرض کیا: اللہ کے رسول!مجھے خو بصورتی پسند ہے، اور مجھے خوبصورتی دی بھی گئی ہے جسے آپ دیکھ رہے ہیں یہاں تک کہ میں نہیں چاہتا کہ خوبصورتی اور زیب وزینت میں مجھ سے کوئی میری جو تی کے تسمہ کے برابر بھی بڑھنے پا ئے، کیا یہ کبر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:'' نہیں بلکہ کبر یہ ہے کہ حق بات کی تغلیط کرے، اور لوگوں کو کمتر سمجھے''۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
30- بَاب فِي قَدْرِ مَوْضِعِ الإِزَارِ
۳۰-باب: تہ بند (لنگی) کہا ں تک پہنے؟​


4093- حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِالرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنِ الإِزَارِ، فَقَال: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ : < إِزْرَةُ الْمُسْلِمِ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ وَلا حَرَجَ، أَوْ لا جُنَاحَ، فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَيْنِ، مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ فَهُوَ فِي النَّارِ، مَنْ جَرَّ إِزَارَهُ بَطَرًا لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ >۔
* تخريج: ق/اللباس ۶ (۳۵۷۳)، (تحفۃالأشراف: ۴۱۳۶)، وقد أخرجہ: ط/اللباس ۵ (۱۲)، حم (۳/۵،۳۱، ۴۴، ۵۲، ۹۷) (صحیح)
۴۰۹۳- عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے تہ بند کے متعلق پوچھا تووہ کہنے لگے: اچھے جانکار سے تم نے پوچھا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''مسلمان کا تہ بند آدھی پنڈلی تک رہتا ہے،تہ بندپنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان میں ہو توبھی کوئی حرج یا کوئی مضائقہ نہیں،اور جو حصّہ ٹخنے سے نیچے ہوگا وہ جہنم میں رہے گا اور جو اپنا تہ بند غرور وتکبرسے گھسیٹے گا تو اللہ اسے رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا''۔


4094- حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عَبْدِالْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ ، قَالَ: < الإِسْبَالُ فِي الإِزَارِ وَالْقَمِيصِ وَالْعِمَامَةِ، مَنْ جَرَّ مِنْهَا شَيْئًا خُيَلاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ >۔
* تخريج: ق/اللباس ۹ (۳۵۷۶)، (تحفۃ الأشراف: ۶۷۶۸)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری (۹۷۲۰) (صحیح)
۴۰۹۴- عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ''اسبال: تہ بند (لنگی)، قمیص (کرتے) اور عمامہ (پگڑی) میں ہے، جو ان میں سے کسی چیز کوتکبراور گھمنڈسے گھسیٹے گا اللہ اسے قیامت کے روز رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا''۔


4095- حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ [وَ عباد] عَنْ أَبِي الصَّبَّاحِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُمَيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فِي الإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ۔
* تخريج: تفردبہ أبوداود، (تحفۃ الأشراف: ۸۵۶۹)، وقد أخرجہ: حم (۲/۱۱۰، ۱۳۷) (صحیح الإسناد)
۴۰۹۵- یزید بن ابی سمیہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو با ت ازار (تہ بندں، لنگی) کے سلسلہ میں فرما ئی ہے وہی قمیص (کرتہ ) کے متعلق بھی ہے۔


4096- حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ أَنَّهُ رَأَى ابْنَ عَبَّاسٍ يَأْتَزِرُ فَيَضَعُ حَاشِيَةَ إِزَارِهِ مِنْ مُقَدَّمِهِ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ وَيَرْفَعُ مِنْ مُؤَخَّرِهِ، قُلْتُ: لِمَ تَأْتَزِرُ هَذِهِ الإِزْرَةَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَأْتَزِرُهَا۔
* تخريج: تفرد بہ أبو داود، (تحفۃ الأشراف: ۶۲۱۵)، وقد أخرجہ: ن/ الکبری (۹۶۸۱) (صحیح الإسناد)
۴۰۹۶- عکرمہ کا بیان ہے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کودیکھاکہ وہ تہ بند باندھتے ہیں تو اپنے تہ بند کے آگے کے کنارے کو اپنے دونوں قدموں کی پشت پر رکھتے ہیں اور اس کے پیچھے کے حصہ کو اونچا رکھتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا: آپ تہ بند ایسا کیوں باندھتے ہیں؟ تو وہ بو لے: میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسے ہی باندھتے دیکھا ہے۔
 
Top